فقیدالمثال گمنام ہیروز

پچھلے چند کالموں میں اپنے پرانے رفقائے کار کا جنھوں نے میری رہنمائی میں پاکستان کو ایک مختصر عرصہ میں ایک ایٹمی اورمیزائل قوّت بنادیا تھا،تعارف کرایا ہے۔ آج چند اور ان فقیدالمثال قومی ہیروز کا تعارف کرا رہا ہوں۔
آپ کو علم ہے کہ جب کسی ایسے اہم، بڑے پروجیکٹ پر کام شروع کیا جاتا ہے تو باہر سے سامان کی درآمد بہت ہی اہم کارروائی ہوتی ہے۔ میں تقریباً15 برس یورپ میں رہا تھا اور بہت بڑی اہم کمپنی میں کام کیا تھا اور لاتعداد بڑی بڑی اہم کمپنیوں اور انکے اعلیٰ عہدیداروں سے قریبی تعلقات رہے تھے۔ مجھے اپنے پروگرام کیلئے سامان کی درآمد کیلئے کسی قابل اعتبار اور اہم ٹیکنیکل انجینئر کی ضرورت تھی۔ پروجیکٹ کا انتظام سنبھالنےاور نئی آرگنائزیشن کے بنتے ہی میں نے جنا ب قاضی صاحب کیساتھ کام کرتے ہوئے نوجوان محمد فاروق کو اس کام کیلئے نہایت موزوں سمجھا۔ فاروق نوجوان،نرم گو، نہایت تمیزدار اور ٹیکنیکل معاملات پر مہارت رکھتے تھے، انھوں نے فوراً عہدے کا چارج لے کر ایک نہایت اعلیٰ، تیز کار محکمہ بنا لیا۔ تمام محکموں کے سربراہ اپنی ضروریات ان کو بھیجتےتھے۔
فاروق ایک نہایت ایماندار، محنتی اور قابل تھے (یہی وہ تمام خصوصیات ہیں جو اس ملک میں آپ کو غدّار اور چور بناتی ہیں) ۔ ہمارا پورا سامان فنّی نوعیت کا تھا اس

لئے میں نے فاروق کا بطور ایک نہایت سمجھدار اور اچھے انجینئر انتخاب کیا تھا۔ یہی نہیں فاروق ایک ایسے انسان ہیں جن کے خیال میں کرپشن، بے ایمانی اور غلط کام کا سوچنا بھی گناہ کبیرا ہے۔ وقت کی پابندی اور کام کی تیز رفتاری ان کا طرّہ امتیاز رہا۔ ہمیں باہر سے بہت زیادہ سامان درآمد کرنا پڑ رہا تھا اور فاروق نے ایئرپورٹ پر کسٹم کے اسٹاف سے اچھے تعلقات قائم کرلئے اور ہمارا سامان وہ جلد کلیرکردیتے تھے۔ اس وقت ایئر پورٹ پر کسٹم کے انچارج (کلکٹر) جناب حسین احمد شیرازی تھے، یہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ کام میں ماہر،ذرا سا غلط کام نہ کرنیوالے۔ انھوں نے ہماری بے حد مدد کی۔ اس وقت ایک اور خوبصورت دراز قد اَفسر سپرنٹنڈنٹ اَسد آغا صاحب ہوتے تھے۔ نفیس، نرم گو،مددگار شخص تھے۔ پچھلے دنوں شیرازی صاحب سے علم ہوا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ ’’اللہ پاک ان کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔‘‘
اب واپس شیرازی صاحب کی طرف۔ شیرازی صاحب کئی برس ہماری مدد کرکے کہیں اور پوسٹ ہوگئے مگر انھوں نے قاسم بھٹی سے زیادہ ہماری مدد کی۔ تقریباً 1991 یا 1992 میں مجھے بہاولپور میں قائد اعظم میڈیکل کالج میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بطورچیف گیسٹ شرکت کرنے جانا پڑا۔ وہاں ہمارے مایہ ناز شاعر اور اعلیٰ منتظم جناب مرتضیٰ برلاس صاحب سے ملاقات ہوئی جو اس وقت وہاں ڈپٹی کمشنر تھے۔ وہ گیسٹ ہائوس میں تشریف لاتے تھے۔ شرافت و علم و ادب کا خزینہ تھے۔ ریاضی میں ایم۔اے تھے اس وجہ سے ذہن ادب و انتظامیہ کی موشگافیوں کو تیزی سے سلجھانے کی بہترین صلاحیت رکھتا تھے۔ ان سے یہ ملاقات بہت خوشگوار تھی۔ بعد میں جب میں نے اپنے ایک کالم میں ان کا یہ شعر لکھا:
ریا کے دور میں سچ بول تو رہے ہو مگر
یہ وصف ہی نہ کہیں احتساب میں آئے
تو لاہور سے برلاس صاحب کا محبت نامہ بمعہ کلیات برلاس موصول ہوا۔ یہ نہایت پیارے کلام کا مجموعہ ہے اور اردو ادب کے ہر طالبعلم کی لائبریری کی زینت ہونا چاہئے۔ بہاولپور مجھے بے حد پسند آیا۔ سرسبزو شاداب ، کھجوروں کے درختوں نے رونق بڑھادی تھی۔ برلاس صاحب نے ایک دن بہت اعلیٰ ناشتہ بھجوایا۔ اس میں گوشت بھی تھا جو بہت لذیذ طریقے سے تیار کیا گیا تھا۔ انھوں نے بعد میں بتلایا کہ وہ تلیر کا گوشت تھا۔ میں نے کہا کہ اگرعلم ہوتا تو نہ کھاتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھی ہرگز شکار نہیں کرتے، عرب وہاں شکار کرتے ہیں اور انھوں نے تحفتاً چند پرندے بھیج دئیے تھے، حکومت نے ان کو ان خوبصورت و نایاب پرندوں کو مارنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ بہاولپور سے ہم بذریعہ کار ملتان آئے، وہاں مرحوم میئر ڈوگر صاحب نے میرے لئے شاندار پروگرام و ڈنر رکھا۔ خوشی و حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں اپنے شیرازی صاحب کو موجود پایا۔ وہ اب بڑی صنعتوں کے ٹیکس کے سربراہ تھے۔ میں نے اپنے خطاب میں ان کا تعارف کرایا ۔ آجکل شیرازی صاحب لاہور میں پریکٹس کررہے ہیں، نہایت اعلیٰ ادیب و مصنف ہیں مزاحیہ مضامین لکھنے میں استاد۔ ان کی کتاب ’’بابو نگر‘‘ ایک خزینہ مزاحیہ مضامین ہے اور ہر اردو داں کو اس کو پڑھ کر لطف اندوز ہونا چاہئے۔ شیرازی صاحب سے لاہور میں فلاحی اسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں ملاقاتیں رہتی ہیں اور مالی معاملات کے حساب کتاب میں ان کی رہنمائی حاصل ہے۔
بات ہورہی تھی ہمارے کے آر ایل کے درآمدی ادارہ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق کی۔ انھوں نے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، بہت جلد ہی ایک نہایت اعلیٰ ٹیم بنا لی تھی، جس میں اُن کے اور میرے ساتھی مرحوم جناب صدیق، جناب فدا حسین شاہ، جناب شبّیر صاحب،جناب بدر حبیب،جناب عبدالرئوف(اَب ڈاکٹر عبدالرئوف ہیں اور ماہر ہومیوپیتھی معالج ہیں) شامل تھے۔ صدیق صاحب اورجناب فدا حسین شاہ اللہ پاک ان دونوں کی مغفرت کرے اور جنت عطا فرمائے۔ آمین۔ ڈاکٹر محمد فاروق نے کبھی کسی محکمہ یا ڈی جی کو سامان کی کمی نہ ہونے دی۔ جب میں صبح 8 بجے دفتر پہنچتا تو فاروق فوراً میرے پاس آجاتے اور تمام کاموں کی پوزیشن سے مجھے آگاہ کرتے، اگر کہیں سے سامان آنے میں تاخیر ہورہی ہوتی تو میں کہوٹہ جاکر سپلائرز کو فون کرکے اس کو جلد روانہ کرنے کی ہدایت کرتا۔ تھوڑی دیر بعد ممبر فنانس امتیاز احمد بھٹی مرحوم تشریف لے آتے، یہ نہایت خوبصورت دراز قد اور منجھے ہوئے فنانس منسٹری کے افسر تھے اور22 گریڈ میں میں نے ترقی کرادی تھی۔ وہ بھی فاروق سے کام کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے، مجھے کام کی رفتار سے آگاہ کردیتے۔ بعد میں محمد فہیم صاحب (یہ بھی فنانس منسٹری کے22 گریڈ کے افسر تھے) نے یہ ذمہ داری سنبھال لی تھی اور نہایت خوش اسلوبی و مہارت سے تمام فرائض انجام دیئے تھے۔ میں وہاں سے پھر کہوٹہ روانہ ہوجاتا اور شام5 بجے واپس آتا۔ فاروق ہمیشہ موجود ہوتے تھے اور فوراً میرے پاس آجاتے تھے۔
فاروق نے پشاور میں اپنی یونیورسٹی میں یونین کی حلف برداری کا ایک مزاحیہ واقعہ سنایا تھا۔ یونین کے عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب تھی، مرحوم مولانا کوثر نیازی (بھٹو صاحب کے وزیر) اس میں مہمان خصوصی تھے۔ نیازی صاحب نے تقریر شروع کرتے ہی کہا کہ بھٹو صاحب چراغ ہیں ہم ان کی روشنی ہیں، وہ سورج ہیں ہم اس کی کرنیں ہیں، وہ سمندر ہیں ہم اس کے قطرہ ہیں اتنے میں ایک طالبعلم پیچھے سے کھڑا ہوا اور بلند آواز سے کہا! اور وہ دیگ ہیں اور آپ اس کے کھرپے ہیں۔ قہقہوں سے ہال گونج اُٹھا۔ فاروق کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے مگر اردو ادب میں بہت مہارت ہے، آواز گونجدار اور تقریر میں مہارت ہے۔ کئی برسوں کے بعد بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں ہمدرد یونیورسٹی کے کنووکیشن میں ملاقات ہوئی ان کی بھانجی فارغ التحصیل ہوئی تھی۔ زمانہ کی سختیوں اور مشرف اور اس کے حواریوں کی بدمعاشی اور مظالم کے باوجود حوصلہ بلند تھا۔ یہ درخت نہ ہی ٹوٹا تھا اور نہ ہی جھکا تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر فاروق میرے نہایت قریب ترین رفیق کار تھے ان پر میری طرح، بہت مظالم ڈھائے گئے ۔ اب وہی شخص مکافات عمل کا شکار ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ جتنے شہدا کے ہم نغمہ گاتے ہیں اور ملک کی سلامتی میں ان کے کردار کی تعریف کرتے ہیں ڈاکٹر فاروق نے ملک کی سلامتی میں جو رول ادا کیا وہ اس سے 100 گناہ زیادہ اہم اور مفید رہا ہے۔ اللہ پاک ان کو اور ان کے اہل و عیال کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ ان کو ابھی تک بہت ستایا جارہا ہے۔ اور اسلامی تاریخ پر عمل کیا جا رہا ہے کہ آپ قوم پر احسان کریں اور اس کے بدلہ جان، مال سے ہاتھ دھو بیٹھیں یا زندگی بھر قید و بنداور ظلم و ستم کا شکار بنتے رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق اور ان کے رفقائے کار ہیروں میں تولنے کے قابل ہیں مگر ان پر گندی کیچڑ اُچھالی گئی ہے۔ پاکستان کو ایٹمی اور میزائل قوت بنانے میں ڈاکٹر محمد فاروق اور ان کے ساتھیوں کا انمول کلیدی رول تھا۔ ڈاکٹر محمد فاروق21 گریڈ میں ریٹائر ہوئے اور اُن کو اُن کی اعلیٰ خدمات کے صلہ میں صدر مملکت نے ہلال امتیاز کے اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا تھا۔
(نوٹ) آپ کو ایک نہایت خوشگوار دورہ اور اس سے متعلق ایک قابل مذمّت واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ میں پچھلے دنوں تین دن کے لئے سرگودھا گیا۔ وہاں یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری صاحب نے بہت عرصہ سے دعوت دے رکھی تھی۔ قسمت نے ساتھ دیا وہاں ایک عزیز دوست محمد زبیر اعوان کی بیٹی ڈاکٹر اقصیٰ کی شادی جناب یوسف الرحمٰن سے ہورہی تھی۔ میں نے سوچا یہ اچھا موقع ہے۔ ہم بذریعہ کار وہاں گئے چار گھنٹے لگ گئے، موٹر وے سے اتر کر پتلی سڑک پر سفر دشوار تھا، ٹریکٹر، مویشی، موٹر سائیکلیں سب ہی اس تنگ سڑک پر تھے۔ یونیورسٹی پہنچ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ یہاں 30 ہزار سے زیادہ طلباو طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس قدر اعلیٰ نظام تعلیم، نظم و نسق، سبزہ زار، باغات میں نے کسی یونیورسٹی میں نہیں دیکھے۔ میں نے 18 ہزار طلباء سے خطاب کیا منظر قابل دید تھا، پِن ڈرا پ خاموشی، جو والہانہ استقبال انھوں نے مجھے دیا وہ زندگی بھر یاد رہے گا۔ پروفیسر چوہدری نے مجھے اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ ان کا بیٹا کیمبرج سے ڈائیگناسٹک ٹیکنالوجی میں Ph.D ہے اور ماشا ء اللہ بے حد قابل ہے۔ پروفیسر چوہدری نے یونیورسٹی میں کثیر فنڈ پیدا کئے ہیں، پینے کا اعلیٰ پانی، دوائیں وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ میرے پرانے نہایت قابل رفیق کار ڈاکٹر یٰسین چوہان وہاں انجینئرنگ کے ڈین اور پروفیسر ہیں۔ مجھے اسٹاف سے علم ہوا کہ کچھ بااثر لوگ اور عوامی نمائندے پروفیسر چوہدری صاحب پر سخت دبائو ڈال رہے تھے۔ جعلی بلوں پر ان کے دستخط اور نا اہل طلباء کو داخلہ دلانا چاہتے ہیں۔ ان کے انکار پر دھمکی دے رہے تھے کہ میاں شہباز شریف سے کہہ کر ان کی چھٹی کرادینگے۔ میں نے واپس آکر پوری تفصیل وزیراعلیٰ کو لکھدی اور دوسرے دن ان کے ڈپٹی سیکرٹری جناب عامر کریم خان کا فون آیا اور تفصیلات دریافت کیں اور کہا وزیر اعلیٰ سخت ناراض ہیں اور مجرموں کی اچھی خبر لینگے۔ میں میاں صاحب کی بے حد قدرکرتا ہوں وہ نہ غلط کام کرتے ہیں اور نہ کرنے دیتے ہیں۔ اللہ پاک ان کو فرائض منصبی ادا کرنے میں رہنمائی فرماتا رہے۔ آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: