گمنام قومی ہیروز

(گزشتہ سے پیوستہ)
اپنے نہایت ہی قابل، محب وطن اور گنج ہائے گرانمایہ رفقائے کار کی شخصیات اور کارکردگی کے بارے میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ ہمارے پروجیکٹ کی کامیابی میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم، پھر بھٹو صاحب کی دوراندیشی اور حب الوطنی، پھر جنرل ضیاء کا مغربی پریشر کو خاطر میں نہ لانا، پھر جناب غلام اسحٰق خان کی حب الوطنی، قابلیت اور مدد اور پھر میری اپنے رفقائے کار کی ہر ضرورت و تکلیف کا ازالہ شامل ہے۔
پروجیکٹ کی بنیاد رکھ کر میں نے اپنے فنی کام کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی ضروریات کو اوّلین ترجیح دی۔ چند ماہ بعد میرا ایک کارکن بیمار ہوا اور سید پور روڈ کے ایک نرسنگ ہوم میں داخل ہوگیا، مجھے علم ہوا تو میں اسے دیکھنے گیا اور اس اسپتال کی حالت دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ یورپ میں تو جانوروں کے شیڈ بھی زیادہ صاف تھے۔ پھر چند دن بعد میں راولپنڈی سینٹرل اسپتال میں اپنے پیارے دوست پروفیسر غلام حسین راجہ کو دیکھنے گیا تو وہاں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ سیدپور والا کلینک کسی سرکاری ادارے کے ایک اکائونٹ آفیسر کاتھا، اس نے یہ مکان لے کر چند ڈاکٹر ملازم رکھ لئے اور اب ماہانہ لاکھوں روپیہ کما رہا تھا۔ میرے اہم اور قابل ساتھی انجینئر نسیم خان اس شخص سے واقف تھے اور اُنھوں نے ہی تفصیل بتائی تھی۔ یہ حالات دیکھ کر

میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے رفقائے کار کے لئے اعلیٰ طبّی سہولتوں کا بندوبست کرنا لازمی ہے۔ میں نے آرمی کے ریٹائرڈ ڈاکٹر شمس الرحمٰن کی خدمات حاصل کیں اور ایف ایٹ وَن میں ایک اچھا بنگلہ لے کر ان کو سہولتیں مہیا کردیں کہ وہ ابتدائی طور پر عام بیماریوں کا خود علاج کریں اور اگر ضرورت پڑے تو مریضوں کو MH اور CMH کو ریفر کردیں۔ یہ ایک عارضی انتظام تھا مگر میرے ساتھیوں کو بہت آرام مل گیا چونکہ میں نے ڈاکٹر شمس الرحمن کے ساتھ چند اور ڈاکٹر متعین کردئیے تھے۔
میں ہنگامی طور پر کام کررہا تھا اور بہت تیزی سے اسٹاف بھرتی کررہا تھا کہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچادوں۔ مجھے احساس تھا کہ ہماری ریس وقت کے خلاف تھی اور اگر مغربی ممالک کو ہمارے اس پروگرام کا علم ہوجاتا تو وہ ہمارے درآمد کے تمام ذرائع ، وسائل روک دیتے۔ جوں جوں اسٹاف کی تعداد میں اضافہ ہوا ان کی اور ان کے اہل خانہ کی طبی سہولتوں کی بھی ضرورت میں تیزی سے اِضافہ ہوا، اور مجھے احساس ہوا کہ اب ہمیں ایک بڑے مکمل اسپتال کی ضرورت ہے۔ سیکٹر G-9 ، اسلام آباد میں ہم نے ایک بڑا پلاٹ لیا ہوا تھا اور وہاں ہم نے اپنی سروس آرگنائزیشن CWO (سول ورکس آرگنائزیشن) کا دفتر قائم کرنا تھا۔ میں نے آپ کو پہلے بتایا ہے کہ جب بھٹو صاحب نے ایک خودمختار ادارہ بنا کر مجھے اس کا سربراہ مقرر کیا تو میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ مجھے مخصوص انجینئرز کی ایک ٹیم دیدی جائے تاکہ میں تمام سول ورکس ان سے کرائوں، بھٹو صاحب کے پوچھنے پر کہ یہی انجینئرز کیوں ! تو میں نے جواب دیا تھا کہ کام نہایت اہم تھا اور ہمیں وقت کے خلاف تیزی سے کام کرنا تھا اس کبلئے مجھے علم تھا کہ سول ورکس میں پاکستان میں بآسانی 50فیصد رشوت ستانی ہوتی ہے اور کام کی رفتار نہایت سست ہوتی ہے۔ بھٹو صاحب نے مرحوم جنرل ضیاء الحق سے جو اس میٹنگ میں موجود تھے کہا کہ وہ میرے لئے یہ انتظام کردیں۔ میٹنگ سے باہر نکل کر مجھ سے جنرل ضیاء نے پوچھا کہ کیسا افسر چاہئے، میں نے کہا نہایت قابل، تیز رفتار اور اگر مگر کرنے والا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کل صبح آپ کو بہترین انجینئر دونگا۔ دوسرے دن جناب زاہد علی اکبر خان(بعد میں چیئرمین واپڈا) صبح ۹ بجے دندناتے شور مچاتے آئے۔ دیکھا تو طبیعت خوش ہوگئی، پٹھان کی جیتی جاگتی تصویر، 6فٹ سے زیادہ قد، گورا رنگ، ہری آنکھیں، گہرے برائون بال، ورزشی چست و چابک بدن، اخلاق و گفتار میں شرافت کا نمونہ۔ مجھ سے شکایت کی کہ مجھے کہاں بلوالیا، میں فرنٹ پر لڑنے والا ہوں۔ میںنےجب ان کو پروگرام کا مقصد بتایا تو بے حد خوش ہوئے اور تقریباً ایک سال نہایت اعلیٰ کام کرکے لاڑکانہ چلے گئے۔ آج تک ہم بہترین دوست ہیں۔ آج کل لندن میں قیام پذیر ہیں کیونکہ مشرف نے ان پر جھوٹا مقدمہ چلایا تھا جس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ سجاول خان ان کے ساتھ ہی آئے تھے اور کام کی نگرانی ان کا کام تھا۔ کام پر عقاب کی طرح نظر رکھنے والے اور چیتے کی پھرتی والی شخصیت کے مالک تھے۔ جناب زاہد کے جانے کے بعدجناب انیس علی سید کے تحت سجاول صاحب نے چارج لے لیا۔ سجاول صاحب نے نہ صرف تمام کام وقت سے بہت پہلے کیا بلکہ اعلیٰ معیار کا کیا، پورے پلانٹ کو بوٹانیکل گارڈن بنا دیا۔ جب G-9 میں CWO کی بلڈنگ تیار ہوئی تو میں ان کے ساتھ اس کو دیکھنے گیا اور اس کے معائنہ کے بعد مجھے فوراً خیال آیا کہ ہمیں اسپتال کی عمارت کی سخت ضرورت ہے۔ میں نے سجاول صاحب سے کہا کہ اگر آپ یہ بلڈنگ اسپتال کیلئے دیدیں تو کارکنوں کیلئے بہت بڑی سہولت ہوجائے گی۔ سجاول صاحب نہایت اعلیٰ اخلاق کے افسر تھے اور جب بھی میں نے کام بتایا انہوں نے کبھی بھی اگر مگر کی بات نہ کی اور فوراً کام پر توجہ دی اور کردیا۔ انھوں نے وہ بلڈنگ فوراً اسپتال کے حوالے کردی اورگولڑہ میں نئی بلڈنگ کی تعمیر شروع کراکے جلد مکمل کی اور CWO کا وہاں مستقل دفتر بنا لیا۔ مشرف کے کم ظرف، احسان فراموشوں اور نمک حراموں نے اس فرشتہ خصلت اعلیٰ افسر کو بھی بے حد تکالیف دیں اور کافی عرصہ گھر والوں سے علیحدہ رکھا۔ حالانکہ جس نمک حرام نے انکے ساتھ یہ سلوک کیا وہ پہلے ہمارے ماتحت کام کرچکا تھا اورہمارے آگے خوشامدیوںکی طرح فرمانبرداری کرتا تھا اورجناب سجاول اور میرے آگے ایڑیاں بچھاتا تھا اور خوشامد کرتا تھا کہ ہم اسے کبھی کبھی لنچ پر بلالیں۔ قدرت کا بھی کیا نظام ہے جس نے ملک کی خدمت کی اور اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم رول ادا کیا وہ راندۂ درگاہ ہوگیا اور جو احسان فراموش تھا وہ تخت پر جا بیٹھا۔ بہرحال ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہے۔
جب یہ بلڈنگ ہمیں اسپتال کیلئے مل گئی تو میں نے چوہان صاحب کو اُدھار لے لیا۔ کیا پیاری شخصیت، کیا حسن اخلاق، اور کیا انتظامی صلاحیت۔ ایک فرشتہ خصلت انسان ہیں اور ابھی تک پیارے، عزیز دوست ہیں اور اس وقت اپنی ڈاکٹر بیگم کے ساتھ ایک فلاحی میڈیکل کلینک چلا رہے ہیں۔ انھوں نے چارج لیتے ہی کئی اچھے ڈاکٹر مستعار لے لئے جن میں جناب نعیم احمد اور نذیر صاحب قابل ذکر ہیں۔ نعیم صاحب نے اسپتال کی انتظامیہ کا چارج لے لیا، نذیر صاحب اعلیٰ درجہ کے سرجن ہیں۔ جب مجھے ہرنیا کی شکایت ہوئی تو انھوں نے ہی آپریشن کیا اور ٹھیک کردیا۔ جب غلام اسحٰق خان صاحب کو علم ہوا کہ میرا آپریشن ہوا ہے تو فون کیا اور کہا مجھے کیوں نہ بتایا ہم فوراً لندن بھیج دیتے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر میں ہی اپنے ڈاکٹروں پر اعتماد نہ کروں گا تو پھر میرا اسٹاف کیا سوچے گا۔میں آج تک اپنے ہی ڈاکٹروں سے اپنے ہی اسپتال میں خود کا اور فیملی کا علاج کراتا ہوں۔ ان ڈاکٹروں کے علاوہ بہت سے دیگر ڈاکٹر بھی بھرتی کرلئے ۔ چوہان صاحب کا ہیومن ریلیشن شپ لاجواب تھا، کبھی کسی سے بلند آواز سے بات نہیں کی، ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ انکے دور میں اسپتال نے اعلیٰ معیار قائم کرلیا۔ جب چوہان صاحب ترقی پاکرچلے گئے تو ہم نے یکے بعد دیگرےجناب کمال شاہ ،جناب عزادار حسین شاہ (1994-95)اور پھرجناب پرویز اختر بٹ کو لے لیا۔ ہم نے پھرچوہان صاحب کو واپس بلا لیا(1993-94) اور کام نہایت اچھی طرح چلنے لگا۔ پھر جنرل آصف نواز نے مجھ سے کہا کہ چوہان صاحب کو واپس بھیج دیں کہ وہ ان کو ترقی دیکر سرجن جنرل بنانا چاہتے ہیں(1996-99)۔ وہاں انھوں نے اعلیٰ کارکردگی کا ثبوت دیا اوراپنے زیرانتظام اسپتالوں اور اداروں کی انتظامیہ کو بہتر بنا دیا۔ ان کی غیرموجودگی میں انھوں نے جناب اشفاق احمد خان(2000-2003)کو ہماری میڈیکل سروسز کا انچارج بنا دیا۔ یہ ماہر امراض جلد تھے اور اچھا کام کیا۔ طبیعت کے ذرا سخت تھے اسلئے اسٹاف زیادہ خوش نہ تھا۔ اس دوران چوہان صاحب ریٹائر ہوئے تو میں نے ان کو اپنا ایڈوائزر لگا لیا کہ میڈیکل سروسز پر مشورہ لے سکوں۔
جب اشفاق صاحب ریٹائر ہوئے تو ڈاکٹر کامران مجید کو ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا اور وہ ہی اب بھی انچارج ہیں۔
ہمارے اسپتال کی ایک بلڈنگ ہمارے لئے ناکافی ثابت ہورہی تھی۔ میرے پاس دس ہزار افراد کام کررہے تھے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی تیمارداری کیلئے سہولتوں کی توسیع کی ضرورت تھی۔ ہماری بلڈنگ کے بازو والا پلاٹ خالی تھا جس پر میکنائزڈ کنسٹرکشن کمپنی MCCنے ایک شیڈ بنایا ہوا تھا، اس کمپنی نے عراق میںبہت کام کیا تھا مگر امریکی جارحیت کی وجہ سے عراق اس کو ادائیگی نہ کرسکا اور اس کا دیوالیہ ہوگیا۔ اس وقت ایک پٹھان شاہ صاحب لیکوئی ڈیٹر مقرر تھے اور وہ اس دفتر میں کام کررہے تھے، اس وقت جناب سعید بیگ ڈی جی، سی ڈبلیو اُو تھے۔ ان کی اعلیٰ شخصیت اور کارکردگی وملکی خدمات پر میں پہلے ہی تفصیلی روشنی ڈال چکا ہوں ۔ وہ اور میں شاہ صاحب کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ یہ پلاٹ ہمیں دیدیں، وہ بے حد نفیس اِنسان تھے مجھ سے مل کر بے حدخوش ہوئے اور کہا کہ اگر ہم ان کو F-10 یا F-11 میں بنگلہ خرید دیں تو وہ یہ خالی کردینگے اور CDA کو خط لکھدینگے کہ یہ پلاٹ ہمیں الاٹ کردیں۔ ہم نے انھیں بنگلہ خرید دیااور CDA سے پلاٹ اپنے نام کرالیا اور اس پر ایک اعلیٰ عمارت کھڑی کرکے پہلے والےا سپتال سے جوڑ دیا۔ اسپتال کی تعمیر بھی جناب سعید بیگ نے کرائی۔ آج 15 برس بعد بھی یہ اسپتال ایسا لگتا ہے کہ ابھی تیار ہوا ہے۔ اس وقت اس اسپتال میں 200 بستر ہیں، یہاں ڈاکٹرز ہائوس جاب کرتے ہیں اور ایم بی بی ایس کے بعد اسپیشلائزیشن (Specialisation) کے 5 سال کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت یہ اسلام آباد کے اعلیٰ ترین اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے اور اب یہاں باہر کے مریض بھی معاوضہ کے عوض علاج کراسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی اعلیٰ ٹیم یہاں کام کررہی ہے۔ اگلے کالم میں یہاں کے ماہرین کے بارے میں بتائوں گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: