Malik Muhammad Aslam Awan Today's Columns

رہبر یا رہزن ؟ از ملک محمد اسلم اعوان ( قلم کار یاں )

Malik Muhammad Aslam Awan

تخلیق پاکستان،دنیا کی سب سے بڑی ہجرت Migrationکی کہانی بہت ہی دلسوز اور دکھ بھری ہے اپنوں سے بچھڑنے کا غم اور کرب صرف وہی جانتے ہیں جنہیں یہ دکھ اور دل چیردینے والاجبرسہناپڑتا ہے۔ سرسر ل ریڈ کلف وائسرائے ھنداور ہندو لیڈروں کی سازشوں سے چار مسلم اکثریتی علاقے امرتسر،گرداسپور،فیروزپور۔ جالندھر ہندوستان کاحصہ بنا دیئے گئے ۔ انگریزوں کے شاطر ذہن نے چاروں مسلم اکثریتی اضلاع ہندوستان کاحصہ بناکر پاک بھارت تنازع کاایسا بیج بودیا جس کی فصل اب پک کر تیار ہوچکی ہے چاروں اضلاع ہندوستان کاحصہ بنانے کا مقصد ہندوستان کو جموںکشمیرکیلئے راستہ دیناتھا۔ اگر یہ چار اضلاع ہندوستان کی بجائے مسلم اکثریتی اضلاع ہونیکی بنیاد پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پاکستان میںشامل کئے جاتے تو کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہوتے ہوئے پاکستان کا حصہ ہوتا۔ نہ ہندوستان کو کشمیر کا زمینی راستہ ملتا نہ تنازعہ پیدا ہوتا۔ فساد کا یہ بیج دانستہ طور پر انگریز کے شاطر ذہن نے بویا ۔ مودی اور ہندوتوا کے پیروکار مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کیلئے شاطرانہ چالیں چل رہے ہیں اور ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کر کے مسلم آبادی کیلئے گونا گوں مسائل پیدا کر کے ان کی زندگی اجیرن بنا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری مسلمانوں کی آبادی پر طرح طرح کے مظالم روا رکھے جا رہے ہیں۔ تمام کشمیری مسلمان شدید اذیت میں دکھ بھری زندگی گزار رہے ہیں۔
فلسطینی مسلمان بھی کشمیری مسلمانوں کی طرح دکھ بھری جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اسرائیلی غاصب حکومت نے 1967؁ء کے بعد فلسطینی مسلمانوں کو بے دخل کر کے ان کے اکثریتی علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ فلسطینی مسلمان اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود یہ غاصبانہ قبضہ چھڑوانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ غاصبانہ قبضے مسلح جدوجہد اور زور بازو سے چھڑوائے جاتے ہیں مگر جب اپنے ہی بے وفائی کریں تو کامیابی نہیں ملتی۔
عرب ممالک اور عرب لیگ، IOC نے اپنے وجود کا مقصد ہی پورا نہیں کیا۔ فلسطینی مسلمانوں کی مسلح پشت پناہی تو درکنار اخلاقی مدد بھی نہیں کر سکتے۔ زو و بازو کے بغیر فتح نا ممکن ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی آزادی کی تحریک آج تک مسلح جدوجہد کے بغیر کامیاب نہ ہو سکی۔ طاقت زندگی ہے اور کمزوری ہزیمت اور ذلت ہے۔ بلکہ موت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب رخصت ہونے والا ہے اسکے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ مگر اس نے جاتے جاتے ایسی شاطرانہ چال چلی ہے کہ Deal of the Century جیسا ناپاک منصوبہ بنا کر اسرائیل کے غاصبانہ عزائم کو مجرمانہ تحفظ دے دیا ہے۔ اسرائیل کو متحدہ عرب ریاستیں تسلیم کر چکی ہیں اور سعودی عرب بھی تسلیم کرنے کیلئے پر تول رہا ہے۔ پاکستان پر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دبائو ہے یہ دبائو برداشت کرنے کا پاکستان کے حکمرانوں میں Mettle نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری اقتصادی حالت ناگفتہ بہ ہے اور ہم اپنی کمزور معیشت کو چلانے کیلئے امریکہ IMFC ، ADB، FATF جیسے اداروں کے پابند ہو چکے ہیں۔ پاکستان دراصل غیر اعلانیہ Sanctions کے دبائو تلے ہے۔
پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خاں کے بعد کوئی پائے کا لیڈر میسر نہ آ سکا۔ ریاستی ریشہ دوانیوں اور لوٹ مار نے ملک کی معیشت کا بیڑہ ہی غرق کر دیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی باگ ڈور زیادہ عرصہ سنبھالنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ وگرنہ پاکستان ایشیائی ملکوں میں طاقتور ترین اہمیت اور حیثیت کا حامل ہوتا۔ پاکستان چین کے ہم پلہ نہ ہوتا تو اس کے بعد دوسری بڑی معیشت ضرور ہوتا نہ ہم امریکہ کے غلام ہوتے نہ ہی IMF یا FATF کے شدید دبائو میں ہوتے ہم ایک آزاد خود مختار ایٹمی طاقت ملک اور طاقتور معیشت کے باسی ہوتے۔ ہماری سا لمیت اور خود مختاری کی طرف کسی دشمن ملک کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوتی۔ کوئی ہمیں ہماری پالیسیاں Dictate نہ کرواتا ۔ امریکہ کو ہماری مدد کی ضرورت محسوس ہوتی نہ کہ ہمیں امریکہ کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھنا پڑتا۔
ہمارے نام نہاد دانشور لیڈروں نے ہمیں کس ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ ہم قطر مذلت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں ، سرکاری افسران، جنہیں ہم بیورو کریسی کہتے ہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے ملکی دولت کو خوب جی بھر کر لوٹا ملکی خزانہ خالی کر کے پاکستان کو غیر ملکی امدادوں اور قرضوں کی بندشوں میں جکڑ دیا۔ ہمارا رواں رواں قرضوں میں جکڑا جا چکا ہے۔
یہ سب کیا دھرا عوام کا نہیں ہمارے نام نہاد لیڈروں اور بیوروکریسی کا ہے جنہوںنے امریکہ، برطانیہ، سوئٹزر لینڈ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں اربوں ، کھربوں کی جائیدادیں، محلات بنا رکھے ہیں۔ ان کی اپنی اور بیٹوں، بیٹیوں کی شہریت غیر ملکی ہے۔ کیا غیر ملکی شہری پاکستان سے کوئی ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ رہزن کبھی رہبر نہیں ہو سکتے۔ ہم رہزنوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم پر مافیاز اور مافیاز سے زیادہ منظم طاقتور Syndicate مسلط ہو چکے ہیں۔ ہماری زندگیوں کو غلام بنا کر اجیرن کر دیا گیا ہے۔ ہمارے وسائل بے دردی سے لوٹ کر ہمیں کنگال کر دیا گیا ہے۔ پہلے ہم نے گورے انگریزوں سے اپنی جانوںکا نذرانہ قربانی دیکر آزادی حاصل کی ہے۔ جو کہ لاکھوں، قربانیوں اور عزم و ہمت کی بے مثال داستان ہے۔ اب ہمیں کالے انگریزوں سے آزادی کیلئے پھر سے جدوجہد کرنا ہو گی۔ مگر اب جدوجہد دوسری نوعیت کی ہو گی۔ ہمیں اب پھر سے آزادی کیلئے Independence by Ballot کی جدوجہد کرنا ہو گی۔ رہزنوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے صاحب کردار لوگوں کو منتخب کرنا ہو گا اور جب قوم میں شعور کی پختگی کا اظہار بذریعہ Ballot ہو گا تو حقیقی تبدیلی کا آنا ناگزیر ہو جائیگا۔ اور پھر پاکستان طاقتور معیشت کے ساتھ Most Powerful Atomic Power ہو گا اورپاکستان کی گمشدہ عظمت کی نشاۃ ثانیہ کا دور دورہ ہوگا۔

About the author

Malik Muhammad Aslam Awan

Malik Muhammad Aslam Awan

Leave a Comment

%d bloggers like this: