2Below header

پاک آرمی از کشف بنت تنویر احمد

4Above single post content

پاکستان کی آن بان شان اور جان ہماری پاک آرمی ہے. ہمارے رہنما ہمارے آرام سکون کا زریعہ ہمارے پاسباں اور ہمارے رہبر ہماری پاک آرمی ہے.اگر آج یہ ہمارے ساتھ نا ہوتے تو شاید ہمارا نام ہمارے ملک پاکستان کا نام اس دنیا کے نقشے میں نا ہوتا.آج ہم زندہ ہیں تو ہماری آرمی کی وجہ سے .آج ہم سب اپنے گھروں میں آباد ہیں تو ان کی وجہ سے آج ہم سب اپنوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تو ہماری پاک آرمی کی وجہ سے ہماری آرمی اللہ کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ ہے .اور مجھے اللہ کا یہ تحفہ بہت پسند ہے .پر افسوس کے اس تحفے کی کچھ لوگوں کو قدر نہیں ہے. ان لوگوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کے فوج کا مطلب کیا ہے اور کس کے لیے کام کرتی ہے .ان کو بس اتنا پتا ہے کے وہ شہید ہو گیا . افسوس اس بات کا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں وہ سرکاری نوکری ہے اس لیے اس میں کام کرتے ہیں.ان کو پیسے ملتے ہیں.ارے یہ فوج تو ہماری ملت کی رہبر ہے .یہ تو وہ ہستاں ہیں جنہوں نے کھبی اپنی خوشی کا خیال ہی نہیں کیا. کبھی یہ نہیں کہا کے ہمیں بھی اپنوں کے ساتھ ان کی خوشیوں میں شریک ہونا ہے. ان کے منہ سے کبھی یہ نہیں نکلا کے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اگر ہمیں کچھ ہو گیا تو ان کا کیا ہو گا ہمارے بچوں کو کون سہارا دے گا ان کی خوشیوں کا کون خیال رکھے گا ہمارے بچوں کی خواشیات کون پوری کرے گا .کبھی سنا ہے ایسا نہیں نا. ارے وہ تو بہادر ماؤں کے بہادر شیر ہیں. وہ تو بس چند دن کے لیے اپنی ماں کے پاس مہمان بن کر جاتے ہیں .اور اپنی زندگی کی خوشیاں ہم جیسوں کے لیے قربان کر دیتے ہیں .
کونسی ایسی ماں ہے جو اپنے بیٹے کی جوانی میں لاش دیکھ کر روتی نہیں. اپ کے بیٹوں کا اگر چھوٹا سا اکسیڈنٹ ہو جائے تو پورے گاؤں کو اکھٹا کر لیتی ہو رو رو کر اتنا درد ہوتا ہے اپنے بیٹے کو اس طرح درد میں دیکھ کر .کیا ان ماؤں کا دل نہیں ہے کیا ان کا دل نہیں کرتا کے وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ خوشی خوشی زندگی گزائے.کیا ان کا دل نہیں کرتا کے وہ اپنے بیٹے کو روز دیکھے . ان ماؤں کا حوصلہ ہے جو جوانی میں اپنے بیٹے کی لاش دیکھتی ہیں تو ایک آنسو نہیں گرتا ان کی آنکھوں سے اور وہ بیٹا اپنی مرضی سے تو نہیں شہید ہوا ہوتا نا .وہ تو ہم سب کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوا ہوتا ہے .کیا اس فوجی کی بیوی نہیں ہوتی کیا اس کی بہن نہیں ہوتی کیا اس کی ماں نہیں ہوتی یا پھر وہ اکیلا آتا اس دنیا میں اور جان بوج کر وہ اپنے سینے میں گولیاں کھاتا اور اس دنیا سے چلا جاتا . ارے وہ یہ سب کچھ ہمارے لیے کرتا اپنے وطن کے لیے کرتا اس پاک سر زمین کے لیے کرتا .ہمارے فوجی تو ہم سب کے محافظ ہوتے ہیں.ہم سب کے رہبر ہوتے ہیں۔
باڈر پر جانا کوئی آسان کام نہیں . سات کلو کی رائفل اور 25 کلو کی جیکٹ پہن کر جب ایک جوان کی گردن پر گولی لگتی ہے اور پھر بھی وہ اپنے اپ کو سمبھالنے کی کوشش کرتا ہے یہ ہم سب کے سکون کے لیے کرتا ہے اپنی خوشی سے نہیں کرتا.اس کو کسی چیز کی لالچ نہیں ہوتی اس کے دل میں ڈر نہیں ہوتا وہ تو اس لیے خوش ہوتا ہے کے اس کی جان اس پاک سر زمین کی حفاظت کرتے کرتے گئی .اس کو اپنے گھر والوں کا خیال نہیں آتا. وہ اس لیے تو شہید نہیں ہوتا کے اس کو بعد میں پیسے ملنے ہیں .وہ تو اس لیے شہید ہوتا کے ہم جیسے لوگ سلامت رہے .ہم اپنے گھر والوں میں خوش رہے . ارے قدر کرو میرے اعظیم بھائیوں کی .آٹھ گرام کلا شنکوف کی گولی 750میٹر فی سیکنڈ کی سپیڈ سے جب کسی ودری والے کے جسم میں گھستی ہے تو 10مائیکرو سیکنڈز میں صرف خوں ہی جسم سے نہیں جاتا بلکہ کسی کا سہاگ کسی کا بیٹا کسی کا باپ اور کسی کا بھائی بھی اس دنیا سے چلا جاتا ہے .لیکن پھر بھی ہماری عوام کو ان کی قدر نہیں ہے ایک فوجی کی زندگی اتنی آسان نہیں ہوتی ان کو اپنوں کا دل توڑنا پڑتا ہے.صرف اپ سب کے دلوں کو تازا رکنھے کے لیے. اپنے بچوں کو یتیم کرنا پڑتا ہے تاکے اپ لوگوں کے بچے یتیم نا ہوں .اپنی بیوی کو بیوہ کرنا پڑتا ہے تا کے اپ لوگوں کی بیویاں بیوہ نا ہو . پھر بھی ان کی قدر نہیں۔
ارے جب جب پاکستان پر مصیبت آئی اس مصیبت کا مقابلہ کسی بزنس مین نے نہیں کیا کسی ڈاکٹر نے بھی نہیں کیا اپنی جانوں کا نظرانا کسی فیکٹری کے مالک نے نہیں دیا ہماری فوج نے دیا.میرے بہادر بھائیوں نے دیا .سیلاب ایا تھا تب بھی اپ سب کے بچوں کو کس نے بچایا تھا وہ ودری والے کوئی سکول کے بچے نہیں تھے وہ ہماری فوج تھی .جب زلزلے آتے تھے کئی لوگوں کے گھر ٹوٹ جاتے تھے اپ سب کی کون مدد کرتا تھا وہ ہماری فوج ہی تھی .اور آج اپ سب ان کو باتیں کرو اور ہم چپ رہیں یہ کہاں کا انصاف ہے انہوں نے کبھی کہا ہے ہماری تعریف کرو انہوں نے کبھی کہا ہے کے ہمارے یہ مسلے ہیں ہم اپ کی مدد نہیں کر سکتے .نہیں نا تو کسی کو یہ حق نہیں کے وہ ہماری آرمی کو باتیں کرئے.
آج کل جو باتیں اکثر سننے کو ملتی ہیں کے فوجی اگر بات نا کرے تو بہت اکڑو کھڑوس ہے اگر تھوڑا سا غصہ کر لے تو ان کو بدتمیز کہہ دیا جاتا ہے بات کرنے کی تمیز نہیں فوجی تو ہوتے ہی پاگل دماغ کے ہیں. یہ بولتے وقت دیکھتے نہیں ان کو بات کرنے کا ہی نہیں پتا. اگر وہ اپنی جانیں دے سکتے ہیں تو ایک بات غصے میں کر بھی دے تو کونسا پہاڑ ٹوٹ جاتا.اور اگر فوجی ہنس کر بات کر لے تو اس کو ٹھرکی بول دیا جاتا ہے کیا فوجیوں کا دل نہیں کرتا وہ ہنسے. بس وہ ہمیشہ اپ لوگوں کے لیے دن رات کام کرتے رہے اور بدلے میں اپ لوگ ان کو پاگل دماغ کا کہے . ارے ارے شرم کرو میں کہتی ہوں ڈوب مڑو فوجیوں کو ایسی بات کہتے ہوئے اپ سب کے دل نہیں کانپتے .اگر سوشل میڈیا چلا رہا ہے .تو اس کو باتیں کی جاتی ہیں اپ کیوں موبائل چلا رہے ہیں اپ کو اور کوئی کام نہیں ہے . فوجی کو کیا سوشل میڈیا چلانے کا حق نہیں کیا ان کے جذبات نہیں ہوتے کیا ان میں دل نام کی چیز نہیں ہوتی کیا ان کا دل نہیں کرتا ہم بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مزے کرے کیا ان کی خواہشات نہیں ہوتی وہ بس نوکری کی حد تک محدود ہیں .کیا ان کا دل نہیں کرتا موج مستی کرنے کا. ارے وہ تو ہمارے لیے ہی اپنی خواہشات کو مار دیتے ہیں بس ہم سب کی حفاظت کرنے کے لیے ہیں کیا ہم بدلے میں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے کیا ہم ان کے لیے چار لفظ محبت کے نہیں بول سکتے ہم کر سکتے ہیں ان کے ہم پر بہت احسان ہیں یہ ہی تو ہیں جو ہماری جانوں کے محافظ ہیں . اپنی جانوں کا خیال کیے بنا ہماری حفاظت کرتے ہیں . انسان کے پاس ایک جان ہی تو ہوتی ہے جو سب سی قیمتی ہوتی ہے اور یہ تو اس قیمتی چیز کی بھی پروا نہیں کرتے.تو پھر میں کیسے ان کے خلاف بات سنو .پھر تو مجھے پورا حق ہے کے میں الگے بندے کا منہ توڑ دوں۔
کوئی ہے ایسا انسان جو 2ڈگری پر بھی باہر برف میں کھڑا رہے اوپر سے سردی بھی اتنی زیادہ اور برف میں ایک 25کلو کی رائفل پکڑ کر ادھر کھڑے رہنا. ہمارے تو سردی میں ہاتھ ہی نہیں ہلتے ہمیں بس ایک بستر کی تلاش ہوتی ہے کبھی ان کا خیال نہیں ایا تم سب کیسے وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں .ہمیں بخار ہو جائے تو ماں باپ کی جان اٹک جاتی ہے. کبھی ان کا خیال ایا کے ان کو کون دوا لا کر دیتا ہو گا .ان کو سردی میں کون کھانا پکا کر دیتا ہو گا .ان کے کپڑے کون دھوتا ہو گا .کسی کو یہ خیال کبھی نہیں آیا ہو گا یہ یقین ہے میرا. کوئی ہے ایسا جو 50ڈگری میں بھی سرحدوں پر کھڑا ہو کر ہماری حفاظت کرئے. کوئی ہے جو بارش کا بھی خیال نا کرے دھوپ کا بھی خیال نا کرے اور ہماری حفاظت کرے .ارے ایسا شرف بھی اللہ اپنے خاص بندوں کو دیتا ہے اور جن کو دیتا ہے ان کو ہم فوجی کہتے ہیں .مھجے فہر ہے کے میں پاکستان میں پیدا ہوئی۔

ہمارا ملک پاکستان جو بہت محنت سے ہمیں ملا اس میں بھی ان جوانوں کا خون ہے.کئی جانیں گئی پھر جا کر ہمیں یہ پاکستان ملا .پاکستان کا کوئی دوست نہیں جو ابھی بھی ہمارے ساتھ ہیں اس میں بھی ان کا فائدہ ہے ہمارا نہیں. ہمارے چاروں طرف دشمن ہے اور ہم پھر بھی آرام سے زندگی گزار رہے ہیں کن کی بدولت ہماری فوج کی بدولت .کوئی بھی ملک کسی بھی وقت ہم پر حملہ کر سکتا ہے پتا ہے ہم سب کو پھر بھی ہم سکون سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں کن کی بدولت ہماری فوج کی بدولت. آج ہی اگر انڈیا فاڑنگ شروع کر دے تو اپ سب کی جانیں اٹک جاتی ہیں لیکن اپ سب کی حفاظت کون کرتا ہے ہماری آرمی .تم سب وہاں سے اپنی جانیں بچا کر بھاگ آتے ہو ?دھر کون ہوتا ہے جو دشمن کا مقابلہ کرتا ہے ہماری آرمی .ادھر میرے بہادر بھائی ہوتے ہیں تم سب نہیں. پھر کس منہ سے ان کو باتیں کرتے ہو کس منہ سے ان کو گالیاں دیتے ہو .بات کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی اپ سب کو کے ہم کن کو باتیں کر رہے ہیں اور کیسی باتیں کر رہے ہیں میں کہتی ہو اتنی ہمت ہے تو ایک مہینہ ان کی جگہ پر جا کر دیکھو ایک مہینہ اپنی ساری خواہشات مار کر دیکھو .ایک مہینہ اپنے بچوں سے دور ہو کر دیکھو اور یہ دل میں رکھو کے ہم چند دن کے مہمان ہیں. کیا تمھارا دل ڈرے گا نہیں.ڈرے گا تم بس اپنے گھر والوں کا سوچو گے لیکن میرے بہادر بھائی ایسا نہیں سوچتے آخری سانس تک وہ ہم جیسوں کی حفاظت کرتے ہیں .بدلے میں ان کو کیا ملتا ہے میرا سوال ہے سب سے بتائے ان کو کیا ملتا ہے۔
کسی نے حوب کہا ہے جو چیز پاس ہو اس کی قدر نہیں ہوتی .اور یہ بات سچ ہے ہماری فوج کی کسی کو قدر نہیں .ارے قدر کرو ان اعظیم ہستوں کی قدر کرو ان ماؤں کے بیٹوں کی جن کی وجہ سے آج اپ سب کے بیٹے سلامت ہیں قدر کرو ان بہنوں کے بھائیوں کی جن کی وجہ سے سب بہنوں کے بھائی ان کے پاس ہیں قدر کرو میرے چاند جیسے بھائیوں کی جن کی وجہ سے ہمیں روشنی مل رہی ہے .میرے باغ میں چند ہی پھول ایسے ہیں جو اس باغ کو خوشبو دیتے ہیں اور وہ پھول ہمارے فوجی ہیں . جن کی خوشبو سے ہمارا پورا باغ تازہ ترین ہے .پھر میں کیسے کہوں کے وہ سہی نہیں ہیں ہماری فوج کا ایک ایک ادمی سچا ہے. وہ ہمیشہ سچی بات کرتے ہیں.جو لوگوں کو اچھی نہیں لگتی . میں باقی لوگوں کی بات نہیں کرتی . مگر پاک ارمی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سن سکتی .جب بھی کوئی بولے بس یہ ہی بولے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد یہ لفظ پاکستان کے بچے بچے کے منہ میں ہونا چاہے ہماری فوج سلامت تو ہم سلامت۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: