فقیدالمثال گمنام ہیروز

0 4

پچھلے کالموں میں آپ کو ان گمنام قومی ہیروز اور اپنے رفقائے کار کے بارے میں بتایا جنھوں نے میری رہنمائی میں اس پسماندہ ملک کو ایک نہایت مختصرعرصے میں ایک ایٹمی اور میزائل قوّت بنادیا اور قوم کو سر اُٹھا کرچلنے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے کے قابل بنادیا۔ اس کا جو صلہ ہمیں ملا اس سے پوری قوم واقف ہے اور یہ سلسلہ اَب تک جاری ہے۔
اَپنے نہایت پیارے، قابل ساتھی اور اعلیٰ میکنکل انجینئر اعجاز احمد کھوکھر کے بارے میں آپ کو پہلے بتاچکا ہوں۔ پچھلے دنوں ڈاکٹر فاروق نے ایک واقعہ سنایا تو مجھے دوسرا واقعہ یاد آگیا۔ کھوکھر اور فاروق دو تین دوسرے ساتھیوں کے ساتھ چین گئے تھے وہاں سے انہیں کچھ سامان خریدنا تھا ، وہاں نہ صرف چیزیں سستی تھیں بلکہ کسی پابندی وغیرہ کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بیجنگ میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ تیسرے دن ان کو باہر مقامی لوگوں سے ملنا تھا۔کھوکھرملنگ، خیالوں میں گم اِنسان تھے وہ آگے آگے تیز تیز چلے اور بغیر نگاہ اُٹھائے سامنے دروازہ میں لگے شیشے کو توڑتے نکل گئے۔ شیشہ کے ٹوٹنے سے زور دار آواز ہوئی اور بہت سے لوگ جمع ہوگئے، کھوکھرکو خراش تک نہیں آئی۔ ہوٹل کامنیجر آگیا اورکہا وہ کھوکھرکو کہیں جانےنہیں دے گا جب تک مُعاوضہ کا معاملہ طے نہ ہوجائے۔ فاروق نے

معاملے کا حل نکالا۔ منیجر سے کہا کہ شیشے کا سائز ناپ کرشیشے کی دوکان والے سے قیمت دریافت کریں وہ یہ رقم ادا کردینگے۔منیجر نے یہ قبول کیا اور شیشہ کی قیمت تقریباً275 یُوان یعنی28 ڈالر تھی فوراً ادا کردی۔ منیجر نے کہا وہ یہ شیشہ اپنے آدمیوںسے فٹ کرالے گا اس کے معاوضہ کی ضرورت نہیں۔ اس طرح ان کی جان چھوٹی۔
دوسرا واقعہ کہوٹہ میں پیش آیا۔ میں نے اپنے دفتر والی بلڈنگ کا ڈیزائن ایک مربع شکل میں بنایا تھا اور اس کے درمیان میں اچھا بڑا لان تھا جس میں میگنولیا کے درخت تھے جن پر پھولوں کے موسم میں لاتعداد کوئلیں اور ان کے نرآتے تھے، ان کی سریلی آوازیں مسحورکن ہوتی تھیں۔ میرا دفتر اوپر کی منزل پر تھا، وہیں ہمارا کھانے کا کمرہ، مہمانوں کا کمرہ، باتھ روم اور لائبریری تھی۔ ایک اورکمرہ تھوڑے سے فاصلہ پر ڈاکٹر ہاشمی کا تھا۔ ڈاکٹر ہاشمی کو روزصبح دربار لگانے کا شوق تھا۔ صبح ہی صبح منصور صاحب، نورالمصطفیٰ، اعجازی، ڈاکٹر انجم توقیر وغیرہ وہاں دربار لگاتے، چائے چلتی اور ساتھ ہی دن بھر کے کام کا پروگرام بن جاتا۔ میرے دفتر کے پہلے فلور پر پورا میٹلرجی ڈویژن اورایک اہم ٹیکنالوجی کا ٹیسٹنگ بیڈ تھا جو ڈاکٹر اشرف عطا اور ان کے قابل ڈائریکٹر ڈاکٹر الطاف حسین کی نگرانی میں کام کررہا تھا۔ ڈاکٹر الطاف نے جاپان سے ڈاکٹریٹ کی تھی اور کام میں ماہر تھے ۔ جب ریٹائر ہوئے تو میں نے ان کو ہمارے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے انسٹیٹیوٹ کا پرنسپل بنا دیا تھا جو کام انھوں نے نہایت صلاحیت اور خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ میرے دفتر والی بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی ایک ریسیپشن ڈیسک تھی جہاں ہمیشہ کم از کم دو مسلح باوردی محافظ بیٹھے ہوتے تھے جو ہر آنیوالے اور جانیوالے سامان کو چیک کرتے تھے اور رسید لیتے تھے، یہ ہی اصول پلانٹ کی ہر بلڈنگ میں رائج تھا اور پھر باہر بھی سامان لیجانے یا اندر لانے کی جانچ پڑتال باوردی محافظوں کے ہاتھ میں تھی۔کھوکھر صاحب ایک دن بلڈنگ میں داخل ہوئے ،سوچ میں مگن تھے، فوراً بائیں جانب مڑ کراندر جانا چاہا جہاں میٹلرجی ڈویژن کے کئی اعلیٰ و حساس آلہ جات تھے۔ اس علاقہ میں داخل ہونے کیلئے باہر شیشہ والا دروازہ تھا۔کھوکھر اس کو توڑتے ہوئے اندر چلے گئے،سات فٹ اونچا شیشہ ٹوٹ کر نیچے جا گرا، ان کو خراش تک نہیں آئی، مڑکر دیکھتے ہیں ۔ دھماکہ کی آواز سن کر میں فوراً اپنے دفتر سے باہرآیا اور نیچے جاکرتمام تماشہ دیکھا۔ میں نے کھوکھر سے پوچھا کیا ہوا، بولے، پتہ نہیں یہاں کس نے شیشہ کا دروازہ لگادیا ہے۔ دروازے اس لئے لگے تھے کہ اندر باہر جانے والے ایک دوسرے سے نہ ٹکرائیں، دوسرے یہ کہ حساس آلات کو باہر کی گرد سے محفوظ رکھا جائے اور اس علاقہ کے درجہ حرارت کو اچھی طرح کنٹرول کیا جائے۔
انجینئر کھوکھر کا ایک اور نہایت دلچسپ واقعہ ان کی اپنی ورکشاپ میں پیش آیا ۔ وہ اپنے قابل ساتھیوں ڈاکٹر طاہر رسول اور انجینئر سعید احمد اور انجینئر رشید کے ساتھ ایک نہایت ہی اہم آلہ بنانے میں مصروف تھے، اس کے ذریعہ ایک اہم ٹیوب درمیان میں ایک بیلو یا اندر کی طرف ایک گروو بنانا تھا۔ ہالینڈ وغیرہ میں لوگ ایک بڑے پریس (پانچ ہزار ٹن فورس) کے ذریعہ یہ گروو ڈالتے تھے۔ کھوکھر اور میں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم ایک نہایت چھوٹے ہائیڈرالک پمپ کے ذریعہ جس سے ہم پانچ ہزار ٹن فورس بنا سکتے تھے اورایک ہینڈل کے ذریعہ یہ کام کرسکتے ہیں۔ کھوکھر اور ان کے ساتھی یہ آلہ بنانے میں مصروف تھے اور کھوکھر کو بار بار کھڑے ہونے اور اُکڑوں بیٹھنے کی ضرورت پیش آرہی تھی۔ ایک ایسی مشق کے دوران زور دار آواز آئی اور ان کی پتلون پھٹ گئی، سب کی ہنسی چھوٹ گئی مگر کھوکھر تیزی سے اپنے دفتر گئے اور تھوڑی دیرمیں واپس آگئے جب جھکے تو ہم نے دیکھا کہ انھوں نے پتلون رومالی کو اسٹیپل لگا کرجوڑ لیا ہے۔ ہمیں خطرہ ہوا کہ کہیں اسٹیپل کے نوکدار کونے ان کو زخمی نہ کردیں۔ ان کو واپس دفتر چلے جانے کو کہا اور کہا کہ پتلون اُتارکر دیدیں، درزی سے سلوا کر منگواتے ہیں۔ یہ اندر بیٹھ گئے، جب ہم باہر نکلے تو فاروق نے کہا باہر سے تالا لگا دیں ورنہ یہ اپنی سوچ میں اُٹھ کر آجائینگے۔ وہاں تالا لگا کر ہم آگئے اور فاروق کا اندازہ صحیح نکلا۔ تھوڑی دیر میں کھوکھر دروازہ کھولنے اور باہر آنے کی کوشش کررہے تھے۔ جب پتلون سل کر آگئی پھر ہم نے ان کو دی اور وہ پہن کر باہر آئے۔ وہ نہایت اہم اور انمول آلہ انھوں نے اپنے محب وطن ساتھیوں کے ساتھ بنا لیا۔ یہ اتنا اہم اور منفرد آلہ ہے کہ ہم نہایت آسانی سے اس کا انگلینڈ، جرمنی، فرانس وغیرہ میں پیٹنٹ لے سکتے ہیں مگر رازداری کی وجہ سے ہم یہ نہ کرسکے۔ انجینئر سعید کا نام ساتھیوں نے بندوق رکھا تھا، ساتھ میں فضل کریم، عبدالقیوم، احمد حسن اور رشید تھے۔ رشید کو لوگ پستول کہتے تھے۔ یہ نہایت ہی اعلیٰ ٹیم تھی جنھوں نے معجزات کر دکھائے۔ کھوکھر صاحب کے بعد ان کا چارج ڈاکٹر مجیب الرحمن نے سنبھال لیا۔ پہلے وہ ڈپٹی چیف انجینئر تھے۔ اپنے کام میں اپنے باس کی طرح بہت سنجیدہ اور محنتی تھے۔
انجینئر سعید احمد کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے شروع کی ٹیم میں دو نہایت ہی محنتی، قابل اور محب وطن ڈپلومہ انجینئر سعید اور امانت علی تھے۔ جب یہ اپنے کیریئر کے آخری مراحل میں تھے تو میں نے ان کی محنت کا صلہ دینے کیلئے اور ان کی عزّت افزائی کے لئے بی ایس سی انجینئرنگ کرنے باہر بھیجا۔ امانت نے انگلستان سے ڈگری لی اور سعید نے شمالی قبرص سے۔ سعید کی بدقسمتی کہ ترکی سے بذریعہ سڑک آنے کا فیصلہ کیا اور ایران میں زیارت گاہیں دیکھتے ہوئے واپس آگئے اور افسر بن گئے مگر ان کا ایران کے راستہ واپس آنا نمک حراموں اور احسان فراموشوں کیلئے ایک بہانہ بن گیا اور اس کو بہت پریشان کیا اور سختیاں کیں۔ ملک کی خدمات کا یہ اعلیٰ صلہ ملا۔
کھوکھر صاحب کا ایک اور دلچسپ قصّہ سنئے۔ میں نے آپ سے ذکر کیا تھا کہ بون میں ہمارے افسر اکرام الحق خان (منسٹر) تھے کھوکھر ایک مرتبہ جرمنی گئے تو اکرام صاحب نے کہا کہ میں اکیلا ہوں، فلیٹ میں جگہ ہے میرے ساتھ ٹھہرجائیں۔ اکرام صاحب ابھی تک کنوارے ہیں۔ صبح اُٹھ کر کھوکھر صاحب غسل خانے میں تھے تو اکرام صاحب نے ان کا بستر بنادیا۔ اکرام صاحب بہت ہی زیادہ ’’سلیقہ مند‘‘ ہیں، آپ ان کی میز پر کوئی چیز دوچار انچ ہلادیں تو یہ فوراً جانچ لیتے ہیں اور اس کو وہیں رکھ دیتے ہیں۔ بہرحال دوسرے دن اکرام صاحب پھرکھوکھرکے کمرے میں گئے، کھوکھر باتھ روم میں تھے مگر بستر بہترین طریقے سے تیار کیا گیا تھا۔ جب کھوکھر باہر آئے تو اکرام صاحب نے کہا کھوکھرتم نےتوکمال کردیاآج اتنی صبح بستر بنادیا۔ کھوکھربولے، اکرام صاحب میں بستر پر سویا ہی نہیں۔ صوفہ کا تکیہ لے کر فرش پر آرام سے سو گیا کہ بستر نہ بنانا پڑے۔
(نوٹ) آپ کو اس سال کے تین اعلیٰ ترین، قابل انعام لطیفے سنانا چاہتا ہوں۔ (1) اسلام آباد کے دھرنے میں ہمارے قابل احترام، نہایت تجربہ کار منجھے ہوئے، 90سال کی پختہ عمر جناب روئیداد خانصاحب نے عمران خان پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ انھیں عمران خان میں قائداعظم محمد علی جناح نظر آرہے ہیں۔ آپ ہنس کیوں پڑے؟ (2) کراچی میں مزار قائد پر پی پی پی کے جلسہ میں ایک سمجھدار، تجربہ کار پی پی پی کے لیڈر نے کہا کہ اُنھیں بلاول بھٹو میں جناب ذوالفقارعلی بھٹو نظر آرہے ہیں، مجھے تو ان میں زرداری صاحب کی جھلک نظر آتی ہے۔ (3) وزیراعظم جناب محمد نواز شریف صاحب نے پچھلے دنوں فرمایا کہ اُنھیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متاثرہ عوام کی تکلیف کا سوچ کر بہت دُکھ اور پریشانی ہوتی ہے۔ جی میاں صاحب شاید اس دکھ درد کو خیال و تصور سے دور رکھنے کے لئے غالباً وزیراعظم ہائوس اسلام آباد اور رائیونڈ میں اپنی رہائش کو روشنیوں سے جگمگا دیتے ہیں اور ایئرکنڈیشننگ سے ٹھنڈا کرکے عوام کے دکھ، درد اور درد کی تکلیف کو بھلانا چاہتے ہیں کہ آپ کو دکھ، درد اور تکلیف نہ ہو۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: