فقیدالمثال گمنام ہیروز

(گزشتہ سے پیوستہ)
پچھلے کالم میں اَپنے نہایت قابل اور اہم ساتھی ڈاکٹر محمد فاروق کے بارے میں آپ کو کچھ بتلایا تھا۔ انھوں نے نہایت اعلیٰ انتظام کیا تھا اور تمام ضروریات یورپ کے ایک اہم دارالحکومت میں ہمارے افسراکرام الحق خان کو اور دوسرے مغربی ملک میں جناب عبدالجمیل کو بھیج دیتے تھے اور وہ دونوں بغیر کسی تاخیر کے آرڈر دیدیا کرتے تھے۔ تمام خریداری کے لئے جناب امتیاز احمد بھٹی مرحوم فنڈز مہیا کردیتے تھے۔
میں نے آپ سے پہلے عرض کیا ہے کہ اکرام الحق خان کو میں نے اہم ادارے کے چیئرمین جناب علی نواب سے اُدھار لیا تھا۔ یہ سینئر ا فسر تھے ۔ یہ گورے ، ہری آنکھوں والے خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ جب مغربی ممالک کو ہمارے پروگرام کی بھنک پڑی تو وہ ہمارے ذرائع درآمد کی کھوج میں لگ گئے۔ انھیں اکرام صاحب کے بارے میں علم ہو گیا کہ مغربی کمپنیوں نے ان کو بتلادیا کہ یہ آرڈر کرتے ہیں۔ اکرام صاحب نے شہرکے نواح میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش اختیار کی تھی۔ ایک روز وہ خریداری کے لئے باہر آئے تو دیکھا کہ چند لوگ کیمرے وغیرہ لگائے وہاں کھڑے ہیں۔ وہ ضرورت کا سامان خرید کر واپس چلے، گھنٹہ دو گھنٹہ بعد وہ باہر آئے کچھ دیر وہاں کھڑے رہے اور پھر اندر چلے گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیمرہ ٹیم کس کی تصاویر بنا رہی

ہے۔ چار پانچ گھنٹے بعد وہ کہیں جانے کے لئے باہر آئے تو یہ ٹیم وہاں سے جا چکی تھی، ڈرائیور نے گاڑی لگائی اور وہ چلے گئے۔ دوسرے دن اخبار میں خبر نکلی کہ کسی TV اسٹیشن کی ٹیم وہاں گھنٹوں کھڑی رہی اور اکرام الحق خان گھر سے باہر نہیں نکلے جبکہ حقیقت یہ تھی اکرام صاحب اپنی گوری رنگت، ہری آنکھوں کی وجہ سے بالکل غیر ملکی لگتے تھے اور یہ پہلے بھی مغربی یورپ میںکام کرچکے تھے اور روانی سے مقامی زبان بولتے تھے۔
ہمارے دوسرے افسر عبدالجمیل صاحب بھی یورپ میں تھے۔ یہ اگرچہ اکائونٹس کی جانب سے وہاں متعین تھے مگر ہم نے ان سے اجازت لے کر اپنے کام کی بھی اجازت لے لی تھی۔ یہ نہایت قابل، ایماندار اور نفیس انسان تھے۔ اس وقت ہماری دونوں بیٹیاں یورپ میں (دینا اور عائشہ ) زیر تعلیم تھیں۔ جمیل صاحب ایک پاکستانی قابل بھروسہ ٹیکسی ڈرائیور سے ان کو ایئر پورٹ سے اُٹھوا کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا دیتے تھے اور وہ وہاں سے بذریعہ ٹرین اپنی اپنی یونیورسٹیوں کو چلی جاتی تھیں۔ وہ جمیل صاحب کو اَنکل جمیل کہتی تھیں اور اب بھی کہتی ہیں۔ واپسی سے پہلے بچیاں ان کو فون کردیتی تھیں، یہ وقت مقررہ پر ان کی سیٹیںبُک کرادیتے تھے اور پھر ان کا ڈرائیور ان کو ایئر پورٹ پہنچا دیتا تھا اور ٹکٹ حوالے کردیتا تھا۔ ٹکٹ ہمیشہ ہم پاکستان سے ہی واپسی کا لیتے تھے۔ جب وہ یورپ اترتی تھیں تو ڈرائیور کو ٹکٹ دیدیتی تھیں کہ جمیل صاحب کو دیدیں۔ ایک ایسا وقت آیا کہ ایک مغربی ملک نے ہماری درآمدات پر سخت پابندیاں عائد کردیں یہاں تک کہ عام ٹیکنالوجی کی چیزوںپر بھی پابندی عائد کردی جبکہ اس سے بہتر ٹیکنالوجی ہم جرمنی اور جاپان سے کھلے عام درآمد کررہے تھے۔ ان کی شرارت جمیل صاحب پر بھی گری اور انھوں نے سفارت خانے کو لکھا کہ یہ ممنوعہ ٹیکنالوجی خرید رہے ہیں انھیں واپس بھیج دیا جائے۔ مغربی گورنمنٹ نے جمیل صاحب کو واپس بھجوانے کی درخواست کردی، وہ پاکستان آگئے اور اکائونٹس سے میں نے ان کی خدمات مستقل طور پر مستعار لے لیں۔ وہ ریٹائر ہوکر اب خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں مگر اکرام صاحب اور ان کی خدمات کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ انھوں نے ضروری سامان بروقت مہیا کرکے ہمارے پروگرام کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کیا۔ اکرام صاحب جب یورپ سے واپس آئے تو میں نے ان کو اہم عہدہ دے دیا۔ اور جب جنرل ضیاء الحق نے ہمیں فائنل آرڈر دے دیا تو انھوں نے جناب رشید علی مرحوم اور انجینئر اعجاز احمد کھوکھر مرحوم سے مل کر کا م کو پا یہ تکمیل تک پہنچانے کےلئےاہم پرزہ جات تیار کئے۔ یہ تینوں کی ٹیم ایک اعلیٰ ٹیم تھی جو ہر چیلنج قبول کرنے کو تیار تھی۔ انھوں نے ہر کام نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا اور مجھے کبھی نا اُمید نہیں کیا۔ ایسے ہی قابل، محنتی ، ایماندار رفقائے کار کی مدد سے پاکستان کو ہم بہت ہی کم عرصہ میں ایک ایٹمی اور میزائل قوّت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اللہ رب العزت ہی انھیں اس نیک اور اہم قومی کام کا اجر دے گا۔
پچھلے دنوں ایک دوست پوچھ رہے تھے کہ ہماری ایٹمی قوّت بہتر ہے یا انڈیا کی۔ میں نے عرض کیا یہ اِضافی یا ذیلی سوال ہے، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے پاس جو صلاحیت ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ اگر ہندوستان کچھ شرارت یا جارحانہ عمل کرے تو ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں اور اسی طرح اگر ہم کوئی غلطی کریں تو کیا ہندوستان جواب دے سکتا ہے اور کیا دونوں ممالک کو یہ نقصان قابل ِ قبول ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ ہم ان کو ناقابل برداشت نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اسی طرح وہ بھی ہمیں ناقابل برداشت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ باہمی تباہ کرنے کا توازن ہی ہمارے علاقہ میں امن و امان کی ضمانت ہے۔ سرحدوں پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہینگی مگر 1965 یا 1971 والی جنگوں کا اب سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ وہی حالت ہے جو روس اور امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے درمیان پچھلے 60 برسوں سے ہے۔
1984 کے بعد سے، جب قوم کو جنرل ضیاء الحق سے ہماری اہم ٹیکنالوجی کی کامیابی کا علم ہوگیا تھا تو مجھے لاتعداد دعوت نامے آنے لگے، ان میں اسٹاف کالج، ایئروار کالج اور نیول اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس کالج سرفہرست تھے۔ تمام افسران مجھ سے ملنے، مجھ سے ہاتھ ملانے اور میرے منہ سے ہماری صلاحیت کے بارے میں جاننے کو بیتاب رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ گھما پھرا کر بالواسطہ مجھ سے یہ سوال کرتے تھے کہ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت تھی کہ نہیں۔ جب بھی ہندوستان اپنی فوجیں ہماری سرحدوں کے پاس لے آتا تھا یا تعلقات میں سخت تنائو پیدا ہوتا تھا تو یہ سوالات زیادہ زور پکڑ جاتے تھے۔ جب جنرل ضیاء نے انڈیا ٹو ڈے کے نمائندے سے یہ کہہ دیا کہ ایٹم بم بنانا مشکل نہیں ہم جب چاہیں بنالینگے تو میرے لئے اَب کچھ کھل کر بات کرنا کچھ آسان ہوگیا۔ ایک ایسے ہی لیکچر کے دوران ہماری فضائیہ کے اہم کالج میں چند افسران نے بالواسطہ سوالات کئے تو میں نے پوچھا کہ وہاں کوئی غیرملکی تو نہ تھا تو کالج کے اہم عہدیدار سید تنویر نقوی نے بتلایا کہ وہاں کوئی غیرملکی نہیں تھا۔ یہ نہایت قابل، ذہین اور معلومات پر مہارت رکھنے والے افسر تھے۔ میں نے حاضرین سے کہا کہ آپ کو میں آج کھل کر یہ بات بتلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس اتنے ایٹم بم ہیں کہ ہم ہندوستان کے ہر بڑے شہر کو کم از کم پانچ مرتبہ صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ اس پر پورا ہال کھڑا ہوگیا اور تالیوں کی گونج دیر تک جاری رہی۔ حقیقت بھی یہی تھی میں نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا تھا، ہم اس قابل تھے جس کا میں نے اظہار خیال کیا تھا۔ بعد میں تمام افسران نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مجھ سے مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے بخوشی سب سے مصافحہ کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ فوجی افسران کے ہاتھ ورزش وغیرہ کرکرکے بہت سخت ہو جاتے ہیں۔ میری خود عادت ہے کہ مصافحہ ہمیشہ نہایت گرم جوشی سے کرتا ہوں اور سخت ملاتا ہوں، مجھے کوئی نرم ہاتھ میرے ہاتھ میں دیدے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی نے مری مچھلی ہاتھ میں تھمادی۔ بہرحال مصافحہ کرکے اور چائے وغیرہ پی کر جب میں گیسٹ ہائوس میں اپنے کمرے میں گیا تو میں نے واش بیسن کو گرم پانی سے بھرا اور اس میں تھوڑا سا نمک ڈالا اور اس میں بہت دیر تک ہاتھ ڈالے رکھا کہ ہاتھ کا درد کم ہوجائے اور اس پر ورم نہ آئے۔ اس روز اس کالج کے افسران کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے انھیں پہلی مرتبہ میرے اپنے منہ سے یہ خوشخبری سننے کو ملی تھی کہ واقعی ہم ایک ایٹمی قوّت ہیں اور اب ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے۔ اس رات مجھے یقین ہے کہ ہمارے تمام افسران نہایت سکون سے سوئے ہونگے۔ میرے رفقائے کار اور میں نے ایک ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ وہ ملک جو اَب بھی سینے کی سوئی، سائیکل کی چَین یا بال بیرنگ نہیں بنا سکتا تھا اس نے دنیا کو حیران کردیا کہ ایک مختصر سے عرصہ میں ایٹمی و میزائل قوّت بن گیا۔
(نوٹ) پچھلے کالم میں غلطی سے جناب مرتضیٰ برلاس کو ڈپٹی کمشنر لکھا گیا۔ وہ اس وقت کمشنر بہاولپور تھے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: