28 مئی1998 ۔ تاریخ ساز دن

0 2

اپنے پچھلے تین کالموں میں آپ کو میں نے 28مئی 1998 کے تاریخ ساز دن کی اہمیت اور اس کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتایا تھا۔ میں نے پاکستان آنے، بھٹو صاحب کی درخواست پر واپس نہ جانے اور اس اہم کام کی ذمّہ داری قبول کرنے کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ یہ بھی بتایا تھا کہ ہم 1984 میں اس قابل تھے کہ ایک ہفتہ کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کرسکتے تھے لیکن سیاسی مصلحت کی وجہ سے جنرل ضیاء نے اس سے گریز کیا۔ میں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت 27فروری 2001ءکو ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کی اس تقریر کا متن بھی پیش کیا تھا جس میں انہوں نے ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی موجودگی میں کھل کر یہ کہا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی قوّت بنانے کا سہرا میرے سر پر ہے اور صرف میں نے اور میں نے ہی یہ ناممکن کام سر انجام دیا تھا اور پاکستانی قوم کبھی بھی میرا احسان نہ اُتار سکے گی پھر میں نے مرحوم جناب غلام اسحاق خان کے اس خط کا مکمل متن پیش کیا تھا جو انہوں نے زاہد ملک صاحب کو لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے کہوٹہ کی پوری تاریخ اور ہماری کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی اور صاف صاف لکھا تھا کہ 1984ءمیں کہوٹہ کی ٹیم چند دن کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کر سکتی تھی اور یہ کام صرف میں نے اور میرے رفقائے کار نے کیا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد ہی صدر مملکت رفیق تارڑ،

وزیراعظم نوازشریف، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری، ایئر چیف مارشل پرویز مہدی اور لاتعداد لوگوں نے مبارکبادی کے پیغامات بھیجے۔ صدر مملکت نے لکھا۔ ’’اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے 28مئی کو اپنی ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کردیا۔ پوری قوم نے دل وجان سے اپنے سائنسدانوں کے اس کارنامہ کی تعریف کی۔ میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو اپنی جانب سے اور پوری قوم کی جانب سے ہماری تاریخ کی اس عظیم ترین کامیابی پر دلی مُبارکباد دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیوں اور خوشیوں اور اعزازات سے نوازے‘‘۔
جناب وزیر اعظم نواز شریف صاحب نے لکھا’’آپ کی اور آپ کی ٹیم کی انتھک کوششوں سے تمام رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا اور ہمارا دیرینہ خواب کہ پاکستان محفوظ ہوجائے پورا ہوگیا۔ حکومت اور پوری قوم کی جانب سے میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو دلی مُبارکباد پیش کرتا ہوں اور تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے بہترین کام انجام دے دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مستقبل میں بھی کامیابیوں سے ہمکنار کرے‘‘۔ ائیر چیف مارشل پرویز مہدی نے لکھا ’’28 مئی 1998 ہماری تاریخ میں ایک ناقابل فراموش دن رہے گا۔ میں اس کیلئے آپ کے مصمم ارادے اور جدوجہد کو جو آپ نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں کی میں سلام کرتا ہوں۔ میں آپ کی قابل و محب وطن ٹیم کو بھی دلی مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ قوم کی توقعات پر پورے اترے۔ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل فصیح بخاری نے لکھا ’’میں اپنی جانب سے اور پاکستان نیوی کے تمام اسٹاف کی جانب سے ہماری تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی، غوری میزائل کی کامیاب لانچنگ اور کامیاب ایٹمی دھماکوں، پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کی مسلسل اور مصمم جدّوجہد و کوششیں اس قومی فریضہ کے انجام دینے میں نہایت قابل تحسین ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے لکھا ’’بلاشبہ یہ کارنامہ ہماری قوم کا آپ کی اور آپ کی ٹیم کی صلاحیتوں پر یقین اور اعتماد کا اظہار ہے۔ آپ کی کامیابیاں پوری قوم کیلئے باعث قوت ووقار ہیں‘‘۔ جناب آغا شاہی نے لکھا ’’پاکستان کا ایٹمی قوت بننے کی صلاحیت حاصل کرنے کے دعویدار بالکل صحیح طور پر ڈاکٹر اے کیو خان ہیں جنہوں نے اس ناممکن مشن کو ممکن بنادیا اور حاصل کرلیا‘‘۔ چونکہ10دسمبر1984ء کو تقریباً 30سال ہونیوالے ہیں اور 28مئی1998ء کو 16سال ہوگئے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں حقائق سے آگاہ کروں۔ اس تمام عرصہ میں منافقین ، کذّاب اور ضمیر فروش اور بے غیرت لوگ بار بار حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور وہ کام جس کی ٹیکنالوجی کے الف ،ب سے بھی واقف نہ تھے اس کی مہارت کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ جناب غلام اسحٰق خان پروگرام سے پہلے دن سے منسلک رہے اور آخر وقت تک یعنی 17سال سرپرستی کرتے رہے۔ ان کی اہلیت ،حب الوطنی، ایمانداری، مضبوط کردار کی ان کے دشمن بھی داد دیتے ہیں، وہ مالیاتی ڈسپلن پر سختی سے عمل کرتے تھے،اپنے کام سے غیرمعمولی لگن، قابلیت، پاکستان سے فقیدالمثال محبت اور وفاداری کیساتھ وہ اس ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ایسے قابل و فرشتہ خصلت شخص کی شہادت کے بعد کسی کا شک و شبہ کرنا ناقابل معافی گناہ ہوگا۔ یہاں ایک اور اہم واقعہ کا ذکر ضروری ہے جس سے ان جھوٹے دعویداروں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد سعودی عرب کے وزیر دفاع پرنس سلطان بن ابن سعود اور ان کے صاحبزادے جنرل خالد بن سلطان بن ابن سعود ، نواز شریف صاحب کو مُبارکباد دینے تشریف لائے، وزیر اعظم ان اہم شاہی مہمانوں اور تینوں افواج کے سربراہوں (جنرل پرویز مشرف، ایڈمرل فصیح بخاری اور ایئر چیف مارشل پرویز مہدی) کو لے کر کہوٹہ تشریف لائے اور کئی گھنٹے وہاں ہمارے ساتھ گزارے اور ایٹمی ہتھیار اور غوری میزائل دیکھے۔ جنرل خالد نے افزودہ یورینیم کے ’’کور‘‘ اور ریفلیکٹر اُٹھا کر دیکھے اور غوری میں ایٹمی ہتھیار لگا دیکھا۔ اب اگر کسی اور نے کہیں اور یہ کام کیا ہوتا تو پھر وزیر اعظم شاہی مہمانوں کو لے کر کہوٹہ کیوں آتے؟ شاہی مہمانوں کے آنے کا تذکرہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اُچھالا تھا۔جہاں تک ہماری اسلامی تاریخی روایاتِ احسان فراموشی کا تعلق ہے اور میرے ساتھ سلوک کی کہانی ہے آئیے آپ کو اہم دستاویز کا متن پیش کرتا ہوں۔ یہ ایک مغربی صحافی نے جس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف نہایت سخت اور گمراہ کن باتیں لکھی تھیں اور کتابیں تحریر کی تھیں جس میں اس کو یقیناً امریکی ایجنسیوں اور غالباً ہمارے بھی کچھ بااثر لوگوں کی جانب سے کافی جھوٹا مواد میری کردار کشی کیلئے مہیا کیا گیا تھا، اس نے جو اِنکشافات کئے ہیں وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔
’’ڈیئر ڈاکٹر خان۔ بہت عرصہ کے بعد میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور وہ اس وجہ سے کہ میں نے پچھلے دنوں روزنامہ نیوز میں آپ کا ایک کالم پڑھا تھا۔ میں یہ خط ایک دوست کو دے رہا ہوں جو اسلام آباد جا رہا ہے وہ یہ آپ کو پوسٹ کردے گا۔ اُمید ہے کہ یہ آپ کو مل جائے گا۔ اس کالم میں آپ نے پاکستان کی سائنٹیفک اور انجینئرنگ کے میدان میں ترقی کے اہم نکتوں پر روشنی ڈالی ہے اور ان سیاسی سازشوں اور الزام تراشیوں کا بھی جو اس واقعے کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی تھیں ذکر کیا تھا۔ یہ کالم وقت کی اہم ضروت تھا خاص طور پر وزیراعظم نواز شریف کے ہندوستان کے دورہ کے فوں فاں کی وجہ سے جہاں وہ نریندر مودی کی تاجپوشی میں شرکت کو گئے تھے۔میں ابھی ابھی واشنگٹن سے ایک تحقیقی دورہ کے بعد واپس آیا ہوں اور میری وہاں ان سینئر افسران سے ملاقاتیں ہوئیں جو اسّی اور نوّے کے عشروں میں نام نہاد ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو میں سرگرم تھے۔ یہ بلاشبہ ایک ’’لکڑی اور گاجر‘‘ (یعنی دھمکیاں اور لالچ دینے کی پالیسی) کی پالیسی تھی جس کا مقصد اپنے مخالفین کو دھمکیاں دینا اور دوستوں کو لالچ۔ میں نے یہ ضروری سمجھا کہ میں آپ کو یہ مراسلہ روانہ کروں چونکہ جو کچھ میں نے وہاں سنا وہ حیران کن تھا۔
جب میں پہلی مرتبہ ان افسران سے ملا تھا تو انہوں نے صاف صاف انکار کیا تھاکہ مشرف اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا کہ تمام اِلزام آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر ڈالا جائیگا کہ انہوں نے ہی تمام معلومات و پرزہ جات باہر بھیجے ہیں لیکن اس مرتبہ جبکہ واشنگٹن اور پاکستان میں حالات بہت تبدیل ہوچکے ہیں اور یہ تمام سینئر افسران ریٹائر ہوچکے ہیں انہوں نے جو اطلاعات دیں اور اعتراف کیا وہ حیران کن ہے۔ سب نے اقرار کیا کہ مشرف کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ آپ کو ایک مجرم کے طور پر پیش کیا جائے اور ایک متفقہ سخت مہم چلائی جائے کہ آپ نے یہ سب کام خودغرضی و منافع حاصل کرنے کے لئے کیا تھا اور اس کے پیچھے حرص و لالچ تھی۔ بلاشبہ یہ صریح دروغ گوئی اور بہتان ترازی تھی۔ سب کچھ آپ نے حکومت وقت کے ایما پر کیا تھا جس طرح آپ نے حکومت کے کہنے پر ہی چین کو برسوں اہم سینٹری فیوج ٹیکنالوجی برائے یورینیم کی افزودگی ٹرانسفر کی تھی۔آپ کیخلاف یہ تمام شرانگیز کارروائی مشرف کے کہنے اور ایما پر کی گئی تھی جو اس وقت تک امریکیوں کے ہاتھوں پوری طرح بِک چکا تھا۔ مشرف کی موجودہ حالت دیکھ کر اب ان افسران نے ریکارڈ پر یہ بات بتائی ہے اور مجھے وہ ریکارڈ اور دستاویزات دکھائی ہیں جنہوں نے ان کے انکشافات کی مکمل تصدیق کی ہے۔
یہ دعوے کئی وجوہات کی بنا پر بہت دلچسپ ہیں خاص طور پر کہ اس شخص کو جس کو انہی کے الفاظ میں اپنے وقت کے ممتاز ترین صنعت کار یعنی آپ کو ایک استعمال شدہ کپڑے کی طرح پھینک دیا وہ اس لئے کہ مشرف سے نام نہاد قریبی تعلقات کو فروغ دیا جائے اور اس کو تمام الزامات و جرائم سے پاک کردیا جائے۔میں نے ضروری سمجھا کہ آپ سے ان اہم واقعات پر تبادلہ خیال کروں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی قابل بیان چیزیں ہیں۔ اتنا وقت گزر گیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہایت مناسب موقع ہے کہ ریکارڈ کو ٹھیک کردیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ امریکیوں نے دھوکہ دہی اور دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔ اُمید ہے کہ آپ ان ماورائے حقیقت حالات سے ٹھیک سے نبرد آزما ہونگے۔ آپ کا…

Leave a Reply

%d bloggers like this: