فقیدالمثال گمنام ہیروز

آپ کی خدمت میں اپنے گنج ہائے گرانمایہ، فقیدالمثال، محب وطن کہوٹہ کے ساتھیوں کے بارے میں پچھلے کالموں میں لکھ رہا ہوں۔ آج میں چند اور کہوٹہ پروجیکٹ کے اہم ساتھیوں کی خدمات کے بارے میں آپ کو بتائوں گا۔
(1)نورالمصطفیٰ ڈاکٹر ہاشمی کے نہایت اہم اور قابل رفیق کار تھے۔ ابتدا میں اٹامک انرجی کمیشن میں تھے، ہماری پروجیکٹ کی خودمختاری کے بعد واپس جانے سے انکار کردیا اور نہایت اہم خدمات انجام دیں۔ یہ ڈاکٹر ہاشمی کے دست راست تھے اور میکانیکل انجینئرنگ میں لاجواب تھے۔ ہمارے ایک پلانٹ میں گیس کو اکٹھا کرنے کیلئے نہایت اہم، خاص کنٹینر استعمال کئے جاتے ہیں جن میں دھات بھی گیس کی شکل ان میں آتی ہے اور یہاں اس کو بہت نچلے درجہ حرارت پر منجمد کیا جاتا ہے پھر ان کنٹینروں کو دوسری جگہ لے جاکر اس منجمد گیس کو پگھلا کر چھوٹے کنٹینروں میں پہنچایا جاتا ہے۔ یہ کنٹینر (Containers) اعلیٰ اسٹیل کے بنائے جاتے ہیں اور ان کی ساخت بے حد پیچیدہ ہوتی ہے یہ ویلڈنگ کا کام بہت ہی ہنرمندی مانگتا ہے۔ یہ کنٹینر برآمدی ممنوعات کی فہرست میں ہیں اس لئے چند ہی کمپنیاں یہ بناتی ہیں اوران پر ان کی حکومتوں کا کنٹرول بہت آسان ہے۔ایک اچھے انجینئر کی حیثیت اور دوربینی اور دوراندیشی کے تحت میں نے شروع سے یہ پالیسی اختیار کی تھی کہ ہم جلد از جلد

ہر چیز میں خود کفیل ہوجائیں اور درآمد پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اس سلسلہ میں کلیدی رول ادا کیا۔ ان کی رہنمائی میں نورالمصطفیٰ نے ایک اعلیٰ ورکشاپ تیار کی جہاں ڈی سبلائمرز بنائے گئے۔ ویلڈنگ کا کام بہت اہم اور مشکل تھا اس کی ذمہ داری ڈاکٹر مشتاق پٹھان نے لی۔ ان کو میں نے انگلینڈ بھیجا تھا جہاں کرین فیلڈ یونیورسٹی سے انھوں نے ویلڈنگ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ یہ جناب روئیداد خان کے قریبی عزیز تھے۔ انھوں نے لاجواب کام انجام دیا اورہم اس اہم ٹیکنالوجی میں بہت جلد خودکفیل ہوگئے۔ نورالمصطفیٰ مذہبی رحجان رکھتے تھے، تھوڑی سی داڑھی بھی رکھی تھی غالباً فیصل آباد یا ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق تھا۔ اپنے ساتھیوں میں بے حد ہر دلعزیز تھے۔ ہمک میں رہتے تھے وہاں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایا، محلہ کے باشندوں سے مدد چاہی ناکامی ہوئی پھر میرے پاس آئے۔ بڑی مسجد ہے تقریباً 500 نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے اپنے صنعتکار دوستوں کی مدد سے چند ماہ میں مکمل کرادی اور خود جاکر اس کا افتتاح کیا اور سب کے ساتھ مل کر پہلی نماز میں شرکت کی۔ لوگ آج بھی اس مسجد سے مستفید ہورہے ہیں۔ نورالمصطفیٰ کو فرائض منصبی ادا کرنے کا بہت خیال تھا بلکہ ضرورت سے زیادہ فکرمند رہتے تھے۔کام کے سلسلہ میں ایک ہفتہ کے دورہ پر ملائیشیا گئے تھے، رات دو بجے واپسی ہوئی، فجر کی نماز کے وقت اُٹھ گئے، نماز پڑھ کر ناشتہ کیا اور صبح ساڑھے آٹھ بجے، اتوار یعنی چھٹی کے دن، کہوٹہ کی راہ لی۔ گاڑی خود چلارہے تھے۔ راستہ میں پنیالی کے قریب غالباً آنکھ لگ گئی اور سڑک سے اتر کر ایک درخت سے کار جاٹکرائی اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ اِنا للہ وَ اِنا اِلہ راجعون۔ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ کہوٹہ، میں اور پاکستان ایک نہایت اعلیٰ، قابل، محب وطن انجینئر سے محروم ہوگیا۔
(2)جناب مُطاہر اعجازی، ڈاکٹر ہاشمی، ڈاکٹر مرزا، ڈاکٹر اشرف عطا اور نورالمصطفیٰ کے پرانے ساتھی تھے اور انھوں نے بھی میرے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی اور اٹامک انرجی کمیشن واپس جانے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کو ان کی صلاحیتوں کا پورا علم تھا اور انھوں نے اس سے پورا فائدہ اُٹھایا۔ اعجازی کو ویکیوم ٹیکنالوجی کا کافی تجربہ تھا اور ہماراافزودگی کا پلانٹ انتہائی ویکیوم (خلاء) میں چلایا جاتا ہے۔ ان کا تجربہ ڈاکٹر ہاشمی نے بہت اچھی طرح استعمال کیا۔ اعجازی نے نہایت اہم و اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ یہ ہماری ٹیم کے نہایت اہم رکن تھے۔ ریٹائر ہوکر پرسکون اور آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔
(3) ڈاکٹر عبدالمجید نے بھی میرے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی اور کمیشن واپس جانے سے انکار کردیا۔ انھوں نے برمنگھم یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔ طبیعت کے ذرا جھگڑالو تھے۔ منصور صاحب کے نائب کے طور پر ہیلتھ فزکس اور انڈسٹریل سیفٹی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس ڈویژن کی نہایت اہم ذمہ داری پلانٹ میں ہر قسم کی تابکاری اور حادثوں کو روکنا تھا۔ یہ نہ صرف پلانٹ کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کرتے تھے بلکہ ان تمام کارکنوں کی جو اندر کام کرتے تھے مانیٹرنگ بھی کرتے تھے کہ کہیں کسی تابکاری کے شکار تو نہیں ہوئے، اس کے لئے یہ تمام کارکنوں پر ڈوسی میٹر لگاتے تھے اور ہر ہفتہ ان کی جانچ کرتے تھے کہ کہیں تابکاری کے اثرات تو نہیں ہیں۔ یہی نہیں یہ ان کارکنوں کے پیشاب کے بھی ٹیسٹ کرتے تھے کہ اس میں تو کہیں تابکاری کا اثر تو نہیں ہے۔ ڈاکٹر مجید کو بہت جلدی تھی کہ وہ منصور صاحب کی چھٹی کرکے ڈائرکٹر جنرل بن جائیں مگر منصور صاحب کے جوتے ان کیلئے بہت بڑے تھے ۔ وقت آنے پر ان کو ترقی دی گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں ڈی جی کے عہدے پر رہے اور پھر کینیڈا میں مقیم اپنی بیوی اور بچوں کے پاس چلے گئے۔ ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے ممکن ہے کہ وہاں درس و تدریس میں مصروف ہوں۔
(4)ایک نہایت قابل، خوش مزاج اور عزیز ساتھی ڈاکٹر انوارلحق کی خدمات نہایت قابل تحسین تھیں۔ انھوں نے جرمنی سے ڈاکٹریٹ کی تھی اور اگرچہ فزکس کی ڈگری تھی مگر اس میں میٹالرجی کا کافی عنصر تھا۔ اس وجہ سے میٹالرجی میں بہت اچھی سمجھ بوجھ تھی۔ میں نے ان کو میٹالرجی ڈویژن میں ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ مقرر کردیا۔ جب کام بڑھ گیا اور ڈاکٹر ہاشمی دوسرے اہم فرائض میں مصروف ہوگئے تو ڈاکٹر انوارالحق کو میٹالرجی ڈویژن کا ڈی جی لگا دیا۔ ہمارا میٹالرجی ڈویژن نہ صرف ملک کا بہترین ادارہ تھا بلکہ امریکہ اور یورپ کی بہترین یونیورسٹیوں کی میٹالرجی لیبارٹریز سے بہتر تھا۔ یہ میری فیلڈ تھی میں نے اس کو قابل رشک بنا دیا تھا۔ جب ڈاکٹر نذیر احمد (بعد میں ان کی صلاحیتوں پر لکھوں گا) جرمنی، برمنگھم اور وسکانسن (امریکہ) میں کام اور تعلیم حاصل کرکے آئے اور میٹالرجی ڈویژن گئے تو مجھ سے آکر کہا میں یقین نہ کرسکا کہ ایسی اعلیٰ لیبارٹری پاکستان میں ہے جو باہر کی لیبارٹریز سے کہیں بہتر ہے۔ ڈاکٹر انوارالحق نے پروجیکٹ کی کامیابی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ ہماری مشینوں اور دوسرے آلات میں استعمال ہونے والی میٹریلز کی کارکردگی بہتر بنانے کے نئے طریقہ جات دریافت کئے،ہمارے تیار کردہ بعض ہتھیاروںکے اہم پارٹس کیلئے سیرامک کوٹنگ کرکے سب کو خوش کردیا۔ کے آرایل میں اعلیٰ خدمات و صلاحیتوں کی وجہ سے میں نے ان کی PCSIR کی چیئرمین شپ کے لئے سفارش کی، وہاں بھی تین سال انھوں نے اعلیٰ خدمات انجام دیں اور اس ادارے کی حالت بدل دی۔ انھوں نے لاتعدادمقالہ جات بین الاقوامی رسالوں اور کانفرنسوں میں شائع کئے۔ آج کل رفاع یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈین ہیں اور فزکس پڑھاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے پرانے ہونہار اور بہت اچھے میٹالرجسٹ ڈاکٹر ظفر اقبال بھی درس و تدریس میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ اس ملک و قوم کے محسن ہیں۔ ان کی خدمات سنہری حروف سے لکھی جائینگی۔
نوٹ:۔(1) ہر سال کی طرح ملک میں بھاری بارشوں کی وجہ سے سیلاب آگیا ہے، لاکھوں ایکڑ پانی (میٹھا) سمندر کا رخ کررہا ہے اور نااہل حکمراں و عہدیداران اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں۔ میں نے بار بار مشورہ دیا ہے کہ اس میٹھے پانی کوکس طرح کارآمد طریقہ سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایک زراعتی زرخیز ملک جہاں لاکھوں ایکڑ میٹھا پانی سمندر میں پھینکا جاتا ہے اور جہاں پیاز، آلو، گندم، لہسن، ادرک درآمد کی جاتی ہے اسکے حکمرانوںکے بارے کیا کہا جائے ، صرف خدا سے دعا ہی کی جاسکتی ہے ۔
(2)جیو کو بند ہوئے چار ماہ سے زیادہ ہوگئے عدالت نے اس کو کھولنے کا حکم دیا ہے اور کیبل آپریٹرز عدالت کے حکم کی عدولی کررہے ہیں۔ اس تمام شرارت میں لگتا ہے کہ حکمران ہی ملوث ہیں۔ نوّے کے عشرہ میں بھی انھوں نے جنگ وغیرہ کے خلاف انتقامی کارروائی کی تھی۔ ان کیلئے نہایت آسان ہے کہ کیبل آپریٹرز کو ایک دن کا نوٹس دیں کہ عدلیہ کے احکام پر عمل کرو اگر نہ مانیں تو ان سب کو پکڑ کر جیل میں ڈالدو۔ ایک دن میں یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ (3)چینی صدر کے دورے کا ملتوی ہونا بھی حکومت کی نااہلی ہے۔ ان کو علم تھا کہ وہ کب آرہے ہیں۔ عدالت عالیہ نے صاف طور پر حکومت سے کہہ دیا تھا کہ اس کے پاس قوانین اور ذرائع ہیں کہ ان دھرنے والوں سے کیسے نمٹا جائے۔ طاہر القادری کو ملک میں داخل ہونے دینا اور پھر ماڈل ٹائون سے نکلنے اور اسلام آباد آنے دینا، پھر ڈی چوک سے آگے شاہراہ دستور پر، پارلیمنٹ پر، ایوان صدر پر حملے کرنے دینا حکومت کی نااہلی اور بزدلی کی بدترین مثال ہے۔ لگتا ہے پچھلی حکومتوں کی طرح اس مرتبہ بھی یہ حکومت نہ صرف نااہل ہے بلکہ اس مرتبہ بھی پاکستان کے لئےاتنی اچھی ثابت نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان سے ملک کو جلدازجلد پُراَمن و آئینی طریقہ سے نجات دے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: