سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور زراعت

0 2

ایک سائنس داں اور انجینئر کی حیثیت سے اور اپنے ملک سے محبت کے ناتے سے مجھے ہر اس چیز یا موضوع میں دلچسپی ہے جو ملک کی بھلائی کا ہو۔ میں نے پچھلے ساڑھے پانچ سال کے دوران سائنسی اور انجینئرنگ مضامین پر کئی مضامین لکھے ہیں۔ اپنے اسی ہر دلعزیز روزنامہ جنگ میں چند سال پیشتر میں نے زراعت پر، ملک کیلئے اس کی اہمیت کو جان کر، چار مضامین مندرجہ ذیل عنوانات سے لکھے تھے (1) زراعت۔ دھیان دو یا فاقہ کشی کرو۔ 4.2.09 (2) زراعت پر کچھ اور تبصرہ۔ 11.2.09 (3) زراعت سے متعلق اہم مضامین۔ 1.4.09 (4) زراعت میں سرمایہ کاری۔ 1.7.09 ۔
وقت کی نزاکت اور زراعت کی اہمیت کی وجہ سے میں پھر اس موضوع پر کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں الغریر گیگا پاکستان کے جناب حاجی محمد امین گیگا وائس چیئرمین گیگا گروپ، جناب حاجی محمد رفیق گیگا، وائس چیئرمین گیگا گروپ پاکستان اور سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے چیئرمین محمد بشیر فاروق قادری اور جناب محمد عامر مدنی اور زبیر اشرفی صاحب نے ڈی ایچ اے فیز ٹو، جی ٹی روڈ پر ایک اہم سیمینار پاکستان میں زراعت کی ترقی پر منعقد کیا۔ مجھے اعزازی مہمان ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مہمان خصوصی تھے۔ اس سیمینار میں ملک کی اور بہت سی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔
سیلانی ویلفیئر

انٹرنیشنل ٹرسٹ کی ملک گیر نہایت وسیع پیمانہ پر فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اب سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ نے ملک کے وسیع مفاد میں زراعت کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے اور دوسری سرگرمیوں کی طرح اس میں بھی یہ ضرور کامیاب ہوں گے چونکہ ان کے کارکن نہایت مخلص، ایماندار، محنتی اور محب وطن ہیں۔ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے پروگرام کو ان ہی کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
پاکستان میں سیلانی ویلفیئر زراعت کی ترقی کے لئے کوشاںہم دنیا کی خوش قسمت قوم بھی ہیں اور بدقسمت بھی! ہمیں ربِ کائنات نے تمام نعمتوں اور بے شمار وسائل سے نوازا ہے مگر ہم ان وسائل سے مناسب طریقے سے فیضیاب ہونے کے بجائے انہیں ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں یوں ہم اپنے دشمن آپ بنے ہوئے ہیں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں ادراک ہی نہیں کہ ہم اپنے ساتھ کیا کررہے ہیں۔ دوسری نعمتوں کو ایک طرف رکھئے صرف زراعت کو ہی لے لیجئے اگر ہم اپنی زرعی زمین کو درست طریقے سے کام میں لاتے تو آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں ہمارا شمار ہوتا مگر افسوس ہماری ملکی تاریخ کے تقریباً تمام ہی حکمرانوں نے اس طرف توجہ نہیں دی اور آج حال یہ ہے کہ اپنی نااہلی کے باعث ہم کبھی گندم درآمد کررہے ہوتے ہیں تو کبھی ہمارے یہاں کسی نہ کسی سبزی کا بحران ہوتا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر توجہ ہی نہیں دی چنانچہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھنے والی زرعی اجناس کی طلب کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ زراعت ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے پاکستان کی GDP میں زراعت کا حصہ 21 فیصد ہے اور اس شعبے سے ملک کی 41 فیصد آبادی منسلک ہے گویا 41 فیصد کو روزگار فراہم کرنے میں زراعت کا اہم کردار ہے۔ ملک کے کل رقبہ کا محض 25 فیصد حصہ زیرکاشت ہے تاہم اس کے باوجود زراعت کے ذریعے خاصا زرِمبادلہ ملک میں آتا ہے۔ ملک کی اہم فصلوں میں گندم، چاول، گنا، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دودھ، انڈے اور گوشت کی پیداوار کا انحصار بھی زراعت پر ہے، کپاس پیدا کرنے والے اہم ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے، ہم گندم کی برآمد میں نویں نمبر پرہیں جبکہ کپاس، گنا ، ایپری کی برآمد میں ہمارا چوتھا نمبر ہے اسی طرح دودھ، پیاز کی برآمد میں ہمارا پانچواں نمبر ہے جبکہ آم کی برآمد میں ساتواں، چاول میں آٹھواں اور کنو میں دسواں ہے! ہمارے پاس بہترین آب پاشی کا نظام ہے مگر اس کے باوجود بارش کا 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے اور ہم محض 20 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کے قابل ہیں، اس کی وجہ ملک میں ڈیموں کی کمی ہے چنانچہ گزشتہ دس سالوں کے دوران ہماری مجموعی پیداوار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ زراعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس شعبے میں جدید اصلاحات نافذ کی جائیں، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا جائے نئے ڈیم تعمیر کئے جائیں جدید سائنسی بنیادوں پر زرعی نظام چلایا جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور غیرکاشت شدہ زمین کو قابلِ کاشت بنایا جائے، زراعت میں کیے جانے والے تحقیقی کام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جائے کسانوں کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں قصبوں و دیہات کی تعمیر وترقی کے لئے مائیکروفنانس جیسی اسکیمیں متعارف کی جانی چاہئیں تاکہ کسان کو آسان شرائط پر قرضے ملیں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو۔ زراعت کی بہتری سے ملک میں لائیو اسٹاک یعنی مویشیوں کی صورت حال بھی بہتر ہو گی جس کا حصہ بھی ملکی معیشت میں انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کے اکنامک سروے کے مطابق 2001ء میں گوشت کی کل پیداوار 2072 ٹن تھی جو کہ 2010-2011ء میں بڑھ کر 3094 ٹن ہوگئی جبکہ اس کے مقابلے میں آبادی میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا اس میں مزید بہتری آسکتی تھی اگر ہمارا زرعی نظام اچھا ہوتا اور ہم ترقی یافتہ قوموں میں شمار کئے جاتے۔ اگر ہم گلہ بانی کو بہتر بنالیں تو ہمارے زرِمبادلہ میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں گائے، بھینس اور بکرے وغیرہ کے گوشت کی طلب بہت زیادہ ہے مگر یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے کہ زراعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے جائیں مگر افسوس ہمارے بے حس حکمرانوں سے اس ضمن میں کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے سود ہے البتہ اس حوالے سے پرائیویٹ سیکٹر میں کچھ دردِدل رکھنے والے افراد ضرور سوچ بچار کررہے ہیں اور عملی طور پر کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں سیلانی ویلفیئر اور الغریر گیگا گروپ ہیں جو زراعت کے شعبے میں ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس پر عمل کرکے اس ملک میں خوراک کے حوالے سے ایسا انقلاب برپا ہوسکتا ہے کہ ملک کی گاڑی ترقی کے راستے پر بہت تیزی سے دوڑ سکتی ہے۔
ملک میں زیرکاشت زمین صرف 25 فیصد ہے جبکہ کچھ رقبہ ایسا بھی ہے جسے بنجر اور ناقابل کاشت سمجھ کر اُس جانب توجہ نہیں دی جاتی صحرائے تھر اور چولستان کی زمین اس زمرے میں آتی ہے حالانکہ آج کے سائنسی دور میں جدید طریقوں کو استعمال کرکے ان زمینوں کو بھی کارآمد بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بھی بے مقصد یا بیکار نہیں بنائی یہ ہماری نااہلی ہے کہ 60 سے65 سال گزرنے کے باوجود بھی ہم نے اپنی کاشت پر توجہ دینا گوارا نہیں کیا! اس کے علاوہ زیرکاشت زمین پر جو پیداوار ہوتی ہے اُس میں بھی کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے مثلاً مکینکل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، آبپاشی کا نظام بہتر بنایا جائے۔ نہروں، دریائوں، بیراجوں اور ڈیموں کی صورتِ حال کو بہتر بنایا جائے تاکہ ملک میں نہ صرف پانی کی قلت میں کمی واقع ہو بلکہ بارش کے پانی کو بھی کام میں لایا جاسکے، پانی کی چوری کے حوالے سے سخت قوانین بنائے جائیں اور ان پر سختی سے عمل کیا جائے، کسانوں کو جدید طریقوں سے روشناس کرایا جائے وغیرہ وغیرہ۔
زرعی انقلاب کے لئے سیلانی کا بے مثال منصوبہ:
زراعت اور فارمنگ کے شعبے میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ مستقبل میں ایک انقلابی قدم اُٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ایک وسیع و عریض زرعی اراضی خرید کر وہاں موسموں کے مطابق فصلیں لگائی جائیں گی ساتھ ہی مویشیوں کی فارمنگ بھی کی جائے گی جس میں گائے، بکرے، مرغیاں اور مچھلیوں کے فارم ہائوس شامل ہوں گے۔ اس پروجیکٹ سے جہاں غریب و متوسط طبقے کو معیاری اور تازہ سبزیاں، پھل اور گوشت وغیرہ مارکیٹ سے کم ریٹ پر دستیاب ہوں گے وہیں مویشی فارم کے ذریعے سیلانی ویلفیئر کو روزانہ دستر خوان کے سلسلے میں 500 بکروں اور عیدالاضحی کی قربانی کے لئے بڑی مقدار میں مویشیوں کی ضرورت ہوتی ہے اس پروجیکٹ کا برا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام الناس کو گندم، سبزیاں، پھل ، شکر، گنا اور گوشت وغیرہ ارزاں قیمت پر دستیاب ہوں گے۔
زراعت کی بہتری کیلئے سیلانی ویلفیئر کی سفارشات:
عمدہ زرعی زمین اور بہترین آبپاشی کے نظام کے باعث پاکستان میں زرعی پیداوار ممکنہ حد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ دریائے سندھ کی آبپاشی کے بہتر نظام اور سیراب و زرخیز مٹی کو زیادہ اچھے انداز سے استعمال کرکے موجودہ پیداوار کے مقابلے میں زیادہ پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔پیداوار کو مزید بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اہم وسائل اچھی زمین اور پانی زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اچھی پیداوار اوربیماریوں کی روک تھام کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں۔ کسانوں کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں کو بہتر بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر مائیکروفنانسنگ شروع کی جائے۔زرعی زمینوں کی تقسیم منصفانہ اور صحیح خطوط پر ہونی چاہئے۔
اگر ایک شخص کی آمدنی 367 یوایس ڈالر سالانہ اور 2 یوایس ڈالر یومیہ نہ ہو تو وہ غریب سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق موجودہ مہنگائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے دو ڈالر یومیہ کمانے والا بھی غربت کے زمرے میں آئے گا۔
زرعی ترقی پر سیمینار:
26 فروری 2014ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عنقریب مکمل ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے متصل الغریر گیگا کمپلیکس میں سیلانی ویلفیئر اور گیگا گروپ آف کمپنیز کے اشتراک سے پاکستان میں زرعی ترقی کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں جدید فارمنگ تکنیک کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے پاکستانی زراعت میں استعمال کرنے کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا۔ گیگا گروپ آف کمپنیز اور سیلانی ویلفیئر کے اشتراک سے 500 پاکستانی طلباء کو وظائف دیئے جائیں گے تاکہ یہ طلباء چین اور کوریا کی یونیورسٹیوں میں زرعی شارٹ کورسز کی تعلیم حاصل کریں ۔ اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فخر پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں ہے کمی صرف خلوصِ دل اور نیک نیتی سے کام کرنے اور قابل ِ اہل قیادت کی ہے۔
وائس چانسلر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے کیا کہ پاکستان میں زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عمدہ زرعی مہارتوں کے استعمال سے کاشت کاروں کو پیداوار بڑھانے کے لئے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے پانی کی کمی کے پیشِ نظر جدید آب پاشی کے طریقوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ سالوں میں پانی کے ذخائر اور اناج محفوظ طریقے سے اسٹور کرنے پر زور دیا جائے۔ڈائریکٹر بیجنگ لائف سائنسز ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے مسٹر لووی نے کہا کہ پاکستان کی زرعی ترقی کے لئے چین ہر قسم کے تعاون کے لئے ہمہ وقت تیار ہے اور ہم ہر طریقے سے اپنے دوست و ہمسایہ ملک کی مدد کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونگ پوک نے کہا کہ چین پاکستان کی زرعی ترقی کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں ہم سے جو ممکن ہے ہم کریں گے۔پاکستان میں کورین سفیر جونگ سانگ نے کہا کہ پاکستانی طلباء کے لئے ویزے کے مراحل آسان کئے جائیں گے تاکہ یہ طالب علم ہماری یونیورسٹیوں میں سہولت سے علم حاصل کرسکیں۔سابق چیئرمین سینٹ میاں محمد سومرو نے حکومت سے زرعی مسائل کے حل کے لئے زرعی ماہرین و کاشتکاروں سے مشاورت کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا۔چیئرمین آف گیگا گروپ حاجی محمد رفیق گیگا نے کہا کہ سیلانی اور گیگا کی طرف سے جو پاکستانی طلباء کوریا اور چین کی یونیورسٹیوں میں جائیں گے وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاشت کی پیداور بڑھانے، بہتر آبپاشی، اعلیٰ معیار کے بیجوں کی پیداوار اور فصلوں کی کاشت اور دیکھ بھال سے متعلق تربیت حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بہترین آبپاشی کا نظام ہونے کے باوجود پاکستانی زراعت ترقی نہیں کرسکی جبکہ دیگر ممالک میں چھ گنا تک پیداوار بڑھائی جاچکی ہے۔اس موقع پر سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے جوائنٹ سیکرٹری محمد عامر مدنی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ آپ اس سلسلے میں بہت بڑا رول ادا کرسکتے ہیں۔ ایک طالب علم کی اسکالرشپ اپنے ہاتھ لے لیں اگر مخیر حضرات کسی ایک ضرورت مند بچے کی تین ہزار ڈالر کا ٹریننگ کا خرچہ اپنے ہاتھ میں لے لیں تو اس طرح کتنے بچے اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی ترویج ہونا شروع ہوجائے گی۔
اس سیمینار میں نامور شخصیات، زرعی ماہرین، جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کا اظہار کیا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور پیداوار بڑھانے کے لئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں ملک کے وسیع صحرائوں میں ڈیری فارمنگ اور بارانی علاقوں میں مویشیوں کے چارے کے بندوبست کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔
میری تمام ہمدردی، نیک دعائیں اور تجربہ اور صلاحیتیں سیلانی ٹرسٹ کے اس اعلیٰ پروگرام کیلئےوقف ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: