28 مئی ۔ تاریخ ساز دن

پچھلے ہفتہ میں نے 28 مئی 1998ء کے تاریخ ساز دن پر کچھ روشنی ڈالی تھی اور حقائق بیان کئے تھے اور جنرل مشرف کی اس پوری تقریر کا متن شائع کیا تھا جو اس نے ایوان صدر میں 27 فروری 2001ء کو ملک کی تمام ممتاز شخصیات کے سامنے کی تھی۔ اس نے جھوٹے دعویداروں کے چہرے سے پَردہ اُٹھا دیا تھا لیکن جھوٹے اور مکار لوگ بے حد ضدی ہوتے ہیں اور بار بار جھوٹ دہرا کر اس گمان میں رہتے ہیں کہ لوگوں کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔
آج آپ کو اِس تاریخ ساز دن کی تاریخ کے بارے میں مزید کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ جب1974 ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد میں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ ہمیں فوراً احتیاطی تدابیر کرنا چاہئیں ورنہ پاکستان کا وجود خطرہ میں پڑ جائے گا انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن سے فوراً کام کرنے کو کہا مگر ایک سال بعد دسمبر 1975ء کے اواخر میں جب میں آیا اور کام کا معائنہ کیا تو کچھ کام نہ ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کی نہایت مخلصانہ درخواست پر میں رک گیا اور استعفیٰ بھیج دیا۔ جولائی 1976ء میں مجھے ایک علیحدہ ادارہ بنا کر اس کا سربراہ بنا دیا گیا اور جناب اے جی این قاضی، جناب غلام اسحاق خان اور جناب آغا شاہی کا ایک بورڈ بنا کر کام کی نگرانی سونپ دی گئی۔ قاضی صاحب نے وزارت خزانہ سے ایک اچھے قابل افسر جوائنٹ سیکرٹری جناب امتیاز احمد بھٹی کو میرے

پاس ڈائریکٹر فنانس اور ایڈمنسٹریشن متعین کر دیا۔ مجھے وسیع اختیارات دیئے گئے کہ کام میں رکاوٹ پیش نہ آئے۔ مرحوم بھٹی صاحب کو بعد میں میری سفارش پر ایڈیشنل سیکرٹری اور پھر سیکرٹری کے عہدوں پر ترقی دیدی گئی تھی۔ نہایت نفیس، خوبصورت وخوش لباس شخصیت کے مالک تھے۔ ہم نے ایک اچھی ٹیم کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کو بتا دیا گیا تھا کہ میں پروجیکٹ کا سربراہ ہوں اور انہوں نے میری ہر طرح مدد کرنی ہے۔ ان کے بعد دو اور قابل اور ایماندار وزارت خزانہ کے 22 گریڈ کے افسران جناب فخرالدین ملک اور جناب محمد فہیم نے قابل تحسین خدمات انجام دیں۔
جولائی 1977ء میں مارشل لا لگنے کے بعد غلام اسحاق خان صاحب ڈی فیکٹو وزیر اعظم بن گئے اور پروگرام ان کی نگرانی میں آگیا۔ وہ ہر ماہ کہوٹہ میں میٹنگ کرتے تھے اور کام کا جائزہ لیتے تھے۔ میں ان کی اپنے والد کی طرح عزّت کرتا تھا اور وہ میرے ساتھ بیٹے کی طرح سلوک اور محبت کرتے تھے۔ 1993ء تک لاتعداد ایٹم بم بنائے جاچکے تھے اور یہ پورا کام کہوٹہ میں میری سرپرستی و رہنمائی میں میرے نہایت لائق اور محب وطن رفقائے کار نے کردیا تھا۔ غلام اسحاق خان صاحب سے زیادہ کوئی مستند شخص نہیں تھا۔ پہلے دن سے ان کا تعلق رہا تھا اور پھر تقریباً 16 سال اس پروگرام کے براہ راست سربراہ رہے۔ 1999ء میں جناب غلام اسحاق خان نے مشہور صحافی اور دانشور جناب زاہد ملک کی درخواست پر ان کو ہماری ایٹمی صلاحیت، پروگرام اور میری شخصیت کے بارے میں ایک تاریخی نہایت تفصیلی خط لکھا۔ میں قارئین کی خدمت میں اس خط کا ترجمہ پیش کررہا ہوں اس سے آپ کو علم ہوجائے گا کہ حقائق کیا ہیں اور جھوٹے دعویداروں کا اصل چہرہ سامنے آجائے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم…غلام اسحاق خان
صدر، سوسائٹی فار پروموشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،پشاور 16 اگست 1999ء صدر بورڈ آف گورنرز، جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ،یونیورسٹی روڈ پشاور سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان۔
محترمی ملک صاحب،
آپ کے خط کا شکریہ جس میں آپ نے مجھ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت، ان کے کردار کی امتیازی خصوصیات، ان کی خدمات اور کامیابیوں کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنے کو کہا ہے تاکہ میں ایٹمی پروگرام کے ساتھ اس قریبی تعلق کی بنا پر جو مجھے حاصل رہا ہے ان کی زندگی کے چند ایسے گوشوں پر بھی روشنی ڈال سکوں جو زیادہ سامنے نہیں آئے جن کا تعلق بطور سائنس دان اور بطور انسان ان کی شخصیت سے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ میں مختلف سرکاری حیثیتوں میں بیس برس سے زیادہ عرصہ تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کام اور ان کی سرگرمیوں میں عملاً بغیر کسی وقفہ کے شریک رہا ہوں۔ ان کے ساتھ اشتراک عمل کے ابتدا ہی میں مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے اندر ایک ایسا انسان موجود ہے جو زندگی میں ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کا جذبہ رکھتا ہے، ایسا مقصد جو مشکل تو ہو سکتا ہے مگر جس کا حصول ان جیسے کردار کے مالک کے لئے ناممکن نہیں۔
پھر بلاشبہ آگے چل کر میں نے دیکھا کہ جو مقصد انہوں نے اپنے سامنے رکھا تھا اس کے حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے پورے انہماک، پختہ ارادے اور استقامت کے ساتھ اپنے آپ کو کھپا لیا تھا۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ ہم اپنی مستقل میٹنگوں میں بڑے شوق اور مسرت کے ساتھ ان کی وہ رپورٹ سنا کرتے جس میں وہ ہمیں اپنی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ کتنا فاصلہ انہوں نے طے کرلیا ہے اور کس قدر مہارت اور چابکدستی سے انہوں نے اپنے راستے میں آنے والی مشکلات پر قابو پا لیا ہے۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ایک ادارہ ایک ہی انسان کا پھیلتا ہوا سایہ ہوتا ہے اور اس کے سایہ کا پھیلنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح کی تقرریاں کرتا ہے اور ایسے رجال کار فراہم کرتا ہے جو جدت سے بھرپور خیالات پیش کرتے ہیں اور یوں اس کے پروگرام پر عملدرآمد میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں‘‘۔عملاً ایک خالی میدان میں کام کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جب پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا تو سب سے پہلے انہوں نے جس بات پر توجہ کی وہ یہ تھی کہ ایک خاص ماحول پیدا کریں اس مخصوص ماحول میں انہوں نے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) کا ادارہ قائم کیا اور اس کے لئے وفادار، قابل اعتماد اور اس مشن سے لگن رکھنے والے انتہائی قابل اور ماہر سائنس دانوں اور انجینئروں کی ایک ٹیم مہیا کردی۔یوں آج کے آر ایل ایک انتہائی ممتاز ادارہ ہے جو دفاعی تحقیق اور پیداوار کے میدان میں دنیا کے بہترین اداروں کے ہم پلہ ہے۔
یہ ادارہ ایٹمی اسلحہ کی سطح تک یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے کی سہولتیں رکھتا ہے اور یہی اس کو قائم کرنے کا اصل مقصد بھی تھا اور اس ادارے نے اس عظیم مقصد کو اس سے بہت کم وسائل خرچ کرکے حاصل کیا جو اس کام کے لئے دیگر ممالک خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایسی بہترین ورکشاپس، سہولتیں اور آلات بھی مہیا کر دیئے جن کی مدد سے مقامی طور پر میزائلوں کی تیاری ممکن ہوئی جن میں ’’غوری‘‘ بھی شامل ہے، یہ سہولتیں متعلقہ اداروں کے ماتحت الگ عمارتوں میں مہیا کی گئیں۔ ان سہولتوں کی مدد سے میدان جنگ میں کام آنے والا بیش قیمت اسلحہ بھی تیار ہونے لگا جن میں ٹینک کو ناکارہ بنانے والے میزائل، ملٹی بیرل راکٹ اور توپیں اور اندھیرے میں دیکھنے والے لیزر آلات وغیرہ شامل ہیں۔ کے آر ایل کا قیام دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری حاصل کرنے کی جانب پہلا بڑا قدم تھا جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ماہرانہ قیادت میں اٹھایا گیا۔ اس ادارہ نے ملک کے دفاع اور تحفظ میں ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جس کی قدر و قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
کے آر ایل کو موجودہ صلاحیتوں سے مالا مال کرنا اس کے قائم کرنے والوں کے لئے واقعی ایک بڑا چیلنج تھا۔ جو بھی نت نئے فنی و تکنیکی مسائل درپیش ہوتے ان کو اسی جگہ موقع پر ہی حل کرنا ہوتا تھا پھر جو انسانی سطح پررکاوٹیں پیش آتیں ان سے بچنا ہوتا تھا حتیٰ کہ بعض اوقات قدرتی طور پر نازل ہونے والی آفات سے بھی نمٹنا پڑتا تھا۔
یورینیم کی افزودگی کے مرحلہ کے دوران جب بظاہر تمام سینٹری فیوج درست کام کر رہے تھے ایک مرحلہ ایسا آگیا کہ جو قدرتی گیس یورینیم کی افزودگی کے کام میں استعمال کی جا رہی تھی اس کی ایک خاص سطح سے زیادہ افزودگی حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اس رکاوٹ کا پتہ چلانا اور اس پر قابو پانا لازمی تھا۔ اس کے علاوہ اکثر یہ بھی ہوتا کہ اکثر انتہائی اہم مراحل پر نہایت ضروری آلات کے حصول پر پابندی لگادی جاتی، ایسے آلات جن کا جائز طریقہ پر سپلائی کرنے کا آرڈر دیا جا چکا ہوتا بلکہ ان کی قیمت بھی ادا کی جا چکی ہوتی پھر بھی ان کے حصول پر ناروا پابندی لگا دی جاتی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتوں میں ان چیزوں کو مقامی طور پر تجربہ کرکے ایجاد کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح کے تجربات میں غلطی اور اس کی تصحیح کرنے کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا تھا یا پھر اس کام کے لئے طویل اور تھکا دینے والے الٹی انجینئرنگ کے عمل سے گزرنا لازمی ہوجاتا تھا گویا ایک ایجاد شدہ چیزکو نئے سرے سے دوبارہ بنانے کا عمل دہرانا پڑتا تھا۔
اس سے بڑھ کر کم از کم تین مرتبہ یہ مشکل پیش آئی کہ سیکڑوں کی تعداد میں انتہائی نزاکت اور باریک بینی سے تیار شدہ اور مکمل توازن اور پوری رفتار کے ساتھ کام کرنے والے سینٹری فیوج زلزلہ کے شدید جھٹکوں کی تاب نہ لا کر یکایک بے کار ہوگئے اور انہوں نے بالکل کام کرنا چھوڑ دیا حالانکہ کہوٹہ کے علاقہ میں زلزلہ شاذونادر ہی آتا ہے مگر ایسا بھی ہوا اور تین مرتبہ زلزلے نے اس صورت حال سے دوچار کیا۔ ان تمام سینٹری فیوج کو ازسرنو انتہائی مہنگے داموں دوبارہ بنانا اور چلانا پڑا جس میں بہت سا قیمتی وقت بھی صرف ہوا۔ اس طرح کے سنگین حالات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے علاوہ کوئی بھی اور شخص جو ان جیسی ناقابل تسخیر قوت ارادی اور عزم سے عاری ہوتا وہ یقیناً ہتھیار ڈال کر ایک طرف ہو جاتا لیکن ہوا یہ کہ اس طرح کے واقعات نے ڈاکٹر صاحب کے عزم کو مزید پختہ کر دیا اور بھرپور توانائی اور پوری پامردی کے ساتھ ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو ان مشکلات نے مزید تحریک دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انتہائی مناسب اور قلیل مدت کے اندر اندر نہ صرف یہ کہ اتنے بھاری نقصان کا ازالہ ہو گیا بلکہ ڈیزائن کے معیارات کو مزید بہتر بنا کر ان کو زیادہ محکم بنیاد فراہم کر دی گئی۔ یہاں تک کہ عملاً یہ تمام آلات مستقبل میں ہر قسم کے زلزلہ کے اثرات سے بھی محفوظ بنا لئے گئے۔ آج یہ عالم ہے کہ کے آر ایل اور اس کے تمام شعبے اس کے بانی کی دوراندیشی، بصیرت، جذبہ حب الوطنی اور انتھک محنت کی ایک درخشان مثال اور ناقابل فراموش یادگار کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
ان واقعات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی کام کے لئے ایک موقع فراہم کیا جائے، ضروری وسائل مہیا کردیئے جائیں، تھوڑی سی حوصلہ افزائی ہو اور سب سے بڑھ کر ایک بے غرض، مخلص اور سمجھدار قیادت میسر ہوجائے تو خوابوں کو یقیناً حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے۔
اس قوم پر اس کے نیو کلیئر سائنس دانوں اور انجینئروں کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک پسماندہ ملک کو انہوں نے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت میں بدل کر دکھا دیا۔ اس غیرمعمولی انقلاب کو لانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اور ان کی تحقیقی منصوبہ بندیوں کا حصہ، میری سوچی سمجھی رائے میں، سب سے زیادہ ہے۔
اس افزودہ شدہ یورینیم کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہوئے، جو کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا تیار کردہ تھا، انہوں نے 1984ء کے نصف دوم میں ایک ایسا نیوکلیئر ہتھیار تیار کر لیا تھا جس کو اسمبل کرکے بڑی قلیل مدت کے نوٹس پر دھماکہ کیا جاسکتا تھا۔ (جاری ہے)۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: