ہر فن مولا شخص اعجاز احمد کھوکھر کی یاد میں

آپ کو کہوٹہ پروجیکٹ کے ابتدائی ایام میں پیش آنے والے واقعات، سازشوں اور رکاوٹوں کے بارے میں کچھ بتا چکا ہوں۔ اَب ایک اور واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کو یاد کرکے خاصہ دکھ ہوتا ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے، حساس و جدید ترین ٹیکنالوجی مفت دی، ایک حقیر سی تنخواہ پر کام کیا، کچھ نہیں مانگا مگر میرے خلاف جلد ہی سازشوں کا جال بچھایا جانے لگا۔ ایک ایسے ہی واقعہ کا علم اس وقت ہوا جب ڈاکٹر محبوب الحق کے بہنوئی پروفیسر خورشیداحمد خان امریکہ سے اپنے بیٹے فرید کی شادی کیلئے آئے۔ اس کی شادی ہمارے پڑوسی اور وزارت تعلیم میں کام کرنے والے ڈاکٹر بھٹی کی بیٹی سے ہورہی تھی۔ بھٹی صاحب نہایت مخلص و نرم گو انسان تھے اور ہم مسجد میں ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔ یہ مسجد میں نے تعمیر کرائی تھی اور آج بھی اس میں تقریباً پانچ سو افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ جمعہ، عیدالفطر و عیدالاضحی پر اس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ بھٹی صاحب میرے پاس تشریف لائے اور درخواست کی کہ میں پروفیسر خورشید احمد خان، ان کی بیگم، بیٹے اور دو تین مہمانوں کو میرے گھر سے ملحقہ گیسٹ ہائوس میں چند دن ٹھہرنے کی اجازت دےدوں۔ اس وقت ہمارے غیرملکی مہمان نہیں آرہے تھے اس لئے جگہ تھی، میں نے اجازت دےدی۔ یہ گیسٹ ہائوس میں نے جرمنی، سوئٹززلینڈ، انگلینڈ،

ہالینڈ اور فرانس سے آنے والے تجارتی نمائندوں کو ٹھہرانے کے لئے لیا تھا۔ وہ ہوٹلوں میں ٹھہرنے سے گریز کرتے تھے اور مجھے اور میرے رفقائے کار کو یہ سہولت تھی کہ بلاخوف و خطر ان سے یہاں تمام باتیں اور معاہدے کرلیتے تھے انھیں پاکستانی کھانے بے حد پسند تھے اور ہمارا کشمیری باورچی ان کی اچھی خاطر و مدارت کرتا تھا۔ ہمیں ان کا یہاں قیام بہت سستا بھی پڑتا تھا کہ ہوٹلوں کے بل بہت زیادہ ہوتے تھے۔ میرے رفقائے کار دفتر سے یہاں چند منٹ میں آجاتے تھے اور ہم رات کو دیر تک کام کیا کرتے تھے۔ میرے قیام یورپ کے دوران ان لوگوں سے میرے قریبی تعلقات تھے اور یہ نہایت اہم کمپنیوں کے افسران تھے۔
دیکھئے بات ہو رہی تھی پروفیسر خورشید احمدخان کے بیٹے فرید کی عزیز دوست ڈاکٹر مختار بھٹی کی بیٹی سے اور مجبوراً گیسٹ ہائوس کا تذکرہ کرنا پڑا کیونکہ پروفیسر خورشید احمدخان اور ان کے اہل خانہ میرے گیسٹ ہائوس میں ٹھہرے تھے۔ بھٹی صاحب کی بیٹی نے کیمسٹری میں M.Sc کی تھی اور فرید کمپیوٹر سائنس میں کولمبیا یونیورسٹی سے M.S (فرسٹ کلاس تھا)۔ دونوں نے کچھ عرصہ ہمارے ادارہ میں کام کیا پھر امریکہ چلے گئے۔ فرید ذرا موڈی تھا اور بھٹی صاحب کی بیٹی اس کے ساتھ گزارہ نہ کرسکی اور کچھ عرصہ بعد واپس آگئی۔ اب ماشاء اللہ خوش ہے اور بچی کے ساتھ والدہ کے ساتھ رہ رہی ہے اور اچھی سرکاری ملازمت کررہی ہے۔
ایک روز پروفیسر خورشید احمد خان سے ملاقات کے لئے ان کے رشتہ دار جناب عبیدالرحمن خان تشریف لائے۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ ان سے کافی گپ شپ رہی، یہ اس وقت FIA کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔ دو چار ملاقاتوں کے بعد انھوں نے ایک روز ایک بات کہی جس سے مجھے بے حد دُکھ ہوا اور آج تک نہیں بھولا۔ انھوں نے جو واقعہ سنایا اس کا تذکرہ جناب زاہد ملک نے بھی اپنی کتاب (Dr. A. Q. Khan & The Islamic Bomb) میں کیا ہے۔عبیدالرحمن خان نے مجھے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق کے چیف آف اسٹاف جنرل خالد محمود عارف نے ان پر دبائو ڈالا ہوا ہے کہ وہ میرے خلاف تحقیقات کریں اور کسی نہ کسی طرح کوئی قابل گرفت مواد نکالیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے حکم کی تعمیل کی مگر مجھے رتی برابر بھی کوئی ایسی چیز نہ ملی جو کہ آپ کے خلاف جاتی ہو۔ مجھے علم تھا کہ آپ کے پروگرام کی نگرانی غلام اسحٰق خان صاحب خود کررہے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے کوئی کسی قسم کی گڑبڑ نہیں کرسکتا۔ دوئم یہ کہ وہاں اس قدر سینئر افسران ہیں کہ پل پل کی خبر سے واقف ہیں اور ہمیشہ سایہ کی طرح آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ میں نے پھر بھی اپنی کوشش کی کہ اگر کچھ مل جائے تو جنرل عارف کو بتادوں مگر کچھ نہ ملا۔ ان کا دبائو جاری رہا، آخر کار میں نے صاف صاف کہدیا کہ معذرت خواہ ہوں مجھے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی ہے۔ میں اکثر سوچتا کہ وہ کیوں آپ کے پیچھے پڑے تھے بعد میں مجھے کسی نے بتلایا کہ وہ منیر کے بہت دوست ہیں منیر آپ کے بے حد خلاف تھا اور مسلسل سازشیں کررہا تھا۔ یہ بڑا دکھ دینے والا واقعہ سامنے آیا تھا۔
آئیے اب اصل کہانی کی جانب چلتے ہیں۔ جب ہم نے بھٹو صاحب کی درخواست پر فیصلہ کرلیا کہ یہیں ٹھہریں گے اور ملک کی خدمت کریں گے تو مجھے کمیشن میں ایڈوائزر کے عہدے پر لگا دیا گیا اور تنخواہ تین ہزار روپے ماہانہ مقرر کردی گئی جوچھ ماہ بعد سے ملنا شروع ہوئی۔ کام کا انچارج جس کو بنایا گیا تھا وہ اس ٹیکنالوجی سے بالکل بے بہرہ تھا، وہ الیکٹریکل انجینئر تھا اور فزکس وغیرہ کی معمولی سی تعلیم حاصل کی تھی۔ چند دن بعد ہی مجھے اُلجھن ہونے لگی اور میں سوچنے لگا کہ شاید یہاں رُک جانے کا فیصلہ کہیں زندگی بھر پچھتاوے کا سبب نہ بن جائے۔ تین چار ہفتہ بعد ایک مکینکل انجینئر انٹرویو کے لئے آیا، یہ بی ایس سی مکینکل انجینئر تھااور اس نے ہالینڈ میں ڈف کاریں اور ٹرک بنانے والی فیکٹری میں ٹریننگ لی تھی۔ ان کا نام اعجاز احمد کھوکھر تھا۔ یہ شکل و صورت اور لباس سے کچھ بدحواس سے فلسفی لگتے تھے، ہمیشہ بیتاب و بے چین۔ ہم نے ان کو پرنسپل انجینئر لیا تھا۔ چند دن میں مجھ پر یہ عیاں ہوگیا کہ یہ اٹامک انرجی کمیشن کے لوگوں سے الرجک تھے ان سے نفرت کرتے تھے اور انھیں بیکار اور نااہل سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف باہر سے منگوائے سامان کے بٹن دبانا جانتے ہیں اور خود کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ ان لوگوں کے پچھلے ریکارڈ کا حوالہ دیتے رہتے تھے۔ چند ہی دن میں مجھ سے اچھے مراسم پیدا ہوگئے انھیں علم ہوگیا کہ میرے پاس ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری ہے اور میں نے برلن ، ڈیلفٹ او ر لیوون کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی ہے، ساتھ ہی بہت ہی اچھا عملی تجربہ بھی ہے۔ میں خاصا پریشان تھا کہ وقت ضائع ہو رہا ہے اور بہتری کی اُمید نظر نہیں آرہی تھی۔ ہم چھٹی پر صرف چند کپڑے لے کر آئے تھے اور چار ہفتوں کیلئے والدہ اور بہن بھائیوں سے ملنے آئے تھے۔ میرا پورا لٹریچر، کتابیں، رپورٹیں، شائع کردہ آرٹیکلز سب وہیں دفتر چھوڑ آیا تھا یہاں رُک کر اب وہاں سے کچھ نہیں منگوایا جا سکتا تھا میری یادداشت اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی دی ہے اور اس وقت وہ تازہ تازہ تھی۔ میں نے کھوکھر کو ایک اعلیٰ پایہ کا میکانیکل انجینئر پایا۔ وہ دوسروں کو منہ نہ لگاتا تھا مگر میری بے حد عزّت کرتا تھا۔ میں نے جلد ہی یہ اندازہ کرلیا کہ یہ شخص ہیرا ہے اور ہمارے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ جوں جوں میں کھوکھر کیساتھ کام کرتا مجھے اس کی قابلیت کا احساس ہوتا جاتا۔ میں یہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہم دونوں ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور ہم نے اہم مشینوں کی ڈرائنگز بنانا شروع کردیں۔ میں اپنی یادداشت سے خاکے بنا کر اس کے سامنے رکھتا اور کھوکھر نہایت تیزی سے اس کو تھری ڈائی مینشنل شکل میں بنا کر سامنے رکھ دیتا۔ میںنے جہاں تبدیلی کرنا ہوتی یا سائز لکھنا ہوتا وہ لکھ دیتا۔ آہستہ آہستہ ہم نے ان چھ ماہ میں خاموشی سے پوری مشین کی ڈرائنگز بنا ڈالیں۔ میں نے کھوکھر سے کہا کہ وہ اب اس کے پرزوں کی تیاری بھی شروع کردے۔ کھوکھر ایک ہرفن مولا انجینئر تھا وہ ہر کام اپنے ہاتھ سے کرلیتا تھا، ورکشاپ میں کوئی بھی مشین ہو وہ اس پر جاکر خود پرزے بنالیتا۔ یہ چیزمیں نے یورپ کے اچھے سے اچھے انجینئروں میں نہیں دیکھی تھی اور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی جھجک نہیں ہے کہ کھوکھر ان تمام مکنیکل انجینئروں سے بہتر تھا جن کیساتھ میں نے یورپ میں کام کیا تھا۔ اس کو ہر قسم کے آلات (Gadgets) بنانے میں مہارت حاصل تھی۔ کوئی مشکل سے مشکل کام ہو جس کی تیاری کیلئے کسی گیجٹ کی ضرورت ہو کھوکھر فوراً ڈیزائن کرکے بنا دیتا۔ میں نے اس سے بہتر تھری ڈائی مینشنل ڈرئنگ بنانے والا، اور وہ بھی نہایت تیزی سے، نہیں دیکھا۔
جولائی 1976 میں جب مجھے ایک خودمختار ادارہ کا سربراہ بنا کراہم ذمّہ داری سونپ دی گئی تو میں نے تیزی سے مختلف محکمے بنائے اور ان کی ذمّہ داری مختلف ڈائرکٹروں کو دیدی۔ ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ ڈویژن کا سربراہ میں نے کھوکھر کو بنا دیا۔ یہ محکمہ نہایت ہی اہم کام انجام دینے لگا۔ ہر آلہ (ایکیوپمنٹ) کی تیاری، اس کی ڈرائنگز، پوری سنٹری فیوج کی ڈرائنگز اور پورے پلانٹ کے ہر آلے اور ہر چیز کی ڈرائنگز اسی محکمہ کی ذمّہ داری بن گئی۔ ہر نئی چیز کی ذمّہ داری کھوکھر کے حصّہ میں آجاتی تھی۔ اٹامک انرجی کمیشن کے لوگوں سے اس کی نوک جھونک قابل دید تھی۔ وہ ان کو بعض اوقات بُرا بھلا کہتے کہتے غلیظ الفاظ استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتا تھا۔ میری عادت تھی کہ میں روز ہر محکمہ میں جاکر ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھتا، سبز چائے پیتا اور پورے محکمہ کا دورہ کرتا۔ ایک ایک شخص سے میری ذاتی واقفیت تھی۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والی انٹی ایئر کرافٹ میزائل عنزہ میں اس نے بہت مفید کام کیا تھا۔
میں نے بعد میں کھوکھر کو چیف انجینئر، ڈائرکٹر جنرل بنا کر M-1 کاگریڈ دیدیا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد اس کو ہلال امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ میری ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصہ بعد ایک شام جبکہ کھوکھر، انجینئر نسیم خان اور چند ساتھی کہیں کام سے جارہے تھے کہ کھوکھر کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔ میں نے نماز جنازہ میں شرکت کی اگرچہ ظاہراً میںخاموش تھا مگر میر ا دل خون کے آنسو بہا رہا تھا کہ ہم نے ایک ہیرا کھو دیا اور میں نے اپنا نہایت قابل، تجربہ کار، ہنرمند ساتھی اور ملک کا بہترین مکینکل انجینئر کھو دیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت الفردوس میں ہمیشہ اعلیٰ مقام دے،آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: