2Below header

خود ساختہ ایڈوائزر کی باتیں از امر جلیل ( سب جھوٹ )

4Above single post content

میں آپ کو کچھ یاد دلوانا چاہتا ہوں۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ کل ہی کی تو بات ہے۔ یاد اس لئے دلوانا چاہتا ہوں کہ آپ بھی میری طرح بڈھے ہیں۔ یعنی بوڑھے ہیں۔ سینئر سٹیزن ہیں۔ بڑھاپے میں عجیب و غریب کیفیتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ حیران اور پریشان کردینے جیسے وقوع سے پالا پڑتا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ماجرے لپٹ جائیں تو مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتے۔ بڑھاپا کھونے کی عمر ہے۔ تسلسل سے آہستہ آہستہ ہم بہت کچھ کھونے لگتے ہیں۔ ہم عمر، ہم عصر، ہم دم اور ہم سفر دوست، دشمن، اپنے، پرائے، اچھے پڑوسی، برے پڑوسی… پھر تو عادت سی پڑ جاتی ہے کھونے کی… مگر صحیح معنوں میں بڑھاپے کا پتا تب چلتا ہے جب جوڑوں کا درد زنجیر بن کر آپ کو جکڑ دیتا ہے۔ آپ ٹھیک سے چل پھر نہیں سکتے۔ چلیں تو لڑکھڑاتے رہتے ہیں۔ یہ وہی ٹانگیں ہوتی ہیں جن سے آپ ہاکی، فٹ بال، کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ سیر سپاٹے کرتے تھے۔ پہروں کسی کے ساتھ سمندر کے کنارے برہنہ پا گیلی ریت پر چلتے رہتے تھے۔ مگر اب آپ بمشکل باتھ روم جا سکتے ہیں۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ آپ باتھ روم تک نہیں جا سکتے۔ بہت لمبی فہرست ہے ہم سے کھو جانے والی رحمتوں اور کرموں کی۔ آخر عمر میں کھو جانے والی ایک ایک نعمت ایک دوسرے سے اہم لگتی ہے مگر یادداشت کا کھوجانا تمام نعمتوں کے کھو جانے پر بھاری لگتا ہے۔

بینائی، بصیرت اور بصارت کے کھو جانے کا صدمہ جان لیوا لگتا ہے۔ کائناتوں کے اندھیروں میں کھو جانے کا خوف وجود کو ہی بےمعنی بنا دیتا ہے مگر بینائی کے ہوتے ہوئے کچھ سجھائی نہ دینا ہم دیکھنے والوں کے لئے بھیانک منظر ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بظاہر وہ دیکھ رہا ہوتا ہے مگر وہ کیا اور کس کو دیکھ رہا ہے، اور کیوں دیکھ رہا ہے؟ اس احساس سے وہ قطعی محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے ایسے کچھ لوگوں کو۔ میرے اپنے کولیگ اور دوستوں کو… اگر دیوار کی طرف دیکھ رہے ہوں، تو پہروں دیوارکی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ آپ کو دیکھیں تو اس طرح دیکھیں جیسے آپ اس کے لئے اجنبی ہیں۔ دیوار ہیں۔ آدھی صدی سے لمبی رفاقت اور دوستی کا اس کو شبہ تک نہیں ہوتا۔ بیوی، بچے، دوست احباب، گیت سنگیت، ذوق شوق سے خریدی ہوئی کتابیں، تصویریں، سجاوٹ، زیبائش اور آرائش کی چیزیں جو اس نے اپنے اردگرد سجا رکھی تھیں، اسکے لئے غیرمانوس بن جاتی ہیں۔ اپنی جگہ رکھی ہونےکے باوجود اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔ Alzheimerبھول جانے کی انتہائی کیفیت ہے۔ سب بوڑھے الزامائمر کا شکار نہیں ہوتے۔ ہم عام بوڑھے بھول بھال جانے کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہم، ہم عمر اور ہم سفر ایک دوسرے کو یاد دلواتے رہتے ہیں۔آپ کو یاد دلواتا ہوں کہ پچھلے ہفتہ فقیر نے اپنے آپ کو سرکار کا ایڈوائزر لگا دیا تھا، یعنی ایڈوائزر مقرر کردیا تھا۔ اس نے آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ سرکار کو وہ کسی قسم کے مشورے نہیں دے گا۔ وہ سرکارکوبتائے گا کہ آپ اگر سچ مچ ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو لاسکتے تھے۔ مگر سرکار آپ نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی دو ڈھائی سال ضائع کردیے۔ وہ سرکار کو قائل کرے گا کہ اگر وہ تبدیلی کے خواہشمند ہیں تو پھر فقیر اتہاس کے پنے کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گا۔ سردست فقیر ایڈوائزر ہونے کے ناطے دوچار ایسی علتوں کی نشان دہی ضروری سمجھتا ہے، جو علتیں روز اول سے پاکستان کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہیں۔ سرکار اگر چاہیں تو اپنی حکومت کے باقی ماندہ دو ڈھائی برسوں میں ان علتوں کو جڑ سے اکھاڑ کر سچ مچ کی تبدیلی اس ملک میں لاسکتے ہیں۔ ان علتوں اور ذلتوں کا تعلق زرداری اور نواز شریف سے نہیں ہے۔ یہ علتیں بہت پرانی ہیں۔ سرکار آپ بھی اپنی تبدیلی کو وسعت دیں۔ کنٹینر سے لے کر پرائم منسٹر کی کرسی تک آپ تبدیلی لے آنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ آپ اپنا دعویٰ زرداری اور نواز شریف تک محدود مت رکھیں۔ نواز شریف اور زرداری کے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان عالم وجود میں تھا۔ آپ پاکستان کو تین ادوار میں تقسیم مت کریں۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے والا دور۔ دوسرا، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کا دور۔ تیسرا بے نظیر بھٹو، زرداری، جنرل مشرف اور نواز شریف کا دور۔ اگر آپ ڈالنا چاہیں تو اس میں آپ چوتھا دور شامل کر سکتے ہیں۔ وہ چوتھا دور ہے آپ کا دور… فقیر جن علتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے، وہ روز اول سے، جس روز پاکستان وجود میں آیا تھا، وہ علتیں چولی اور دامن کی طرح پاکستان کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں۔ وہ دیمک تو نہیں ہیں مگر ان علتوں نے پاکستان کو کھوکھلا کردیا ہے۔ چونکہ سرکار آپ نے بھری محفل میں خود کو جمہوریت کی علامت گنوایا ہے، دیکھا دیکھی فقیر نے خود کو آپ کا ایڈوائزر بلاتنخواہ اور مراعات مقرر کردیا ہے۔ فقیر آپ کو ان علتوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہے مگر اس کے لئے آپ کو ایک ہفتہ انتظار کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔ آپ قلم کاغذ لے کر اپنے نٹ کھٹ شرارتی ایڈوائزر کے ساتھ تیار رہیں۔ جس طرح آپ وکٹوں کے درمیان بائیس گز کے فاصلےمیں ایک سینٹی میٹر کا اضافہ نہیں کر سکتے، میں بھی اس سے آگے ایک اضافی لفظ نہیں لکھ سکتا۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: