میرےچند گرا ں قدر رفیق

پچھلے کالم میں آپ کو میں نے اپنے نہایت ہی قابل، فقیدالمثال ساتھی انجینئر اعجاز احمد کھوکھر کے بارے میں بتایا تھا۔ ان سے بہتر میں نے مکینکل انجینئر نہیں دیکھا۔ اور ان کی گرانقدر خدمات کے لئے قوم ان کی مرہون منت ہے۔ ان کے بارے میں مزید دو باتیں بتانی ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ پاکستان میں آج تک سوئی تک نہیں بنتی ہے۔ پیاز، ٹماٹر، ادرک، آلو تک درآمد کئے جاتے ہیں۔مگرہم نے وہ نہایت اہم آلات بنائے جو دنیا کے چند ممالک ہی بناتے ہیں۔ جب ہم نے ایک اہم پروگرام شروع کیا تو نہایت مشکل کام اس کا انجن (موٹر) بنانا تھا۔ یہ نہایت اہم کام تھا ایک ایسی موٹر یا ٹربائن جس کا تھرسٹ یا پریشر 27 ٹن تھا۔ یہ کام میں نے کھوکھر کے سپرد کیا اور کھوکھر اور اس کے قابل اسسٹنٹ ، ڈائریکٹرانجینئر نذیر مرزا نے یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے کردیا۔ میں نےموٹر ٹیسٹنگ کے لئے ہی ایک سہولت بنائی تھی اور مذکورہ پروگرام کے تمام کمپونینٹ بھی ہم ہی نے تیار کئے تھے۔ لوگ مشورہ دے رہے تھے کہ ہم یہ ٹیسٹ اسٹینڈ کافی دور بنائیں کہ ٹیسٹنگ کے دوران اس کا بہت شور ہوتا ہے۔ میں نے بوئنگ 747 کی موٹر کے چلنے کی آواز سے اس کا مقابلہ کیا اور مجھے یہ احساس ہوگیا کہ ہم اپنی موٹر کا ٹیسٹ کہوٹہ میں ہی اپنی اسی جگہ پر آسانی سے کرسکتے ہیں۔ ہمارے ڈائریکٹر جنرل سول ورکس

آرگنائزیشن، سعید بیگ، کے ہمراہ میں نے ایک اونچی جگہ کا تعین کیا اور سعید بیگ نے نہایت مہارت سے نہایت کم عرصہ میں ٹیسٹ اسٹینڈ تیار کردیا۔ سعید بیگ ہمارے پاس پہلے زاہد صاحب کے زمانے میں آئے تھے بعد میں پھر ایک مرتبہ اپنے عہدے پرترقی پاکراور پھر آخر میں مزید ترقی پاکرایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ گئے۔ یہ نہایت خوش شکل، اسمارٹ اور قابل افسر تھے، انھوں نے ہمارے ہاں اعلیٰ کارکردگی دکھائی اور مجھے نہایت قیمتی مدد دی۔ انھوں نے دوسرے اہم تعمیراتی کاموں کے علاوہ ہمارے علاقے میں ایک اعلیٰ گالف کورس بھی بنادیا تھا جہاں ہمارے افسران گالف کھیلتے تھے۔
سعید بیگ نے ایک اور بہت اہم کام نہایت تیزی اور نہایت اچھے طریقہ سے سرانجام دیا تھا۔ ہم خانپور کے پاس اہم فیکٹری لگا رہے تھے، سروہی صاحب نے مجھے اس ڈیولپمنٹ پروگرام کا چیف کوارڈینیٹر بنادیا تھا، وہ اس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے۔ یہ نہایت قابل و اہل آفیسر تھے۔1989 میں جنرل اسلم بیگ صاحب نے مجھے چین بھیجا کہ میں وہاں ایک پروگرام کا معاہدہ کروں، میرے ساتھ جنرل طلعت مسعود، سیکرٹری ڈیفنس پروڈکشن، جناب فخرالدین ملک KRL کے ممبر فنانس اور چند میرے افسران تھے۔ چند دن کے نہایت سخت مذاکرات کے بعد معاہدہ ہوگیا اور اس پر میں نے اور جناب فخرالدین ملک نے دستخط کئے۔ اس پروگرام کی فیکٹری کے لئے مناسب جگہ کی تلاش تھی۔ میں سروہی صاحب کو لے کر خانپور کے قریب ایک جگہ لے گیا جو میں نے دیکھی تھی اور مجھے بہت پسند تھی، انھوں نے فوراً اس کی منظوری دیدی اور اس نہایت اہم اور بڑے پروجیکٹ کی تعمیر کا کام KRL کے ذمّہ ہی رہا۔ سعید بیگ نے نہایت تیزی اور مہارت سے تمام عمارتیں تیار کردیں۔ سروہی صاحب اور میں باقاعدگی سے اس کے انسپیکشن کو جاتے تھے۔ سعید بیگ نے ایک اونچی جگہ ایک چھوٹا سا خوبصورت آرام دہ گیسٹ ہائوس بنادیا تھا وہاں ہم لنچ وغیرہ کر لیا کرتے تھے۔ تمام اہم مشینوں کے لگانے کی ذمّہ داری میں نے اپنے نہایت قابل اور ماہر ڈاکٹر فخرالحسن ہاشمی کے ذمّہ کردی۔ انھوں نے سب کی توقع کے خلاف یہ کام نہایت تیزی سے انجام دیدیا ۔ اس پروجیکٹ کا نام PMO (یعنی Project Management Organisation) رکھا گیا اور اس کے پہلے ڈی جی سروہی صاحب کے ایک پرانے نہایت قابل افسر سہیل احمد خان تھے۔ ان کے دور میں فیکٹری میں تمام کام مکمل ہوگیا۔ یہ ٹیکنیکل افسر تھے ،ان کے بعد ایک اور نہایت قابل اور اچھے افسر جنرل رضا آئے یہ پہلے EME اسکول کے ہیڈ رہ چکے تھے، انجینئر تھے اور اپنے کام میں نہایت ماہر تھے۔ جب اس فیکٹری نے پیداوار شروع کردی اور ان کے ٹیسٹ کامیاب رہے تو KRL نے یہ فیکٹری آرمی کے حوالے کردی۔ آج بھی یہاں بہترین کام ہورہا ہے۔
دیکھئے میں بات انجینئر کھوکھر کی کررہا تھا اور ان کی خدمات گنوا رہا تھا کیونکہ موٹر کا ٹیسٹ بیڈ سعید بیگ نے بنایا تھا اس لئے ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ضروری سمجھا۔ جب کھوکھر نے پہلی موٹر بنالی اور ہمیں یقین ہوگیا کہ ٹھیک ہے تو اس کے ٹیسٹ کا دن اور وقت مقرر کیا گیا۔ میں نے اپنے پیارے دوست انجینئر سکندر زمان چیئرمین سپارکو کو دعوت دی کہ وہ یہ ٹیسٹ دیکھیں اور غیرجانبدارانہ رائے دیدیں۔ٹیسٹ بالکل ’’ٹیکسٹ بک‘‘ کے مطابق کامیاب رہا، موٹر کا اسٹارٹ ہونا اور پورا تھرسٹ (پریشر) وقت مقررہ میں حاصل کرنا قابل دید تھا اور ہمارے لئے بہت بڑا کارنامہ تھا۔ ٹیسٹ روم کی تیاری جہاں الیکٹرانک کے آلات لگے تھے میرے دو نہایت ہی قابل اور محنتی افسران ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا اور انجینئر نسیم خان نے تیار کیا تھا۔ ان دونوں افسران کا پروجیکٹ کی کامیابی میں بڑا رول تھا۔ میں ان کے کام اور مہارت پر بعد میں تبصرہ کروں گا۔
انجینئر اعجاز احمد کھوکھر نے ایک اور نہایت اعلیٰ کام کیا تھا وہ ایک پروگرام میں استعمال ہونے والے آتش گیر مواد (Explosive) کے دو نصف گولوں کی ریموٹ کنٹرول سے مشیننگ تھی۔ انھوں نے ایک کمرے میں یہ تمام آلات سیٹ کردئیے اور آدھے گولے کو اس پر رکھوادیا۔ اس کے بعد تھوڑی دور دوسری بلڈنگ میں ٹی وی پر دیکھ کر اس کی مشیننگ کی۔ جب مجھے وہ دکھانے لے گئے تو میں بے حد خوش ہوا اور ان کی صلاحیت کا پہلے سے زیادہ قائل ہوگیا۔ میں نے کہا مشیننگ شروع کریں تو بولے کہ آپ چلے جائیں ورنہ خدانخواستہ اگر حادثہ ہوگیا توپانچ سو گز تک کچھ نہ بچے گا۔ میں نے کرسی کھینچی اور ساتھ میں بیٹھ گیا کہ مشیننگ شروع کریں آپ کی جان اپنے گھر والوں کے لئے اتنی ہی قیمتی ہے جتنی میری جان میرے گھر والوں کے لئے، جائیں گے تو ساتھ ہی جائیںگے۔ میرا اس قسم کا رویّہ میرے ساتھیوں میں جان ڈال دیتا تھا ۔ کام شروع ہوا اور خوش اسلوبی سےمکمل ہوگیا۔ کھوکھر کا یہ کام بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔ کھوکھر کے لئے معذرت سے غالبؔ کا یہ شعر تھوڑی سی ترمیم سے پیش کرتا ہوں۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیا؟
اَب اپنے ایک نہایت قریبی دوست،عزیز ساتھی،اعلیٰ سائنسدان، ماہر فزکس، ویکیوم ٹیکنالوجی، میٹالرجی، ویلڈنگ، ڈاکٹر فخرالحسن ہاشمی کا ذکر کروں گا۔ یہ کراچی میں ڈی جے کالج میں مجھ سے آئے تھے، پھر کراچی یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن سے پاس کیا، کچھ عرصہ وہاں ڈیمانسٹریٹر کے طور پر کام کیا۔ خوش مزاج اور مزاحیہ تھے لڑکیاں ان کو بے حد پسند کرتی تھیں۔ ڈاکٹر عثمانی نے ان کو لندن پی ایچ ڈی کرنے بھیج دیا وہاں امتیازی پوزیشن سے ڈاکٹریٹ کی اور واپس پنسٹیک میں کام کرنے لگے۔ جب ہمارا پروگرام شروع ہوا تو یہ ہمارے پاس آگئے۔ منیر احمد خان سے ان کی بنتی نہیں تھی کہ وہ کم تعلیمیافتہ تھا اور اپنی طرح کے لوگوں کو نوازتا تھا۔ ہم لوگ اس وقت ایف ایٹ ون میں رہتے تھے اور ان کی بیگم میری بچیوں سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ میں نے ان کو ویکیوم ٹیکنالوجی اور میٹالرجی کا ڈائریکٹر اور بعد میں ڈائریکٹر جنرل بنا دیا۔ ان کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے مہارت دی تھی جس کام میں ہاتھ ڈالتے تھے اس کو نہایت خوش اسلوبی اور تیزی سے مکمل کرلیتے تھے۔ کمیشن کے ہی تین ساتھی ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا(الیکٹرانکس)،ڈاکٹر منصور احمد (ہیلتھ فزکس)، ڈاکٹر اشرف عطا (پروسیس ٹیکنالوجی) ان کے بے حد اچھے دوست تھے اوران تینوں نے نئی ٹیکنالوجی پر بہت جلد عبور حاصل کرلیا اور پروجیکٹ کی کامیابی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ ہم لوگ بہت اچھے دوستوں کی طرح کام کرتے تھے۔ میرا رویہ ان کے ساتھ نہایت دوستانہ تھا اور میں نے کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا کہ میں ان کا باس ہوں۔ یہ سب انگلینڈ اور امریکہ سے تعلیمیافتہ تھے اور میں ان کی عزّت کرتا تھا۔ایک اچھے دوستانہ ماحول میں کام نہایت خوش اسلوبی اور تیزی سے مکمل ہوتا گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بہت سی ذمّہ داریاں لے لی تھیں، ویکیوم (خلا) اس پروگرام کا اہم جز تھا، پورا پلانٹ ویکیوم میں کام کرتا تھا۔
ہزاروں کلومیٹر المونیم کی پائپنگ تھی اور ان کا ویلڈ کرنا آسان نہ تھا بلکہ جب جرمنوں کو یہ علم ہوا کہ ہم یہ پلانٹ لگا رہے ہیں تو انھوں نے طنزیہ لہجے میں کہا تھاکہ یہ لوگ سب سامان خرید لینگے مگر ہم دیکھیں گے کہ ہیڈر (Header) یعنی وہ ہزاروں ویلڈ کئے ہوئے پائپ کا جال، کون بنائے گا، یہ قیامت تک نہیں بناسکتے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے یہ کام نہایت خوش اسلوبی اور تیزی سے کروا کر ان کے منہ پر طمانچہ ماردیا۔ ہمیں اس پر فخر ہے کہ ان کے تیار کردہ ہیڈر میں آج تک کوئی لیک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی حادثہ ہوا۔ حادثے سے بچانے کی ذمّہ داری ذمّہ داری منصور صاحب کی تھی، انھوں نے ایسا اعلیٰ انتظام کیا کہ تجربہ نہ ہونے کے باوجود ہمارے پلانٹ میں آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی اور کسی نقصان کا شکار ہوا۔ جب میٹالرجی ڈیپارٹمنٹ اچھی طرح کام کرنے لگا تو ڈاکٹر ہاشمی نے اس کو جرمنی کے تعلیم یافتہ نہایت قابل سائنسدان ڈاکٹر انوارالحق کو دیدیا۔ یہاں ہاشمی صاحب نے لوہے کے چھرّوں (Small balls) پر گرُوو (Groove) بنانے کا نہایت اعلیٰ آلہ تیار کیا۔ ہماری ایک مشین ایک شافٹ میں لگی بال پر گھومتی ہے اس میں گروو بنائے جاتے ہیں کہ ان میں تیل موجود رہے اور اتنی تیز رفتاری (70 ہزارچکر فی منٹ) میں اس پر رگڑ نہ پڑے۔ میں ان چیزوں کا ماہر تھا میں نے ان کو سمجھادیا اور انھوں نے یہ نہایت اہم کام کردیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کا ایک اور بہت اہم کارنامہ پیپلز اسٹیل مل کی بحالی تھی۔ یہ کھنڈر بنا پڑا تھا میں نے حکومت سے لے لیا کہ ہم اہم دھاتیں (اسٹیل) یہاں بنانا چاہتے تھے۔ ہاشمی صاحب نے ڈاکٹر منیر اور انصاری صاحب اور محمد فہیم صاحب (ممبر فنانس) کی مدد سے اس کو اعلیٰ اسٹیل مل بنا دیا جو ملک کی اہم ضروریات پورا کررہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہمارے ایک پروگرام کا ایندھن بنانے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ یہ وہ کام اور کارنامے ہیں جن کی وجہ سے ان کا نام ہماری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہئے۔ ان کی انتھک کوششوں اور کاموں نے ہمارے پروجیکٹ کو بہت جلد مکمل کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ مجھ سے چونکہ عمر میں تھوڑے سے زیادہ تھے اس لئے مشرف نے میرے بعد ان کو KRL کا چیئرمین نہیں بنایا۔ یہ اس سے کہیں بڑے اعزاز کے مستحق تھے۔بدقسمتی سے ڈاکٹر ہاشمی کی سخت مزاجی اور تُرش روئی نے لاتعداد ساتھیوں کو اپنا مخالف بنا لیا تھا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

%d bloggers like this: