اِسلامی تاریخ ۔ حسب خواہش فروگزاشت

پچھلے ہفتہ میں نے اس موضوع پر محترمہ ماہ نور خان کے ایک آرٹیکل کے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کئے تھے جو انہوں نے پاک ٹی ہائوس کو بھیجا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی فکر انگیز اور اعلیٰ آرٹیکل ہے۔ میں نے ان کے اقتباسات کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا تھا۔ یہ آرٹیکل میرے نہایت ہی عزیز اور قابل دوست بیرسٹر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال جعفری نے مجھے بھیجا تھا۔ میں نے پچھلے کالم میں بیرسٹر جعفری اور پاک ٹی ہائوس کے بارے میں کچھ معلومات پیش کی تھیں۔ بدقسمتی سے محترمہ ماہ نور خان کے بارے میں نہ ہی ان کے آرٹیکل میں اور نہ ہی کہیں اور سے مجھے کچھ ملا اس لئے ان سے معذرت خواہ ہوں کہ ان کاتعارف نہیں کرا سکا۔ماہ نور خان۔ پھر ہم کس طریقہ سے اپنی نوجوان نسل کو تاریخ اسلام پڑھائیں؟ میرا جواب یہ ہے کہ ایمانداری اور سچ اختیار کریں۔ مجھے احساس ہے کہ ایمانداری بعض اوقات مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ آپ بغیر جھوٹ بولے بھی بے ایمانداری کے مرتکب ہوسکتے ہیں، بس آپ حقائق میں سے چند ناقابل قبول، خراب حقائق کو نظر انداز کر دیں۔ آج کل جو طریقہ کار استعمال میں ہے وہ یہ بالکل نظر انداز کر دیتا ہے کہ پچھلے دور میں مسلمان حکمراں اسلئے بہت کامیاب اور غالب تھے کہ ان کا نظام حکومت عیسائی حکمرانوں کے مقابلے میں کہیں بہتر تھا نہ کہ اس وجہ سے کہ وہ ان کا

مذہبی رویّہ یا طریقہ کار عیسائیوں سے بہتر تھا۔ ان کا زوال اس وقت شروع ہو گیا جب ان کا نظام حکومت خراب ہونے لگا اور یہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا۔ اس میں کسی قسم کی (بیرونی) بڑی سازش کا کوئی کھیل نہ تھا۔
ڈاکٹر خان۔ ماہ نور خان نے بالکل سچے اسباب کی نشاندہی کی ہے جو ہمارے سابق حکمرانوں کی کامیابی اور زوال کے ذمہ دار تھے۔ جب بھی ہم تاریخ میں اپنے مشہور، کامیاب حکمرانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کی وجہ ان کی اعلیٰ کارکردگی اور نظام مملکت تھا جو رشوت ستانی، اقرباپروری، نااہلی سے پاک تھا اور ان کی تمام پالیسیاں ملک کو مضبوط بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنائی گئی تھیں۔ جی ہاں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت سے غیرمناسب اور بری باتوں کو جان بوجھ کر چھپایا یا نظرانداز کیا جاتا ہے مگر یہ لعنت ہمارے معاشرے تک محدود نہیں ہے یہ اب مغربی ممالک میں بھی موجود ہے اور ہم سے پہلے بھی ان کے ہاں کسی حد تک موجود تھی۔ اس نازیبا حرکت میں بدقسمتی سے صحافی حضرات نے کچھ زیادہ ہی رول ادا کیا ہے۔ ماہ نور خان۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو صاف صاف بتانا ضروری ہے کہ ہماری عالیشان و طاقتور حکومتوں کا زوال اس وجہ سے نہیں ہوا تھا کہ حکمران مذہب پر صحیح طریقہ سے عمل نہیں کررہے تھے۔ مثال کے طور پر ہم ہندوستان میں انگریزوں کے عروج کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں ہماری نصابی کتب میں یہ منظر پیش کیا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوئوں اور غیر مسلمانوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازش کی اور اس کے نتیجے میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا زوال پیش آیا۔ جس طرح تاریخ دانوں نے واقعات تحریر کئے ہیں اس سے وہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ برصغیر میں ہر ایک مغلوں کی حکومت اور ان کے خلاف سازشوں میں ملوث تھا۔ آج بھی اس تاثر کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ تاریخ کا ٹھیک سے مطالعہ کریں تو آپ کو فوراً یہ سمجھ میں آجائے گا کہ انگریزوں کی کامیابی کی خاص وجہ ان مغل حکمرانوں کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے تھی جو کم ازکم سو سال سے جاری تھی۔ نتیجہ یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کے اوپر طویل عرصہ تک نااہل لوگ حکومت کرتے رہیں گے تو یہ یقین کر لیجئے کہ دیر یا بدیر آپ پر دوسری قوتیں قبضہ کرلیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا انگریزوں نے مغلوں کے خلاف سازش کی تھی؟ جی بالکل یہ ہوا تھا مگر آپ اور کس بات کی توقع کرسکتے ہیں۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں تھا کہ جب برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال میں اپنے قدم جما رہی تھی ہمارے حکمراں شکار اور عورتوں کیساتھ عیاشی کررہے تھے۔ ولیم ڈیل رمپل (William Dalrymple) کی دو کتابیں ’’سفید مغل‘‘ یعنی The White Mughals اور ’’آخری مغل‘‘ یعنی The Last Mughal ، پاکستانیوں کے مطالعہ کیلئے اعلیٰ اور اہم کتابیں ہیں۔ ’’سفید مغل‘‘ کے ایک باب میں انہوں نے نظام حیدرآباد کی روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ یہ 1800 سن عیسوی کے اوائل کی بات ہے۔ تمام وقت چھوٹے چھوٹے بے سود معاملات پر صرف کیا جاتا تھا اور نظام مملکت پر کام کرنے یا اس کی بہتری پر کام کرنے کیلئے وقت درکار نہ تھا۔ ’’آخری مغل‘‘ آخری مغل حکمراں بہادر شاہ ظفر کی دردناک و عبرت ناک داستان ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ ایک طویل عرصہ میں بادشاہ بالکل کمزور اور بے اختیار بن گیا تھا۔
یہ زوال یقیناً روکا جا سکتا تھا مگر بہادر شاہ کے دور حکومت میں نہیں کیونکہ اب ناقابل تبدیل حالات ظہور پذیر ہوچکے تھے لیکن یہ کام پچھلی ایک صدی میں ہوسکتا تھا۔ان حکمرانوں نے انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کو نہایت اہم مراعات دے دی تھیں مثلاً یہ کہ وہ اپنے اداروں اور علاقوں کی حفاظت کے لئے اپنے فوجی دستے رکھ سکتے تھے اور ساتھ ہی بندرگاہوں کے نظام کی ذمّہ داری بھی مل گئی تھی۔ بدقسمتی سے مغل حکمرانوں کے دماغ میں یہ کبھی بات نہ آئی کہ وہ خود بھی کوئی تجارتی کمپنیاں قائم کرتے۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ سمندروں پر اجارہ داری کامیابی کا راز تھا لیکن مغلوں جیسی طاقتور اور وسیع مملکت نے کبھی جہازرانی کے استعمال اور تیاری پر کوئی توجہ نہ دی۔ ان لوگوں کے لئے سائنس ایک غیردلچسپ اور عجوبہ علم تھا اور ان لوگوں نے کبھی برصغیر کے باہر دوسرے ممالک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی قطعی کوشش نہ کی۔ سب سے بڑا سبب جو ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوا وہ یہ تھا کہ ان حکمرانوں نے کبھی بدلتے حالات کا مطالعہ نہ کیا اور نہ ہی اس سلسلہ میں مناسب اقدامات کئے۔ بدقسمتی سے ہم آج بھی تاریخ کے تلخ تجربات دہراتے رہتے ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اورنگزیب کو چھوڑ کر دوسرے مغل حکمرانوں نے کبھی خود کو کٹّر یا قدامت پسند مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن بعض دوسرے مسلمان حکمراں منافقت سے کام لینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔ سب سے بڑی منافقت خود خلیفہ کے لقب سے حکومت کرنا تھی جبکہ حقیقتاً یہ وراثتی بادشاہی تھی۔ بادشاہ، خلیفہ کے محلات سازشوں کے گڑھ تھے جہاں عیّارانہ چالیں، قتل و بلاسُنوائی گردن زدنی عام تھی۔ انہی نام نہاد خلفاء کے دور حکومت میں بہن بھائیوں کا قتل اور اس غیراسلامی، بے رحمانہ عمل میں مذہبی رہنمائوں کی خاموشی اور رضامندی عام تھی۔ جو بھی حکمراں بنتا تھا وہ اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں وغیرہ کو قتل کرا دیتا تھا۔ اس میں کسی قسم کی تمیز نہ کی جاتی تھی کہ واقعی مقتول تاج کا دعویدار ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں۔ ترکی کے عثمانیہ کے دور خلافت میں یہ رواج سیکڑوں برس جاری رہا۔ مذاق دیکھئے کہ یہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ شاہی خاندان کا خون بہنا یا گرنا ناقابل قبول ہے تو یہ دعویداروں اور رشتہ داروں کو ریشمی ڈوری سے پھندا لگا کر قتل کردیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلی آئی اور بجائے قتل کرنے کے ان لوگوں کو دوردراز جزیروں میں نظر بند کردیتے تھے۔ بعض اوقات قدرت کی کاریگری ایسی ہوتی تھی کہ سلطان بغیر وارث کے مرگیا تو انہی نظر بندوں میں سے کسی کو لاکر تخت پر بٹھا دیا گیا۔ اسی روایت کے تحت ابراہیم اوّل کو سلطان بنایا گیا تھا حالانکہ یہ شخص ذہنی طور پر مفلوج تھا۔
اقتدار پر قبضہ قائم رکھنا وقت کے سلطان کا اہم کام تھا اور ایسی ہی سازشوں میں شہزادے اور ان کی مائیں مصروف رہتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف اپنے بھائیوں کو بلکہ بعض اوقات اپنے باپ اور بیٹوں کو بھی قتل کرادیتے تھے۔ ان مسلمان نام نہاد خلفاء نے اپنی عیاشی کیلئے ہر چیز مہیا کر رکھی تھی جن میں لاتعداد کنیزیں، شراب، بلاجواز ناپسندیدہ لوگوں کا قتل وغیرہ شامل تھے۔ ان تمام (شرعی) عیبوں کے باوجود یہ اپنے آپ کو خلیفہ کہتے اور کہلواتے تھے اور مذہب کی آڑ میں اپنی رعایا کو پوری طرح قابو میں رکھتے تھے۔ڈاکٹر خان۔ جی۔ ماہ نور خان نے بالکل حقیقت بیان کی ہے کہ ایمانداری (اور اسلام) کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ سچ بات کہی جائے۔
اسلامی مملکتوں کی تباہی کی وجہ حکمرانوں کی ریشہ دوانیاں، عیّاشی، ناہلی اور آپس کے نفاق اور جھگڑے تھے۔ سراج الدولہ کے خلاف اس کے ہی رفیق کار میر جعفر نے سازش کی، انگریزوں سے مل کر بنگال انگریزوں کے قبضہ میں دے دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کے خلاف نظام حیدرآباد نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور تو اور 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران جبکہ انگریز تقریباً شکست کھا چکے تھے پنجاب کے زمینداروں نے بھاری رقوم اور سپاہیوں سے ان کی مدد کرکے شکست کو فتح میں تبدیل کرادیا اور پھر ان کے چہیتے بن کر جاگیریں اور خطاب حاصل کئے اور آج تک فیضیاب ہورہے ہیں۔ ہم میں یہ جرأت نہیں ہے کہ جنگ جمل اور جنگ صفین کی بے فائدہ اور بلاضرورت ہزاروں صحابہ کا قتل عام، حضرت موسیٰ بن نصیرؒ کے ساتھ نہایت ذلت آمیز سلوک، محمد بن قاسم ؒ اور قتیبہ بن مسلم ؒ کے قتل کے واقعات پر بحث کریں۔ ہم آج بھی اورنگزیب کو ولی اللہ سمجھتے ہیں اور درجہ دیتے ہیں اور کبھی یہ ذکر نہیں کرتے کہ اس نے اپنے عزیز باپ کو کئی برس قید کر دیا تھا اور اپنے سگے بھائیوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ اگر یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر پورے ہندوستان پر حکومت کرتا تو ہندوستان میں مغلیہ حکومت اتنی جلد تباہ نہ ہوتی اور شاید آج بھی مسلمان حکمرانی کررہے ہوتے۔ ایمانداری (اور اسلام) کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سیاہ واقعات پر کھل کر بحث کریں، تبصرہ کریں اور سبق حاصل کریں کہ ہمارے پیارے ملک کا بھی وہی حشر نہ ہو جو پہلی اسلامی حکومتوں کا ہوا تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: