فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

پچھلے چار کالموں میں آپ کو میں نے کہوٹہ پلانٹ کے قیام کے وقت اور بعد میں ہونے والے چند اہم واقعات بتائے ۔ یہ نہایت ہی اہم تاریخی واقعات ہیں اس لئے ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ آج میں مزید دو نہایت ہی اہم واقعات کی تفصیل آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
(1) 1979 میں انگلینڈ میں واقع امریکی کمپنی ایمرسن الیکٹرانکس میں ہڑتال ہوئی، ہم نے اس کمپنی سے سینٹری فیوج کو چلانے والے نہایت حساس ہائی فریکوئنسی انورٹر (30 عدد) خریدے تھے اور ان کو ٹیسٹ کرکے ہم نے ان میں اہم تبدیلیوں کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے 100 انورٹرزکا آرڈر دیا تھا۔ ایمرسن میں کام کرنے والوں نے کرسمس پر بونس مانگا کہ اتنا بڑا آرڈر ملا ہے انہوں نے ٹال مٹول کی تو بات ممبر پارلیمنٹ فرینک اَلُون تک پہونچی۔ وہ برٹش اٹامک انرجی اتھارٹی کا ممبر تھا اور اس کو علم تھا کہ انورٹرز نیوکلیر ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نے تجارت کے سیکرٹری ٹونی بین سے بات کی اور اس آرڈر پر پابندی لگوادی۔ ایمرسن ایک بڑے آرڈر سے محروم ہوگئی اور ملازمین بونس سے۔ ہمارے لئے یہ خدا کا تحفہ تھا کہ ہم نے نہایت تندہی سے اس کی تیاری کہوٹہ میں شروع کردی۔ پہلے مرحوم بریگیڈیر عبدالعزیز نے اس میں کافی اچھا کام کیا مگر حرکت قلب سے ان کی وفات کے بعد بریگیڈیر عبدالقیوم

کے ذمہ یہ کام سونپ دیا گیا۔ انہوں نے اپنے سویلین رفقائے کار (ڈاکٹر ظفر اللہ خان وغیرہ) کے ساتھ مل کر یہ کام نہایت تندہی اور کامیابی سے مکمل کیا اور ہم جلد ہی خود نہایت اعلیٰ انورٹرز بنانے لگے۔ اس طرح ہم نے اس اہم ٹیکنالوجی میں مکمل مہارت حاصل کرلی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود کفیل ہوگئے۔
’’انورٹرز کی فروخت کے بعد ایمرسن الیکٹرانکس کے ایم ڈی کو خود بقول ان کے یہ یقین تھا کہ یہ حساس اور اعلیٰ آلات کہوٹہ میں پہاڑی کی جڑمیں اپنے اپنے بکسوں میں پڑے پڑے گل سڑ جائیں گے مگر جب ان کی وصولیابی کے دو ہفتہ بعد ہی پاکستان سے ہمیں ایک ٹیلیکس پیغام ملا جس میں نہایت اہم تجاویز ان انورٹرزکی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے دی گئی تھیں تو اس نے ہماری ہوا نکال دی‘‘۔
انورٹرز کی اخبارات میںخبروں کے شائع ہونے کے بعد غیرملکی جاسوسوں کو ہمارے کام کی نوعیت کا علم ہوگیا اور وہ پوری تندہی سے اس کے بارے میں جاننے کی کوششوں میں لگ گئے۔ اس میں شومئی قسمت سے فرانسیسی فرسٹ سیکرٹری جاں فورلو (Jean Forlaut) اور سفیر جناب پول لے گوریئے ریک (Pol Le Gourrierec) نے کچھ زیادہ ہی دلچسپی لینا شروع کردی اور ایک روز ایک پاکستانی نمبر پلیٹ کے ساتھ کہوٹہ کا رخ کیا،کہوٹہ سے دو تین کلومیٹر پہلے ایک پرانا قلعہ (پھر والا قلعہ) ہے جس کو راستہ کہوٹہ کی شاہراہ سے کٹ کرجاتا ہے، انھوں نے اس کو کراس کیا اور کہوٹہ کی راہ لی، کچھ دور کرنل رحمٰن کے جوانوں نے ان کو روک لیا اور ان کی جناب غلام اسحق خان کی ہدایت کے مطابق (کمبل ٹریٹمنٹ) بہت پٹائی کی۔ فورلو کے دانت ٹوٹ گئے اور سفیر صاحب کے سر میں فریکچر آگیا۔ بڑی مشکل سے دونوں کو واپس اسلام آباد لاکر چھوڑ دیا گیا۔ ہم نے اس واقعہ کی اطلاع فوراً غلام اسحق خان صاحب اور جنرل ضیاء کو دیدی۔ ہفتہ عشرہ بعد سفیر صاحب اور فرسٹ سیکرٹری نے جنرل ضیاء سے ملنے کی اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے جنرل ضیاء سے شکایت کی کہ ان کی بُری طرح پٹائی کی گئی اور وہ تو پھر والا قلعہ دیکھنے گئے تھے۔ جنرل ضیاء نے نہایت معصوم چہرہ بنا کر کہا ایکسیلینسی اگر آپ کو جانا تھا تو فارن آفس کے پروٹوکول افسر کو بتادیتے تو آپ کو گارڈ دےدیتے اور پھر آپ ایک پاکستانی نمبر پلیٹ لگا کر پرائیویٹ کار میں گئے، لوگوں نے آپ کو سیاح سمجھ کر لوٹنے کی کوشش کی ہوگی۔ وہاں بہت ڈاکو ہیں۔ ان کو روانہ کرکے جنرل ضیاء نے جنرل نقوی اور مجھے بلایا اور ہنس کر تمام روداد سُنائی اور کہا کہ ’’کاش ان کی جگہ امریکی باسٹرڈز ہوتے‘‘۔ اس واقعہ کے بعد پھر کبھی کسی غیرملکی نے کہوٹہ کی جانب جانے کو کوشش نہیں کی۔
آپ کو بتائوں کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور ایرانی طلباء نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرلیا تو انھیں مشینوں سے ضائع کردہ بہت سی دستاویزات ملیں ، انھوں نے ناقابل یقین محنت و کاوش سے وہ باریک باریک دھجیاں جوڑ کر پوری دستاویز تیار کرلی اور بعد میں ان کو ’’تہران پیپرز‘‘ کے نام سے شائع کردیا۔ میرے پاس اس کی ایک کاپی موجود ہے۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ فورلو ، سی۔ آئی۔اے کا ایجنٹ تھا اورتہران میں مقیم سی ۔آئی۔اے کے سربراہ کو براہ راست خبریں دیتا تھا۔ اس کتاب میں اس کا ایک بیان ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ ’’کہوٹہ میں کوئی بہت ہی خاص پراجیکٹ لگایا جارہا ہے، پاکستانی روایت کے برخلاف یہاں کام برق رفتاری سے جاری ہے اورانسان روز روز کی ترقی دیکھ سکتا ہے‘‘۔ یہ ہماری کارکردگی پر مستند خراج تحسین تھا۔ یہ کام آرمی کے سول انجینئر کی ٹیم بریگیڈیر انیس علی سیّد کی نگرانی میں کررہے تھے۔
(2) دوسرا نہایت ہی شرمناک و سازشی واقعہ اپنوں ہی کا ہے۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ شروع میں اٹامک انرجی کمیشن کے کچھ لوگ میرے پاس رہ گئے تھے میں نے ان کو اچھے اہم کام پر لگا دیا تھا اگرچہ یہ میرے ساتھ تھے مگر ان کی ہمدردیاں منیر اور اس کے دست راست کے ساتھ تھیں۔ جب اِن عیاروں کے دماغ میں یہ (خام) خیال سرایت کرگیا کہ انھوں نے مجھ سے سب کچھ سیکھ لیا ہے تو ایک سازش تیار کی اور یہ اس وقت جبکہ ہم نے کامیابی میں پہلا قدم ہی رکھا تھا۔ ہم نے کامیابی سے چند سینٹری فیوج مشینیں بنالی تھیں اور ان کی مدد سے یورینیم کی تھوڑی سی افزودگی کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ، اس سے ہماری کارکردگی کی کامیابی یقینی ہوگئی تھی۔ میں نے جناب غلام اسحٰق خان کو فوراً ایک خط لکھا اور اس میں بتادیا کہ اگرچہ یہ ابتدائی کامیابی ہے اور آگے بہت مشکل مراحل ہیں مگر ہم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم نے اس ٹیکنالوجی پر قابو پالیا ہے اور اِنشاء اللہ جلد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیںگے۔ یہ خط میں نے 4 اپریل 1978 کو لکھا تھا یعنی دو سال کے اندر ہی ہم نے اہم پیش رفت کر لی تھی۔ جنرل ضیاء نے جب وہ خط دیکھا تو دلی مُبارکباد دی اور کہا کہ جلد مجھ سے آکر ملیں۔ میں ان سے جاکر ملا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ میں نے عرض کیا کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے کم از کم 5 سال کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا لگے رہیں۔ ہمیں انھوں نے پوری مدد دینے کا وعدہ کیا (اور نبھایا بھی)۔ اس کامیابی نے منیر احمد خان اور اس کے دست راست کو بوکھلا دیا اور انھوں نے سازش کی کہ کسی طرح اس پروگرام پر قبضہ کر لیا جائے۔ اس میں ان کی مدد دو چمچوں نے کی جو میرے ساتھ منسلک تھے اور جن کو میں اس کام کی تربیت دے رہا تھا اور رہنمائی کررہا تھا۔ یہ دونوں نہایت عیار اور سازشی تھے اور بہت گہرے دوست تھے۔ انھوں نے پروگرام بنایا کہ کیونکہ اب کام سیدھے راستہ پر چل پڑا ہے تو کسی طریقہ سے مجھے راستہ سے ہٹا کر پروگرام کو کمیشن کے ساتھ دوبارا منسلک کردیا جائے۔ انھوں نے ترکیب سوچی کہ کسی طرح جنرل ضیاء الحق تک رسائی حاصل کی جائے اور ان کو میرے خلاف من گھڑت باتیں بتا کر ہٹا دیا جائے۔ اس کام میں ان کی مدد کمیشن کے اور جونیئر اہلکار نے کی کہ وہ مرحوم صدر کے ہم زلف مرحوم جناب ایئرکموڈور سلیم چوہدری کو کسی طرح جانتا تھا۔ اس نے ان کے خوب کان بھرے اور جنرل ضیاء سے انٹرویو کا وقت لے لیا۔ اب یہ دونوں جنرل ضیاء کے پاس بہت پُرامید ہوکر پہنچ گئے اور ان کو میرے خلاف جس قدر غلط بیانی ہوسکتی تھی کر ڈالی۔ جنرل ضیاء کی ایک سنہری صفت یہ تھی کہ وہ دوسروں کو بولنے دیتے تھے اور خود کم بول کر تمام باتیں اگلوا لیتے تھے۔ میں اب آپ کو وہ باتیں بتا رہا ہوں جو مرحوم صدر نے خود مجھے اور جنرل نقوی کو سنائیں۔ انھوں نے کہا۔ ’’تمام باتیں سن کر کہ ڈاکٹر خان ناقابل بھروسہ ہے، اس کی بیوی غیرملکی ہے، یہ خود بھی مہاجر ہے اس کی ملک سے وفاداری نہیں ہے اس لئے اتنی اہم پراجیکٹ اس کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہئے۔اس کے لاتعداد غیرملکی بزنس مینوں سے تعلقات ہیں، وہ اکثر آتے جاتے رہتے ہیں، ان کے ذریعہ ملک کے راز باہر چلے جائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ سے کام نہ ہوا تو پھرکیا ہوگا تو وہ پدّا (پستہ قد) بولا کہ آپ ڈاکٹر خان کو باہر نہ جانے دیں،گھر میں نظربند کردیں، ہمیں جب دشواری پیش آئے گی گاڑی بھیج کر زبردستی بلالینگے۔ اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیں۔ میں نے کہا میں چند روز سوچ کر فیصلہ کروں گا‘‘۔ اور جب یہ پدّا چہک رہا تھا تو دوسرا ڈڑھیل (ڈاڑھی والا) گردن جھکائے سر ہلا رہا تھا۔ میرا خون کھول رہا تھا مگر میں نے ضبط کیا اور سوچا کہ پہلے آپ سے بات کروں پھر ان کی خبر لوں گا‘‘۔ پھر نہایت غصّہ سے جنرل نقوی سے بولے، ضامن صاحب ان … کو ابھی ڈی جی ،آئی ایس آئی سے کہہ کر کہیں ایسی جگہ ڈال دو کہ ان کے گھر والے اور دوست پھر کبھی ان کا چہرہ نہ دیکھ سکیں۔ میں نے کہا سر پلیز یہ نہ کریں، بات پھیل جائے گی اور بدنامی ہوگی اور پھر پروگرام پر اثر پڑے گا۔ یہ لوگ کمیشن کے ہیں میں ان کو واپس بھیج دیتا ہوں۔ جنرل ضیاء نے پھر کہا کہ یہ وہ کام کراناچاہ رہے تھے کہ جو یہودی اور ہندو بھی نہ کراسکتے تھے۔ میں نے ان بدمعاشوں کو واپس بھیج دیا۔ ایک (پدّا) تو گمنام اور بدنام جہنم رسید ہوگیا اور دوسرا بھی اپنے گناہ کا کفّارہ بستر مرگ پر ادا کررہا ہے۔ ہاں جب جنرل ضیاء نے جنرل نقوی اور مجھے بلایا تھا تو پہلے کام کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا ماشاء اللہ ٹھیک چل رہا ہے، پھر پوچھا کہ ساتھی کیسے ہیں ، میں نے کہا ٹھیک ہیں ٹھیک کام کررہے ہیں۔
پھر پوچھا کہ کیا آپ ان پر پورا بھروسہ کرتے ہیں، میں فوراً سمجھ گیا کہ کچھ معاملہ ہے، میں نے کہا ! سر، آپ کو علم ہے میں مہاجر ہوں، کراچی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرکے باہر چلا گیا تھا اور اب 15 برس بعد یہاں آیا ہوں، یہ لوگ یہیں سے مجھے ملے ہیں میںان کے دل کے حالات نہیں جانتا۔ تو بولے، ڈاکٹر صاحب آپ بہت سیدھے ہیں وہ دو…، ایک پدّا اور ایک ڈڑھیل میرے پاس آئے تھے اور پھر انھوں نے وہ تمام باتیں دہرا دیں جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ کافی عرصہ بعد اس ڈڑھیل نے ایک روز آکر مجھ سے معافی مانگی (شاید ضمیر نے لعن طعن کی ہوگی) اور بتایا کہ یہ تمام کام انھوں نے منیر اور اس کے دست راست (جو کہ منیر کی طرح ککّازئی تھا) کے کہنے پر کیا تھا۔ ان دونوں نے چند اور لوگوں کو ملانے کی کوشش کی تھی وہ خاموش رہے مجھے نہ بتایا۔ شاید موقع پرستی کے شکار ہوگئے تھے مگر بعد میں کسی نے کبھی کوئی تکلیف نہ دی اور بہترین کام انجام دیئے۔ ناموں سے گریز کیا ہے ان سے اللہ تعالیٰ ہی نمٹے گا۔
(نوٹ) عید پر لاتعداد تہنیتی پیغامات موصول ہوئے ہیں، سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ فرداً فرداً جواب دینا میرے لئے ناممکن تھا۔ دعائوں کا طلبگار ہوں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: