28 مئی۔ تاریخ ساز دن

0 3

اس موضوع پر اپنے پچھلے دو کالموں میں،میں نے پاکستان کی ایٹمی قوّت بننے کی تاریخ و حقائق پر روشنی ڈالی تھی اور کذّابوں کے دعووں کی حقیقت کی پول کھول دی تھی۔ میں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اس تقریر کا متن بھی پیش کیا تھا جو انہوں نے 27 فروری 2001 کو ایوان صدر میں ملک کی اعلیٰ شخصیات کے سامنے مجھے الوداعی ڈنر دیتے وقت کی تھی۔ وہ ایک سند ہے جو پروگرام کی تکمیل کے بانی کے بارے میں ہے۔ دوسرے حصّہ میں میں نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے پہلے دن سے سربراہ جناب غلام اسحاق خان کے اس خط کا جو انہوں نے ملک کے ممتاز صحافی و دانشور جناب زاہد ملک کو لکھا تھا کچھ حصّہ پیش کیا تھا۔ اس کالم میں اس کا بقیہ حصّہ پیش کررہا ہوں۔ یہ تاریخ کی اہم دستاویز ہے۔’’کچھ غیرملکی طاقتوں نے جن کا ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کو لاگو کرنے کا ایک پختہ عالمی منصوبہ تھا، انہوں نے ہماری اس کامیابی کا بڑی سنجیدگی سے نوٹس لیا اور ان کے ’’امام‘‘ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اس ملک کو اس ’’گناہ‘‘ کی سزا دی جائے کہ اس نے نیوکلیئردھماکہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرکے اتنی جرأت کا مظاہرہ کیا اور یوں اس طاقت کے خود ساختہ اسٹریٹجک اہداف کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ چنانچہ 1990 میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دی گئیں اور اس کی معاشی اور فوجی امداد، حتیٰ کہ وہ مدد بھی جس

کا وعدہ کیا جاچکا تھا اور جس پر ہماری معیشت کا انحصار افغان جنگ کے دوران بڑے منظم طریقہ پر کردیا گیا تھا، اس ساری امداد کو مکمل طور پر روک دیا گیا۔
تاہم ’’دھماکہ کرنے کے قابل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ رکھنے کا اعتراف کسی ذمہ دار ملکی سرکاری سطح پر کبھی نہیں کیا گیا اور یہی ہمارے خلاف اصل الزام تھا۔ ایک پالیسی کے طور پر اس پروگرام کے بارے میں جان بوجھ کر ایک ابہام باقی رکھا گیا۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے اندر قدرتی خواہش رکھتی ہے کہ اس کے کارناموں کا اعتراف کیا جائے اور چونکہ سرکاری موقف کی وجہ سے اس کارنامہ کا اعتراف مایوس کن حد تک آہستہ تھا، اس بات سے ان تمام لوگوں کی بڑی حوصلہ شکنی ہورہی تھی جو سالہا سال سے اس ہتھیار کی تیاری میں مخلصانہ اور انتھک کام کررہے تھے۔ ان کو اپنے اس کام کا سوائے اس کے کوئی معاوضہ درکار نہ تھا کہ ان کا اعتراف عوامی سطح پر کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی ہماری ’’ٹھوس ثبوت‘‘ نہ ہونے کی پالیسی نے ان لوگوں کے دلوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا کر رکھے تھے جو ویسے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہنمائی میں چلنے والے نیوکلیئر پروگرام کے زیادہ حامی نہ تھے۔ ان عناصر نے اپنے آپ کو یہ باور کرایا تھا کہ یہ سب قصہ لایعنی ہے اور محض شہرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ، نہ ایسا کوئی ہتھیار بنایا گیا ہے نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو تجربہ کی بنیاد پر یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص ہیں جنہوں نے کبھی کوئی وعدہ ایسا نہیں کیا جو انہوں نے پورا کرکے نہ دکھا دیا ہو چاہے اس میں کچھ وقت لگے۔ بالآخر ابہام کا یہ پردہ اٹھا اور 28 مئی 1998ء کو ایک نہیں بلکہ متعدد نیوکلیئر ہتھیاروں کا دھماکہ کرکے بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں پر کامیاب تجربے کئے گئے۔ اس طرح ان شکی لوگوں کو شرمندہ ہونا پڑا۔ان تجربات کی درستی اور کامیابی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ اس واقعہ کا ہونا تھا کہ اس عظیم الشان کامیابی پر اظہار تشکر اور تحسین کی بارش برسنے لگی، تمغے اور اعزازات عطا کئے گئے۔ یہ اظہار تحسین اور کھلا اعتراف سرکاری سطح پر بھی ہوا اور غیر سرکاری انداز میں بھی کھل کر کیا گیا۔ ان کے اعزاز میں جگہ جگہ ریفرنس اور خراج تحسین پیش کئے گئے اور ٹیکنالوجی کے ادارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے نام پر قائم کئے جانے لگے اور ان کے افتتاح کی تقریبات میں انہیں مدعو کیا جانے لگا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اس وقت ملک کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ شہری ہیں اور عالمی سطح پر خصوصاً سائنس دانوں کی برادری میں وہ سب سے زیادہ مشہور و معروف نام ہیں۔ بدقسمتی سے ان تجربات کے بعد ایک بے کار اور نامناسب نزاعی بحث یہ چھیڑ دی گئی کہ ’’بم کی ٹیکنالوجی‘‘ کے حصول میں کس کا کتنا حصہ ہے؟ اٹامک انرجی کمیشن کا کام کتنا ہے اور کے آرایل کا کتنا اور ان دونوں اداروں کے سائنس دانوں میں کون کس پر سبقت رکھتا ہے؟ اس بارے میں کریڈٹ حاصل کرنے کے امیدوار لوگوں کے دعوے اور دلائل کو پڑھ کر بڑی بدمزگی اور رنج پیدا ہوا۔ خاص طور پر ان لوگوں کو افسوس ہوا جو ان دونوں اداروں کے کاموں میں شریک رہے (دونوں ہی اعلیٰ پائے کے ادارے ہیں) اور اچھی طرح ان اداروں کی صلاحیتوں اور جو ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی تھیں ان سے بخوبی آگاہ تھے۔ اسی طرح وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ماضی میں ان کی کیا کارکردگی رہی اور کیا کارنامے انہوں نے انجام دیئے۔اس نزاع کے سامنے آنے سے پہلے دس سال سے زیادہ عرصہ اس بات کو گزر چکا ہے کہ بیرونی ماہرین، نیوکلیئر سائنس دان اور وہ تمام لوگ جو پاکستانی امور کے ماہر ہیں، ان سب کو یہ حقیقت معلوم رہی ہے اور انہوں نے کھل کر بلاتأمل اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا اصل بانی اور بنیاد رکھنے والا کون ہے وہ جانتے ہیں کہ کس نے یہ سارا سلسلہ قائم کیا کہ یورینیم کی افزودگی کے ذریعہ اس کام کا منصوبہ بنایا جائے اور اس کو کامیاب کرکے دکھایا جائے۔ یہ جب ہوا کہ پلاٹونیم کا ذریعہ ناکام ثابت ہو چکا تھا کیوں کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ کئے گئے تمام معاہدوں کو توڑا گیا اور ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کے حصول کا جو کنٹریکٹ کیا گیا تھا اس کو ختم کیا گیا اور عالمی طاقتوں نے یہ سارے راستے بند کردیئے تھے۔ یہ ساری کارروائی 1974ء میں ہندوستان کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کئے جانے کے بعد کی گئی تھی لہٰذا دنیا جانتی ہے کہ کس شخصیت کا یہ کارنامہ ہے کہ مقامی سطح پر ملکی وسائل سے کام لے کر یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ بنایا جائے۔ اس منصوبہ کے تمام متعلقہ ڈیزائن تیار کرلینا بھی اسی شخصیت کا کارنامہ تھی۔ انہوں نے ہی انتہائی حساس، نازک، پیچیدہ اور مشکل آلات کی مدد سے جو ہمارے ملک میں ہی انہوں نے بنا کر دیئے تھے، یورینیم کو ایٹمی اسلحہ کی سطح تک افزودہ کرنے کی مہم سر کی اور پوری یکسوئی اور انتھک محنت سے اس کٹھن کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس راستے کی تمام مشکلات اور رکاوٹیں ،جو بیرونی بھی تھیں اور اندرونی بھی،ان سب کو بھی وہی تن تنہا عبور کرتے رہے اور بالآخر یہ ساری کوششیں 28مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں پر کامیابی سے تکمیل کو پہنچ گئیں۔ یہ شخصیت صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب ہی کی تھی اور بلاشبہ یہ کارنامہ انہی کا ہے اور کے آرایل میں انہی کی نگرانی میں کام کرنے والی ٹیم کے ہاتھوں انجام پایا۔
ظاہر ہے کہ اس پایہ کا پیچیدہ منصوبہ مکمل طور پر صرف ایک فرد یا ادارے کا کام نہیں ہوتا۔ دوسروں نے بھی اس میں حصہ لیا ہوگا اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بھی اہم اور قابل ذکر کام کیا اور حب الوطنی کے جذبہ سے قومی اہمیت کے اس منصوبہ میں انہوں نے اپنے حصہ کی وہ خدمات بخوبی ادا کیں جو ان کے سپرد کی گئیں اور یوں تقسیم کار کے اصول کے تحت وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ’’الا َمین‘‘ کے معرکہ میں جو دوسری جنگ عظیم میں مصر میں ہوا تھا، جب فیلڈ مارشل منٹگمری کا تذکرہ ہو، تو بجائے اس کے کہ ان کی زیر کی، قیادت اور اسٹریٹجک رہنمائی کا، جو انہوں نے اس معرکہ میں مہیا کی، کھل کر اعتراف کیا جائے اور ان کے کارنامے کو سراہا جائے، ضرور یہ کوشش بھی کی جائے کہ جو جو فیلڈ کمانڈر، بٹالین لیڈر یا مختلف شعبوں کے نگران اس میں شریک ہوئے تھے، اس کارنامہ کو ان سب پر تقسیم کیا جائے جنہوں نے سپلائی اور لاجسٹکس کی خدمات ادا کیں یا کسی بھی حیثیت سے اس مہم میں کام کیا تاکہ بالآخر اور کم از کم وقت میں فیلڈ مارشل منٹگمری آخری فتح حاصل کریں۔
یہ افسوس کی بات ہے کہ اس نکتہ کو نہیں سمجھا جاتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندگی میں سرگرمی سے حصہ لینے والے آدمی ہیں اور بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ وہ مشورہ بھی قبول کرتے ہیں مگر بنیادی اصولوں پر سختی سے قائم رہتے ہیں۔ ان کے اندر ایک غیرمعمولی حرکت پائی جاتی ہے ۔ وہ مسلسل کام کرنے کے لامحدود جذبے اور صلاحیت کے مالک ہیں۔
وہ بے عملی اور ٹال مٹول کو برداشت نہیں کرتے۔ وہ کبھی کسی مشکل سے مشکل چیلنج کو قبول کرنے سے نہیں ہچکچاتے، چاہے وہ چیلنج کتنا ہی مشکلات سے پُر ہو۔ لیکن دفاعی تحقیق اور پیداوار ہی ان کی مہارت کا واحد میدان نہیں ہے۔ تعلیم کے فروغ میں مسلسل دلچسپی کے ساتھ ساتھ، خصوصاً ایسی تعلیم جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر زور دیا جائے، ان کی دلچسپیوں کے کئی اور بھی میدان ہیں۔ ان کو اردو شاعری سے بھی شغف ہے۔ اس کے علاوہ انسانی وسائل کی ترقی اور فلاح و بہبود کے کاموں سے بھی وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ سوسائٹی فار دی پروموشن آف انجینئرنگ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SOPREST) کے بانی رکن کی حیثیت سے وہ بہت پرجوش طریقے پر اس سوسائٹی کے اغراض و مقاصد سے وابستہ ہیں۔ یہ مقاصد اس نظریہ پر مبنی ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ معاشی ترقی، انسانی بہبود اور قومی سلامتی کے لئے لازمی ہے۔ اسی کے ذریعے ہم بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور اپنی ملکی پیداوار بڑھاسکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ نئی نئی اقسام کی ٹیکنالوجی ہم ایجاد بھی کریں اور اس کو فروغ بھی دیں، پرانی ٹیکنالوجی میں مسلسل بہتری لاتے رہیں اور پرانی کی جگہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی طرف مسلسل پیش قدمی کرتے رہیں۔
ڈاکٹر صاحب غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (GIK) کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ہیں اور اس کے پہلے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے اس ادارے کو ایک عظیم مرکزِ کمالِ ہنر (Centre of Excellence) بنانے میں انتہائی قابل قدر کارنامہ انجام دیا ہے یوں یہ ادارہ پاکستان کے اعلیٰ ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں میں شمار ہونے لگا جیسا کہ غیرجانبدار اور قابل اعتبار ماہرین نے اس کی شہادت دی ہے۔ یہ ادارہ ایشیا کی ان گنی چنی اعلیٰ ترین جامعات کی صف میں شامل ہے جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی معیاری تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
حال ہی میں انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی کے لئے ایک ادارہ Sachet کے نام سے بھی قائم کیا۔ یہ ادارہ اس مقصد کے لئے بھی ان کی جانفشانی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس ادارے کا ہدف ہے کہ پاکستان کے پسماندہ لوگوں میں انسانی وسائل کی ترقی کے موقع پیدا کئے جائیں۔ ابتدائی طور پر یہ ادارہ ان میدانوں میں کام کرے گا (1) خواندگی کا فروغ (2) بوڑھے اور کمزور لوگوں کی نگہداشت اور (3) تولیدی صحت کا فروغ۔ اس ادارے کی نظر ان امور پر اس لئے مرکوز ہے کہ یہ موجودہ پاکستان کے حقائق کی روشنی میں بنیادی مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ کسی انسان کی ان عظمتوں اور خوبیوں کو جو اس کو زندگی میں حاصل ہوئی ہوں، جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کن مقاصد کے لئے وہ کام کرتا ہے اور یہ مقاصد جو اس نے اختیار کئے وہ کس حد تک اپنے اندرونی محاسن رکھتے ہیں۔اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان حقیقتاً ایک اچھے اور عظیم انسان ہیں اس لئے کہ اپنے ملک کی ترقی اور اپنی قوم کی فلاح و بہبود سے زیادہ شریفانہ کوئی مقصد ہو نہیں سکتا اور اسی مقصد کی خاطر وہ جیئے اور جیتے ہیں۔انہوں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا اور جو بھی کارنامے انجام دیئے وہ اپنی گواہی خود دیتے ہیں اور یہ کارنامے ایسے ہیں کہ ان الفاظ سے کہیں زیادہ بلند آواز سے یہ اپنا اعلان خود کرتے ہیں جو الفاظ ان کو بیان کرنے کے لئے استعمال کئے جاسکیں۔ ان کی زندگی کا آئینہ یہ مشہور فارسی مقولہ ہے: مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید(’’مشک وہ ہوتی ہے جو خود بخود خوشبو دیتی ہے نہ کہ وہ جس کا دعویٰ عطار کیا کرتے ہیں‘‘)غلام اسحاق خان‘‘

Leave a Reply

%d bloggers like this: