2Below header

قومی،مذہبی نفرت کی حامل سرگرمیاں اور بین الاقوامی قوانین از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

Prof Shamshad Akhtar
4Above single post content

شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ (Rights:ICCPR)قرار دیتا ہے کہ ہر قسم کی ایسی قومی ،نسلی یا مذہبی نفرت کی حامل سر گرمیاں قانوناََ ممنوع ہیں جس سے امتیاز، عناد یا تشدد پیداہوتا ہو ۔(۱) برازیل(Brazil)۱۹۸۸ء کے برازیلی آئین کے مطابق برازیل میں نسل پرستی یا کسی بھی قسم کی نفرت پھیلانے والی تقریرکو ایسا نا قابل معافی جرم قرار دیا گیا ہے جس کا ارتکاب کرنے والوں کو ضمانت کا بھی حق نہیں۲۰۰۶ء میں برازیل کی وفاقی پولیس اور ارجنٹائن کی پولیس نے مشترکہ کاروائی کر کے اس نوع کی نفرت پھیلانے والی بہت سی ویب سائٹس پر پا بندی عائد کی تھی۔(۲)کینیڈا(canada)کینیڈا میں کسی بھی معروف معاشرتی گروہ کے خلاف نسل کشی یا نفرت کو فروغ دینے والی سرگرمی کینیڈا کے فوج داری قانون کے مطابق قابل سزا جرم قرار دی گئی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کر نے والوں کو دو سے چودہ سال کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے ۔(۳) چلی(Chile)چلی کے آزادی اظہار رائے، معلومات اور اختیارو کارکردگی ِ صحافت کے قانون کے آرٹیکل نمبر ۳۱ کے مطابق ہر اس شخص کو بھاری جرمانہ کی سزا دی جائے گی جو کسی بھی طرح کے عوامی ابلاغ کے ذریعے معاشرے کے کسی بھی فرد، افراد یا طبقات کے خلاف ان کی نسل ، جنس، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر نفرت پھیلانے یا نفرت کو فروغ دینے کا سبب بنے اس قانون کا اطلاق اس نوع کی ان سر گرمیوں پر کیا گیا جن کا ذریعہ انٹر نیٹ تھا ۔(۴) کروشیا(Croatia)کروشیائی دستورکے مطابق آزادی اظہار رائے کے حق کو دستوری تحفظ حاصل ہے تاہم کروشیائی ضابطہ ء فوجداری کے مطابق ہر اس شخص کو سزا دی جائے گی اور سر گرمیوں سے روکا جائے گا جو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے تسلیم شدہ آزادیوںکو نسل ، مذہب، زبان، سیاسی وابستگی، نظریہ و عقیدہ ،دولت ،پیدائش، تعلیم،سماجی مرتبہ ،قدر و قیمت ، جنس ، رنگ، قومیت یا نسلیت کی بنیاد پر پامال کریں ۔(۵) ڈنمارک(Denmark)ڈنمارک میں بھی نفرت انگیزتقاریر پر پا بندی عائد کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد عوام الناس میں پھیلایا گیا وہ موادہے جس سے معاشرے کے کسی بھی طبقہ کو خطرہ لاحق ہو نسل ، رنگ ،عقیدہ ،جنسی امتیاز کی بنیاد پراس کی توہین اور بے توقیری ہو ۔(۶)فرانس(France)فرانس کے ضابطہ ء فوجداری اور اس کے صحافتی قوانین کے مطابق ہر قسم کی اس سرکاری اور غیر سرکاری نشر و اشاعت پر پا بندی ہے جو اہانت اور بے عزتی کا باعث بن سکتی ہو یا جس سے کسی بھی شخص یا گروہ ِ معاشرہ کے خلاف یا مخصوص مذہب کی بنیاد پر امتیاز، نفرت یا تشدد جنم لیتا ہو ۔اس قانون کے مطابق ایسے بیان پر بھی پابندی عائد ہے جو انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم مثلاََ ہولو کاسٹ کے انکار پر مبنی ہو یا ایسے جرائم کے جواز پر مشتمل ہو ۔آج فرانس کو اسلام کے خلاف توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر اس قوانین کی روشنی میں اپنی حرکات پر نظر ثانی کر لینی چاہیئے۔(۷)جرمنی(Germany)جرمنی میں عوامی سطح پر نفرت پیدا کرنے کا عمل (Volksverhetzung)قابل ِسزا جرم ہے اور اس کے لئے سزا جرمن کے ضابطہ ء فوج داری (Strafgesetzbuch)کے سیکشن نمبر ۱۳۰ میں کیا گیا ہے ،۔ یہ سزا پانچ سال تک بھی ہو سکتی ہے اسی سیکشن نمبر ۱۳۰ کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقات کی توہین اور بے توقیری نیز ان کو آئینی سطح پر حاصل انسانی عزت و وقار کے حق کو پامال کرتے ہوئے بدنام کرنا بھی جر م ہے ۔(۸)آئس لینڈ(Iceland)آئس لینڈکے ضابطہ ء فوج داری کے آرٹیکل نمبر 233aمیں بیان کیا گیا ہے بلکہ اس میں عوامی سطح پر نفرت پیدا کر نیوالے عوامل کی تفصیل یوں دی گئی ہے :’ ہر وہ شخص جو تضحیک، طنز، اہانت، بے توقیری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے کسی شخص یا گروہ ِ معاشرہ کی قومیت، رنگ و نسل ، مذہب، جنسی شناخت کی بنیاد پر عوامی سطح پر توہین کرے اسے جر مانہ یا دو سال تک قیدکی سزا دی جا سکے گی ۔(۹) بھارت(India)بھارت میں اظہار رائے کے ہر اس طریقے پر پا بندی ہے جسے کوئی بھی شخص اپنے مذہب کے لئے توہین آمیز سمجھتا ہو یا کسی بھی وجہ سے امن عامہ تہہ و بالا ہو سکتا ہو ۔بھارتی آئین کے آرٹیکل نمبر ۱۹ کی شق نمبر ۱ میں آزادی اظہار رائے کے حق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔(۱۰)آئرلینڈ(Ireland)۱۹۸۹ء میں کے قانون ِ امتناع ِ نفرت کے مطابق ان الفاظ یا رویوںکی بھی وضا حت کر دی گئی ہے جو دھمکی آمیز، ناروا اور توہین آمیز ہیں ،۔اسی طرح نیوزی لینڈ،ناروے ، پولینڈ، سنگاپور،جنوبی افریقہ،سویڈن،سوئٹزر لینڈاور دیگر ممالک کے آئین میں ایسے قوانین موجود ہیں جس سے کسی بھی شخصیت، مذہب کی توہین کر نے پر سخت سزا اور جر مانہ ہے لہذا تمام مغربی ممالک کو اس بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کر نی چاہیئے اور انسانی اخلاقی اقدار کا تحفظ اپنی آئینی ذمہ داری سمجھنی چاہیئے تاکہ دنیا امن و امان کا گہوارہ بن سکے۔
مندرجہ بالا قوانین اور ان کے نتیجے میں ہو نیوالے فیصلوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آزادی اظہار رائے کا حق بنیادی انسانی حق ہے لیکن یہ دوسری آزادیوں کی طرح ایک اضافی اور مشروط آزادی ہے اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کے بارے میں ہزاروں کتا بی اور اخباری مضامین تا حال شائع ہو چکے ہیں جن میں اسلام اور اس کے بنیادی عقائد پر تنقید کی گئی لیکن مسلمان علمی مباحثے پر کبھی اعتراض نہیں کرتے کیو نکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل اسلام کے بارے میں جاری مباحثے کا حصہ ہے اور یہ سب کچھآزادی ِ اظہار ِرائے کی حدود کے اندر ہے ۔ لیکن جب اظہار رائے کی آزادی کا یہ حق غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اسلام کے بہت مقدس عناصر قرآن اور صاحب قرآن کی واضح طور پر توہین کی جاتی ہے تو اس سے لازمی طور پر مسلمانوں میں اضطراب اوراشتعال پیدا ہوگا ۔لہذا ضروری ہے انسانیت کی بقا کے لئے ایسے مئوثر ترین اقدامات کیے جائیںجن سے اس طرح کے توہین آمیز اقدامات کا ہمیشہ کے لئے تدارک کیا جا سکے اور آج دنیا میں مذہبی احساسات کے مجروح ہو نے پر جو غیر معمو لی ردّ عمل سامنے آرہا ہے اس کے اسباب کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے اس حوالے سے کوئی ٹھوس اور پا ئیدار عملی لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔

5Below single post content
Avatar

Prof Shamshad Akhtar

Prof Shamshad Akhtar

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: