فقیدالمثال گمنام ہیروز

پچھلے کالموں میں اپنے چند قریبی رفقائے کار اور ملک کے مایہ ناز انجینئروں اور سائنسدانوں کے بارے میں آپ کو کچھ بتایا ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ پاکستانیوں کو ان محب وطن اور اعلیٰ فنی ماہرین کی خدمات سے آگاہ کروں جنہوں نے میری سرپرستی اور رہنمائی میں پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنادیا،پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور دشمنوں کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آج بھی میں جہاں بھی جاتا ہوں ہر طبقہ کے پاکستانی مجھے محسنِ پاکستان کہہ کہہ کر خطاب کرتے ہیں اور بےحد شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میری اور میرے قابل ساتھیوں کی وجہ سے وہ آرام کی اور بے خوف زندگی گزار رہے ہیں۔ سب سے زیادہ شکرگزار و احسان مند پاکستانی افواج کے جوان ہیں کہ ان کو اب دشمن کے سامنے 1971 کی طرح کا شرمناک، ہتک آمیز سلوک کا سامنا کبھی نہ کرنا پڑے گا۔
میں نے ایک مرتبہ آپ کو بتایا تھا کہ جب ہم نے اپنے پروجیکٹ پر کام شروع کیا تو جناب ٹکا خان نے (بھٹو صاحب کی ہدایت پر) جناب اسلام اللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ ہمیں تمام سہولتیں بہم پہنچائیں۔ وہ اس وقت ایک بڑے عہدے پر تھے ۔ انھوں نے اپنے ایک افسرعارف صاحب سے ایئرپورٹ کے نزدیک واقع

دوسری جنگ عظیم میں برٹش حکومت کے تیار کردہ پرانے اور شکستہ گیراج کچھ مرمت کرواکر ہمارے حوالے کردئیے تھے۔ بعد میںاسلام اللہ خان اور بڑے افسربن گئے تھے۔ نہایت نرم گو، خوش اخلاق اور تعلیمیافتہ، تجربہ کار انجینئر تھے۔
جناب اسلام اللہ خان نے میری درخواست پر اپنے تین افسران میرے پاس بھیج دئیے، ان میں جناب رشید علی قاضی، جناب عبدالمجید اور جناب بشیر خان تھے۔ بشیر خان نے کچھ زیادہ مدد نہ کی اور جلد ہی ریٹائر ہوکر چلے گئے، عبدالمجید صاحب نے کچھ عرصہ الیکٹریکل انجینئرنگ ڈویژن کی سربراہی کی اوربہت اچھا کام کیا۔ سیمنز الیکٹریکل کمپنی سے کئی معاہدے کئے اور محکمے کی اچھی بنیاد رکھ دی۔ جب یہ ریٹائر ہوئے تو میں نے ان کی جگہ جناب شیخ محمد جعفر کو اس محکمہ کا انچارج بنادیا۔ جعفر صاحب کافی تجربہ کار اور سمجھدار تھے انھوں نے اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور ان کے زمانے میں پلانٹ کی تمام الیکٹریفیکیشن ہوئی اور پاور سپلائی کی تیاریاں مکمل ہوئیں۔ الیکٹریفیکیشن کی ڈ رائنگز میرے کراچی کے این ای ڈی سے تعلیم یافتہ اور باہر سے ایم ایس کی ڈگری اور تجربہ رکھنے والے جناب عزیز خان نے بنائی تھیں اور میری دوستی اور ملک سے محبت کی وجہ سے ایک پیسہ بھی چارج نہیں کیا تھاجبکہ اگر کسی ٹھیکیدار کو یہ کام دیتے تو لاکھوں ڈالر لگ جاتے۔ پلانٹ کی الیکٹریفیکیشن کیلئے ہم نے ٹینڈرز مانگے تھے۔گریوز کاٹن (Greaves Cotton) کمپنی کے سب سے کم قیمت کا وصول ہو۱ تھا مگر وہ مختلف کمپنیوں کے پرزہ جات لگا کر کھچڑی بنانا چاہتے تھے۔ اس کمپنی کے سربراہ جناب غلام فاروق خان کے صاحبزادے غلام محبوب خان تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ ملک میں صنعتی ترقی میں جناب غلام فاروق خان نے کلیدی رول ادا کیا تھا لوگوں میں غلط فہمی تھی کہ وہ غلام اسحٰق خان صاحب کے بھائی تھے ۔ ایسا نہیں تھا ان کا آپس میں سوائے مسلمان، پٹھان اور پاکستانی کے کوئی اور رشتہ نہ تھا۔ میں نے غلام اسحٰق خاں کی مدد سے یہ معاہدہ کرلیا کہ تمام سامان جرمن کمپنی سیمنز(Siemens) سے خریدا جائیگا اور GC اس کو لگائے گی۔ یہ فیصلہ نہایت مفید اور کارآمد رہا کہ سامان بھی اچھا تھا اور لگانے والے بھی پاکستانی تجربہ کار لوگ تھے۔ اس تمام کام کی نگرانی جعفر صاحب کے کاندھوں پر تھی جو انھوں نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ ہمارے پلانٹ میں کبھی بجلی فیل نہیں ہوئی، کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ اور جعفر صاحب نہایت اعلیٰ خدمات انجام دیکر ریٹائر ہوئے اور اب ریٹائرمنٹ کی پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔
اب میں جناب اسلام اللہ خان کے دئیے ہوئے تیسرے انجینئر جناب قاضی رشید علی کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔ قاضی صاحب کا تعلق دہلی کے تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا،تقسیم کے بعد پاکستان آگئے تھے اورملازم ہوگئے تھے۔ غالباً ابتدائی تعلیم میکنیکل انجینئرنگ میں حاصل کی تھی اسلئے 1950کے اوائل میں جب ایک ٹیم انگلستان میں (Loughbrough) یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے بھیجی گئی اس میں قاضی صاحب ، سعید اختر صاحب، سعید قادر صاحب ، علی نواب صاحب ، شبیر حسن شاہ صاحب وغیرہ تھے۔ یہ تمام نہایت اہل و قابل افسران ثابت ہوئے۔ میں نےقاضی صاحب کو پروڈکشن اور کوالٹی کنڑول ڈویژن کا انچارج بنا دیا۔ یہ نہایت خوش اخلاق، پرمزاح افسر تھے۔ ان کی ڈاکٹر ہاشمی اور منصور صاحب سے خوب بنتی تھی اور چوٹیں بھی چلتی تھیں۔ برج کھیلنے کے ماہر تھے اور کراچی کے غلام علی اَلانہ کیساتھ خوب بنتی تھی۔ قاضی صاحب نے بہت تیزی سے ہماری میکینکل ورکشاپ کو سیٹ کیا۔ جو مشینیں پاکستان سے مل سکتی تھیں وہ لیں اور باقی نہایت اعلیٰ مشینیں انگلستان، جرمنی، جاپان، آسٹریا، جنوبی کوریا سے منگوالیں۔ میری موجودگی میں ایسے کاموں کی کارروائی میں ایک دن تو کیا ایک گھنٹہ بھی ضائع نہیں ہوتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے فون پر، ٹیلیکس کے ذریعہ ہم فیصلہ کرلیتے تھے اور ڈائرکٹر جنرل (ممبر فنانس) جناب امتیاز احمد بھٹی ایک دن میں آرڈر کردیتے تھے۔ یہ ایک ایسی ٹیم تھی جو پاکستان میں نہ پہلے تھی اور نہ اب کبھی ہوگی۔ قاضی صاحب نے ایک اور اہم کام یہ کیا کہ بعض ورکشاپس سے بہترین ٹیکنیشن بلا لئے، ان میں خاص طور پر بشیر صاحب اور حاجی نذیر صاحب کا جواب نہ تھا۔ یہ نہایت ماہر میکانیکل ٹیکنیشن تھے، اعلیٰ سپروائزر تھے اور جو کام انھیں دیں نہایت خوش اسلوبی سے انجام د ےدیتے تھے۔ جب انجینئر کھوکھر کسی بھی پرزے یا آلہ کی ڈرائنگ کو حتمی شکل دیدیتے تھے تو وہ قاضی صاحب کو دیدی جاتی تھی اور وہ اس کی بڑی تعداد میں پیداوار شروع کردیتے تھے۔قاضی صاحب نے نہایت مہارت سےنہ صرف نہایت حساس و پیچیدہ پرزہ جات تیار کئے اور نہ صرف سینٹری فیوج کے پرزہ جات بلکہ حساس والوز، ویکیوم پمپس، پریشر گیج، فلومیٹرز، زمین سے آسمان پر مارکرنے والے غنزہ میزائل کے حساس پرزے تیار کئے بلکہ جب جنرل ضیاء نے مجھے اہم ترین پروگرام کی ذمہ داری سونپی تو اس کے بھی نہایت حساس پرزے اور ان کو بنانے کے گیجٹ اور فکسچر بھی تیار کئے۔ قاضی صاحب ہماری میٹنگز اور محفلوں کی جان ہوتے تھے۔ ان کے اور ان کی ٹیم کے، جن میں بشیر صاحب، حاجی نذیر صاحب، انجینئر نسیم الدین، انجینئر طارق، انجینئر بخاری، انجینئر سلیم، لاتعداد فنی کارکن، اس ملک پر جو احسانات ہیں وہ کبھی بھلائے نہیں جاسکتے اور یہ قوم ان ’’گمنام‘‘ ہیروز کے احسانات کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکتی۔
جب ہم نے غوری میزائل کا کام شروع کیا تو اس کی تیاری کی بہت بڑی ذمہ داری انجینئر کھوکھر، قاضی صاحب اور انجینئر بدرالاسلام (ان کے بارے میں ابھی بتائوں گا) پر آپڑی۔ تینوں نے نہایت ہنرمندی، تیز رفتاری اور مہارت سے نہایت کم عرصہ میں اس کی تیاری شروع کردی۔ اس میں ہزاروں نہایت اہم اور حساس پرزے ہوتے ہیں اور ان کی تیاری میں بہت احتیاط و مہارت کی ضرورت ہے۔ آج اسی میزائل کی وجہ سے اور اس پر لگے ہتھیاروںکی وجہ سے ہمارے دشمن ہماری طرف بُری نگاہ نہیں ڈال سکتے۔
انجینئر بدرا لاسلام ایک خوش مزاج، ہمیشہ مسکراتے رہنے والے، فرشتہ خصلت انسان تھے۔ میں اور یہ ڈی جی کالج میں ساتھ تھے اور جب سے ہی بہت گہری دوستی ہے۔ نمازی اور متقی ہیں اور اسی وجہ سے اسی زمانہ سے اپنے حلقہ میں قاضی صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ کچھ عرصہ ایک سینما کے قریب رہائش پذیر رہنے کے بعد ہمارے گھر والے ناظم آباد منتقل ہوگئے۔ ہم دونوں کے گھروں میں بمشکل 10 منٹ پیدل چلنے میں لگتے تھے۔ کالج میں ہمارا ایک چھوٹا سا گروپ تھااس میںمہدی حسن،عبدالرشید، بدرالاسلام اور میں تھا۔ ہماری بہت ہی اچھی دوستی تھی۔ مہدی حسن کراچی میں رہتے ہیں۔ بدر صاحب اور میں بی ایس سی کرکے ملازمت میں لگ گئے۔میں انسپکٹر اوزان و پیمانہ جات بن گیا اور بدر صاحب نے کراچی شپ یارڈ میں میرین انجینئر کا کورس شروع کردیا۔ 1960 میں رشید مانچسٹر چلا گیا وہاں اس نے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، ایک ساتھی انگریز لڑکی سے شادی کرلی اور کچھ عرصہ انگلستان میں کام کیا ۔ پھر کینیڈا میں جب 1974 میں بیگم اور میں نیاگرا آبشار دیکھنے گئے تو رشید اور اس کی بیگم اَوڈیلا ہم سے ملنے آئے اور ساتھ لنچ کیا۔ کچھ عرصہ بعد رشید جو کہ دبلا پتلا تھا اور ٹینس کھیلتا تھا حرکت قلب بند ہوجانے سے فوت ہوگیا۔ مہدی حسن نے ایم ایس سی امتیازی پوزیشن سے حاصل کی، ان کی خاص بات یہ ہے کہ بات سے پہلے قہقہہ لگاتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں ڈیمانسٹریٹر رہے۔ ڈاکٹر ہاشمی کے پیارے دوست تھے، پھر پی آئی اے میں گرائونڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں انسٹرکٹر رہے اور اس کے پرنسپل رہ کر ریٹائر ہوئے۔ بعد میں چند سال سوڈان ایئرویز میں انسٹرکٹر رہے، اب کراچی میں آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب میں برلن گیا تو میرے بھوپال کے بہت پیارے اور عزیز دوست اقبال خان جو میکڈا نلڈ لیٹن میں آرکیٹکٹ تھے وہ لندن چلے گئے۔ میری بدر صاحب اور اقبال خان سے باقاعدگی سے خط و کتابت رہی۔
بدر صاحب شپ یارڈ سے اپنی ٹریننگ مکمل کرکے شمس نامی جہاز پر انجینئر ہوگئے اور تعلیم کے شوق میں چارٹرڈ میرین انجینئر کے امتحانات دینے لندن آتے رہے۔ جب وہ لندن آتے تو میں ہالینڈ سے (میں 2 سال بعد برلن سے ڈیلفٹ کی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی چلا گیا تھا) لندن چلا جاتا اور اقبال خان کے ہاں خوب محفل جمتی اور کھانے پکائے جاتے۔ اقبال خان کنوارے تھے اور اس وقت وسط لندن میں رہتے تھے۔ چارٹرڈ انجینئر بن کر بدر صاحب شمش کے چیف انجینئر بن گئے۔ بنگلہ دیش کے قیام کی جنگ میں شمش پر اکثر جایا کرتے تھے اور وہاں کے کربناک واقعات بتاتے تھے۔ بعد میں کراچی پورٹ پر سرویئرکے اہم عہدہ پر لگ گئے اور کچھ عرصہ بعد کویت کے میرین انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ بن کر چلے گئے۔ جب میں پروجیکٹ کا سربراہ بن گیا تو ایک مرتبہ لندن سے واپسی پر میں کویت میں رُکا اور بدر صاحب سے ملاقات کی۔ انھوں نے وہاں ایک کمپنی کے پاکستانی مینیجنگ ڈائرکٹر سے ملاقات کرائی جو ہمارے لئے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ اس کمپنی نے یورپ سے ہمارا سامان منگوانے اور پاکستان روانہ کرنے میں نہایت ہی اہم اور قیمتی رول ادا کیا۔ بدر صاحب کی نہایت قیمتی و اہم خدمات پر میں انشاء اللہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھونگا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: