2Below header

کرتار پور ایک سچا سودا

4Above single post content

مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار کرتار پور گیا تو کالا خطائی کے راستے کے دونوں جانب گندم کے ہرے بھرے کھیت لہلہاتے مشک بار ہوتے تھے۔ دریائے راوی میں پانی بہت ہی کم تھا اور اس میں مچھلیاں اچھلتی تھیں اور تب بہت دور سے تاحد نظر ہریاول کھیتوں میں ایک عجب سادہ اور دلکش سفید عمارت یوں ہولے ہولے ظاہر ہونے لگی جیسے ان کھیتوں میں سے جنم لے رہی ہو‘اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایک دل پر اثر کرنےوالی سحر انگیز عمارت تھی‘بھری دوپہر تھی جب ہم نے بابانانک کے کنویں سے پانی پیا ‘ رواےت یہی ہے کہ بابا جی کے انتقال پر ان کے ہندو اور مسلمان مریدوں میں ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے حوالے سے اختلاف پیدا ہو گیا‘چنانچہ کرتار پور گوردوارے کے احاطہ میں گورونانک کے پھولوں کی علامتی جگہ موجود ہے اور عمارت کے اندر وہ مقام بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں ان کی سمادھی ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی بھی سکھ کےلئے کرتار پور کا کیا مقام ہو گا‘ جہاںاس کے بابا نانک کی سمادھی ہے کیا وہ پلکیں راہوں میں بچھاتا‘ آنکھیں نم کئے نہ چلا آئے گا‘ بابا نانک نے اپنی حیات کے تقریباً آخری سولہ برس اسی مقام پر بسر کئے۔ انہوں نے کچھ زمین حاصل کی اور اس پر کھیتی باڑی کر کے اپنے ہاتھوں سے ہل چلا کر اس زمین سے اپنا رزق حلال تلاش کیا۔ کرتار پور کے گرد جو کھیت نظر آتے تھے بابانانک کے ہاتھوں زرخیز ہوتے تھے جس مقام پر گوردوارہ ہے بابا نانک اپنے مریدوں کے ہمراہ یہاں بیٹھک کرتے اور اپنے الوہی کلام سے انہیں سرفراز کرتے‘۔

دربار صاحب امرتسر تو بہت بعدمیں گورو رام داس کے زمانوںمیں تعمیر ہوا جس کی بنیاد لاہور کے صوفی بزرگ میاں میر صاحب نے اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ کرتار پور دنیا کے سب گوردواروں پر اسلئے فوقیت رکھتا ہے کہ بابا نانک نے نہ صرف اپنے آخری برس یہاں بسر کئے بلکہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا بھر میں کوئی اور مقام سکھوں کے لئے اتنا پوتر اور قابل زیارت ہو سکتاہے۔ میں نے اپنی کتاب”پیار کا پہلا پنجاب“ میں ننکانہ صاحب میں واقع تمام تاریخی گوردواروں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے بلکہ پچھلے دنوں ٹلہ جوگیاں کے راستے میں روہتاس قلعے کے دامن میں واقع گوردوارہ چوا صاحب کی دیدہ زیب عمارت دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جہاں بابا نانک کے سب سے عزیز ساتھی رباب نواز بھائی مردانہ نے پیاس کی شکایت کی تھی رواےت کے مطابق بابا جی نے وہاں ایک چشمہ جاری کر دیا۔ مقامی زبان میں چشمے کو چواکہا جاتا ہے جیسے چوا سیدن شاہ۔ مجھے پنجہ صاحب جانے کا بھی موقع ملا‘یہ سب گوردوارے اگرچہ بابا نانک سے نسبت رکھتے ہیں کہ یہاں انہوں نے تختی لکھی۔ یہاں ان کا تنبوایستادہ ہوا۔

یہاں سچا سودا کا واقعہ ہوا لیکن کوئی اور کرتار پور ایسا مقام نہیں جہاں انہوں نے اتنا عرصہ نہ صرف زندگی گزاری بلکہ ان کی آخری رسومات بھی وہیں ادا کی گئیں‘ میرے لئے یہ امر ایک خوشگوار حیرت کا باعث ہوا کہ اوقاف کے زیرانتظام اس گوردوارے کے سٹاف میں مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ پاکستانی ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں اور یہ سب لوگ بابا نانک سے بے حد عقیدت رکھتے ہیں بلکہ وہاں ایک مسلمان الیکٹریشن سے بھی ملاقات ہوئی جن کا کہنا تھا کہ بابا جی کے گھر میں روشنی کا انتظام کرنا میرے لئے بہت بڑی سعادت ہے‘ سٹاف کے بیشتر لوگ مجھ سے واقف تھے اور انہوں نے نہاےت تفصیل سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو گوردوارے کا ہر گوشہ دکھایا۔ ہمیں بابا جی کا لنگر پیش کیا گیا جس میں انہی کھیتوں کی سبزیاں تھیں جہاں کبھی بابا نانک کاشتکاری کیا کرتے تھے‘ویسے کچھ بھی کہئے عمران خان اور جنرل باجوہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کرتار پور کا ترپ پتہ پھینک کر ہندوستان کو لاچار کر دیا ہے اور اب ہندوستانی حکومت کھسیانی بلی ہوئی جاتی ہے کہ جی ہم تو شروع سے ہی کرتار پور کا کاریڈور کھولنا چاہتے تھے۔ پنجاب کے سکھ وزیر اعلیٰ جو شنید ہے کہ ایک بیگم کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کے نزدیکی رشتے دار بھی ٹھہرتے ہیں۔ بیگم جو ایک نہاےت ہی ’معزز‘ خاندان کی چشم و چراغ وغیرہ ہیں۔ وہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ تو ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے ورنہ پاکستان کہاں مانتا تھا۔ ان سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے کہ اگر وہ کرتار پور کے حوالے سے ذرہ بھر بھی مخالفت ظاہر کرتے تو پوری سکھ قوم ان کا بولو رام کر دیتی۔ اگلے روز میں نے ٹیلی ویژن پر کرتار پور کی نئی شکل دیکھی۔

نہاےت وسیع و عریض کامپلیکس۔ عمارتیں مسافر خانے‘ضروریات زندگی کی جدید سہولتیں ۔ اتنی مختصر مدت میں اتنا وسیع تعمیراتی کام ممکن نہ لگتا تھا لیکن حکومت نے ممکن کر دکھایا۔ کاش ملک کے دیگر منصوبوں کی تعمیر میں یعنی لاکھوں گھروں کی تعمیر میں اتنی ہی ’پھرتی‘دکھائی جاتی۔ ہم کرتار پور کے علاوہ بھی نئے پاکستان کو ابھرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کرتار پور کی نئی اور وسیع شکل دیکھ کر میرا دل خوشی سے لبریز نہ ہوا بلکہ یہ دل دکھ گیا۔ وہ ہرا بھرا ماحول جس میں آپ سانس لیتے تھے تو یہ تصور کر کے کہ کبھی بابا نانک بھی یہاں سانس لیتے تھے یہ ہوا وہی ہے جس میں ان کی سانسیں موجود ہیں۔ کھیتوں میں اس کی مہلک سی ہے۔ اس کے ہل کی نوک نے اس زمین کو زرخیزی بخشی تھی اور عین ممکن ہے کہ ان کھیتوں کے درمیان کھیتی پگڈنڈی پر ابھی تک اس کے نقش قدم ثبت ہوں۔ تو یہ ماحول سب کا سب معدوم ہو گیا۔ کھیتوں پر بل ڈوزر چل رہے تھے اور سڑکیں بچھائی جا رہی تھیں۔ سب کچھ سہولتوں ‘ آسائشوں اور سیاست کی نذر ہو گیا۔ میرا دل دکھ گیا۔ آج سے تقریباً تین برس پیشتر میں جان جوکھوں میں ڈال کے دنیا کے سب سے خوبصورت منظر تک جا پہنچا۔ نانگا پربت کی برفوں کے دامن میں پھیلے جنگل میں پوشیدہ فیری میڈو۔ پریوں کا مسکن کہہ لیجیے۔

میں دو تین روز تنہا اس جادوئی چراگاہ کے حسن میں گمشدہ رہا پھر ایک جرمن جوڑا آ گیاجس کےساتھ بہت خوبصورت وقت گزرا‘ میں نے ’نانگا پربت‘میں فیری میڈو کے الوہی حسن کا تفصیلی تذکرہ کیا جسے پڑھ کر بہت سے کوہ نوردوں نے وہاں کارخ کیا اور آج اس فیر ی میڈو میں متعدد ہوٹل اور ریستوران تعمیر ہو چکے ہیں‘روزانہ سیاحوں کے انبار چلے آتے ہیں اور یوں وہ دنیا کا سب سے خوبصورت منظر آسائشوں اور سہولتوں اور کاروباری مصلحتوں کا شکار ہو کر ہمیشہ کےلئے اوجھل ہو گیا۔ میں کسی حد تک اپنے آپ کو بھی قصور وار گردانتا ہوں کہ میں نے فیری میڈو کے بارے میں لکھا تو لوگوں کے ہجوم وارد ہو گئے۔ نہ لکھتا ‘ خاموش رہتا تو شاےد اب بھی وہ منظر اپنی اصلی حالت میں موجود ہوتا۔ کرتار پور کا حال بھی فیر ی میڈو جیسا ہو رہا ہے بے شک بے شمار سیاح یہاں آئیں گے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ سیاحوں کےلئے سہولتیں تو تعمیر کرنی تھیں۔ انہیں شب و روز کے لئے بنیادی آسائشیں تو مہیا کرنی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بابا نانک کی مانند سچا سودا نہیں کیا۔ اس ماحول کو معدوم کر کے خسارے کا سودا کیا ہے۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: