Mehak Rubab

پاکستانی شوبز۔مثبت سے منفی کا سفر از مہک رباب

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

ایک وقت تھا کہ آزادی کے ساتھ ہم بھی اباجی،اماں جی کے ساتھ بیٹھ کر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویڑن پر پاکستان ڈرامے فخر کے ساتھ دیکھ لیتے تھے۔ہنسی مزاح،خوشی غم،کھیل کود،سب تھا۔لیکن انسانیت کا پیغام ساتھ ساتھ چلا آرہا تھا۔ہم اپنوں سے دور نہیں ہوئے تھے۔ایک چھت تلے بیٹھ کر سارے خاندان کے ساتھ گپ شپ کرنا،ہمیں اپنوں کے ہونے کااحساس دلاتا تھا۔وقت گزرتا رہا۔بلیک اینڈ وائٹ نے ترقی کی کو وہ مختلف رنگوں کی شکل اختیار کر گیا۔محبتوں کا سفر کچھ عرصہ تک ایسے ہی تھا۔دوسرے ممالک میں جا کر جب لوگوں سے اس بات کا اظہار سنتے تھے کہ پاکستان ڈرامے سبق آموز ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ ہمسایہ ملک بھارت بھی اس بات کی گواہی دینے پر مجبور تھا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری مثبت رحجان کا سبب ہے۔
اب اس تعریف کے بعد اصولاً ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم ان محبتوں کے پیغام کے سلسلے کو مزید مضبوط بناتے پر نہ۔ہمارے ڈائریکٹر اور پروڈیوسرز حضرات نے انتہائی تسلی بخش طریقے سے ساری محبتوں پر پانی پھیرنا شروع کیا۔پوچھنے پر جواب دیا جاتا ہے کہ جناب دورِ جدید کا تقاضا ہی یہ ہے اور ینگ جنریشن یہی دیکھنا پسند کرتی ہے۔اب خدا جانے کہ ہمارے انڈسٹری کے کرتا دھرتا کیسے ہمارے دلوں کا حال جانتے ہیں۔ارے بھئی ہم تو وہ ینگ جنریشن ہیں جنہیں اگر آج بھی عینک والا جن،لاہوری گیٹ،اندھیرا اجالا، دیکھا دیا جائے تو ہم ان کے سحر سے نہ نکل پائیں۔ایک اور کوشش اس زمانے کی ہم ینگ جنریشن آج بھی سراہیں گے کہ آپ کو ناخواندگی سے بچانے کے لیے ایسے بہت سی ہنسی مذاق سے بھرپور پروگرام مہیا کیے گئے تھے۔
لیکن آج دورِ حاضر کی انڈسٹری ایسے تاثر سے بلکل خالی ہے۔اس وقت مشہورِ زمانہ عنوان جن پر انڈسٹری خود کو بہت مضبوط کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔دراصل لوگوں کے گھروں کو اندر سے خالی کر رہی ہے۔
جلن،حسد،رشتے سے انکار پر لڑکی کے چہرے کو تیزاب سے سجا دینا،اپنے ہی گھر میں بھائیوں کے خلاف بھابھی کی شکایت،بڑے گھرانوں کا بیٹیوں کو جہیز کے نام پر کروڑوں کا تحفہ،ساس بہو،بہنوئی کے ساتھ عشق معشوقی،گھر سے باہر لڑکے لڑکیوں کی دوستی کا حد سے تجاوز کرجانا،پسند کی شادی نہ ہونے پر خودکشی،سازش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہزاروں باتیں۔
تلخ حقائق۔۔۔۔۔۔۔لیکن دراصل حقیقت۔ہم اکثر کسی بڑے ایکٹر کا اپنا آئیڈیل تصور کر بیٹھتے ہیں،پھر انکی ہر چیز کو کاپی کرنا،چاہے اچھی ہویابری ہم کرتے ہیں۔ہماری انڈسٹری اپنے اصل کو فراموش کرکے ایک چھلاوے کی دیوانی ہوگئی ہے جن چیزوں کا تاثر کبھی ہمیں انڈین شوبز انڈسٹری دیا کرتی تھی اور ہمیں بری لگتی تھی اب ہم تقریباً ہر پاکستانی ڈرامے میں یہی دیکھ رہے ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے اپنی تاریخ،اپنی اثاث،اپنی اسلامی شناخت کا بتانے پر ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل غازیزبان زدِ عام ہے۔اس کا موضوع صرف اسلام کے حوالے سے اپنی کامیابیوں کا بتانا،مسلمانوں کو ان کی حقیقت سے آگاہ کرنا تھا۔یہ وہ واحد ڈرامہ تھا جس نے دنیا کی%60 انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو تباہی کیا تھا۔جس پر بجائے اسکے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہی سہی ہمارے ڈائرکٹرز حضرات اسکی حمایت میں بولتے۔۔۔۔انکا کہنا تھا کہ اس میں ایسا کیا ہے؟؟؟؟
مطلب کہ جو حق اور فرض آپ کا تھا کہ آپ آشنا کرواتے ہمیں ہماری تاریخ،روایات،رہن سہن،رسم و رواج سے وہ کوئی اور کروا رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
خدارا!!خدارا گزارش صرف اتنی ہے کہ جس بے ترتیبی،فحاشی کا مظاہرہ اب ہم کر رہے ہیں اسے ختم کرکے واپس محبتوں کے لیے صرف کریں گے تو اپکو کوئی روک نہیں سکے گا۔ہم آج کل کے بچے بھی محبتوں میں مثبت طریقے سے پلنا چاہتے ہیں ناکہ اپنی زندگیوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔امید کرتی ہوں کہ میری طرح بہت سے دوسرے لوگ بھی اپنے قلم کو کو اپنی بقائ� کے لیے استعمال میں لائیں گے۔ہم اس قوم کا وہ اثاثہ ہیں جامع چاہے تو تباہ کر دے اور اپنے عزم کو لے کے بڑھے تو اس پاک وطن کے پاک وجود پر پلنے والی ہر برائی ختم کر دے۔اج وقت ہے فیصلہ بھی ہمیں کرنا ہے۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: