فقیدالمثال گمنام ہیروز

پچھلے چند کالموں میں اپنے ان نہایت قابل اور محب وطن ساتھیوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے میرے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک ایٹمی و میزائل قوّت بنا دیا اور جن کی بے مثال خدمت کی وجہ سے ہمارے دشمنوں کے ناپاک ارادے خاک میں مل گئے۔ آج چند دوسرے ساتھیوں کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔
آپ کی خدمت میں پہلے عرض کرچکا ہوں، ا یٹمی پروگرام کے حوالے سے جو کام ہم نے انجام دیا وہ نہایت ہی مشکل ترین کام ہے لیکن اگر اس پر مہارت حاصل کرلی جائے تو یہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ مجھے اس کام کا عملی تجربہ تھا اوراسی وجہ سے ہم نے ایک دشوار (اور بقول مبصرین کے ناممکن) طریقہ کار استعمال کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توقعات کے خلاف اور دشمنوں کی خواہشوں کے برخلاف ہمیں بہت جلد مکمل کامیابی دی۔ چھ سات سال میں ہم نے اس پسماندہ ملک کو جہاں آج بھی سوئی نہیں بنتی ایک ایٹمی قوت بنا دیا۔
ہمارے ایک پلانٹ میں ہمیںہزاروں اہم مشینیں لگانا تھیں یہ مشینیں بہت تیز رفتا ر ہوتی ہیں اس لئے ان کی عمر دس سال کے قریب ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک خاص قسم کی گیس گزاری جاتی ہے ۔ آپ خود سوچئے کہ ایسی مشین کی تیاری میں کتنی مہارت ہونی چاہئے۔ دوسرا اہم کام گیس کو پلانٹ میں بھیجنا اور پھر مشینوں کے ذریعہ بچی ہوئی گیس کو سلنڈروں میں جمع کرنا ہوتا

ہے۔میں نے یہ دونوں کام اٹامک انرجی کمیشن کے سابق ملازم کے حوالے کئے۔ یہ انگلستان سے ایم ایس سی میکانیکل انجینئرنگ تھے۔ان کو اس میدان میں قاضی رشید علی مرحوم اور اعجاز احمد کھوکھر کی طرح تو مہارت حاصل نہ تھی مگر کام میں سنجیدہ تھےاورجو کام دیا جاتا تھا اس کو خوش اسلوبی سے انجام دیدیتے تھے۔ کم گو تھے مگر کبھی کبھی حسب موقع مناسب جملہ کس دیتے تھے۔ انھوں نے گیس فیڈ اور کلیکشن پلانٹ کی اسمبلی اور کمیشننگ کرائی اور پھر جب یہ ڈاکٹر اشرف عطا کے حوالے کردیا گیا تو پھر خا ص مشینوں کی تیاری اور ٹیسٹنگ کا کام سنبھال لیا۔ یہاں یہ عرض کروں گا کہ اس پلانٹ کی اسمبلی میں ڈاکٹر ہاشمی، انجینئر نورالمصطفیٰ اور جناب اعجازی اور جناب امین صابر کا بڑا ہاتھ تھا۔ بہرحال ان مشینوں کی تیاری اور ان کو اتنی اونچی رفتار پر چلنے کے قابل بنانا بہت مشکل کام تھا۔ میں ہر قدم پر رہنمائی کرتا تھا۔ مشینوں کی تیاری میں جو مشکل آتی تھی وہ میری رہنمائی میں قاضی صاحب اور کھوکھرصاحب نے تیار کی تھیں۔ ان کے علاوہ الیکٹران ویلڈنگ مشینوں کے ذریعہ مشینوں کے اوپر کے اور نیچے کے ڈھکنے ویلڈ کئے جاتے تھے جو نہایت مشکل کام تھا۔ یہ مشینیں ہم نے بڑی مشکل سے میرے تعلقات کی مدد سے درآمد کی تھیں اور ان کے فالتو اہم پرزے کئی برسوں کی ضرورت کے لئے خرید لئے تھے۔ پہلے ہم ایک ایک مشین ٹیسٹ کرکے پلانٹ میں لگاتے تھے بعد میں ہم نے یورپ سے ایک ایسی مشین خرید لی جو کہ تین چار مشینوں کا توازن اور ٹیسٹ کرسکتی تھی۔ ہمیں بہت تیزی سے مشینیں تیار کرنا تھیں اس کے لئے میرے نہایت قابل اور تجربہ کار انجینئر نسیم خان نے یہ مشکل آسان کردی۔ انھوں نے نہایت اعلیٰ، مکمل آٹومیٹک بیلنسنگ اور ٹیسٹنگ مشین 20 مشینوں کے لئے تیار کردی، یہ ایک اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ تھا۔ اس مشین کے تمام پی سی بینر (یعنی پرنٹیڈ سرکٹ بورڈز) ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا نے فوراً تیار کردیے۔ یہ مشین ایک قابل دید کارنامہ تھا۔
ہمارے پلانٹ کا ہر محکمہ، ہر مشین، ہر آلہ بغیر کسی نقص کے نہایت ہی خوش اسلوبی سے کام انجام دے رہا تھا اور سب سے زیادہ خوشی غلام اسحٰق خان اور جنرل ضیاء کو تھی کہ ہم نے ایک ناممکن کو اتنے قلیل عرصہ میں ممکن بنادیا اور ملک کو ناقابل تسخیر دفاع مہیا کردیا۔ یہ دونوں ہمارے ہر کام میں بے حد دلچسپی لیتے تھے، ہر ماہ کم از کم ایک میٹنگ ضرور ہوتی تھی جہاں میں کام کی رفتار اور ترقی و کامیابی سے ان کو آگاہ کرتا تھا۔میں نے اس شخص کے ساتھ ( اٹامک انرجی کا سابق ملازم، جس کا نام لینامیں مناسب نہیں سمجھتا) جو اچھا سلوک کیا اور جو سہولتیں دیں وہ سب جانتے ہیں مگر بدقسمتی سے انھوں نے اور ان کے نمبر دو نے جس کو میں نے بیٹے کی طرح نوازا تھا اور انگلینڈ سے ڈاکٹریٹ کروائی تھی ہمیں اور پروجیکٹ کو بلکہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ میں نے یہ اصول بنایا تھا کہ تمام میرے سینئر ساتھی اور میں ساتھ لنچ کرتے تھے اور ماحول نہایت دوستانہ اور پرمزاح ہوتا تھا۔ میں سب کا باس نہیں ساتھی اور دوست تھا۔ میں نے اس شخص کی اولاد کو ملازمت دی، انگلینڈ میں تعلیم دلوائی وغیرہ وغیرہ اور ممبر ٹیکنیکل بنایا۔ جب مجھے اس کی نہایت نقصان دہ کارروائیوں کا علم ہوا تو میں نے ان کو ممبر ٹیکنیکل کے عہدہ سے ہٹانا چاہا اور نسیم خان سے ذکر کیا۔ انھوں نے التجا کی کہ یہ نہ کروں کہ ان کی بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اس کا بہت بُرا ردِّ عمل ہوگا ، میں نے ان کی بات مان کر یہ کام نہ کیا مگر جواب میں جو صلہ ملا وہ ناقابل یقین اور ناقابل برداشت نکلا۔ مجھے چاہئے تھا کہ فوراً نہ صرف اس کو محکمہ سے ہٹا دیتا بلکہ اپنے ادارے سے بھی نکال دیتا جس کے میرے پاس پورے اختیار تھے۔ ایسی احسان فراموشی و ملک دشمنی شاید ہی کسی نے کی ہو۔ بہرحال اس ڈویژن کے دوسرے اعلیٰ ساتھی ڈاکٹر یٰسین چوہان اور محمد سلیمان تھے، دونوں کو میں نے انگلینڈ اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجا تھا۔ چوہان نے سائوتھ ہمپٹن یونیورسٹی سے اچھے نمبروں سے ڈاکٹریٹ کی تھی اور سلیمان نے کسی اور یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی تھی۔ دونوں نہایت محب وطن، نہایت قابل اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل تھے۔ خاص مشینوں کی تیاری ان کی ٹیسٹنگ اور ان کو پلانٹ میں لگانے کا کام ان دونوں نے نہایت اعلیٰ طریقہ سے کیا اور ہماری پروجیکٹ کی کامیابی میں ان دونوں کا نہایت کلیدی رول تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ڈاکٹر چوہان آج کل سرگودھا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج کے ڈین اور پروفیسر ہیں۔اس سے پہلے وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ڈین اور پروفیسر رہ چکے ہیں۔ انجینئر سلیمان صاحب آج کل اس ڈویژن کے ڈی جی ہیں۔ہمارے پروجیکٹ میں ڈاکٹر ظفر اللہ خان، ڈاکٹر محمد فاروق، ڈاکٹر طاہر رسول، انجینئر نسیم الدین، ڈاکٹر اشرف علی، محمد نعیم اور ان کے رفقائے کار نے نہایت اہم اور کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر ظفراللہ خان نے لف برا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تھی، ڈاکٹر اشرف علی نے کیمبرج سے، ڈاکٹر محمد فاروق نے آکسفورڈ سے اور محمد نعیم نے لف برا سے ایم ایس سی کی ڈگریاں لی تھیں۔ ان کے علاوہ نسیم خان صاحب کے رفیق کار انجینئر منصور اعجاز نے ذمہ داری اور اعلیٰ کام کرنے کی صلاحیت کا اعلیٰ مظاہرہ کیا تھا۔ یہ لوگ ہمارے ملک کے ہیرے اور ہیرو تھے، ایہ اُسی جذبہ سے پاکستان کو بچانے کی جدّوجہد کررہے تھے جس طرح تحریک پاکستان کے مجاہد شہدا پاکستان بنانے کی جدّوجہد میں قربانیاں دے رہے تھے۔ ان کے لاتعداد رفقائے کار تھے جو زمرد اور یاقوت تھے۔ ان کی خدمات کو بھی سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ایک اور نہایت قابل، تجربہ کار اور ہمارے پروجیکٹ کے اہم رکن ڈاکٹر محمد عالم کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔ جب میں نے پروجیکٹ کا چارج لیا تو کوشش کی چند تجربہ کار پاکستانی باہر سے ڈھونڈھ کر بلا لوں، اس میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی بمشکل پانچ چھ اچھے تجربہ کار پاکستانی مل سکے ان میں ڈاکٹر عالم، انجینئر جاوید، انجینئر بُھٹّہ، انجینئر نثار، انجینئر فیروز خان اور ڈاکٹر نذیر احمد قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر عالم 13 برس سے انگلستان میں مقیم تھے وہاں BSc. Hons کرکے ایک نیوکلیر کمپنی میں کام کررہے تھے۔ میں نے لندن میں ملاقات کی اور آنے کی دعوت دی جو انھوں نے فوراً قبول کرلی۔ نہایت قابل اور مدد گار ثابت ہوئے۔ انھوں نے ایک اعلیٰ ٹیم تیار کی جس میں بہت اچھے سمجھ دار سائنس دان اور انجینئر تھے، ان کے ذمّہ مشینوں کی تھیوریٹیکل کارکردگی، بہتری اور باہر سے اندر پریشر کی لہروںکی رفتار کاComputational Fluid Dynamics نامی علم کی مدد سے ماپا جانا تھا۔ ڈاکٹر عالم اور ان کی ٹیم اس میں ماہر تھی اور جب انھوں نے اپنے کام سے متعلق ایک نہایت اعلیٰ بروشر یا بُکلیٹ بنایا تو اٹامک انرجی والے بھاگ کر SPD گئے اور اسکی تقسیم رکوادی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے مندرجہ بالا مضمون میں Ph.D کورس شروع کیا تھا، میں نے عالم صاحب کو کہا جاکر خود کو رجسٹر کرالیں۔پروفیسر نے فوراً قبول کرلیا اور انھوں نے تین سال میں آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری امتیازی پوزیشن سے حاصل کی۔ ان کے ساتھیوں میں رفیع صاحب، ڈاکٹر گل فیروز طارق اور ڈاکٹر تسنیم اور ڈاکٹر ظفراللہ قریشی نہایت قابل تھے اور انھوں نے اعلیٰ خدمات انجام دیں، سب ہی بعد میں پروفیسر بن کر درس و تدریس سے منسلک رہے۔ ان کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔
(نوٹ) میرے ان کالموں کے ابتدائی تین برسوں کے مجموعہ ’’سحر ہونے تک‘‘ کے نام سے، جنگ انتظامیہ کی اجازت سے سنگ میل لاہور نے شائع کردیئے ہیں اور ملک کے بڑے کتب فروشوں سے دستیاب ہیں۔ آپ پڑھئے اور لطف اندوز ہوئے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

%d bloggers like this: