فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

اَپنے پچھلے کالم میں آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اس اہم قومی پروگرام کی تکمیل کے دوران کئی اہم، دلچسپ و خطرناک واقعات پیش آئے کہ اب جبکہ میں اس پروگرام کی تاریخ لکھنے بیٹھا ہوں تو وہ سب پرانی یادیں تازہ ہوتی جارہی ہیں اور میں آپ کو ان کے بارے میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ تاریخ کا اہم حصّہ ہیں۔ میں ان واقعات کو بیان کرکے اپنے ان تمام قابل، اہل، ذہین ساتھیوں کا تذکرہ کروں گا جنھوں نے میری قیادت میں اس پسماندہ ملک کو ایک ایٹمی اور میزائل قوّت بنادیا۔ ذرا سوچئے اگر ہمارے پاس یہ صلاحیت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ وہی جو غزہ میں اسرائیلی کررہے ہیں اور پوری نام نہاد و مہذب مغربی دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے اور ہمت افزائی کررہی ہے جس طرح انھوں نے 1971ءمیں بھارتی جارحیت کی کھل کر مدد کی تھی اور ہمارے ملک کو توڑدیا تھا۔ اگر ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت نہ ہوتی تو کارگل میں مشرف اور اس کے چند ساتھیوں کی غلط پالیسی کی وجہ سے یہ ملک تباہی کا شکار ہو جاتا۔
آج آپ کو تین نہایت اہم واقعات کی تفصیل بتلانا چاہتا ہوں۔ (1) پہلا نہایت اہم واقعہ پروگرام کے بارے میں ہمارے مخبروں کا امریکہ کو پروگرام کی ترقی کے بارے میں اطلاعات دینا تھا۔ میں نے عرض کیا ہے کہ جنرل نقوی کو اور کرنل فاروقی کو منیر احمد خان پر قطعی اعتماد نہ تھا اور

انھیں اس کی وفاداری پر سخت شبہات تھے۔ خود جنرل ضیاء نے مجھ سے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کام کی ترقی اور رفتار کے بارے میں منیر کو ہرگز نہ بتانا، یہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہے اور ہماری صبح کی بات امریکنوں کو شام تک پہنچ جاتی ہے ۔اس کا ثبوت ہمیں کچھ عرصہ بعد ہی مل گیا۔ منیر، سلام بہت قریبی دوست تھے اور کمیشن کے لاتعداد سائنسدان سلام کے شاگرد تھے۔ پروفیسر سلام جب بھی اسلام آباد آتے تو اٹامک انرجی کمیشن کے ایف۔ایٹ میں واقع گیسٹ ہائوس میں قیام کرتے اور کمیشن کے تمام سینئر لوگ ان کی خدمت میں باادب حاضر ہوجایا کرتے تھے اور پیر و مریدوں والا منظر بن جاتا تھا۔ یہ واقعہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان نے اپنے امریکی دورے سے واپسی پر ہمیں کہوٹہ میں بورڈ کی میٹنگ میں سنایا تھا۔ میں ان کے الفاظ میں اس کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں امریکی دورے کے دوران سیکرٹری خارجہ جارج شلٹز (George Shultz) سے باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو کر رہا تھا کچھ اور دوسرے امریکن افسران بھی موجود تھے اچانک انھوں نے موضوع گفتگو بدل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت شروع کردی اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے ایٹم بم کی تیاری پر کام بند نہ کیا تو امریکی حکومت تمام امداد بند کردے گی اور دوسری سخت پابندیاں بھی لگادے گی۔ ان کی یہ بات سن کرمیں نے پاکستان کی پوزیشن کے دفاع کی کوشش کی اور کہا کہ ہم ایٹمی ٹیکنالوجی صرف پرامن مقاصد اور بجلی پیدا کرنے کے لئے چاہتے ہیں۔ CIA کے ایک سینئر افسر نے کہا جناب وزیر خارجہ آپ ہماری عقل و فہم کا مذاق اُڑانے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور ہمارے پاس آپ کے ایٹم بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ پھر اس نے کچھ ترش لہجے میں کہا ،آئیے ! میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ آپ کا اسلامی ایٹم بم کیسا نظر آتا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اور دوسرے افسران کوریڈور میں کچھ فاصلہ پر ایک کمرے میں لے گئے ۔ اس نے کونے میں میز پر رکھی کسی چیز پر سے تیزی سے کپڑا کھینچ کر الگ کردیا اور کہا یہ آپ کے کہوٹہ پلانٹ کا پورا نقشہ ہے، پھر دوسری میز پر سے کپڑا اُٹھا کر کہا جناب وزیر خارجہ یہ آپ کا اسلامی ایٹم بم ہے۔ اب آپ بولیے کیا آپ اس سے انکار کرتے ہیں۔ میں نے بھولے بن کر معصومیت سے کہا میں ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کے معاملات سے بالکل بے بہرہ ہوں۔ میں اس گولے کے بارے میں کچھ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اگر آپ اصرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارا اسلامی ایٹم بم ہے تو یہی سہی۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ سیکرٹری خارجہ بولے کہ وزیر خارجہ صاحب آپ ہمیں بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ اس طرح یہ میٹنگ ختم ہوئی اور ہم اس کمرے سے نکل کر واپس سیکرٹری خارجہ کے کمرے کی طرف واپس روانہ ہوئے۔ میں دل ہی دل میں خاصا پریشان تھا کہ ان کو اتنی ٹھیک معلومات کس طرح پہنچیں، جب ہم کوریڈور میں چل رہے تھے تو اچانک اپنی چھٹی حس کے اکسانے پر میں نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا اور میں کیا دیکھتا ہوں پروفیسر سلام اس ’’بم‘‘ والے کمرے کے سامنے والے کمرے سے نکل کر ’’بم‘‘ والے کمرے میں داخل ہورہے تھے۔ مجھے اب یہ پورا گیم پوری طرح سمجھ میں آگیا (کہ یہ معلومات امریکنوں کو کس طرح حاصل ہوئیں)۔
(2) دوسرا اہم واقعہ کہوٹہ میں پیش آیا۔ ہمارے پروجیکٹ کے قیام کے فوراً بعد کور کمانڈر راولپنڈی جنرل فیض علی چشتی (جن کو ضیاء الحق مرشد کہتے تھے) نے ہماری درخواست پر کرنل عبدالرحمن کو ہمارے پاس پوسٹ کردیا۔ میں نے ان کو ڈائریکٹر سیکورٹی تعینات کردیا۔ یہ نہایت فرض شناس، اسمارٹ، نرم گو اور ذہین افسر تھے انھوں نے بہت جلد ہی ایک نہایت اچھا سیکیورٹی نیٹ ورک قائم کرلیا اور کہوٹہ کے آس پاس بہت سے مخبر چھوڑ دیئے جو ہر بھیس میں وہاں گھومتے پھرتے تھے اور ہرچیز پر نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کوبھی ماہانہ الائونس پر اپنے نیٹ ورک میں شامل کرلیا تھا۔ جب تک وہ ڈائریکٹر سیکیورٹی رہے ہمارے کام کی کسی کو بھنک بھی نہ پڑی۔ ایک روز ایک مخبر، لکڑ ہارے کے بھیس میں، گھوم پھر کر واپس آکر سڑک کے کنارے ایک چھوٹی چٹان(پتھر) پر بیٹھ کر کچھ آرام کرنے لگا اور غور سے پتھر کی ساخت دیکھ کر مشکوک ہوکر اس پر کلہاڑی کا ہلکا وار کیا۔ وہ کٹ گیا اور اندر سے کچھ دھات (تانبا اور المونیم) نظر آیا۔ اس نے فوراً کرنل رحمٰن کو مطلع کیا اور سیکیورٹی والے اس پتھر کو اُٹھا کر پلانٹ کے اندر لے گئے اور مجھے اطلاع دی، میں نے کہا احتیاط سے باہر ایک کمرے میں رکھ دیں ہم دوسرے دن معائنہ کریں گے۔ دوسرے دن ہم نے اس کا معائنہ کرکے یقین کرلیا کہ اس میں آتش گیر مادہ نہ تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اس ’’پتھر‘‘ کی باہری تہہ ’’سلیکن جیل‘‘ سے بنائی گئی تھی یا ربر کو پگھلا کر اور اس پر کہوٹہ کے علاقہ کی ریت بہت ہنر مندی سے چپکائی گئی تھی۔ جب احتیاط سے کاٹ کر اس کو علیحدہ کیا گیا تو اندر ایک صندوق نما دھات کا بنا آلہ نظر آیا۔ اس کے دو حصّوں کو اسکروئوں سے جوڑا گیا تھا ان کو کھولا تو ڈھکنا علیحدہ ہوگیا اور اندر نہایت پیچیدہ اور حساس آلات نظر آئے۔ ان میں ایک طویل مدّت کرنے والی خشک بیٹری تھی تانبہ کی پتلی پلیٹوں کا انٹینا تھا، نیوٹران شمار کرنے والے ٹیوب تھے، ہوا کی جانچ کرنے والے آلات تھے اور ایک ٹرانسمیٹر تھا جو تمام معلومات اسٹور کرکے رکھ لیتا تھا اور جب اس کو کہیں سے حکم ملتا تو وہ تمام معلومات ایک لمحہ میں ٹرانسفر کرسکتا تھا۔ ان آلات کو اس طرح ’’خاموش‘‘ رکھا جاتا تھا کہ کوئی الیکٹرانک سرچنگ آلہ ان کو نہ پکڑ سکے۔ باہر کے دھات کے خول میں نہایت باریک سوراخ جو ہوا کو کھینچ کر اس کا معائنہ کرسکتے تھے۔ بیٹری کے اندر مرکری یعنی پارہ کے سوئچ تھے کہ ہر حالت میں سرکٹ قائم رہتا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اگر ہماری کوئی گاڑی وہاں سے یورینیم لے کر گزرتی تو یہ آلہ اس کی افزودگی کی فی صد نوٹ کرلیتا اور اگر ہم اس علاقہ میں ’’ہاٹ‘‘ (یعنی اصلی) یا کولڈ (سسٹم کو چیک کرنے والا ٹیسٹ) کرتے تو ہوا میں موجود ذرّات کو کھینچ کر اس کی تفصیل نکال کر اسٹور کرلیتا۔ ہم نے یہ تمام معلومات غلام اسحٰق خان صاحب اور جنرل ضیاء کو پہنچادیں اور انھوں نے آکر اس کا معائنہ کیا اور کرنل رحمٰن کے کام کو بے حد سراہا۔ کچھ دن کے بعد امریکن سفیر ڈین ہنٹن (Deane Hinton) جنرل ضیاء سے ملنے آیا اور ایٹمی معاملہ پر بات کی۔ جنرل ضیاء نے حسب عادت نہایت نرم گوئی اور انکساری سے کہا کہ ہم ایٹم بم نہیں بنا رہے ہیں۔ اس پر ڈین ہنٹن نے کہا۔ ’’جنرل ہماری انٹیلیجنس بہت اچھی ہے آپ ناشتہ میں جو کھاتے ہیں ہمیں دوپہر تک اس کا علم ہو جاتا ہے، ہمیں ہر چیز کی اطلاع ملتی رہے گی۔ اس پر جنرل ضیاء نے مسکرا کر کہا، ایکسیلنسی اگر آپ اس ’’پتھر‘‘ کی مدد سے معلومات پر تکیہ کرے بیٹھے ہیں تو وہ ’’پتھر‘‘ میرے جوانوں نے اُٹھا لیا ہے اورکھول کر تمام معلومات حاصل کرلی ہیں اور اس کو ناکارہ کردیا ہے، آپ کو کچھ نہ ملے گا۔ سفیر کا رنگ فق ہوگیا اور وہ اُٹھ کر چلا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کوئی ایسی حرکت نہ کی۔ اس سے پیشتر بھی امریکن ڈیفنس اتاشی نے UN کے کشمیر جانے والے جہاز میں بیٹھ کر کہوٹہ کی تصاویر بنائی تھیں اور سفیر وہ تصاویر لے کر جنرل ضیاء کے پاس پہنچ گیا تھا اور پوچھنے لگا تھا یہاں آپ کیا کام کرنا چاہتے ہیں، اسے ہمارے پروجیکٹ کا بالکل علم نہ تھا۔ جنرل ضیاء نے تصاویر کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھا اور کہا ایکسیلینسی آپ سفارت کاری کے آداب کی حدود پامال کررہے ہیں ۔آئندہ آپ کا یا UN کا کوئی جہاز وہاں سے گزرا تو میرے حکم کے مطابق اس کو مار گرایا جائے گا۔ دوسرے دن یہ آرڈر ہمیں موصول ہوگئے اور ایئر ڈیفنس بریگیڈیر کو چوکنا کردیا گیا۔
(3) جوں جوں مغربی ممالک کو ہمارے پروگرام کی ہوا لگتی گئی وہ اتنے ہی جاسوسی میں تیزی دکھانے لگے۔ انگریزوں نے اس سلسلہ میں کچھ زیادہ ہی شاہوں سے زیادہ وفاداری دکھانا شروع کی۔ اس کام کیلئے انھوں نے BBC کے مارک ٹلی(Mark Tully) اور ایک اور جرنلسٹ کرس شرویل (Chris Sherwel) کو پاکستان بھیج دیا۔ مارک ٹلی بہت ہوشیار تھا اور اردو بولتا تھا۔ اس نے غلام اسحٰق خانصاحب سے بجٹ کی تقریر کے بعد پریس بریفنگ میں کھڑے ہوکر سوال کیا کہ اس میں کہوٹہ کا بجٹ نہیں بتایا گیا۔ خان صاحب نے فی البدیہہ غالب کا یہ شعر سنا دیا۔
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
مارک ٹلی ساتھی پاکستانی صحافیوں سے پوچھنے لگا کیا کہا !کیا کہا! اس دوران بریفنگ ختم ہوگئی اور خان صاحب اُٹھ کر چلے گئے۔
کرس شرویل نے میرے گھر کے چکر لگانے شروع کئے، وہ موٹر سائیکل پر آتا تھا۔ کرنل رحمن کے آدمیوں نے اسے میرے گھر کے سامنے دبوچ لیا اور وہ پٹائی کی کہ زندگی بھر یاد کرے گا، اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالہ کردیا کہ یہ وہاں ایک عورت کو چھیڑ رہا تھا۔ دو تین دن بند رہا اور بعد میں اس کو اور مارک ٹلی کو ملک بدر کردیا گیا۔ ایک اور نہایت ہی اہم واقعہ اگلے کالم میں بیان کرکے اپنے گمنام فقیدالمثال ایٹمی ہیروز کی روداد سنائوں گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: