2Below header

اب وہ ذائقے کہاں۔۔۔

4Above single post content

عین ممکن ہے کہ آپ واقعی منتظر ہوں کہ پاکستانی قوم کے مجموعی رویئے اور نفسیات کے بارے میں جو کتاب شاےد میں نہیں لکھوں گا لیکن میرے زرخیز دہن نے اسکا عنوان مجھے سمجھا دیا ہے یعنی” واویلا کرنےو الی قوم“ تو اسکے مختلف ابواب میں‘ میں کون کونسے واویلے درج کرونگا… یادرہے کہ میں ہندوستانی اور اب برطانوی مصنف نرود چوہدری کی کتاب’کانٹینٹ آف کرائس‘کی پیروی نہیں کرونگا جس نے ہندوستانیوں اور خصوصی طورپر ہندوﺅں کی ذہنیت کے پرخچے اڑادیئے‘میں اتنا بیوقوف نہیں ہوں کہ بیلوں کو دعوت عام دوں کہ آیئے اور مجھے ماریئے‘میں قدرے منافقت سے کام لوںگا کہ عافیت اسی میں ہے… بہرحال ہم لوگ جو ہمہ وقت شکایتیں کرتے رہتے ہیں‘ شکایتی ٹٹو ہوچکے ہیں اور ٹٹو بیلوں کی مانند آپکو نہیں مارتے‘ سینگوں پر نہیں اٹھالیتے کہ انکے سینگ نہیں ہوتے‘مختلف واویلے کرتے رہتے ہیں تو ان میں مرغوب ترین واویلے یہ ہیں کہ… ہائے ہائے جو خوراکیں اصلی اور دیسی ہم نے کھائی ہیں وہ نئی نسل کے نصیب میں کہاں‘اب تو خوراکوں میں ذائقے ہی نہیں رہے‘ کہاں دیسی مرغی اور کہاں یہ برائلر مرغی‘ ہائے ہائے وہ زمانے نہ رہے‘ چونکہ میں ذاتی طورپر اسی کے پیٹے میں ایک عدد مخبوط الحواس بوڑھا ہوں تو میں آپکو بتاتا ہوں کہ ان دنوں تو اچھے بھلے آسودہ گھروں میں گوشت کبھی کبھار پکتا تھا‘ مرغی بیمار ہوئی تو ہانڈی چڑھی یا بندہ بیمار ہوا تو شہر میں ڈھنڈھیا پٹی کہ کہیں سے ایک مرغی تلاش کرکے لاﺅ‘انڈے بھی کم کم دستیاب ہوتے تھے شہر لاہور کے بیشترباشندے آئس کریم کے ذائقے سے ناآشنا تھے قدرے متمول گھروں میں کبھی کبھار پورا خاندان آئس کریم مشےن کا گھیراﺅ کرلیتا تھا۔

دودھ کو اس مشین کے آہنی سلنڈر میں انڈیل کر سلنڈر کے گردبرف اور نمک بھرکر باری باری خاندان کا ہر فرد اس مشین کی ہتھی کو گھما گھما کر نڈھال ہوجاتا تھا پورا صحن پانی سے بھرجاتا تھا اور پھر پورے دن کی کاوش کے بعد وہ دودھ کسی حد تک جس میں چینی کی آمیزش ہوتی تھی‘ منجمد ہو کر آئس کریم کی شکل اختیار کرجاتا تھا‘ہر ایک کے حصے میں زیادہ سے زیادہ دوچار چمچے آئس کریم آتی تھی اور وہ بھی فوراً پگھلنے لگتی تھی‘اور واقعی اسکا ذائقہ بہشتی ہوا کرتا تھا آئندہ دنوں میں دوستوں اور رشتے داروں کو فخر سے بتایا جاتا تھا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے آئس کریم چکھی تھی اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے فریج نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی آئس کریموں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن میری عمر کے بوڑھے واویلا کرتے ہیں کہ ان میں وہ ذائقہ نہیں جو برگد کے پتے پر رکھے ہوئے قلفے میں ہوا کرتا تھا تو میں ان بابا جاتے سے عرض کرتا ہوں کہ حضور تب قلت تھی‘ آپ نوجوان تھے اور آپ کے ذہن میں ذائقے کے جو خلیے تھے وہ نوخیز تھے‘ تب زہر بھی ذائقے دار لگتا تھا اور اب وہ خلیے آپکے دیگر اعضاکی مانند مردہ ہو چکے ہیں‘آپ سوئٹزرلینڈ سے درآمد کردہ دنیا کی بہترین آئس کریم کے پورے کاٹن کھالیں وہ بھی بھوسے کے ذائقے ایسے ہونگے‘ ایک اور واویلا بہت ہی مقبول ہے کہ ہمارے زمانے میں جو پڑھائیاں تھیں وہ اب کہاں اور وہ ماسٹر کہاں جو علم کی دولت بانٹتے تھے اور ہمیشہ شفقت سے پیش آتے تھے‘یقین کیجئے کوئی پڑھائیاں وغیرہ نہیں تھیں‘ بمشکل پاس ہوتے تھے‘۔

علامہ حضرات اکثر نقل کا سہارا لیتے تھے‘ بے شک مجھے اب بھی ماسٹر نادر خان‘ماسٹر رحمت خان‘ فیض الرحمن‘ شفیق صاحب‘ ڈرائنگ ماسٹر اسلم صاحب اور ہیڈ ماسٹر عزیز صاحب بہت یاد آتے ہیں‘ سب کے سب شفیق نہ تھے اکثر ہمیں زدوکوب کرتے تھے اور ماسٹر دین محمد تو یوں بھی قصائی کہلاتے تھے اور ہاں یاد رہے کہ ہیڈ ماسٹر عزیز صاحب کے فرزند ڈاکٹر محبوب الحق ہم سے اگلی کلاس میں ہوا کرتے تھے اور مولانا مودودی کے بیٹے عمر فاروق مودودی میرے ہم جماعت ہوا کرتے تھے جو بزم ادب کی صورت کے الیکشن میں مجھ سے ہارگئے تھے تو میں نے اس تاریخی الیکشن کے بارے میں بہت عرصہ پہلے ایک کالم لکھا جسکا عنوان تھا’جب تارڑ نے مودودی کو الیکشن میں ہرادیا‘اور جہاں تک پڑھائیوں کا معاملہ ہے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ ان زمانوں میں بچے جس طور سنجیدگی سے کمرتوڑ پڑھائیاں کرتے تھے ہم تو نہ کرتے تھے تب اتنا مقابلہ سخت نہ تھا جتنا آج ہے‘ میٹرک کے امتحان میں اگرچہ سکول میں میری کچھ پوزیشن وغیرہ بھی آئی لیکن فرسٹ ڈویژن پانچ نمبر سے رہ گئی‘ اباجی کو بتائے بغیر اپنے دیگر دوستوں‘ خاور زمان اور نوازش کے ہمراہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پرنسپل صاحب کے آفس میں انٹرویو کیلئے پیش ہوئے اور انگریزی یوں دھاڑ دھاڑ اور بے دریغ بولی کے داخلہ مل گیا چونکہ مال روڈ پر لکشمی منشن میں رہتے تھے اور پارسیوں اور کرنٹوں یعنی عیسائی لڑکوں سے یاریاں تھیں‘ہفتے میں کم از کم چھ انگریزی فلمیں دیکھتے تھے توانگریزی کاﺅ بوائے لہجے میں منہ بگاڑ کر بولتے تھے چنانچہ آسانی سے راوین ہوگئے اور ان دنوں بچے پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو جاتے ہیں‘ بے شمار نمبر لیتے ہیں پھر بھی گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہیں ملتا۔

میں نے اپنے دوستوں اور اپنے بچوں کو جس طور دن رات پڑھائی میں مگن دیکھا ہے‘ایسی پڑھائیاں ہم نے تو نہ کی تھیں‘ واویلا کرنے والی ہماری یہ قوم ایک اور واویلا کرتی ہے کہ نئی نسل اپنے بزرگوں کا احترام نہیں کرتی جیسے ہم اپنے بزرگوں کے سامنے دم نہیں مارتے تھے تو حضور آپ کی تربیت میں کچھ فرق ہے ورنہ میرا مشاہدہ ہے کہ ایک دوست بہت علیل ہوگئے‘ آپریشن بہ آپریشن ہونے لگے اور جب بے ہوشی سے باہر آئے تو ان کے بستر کے گرد ان کے سب بیٹے اور بیٹیاں کھڑے تھے اور وہ سب امریکہ اور یورپ میں اپنے کاروبار اور ملازمتیں ترک کرکے ابا جی کے پاس اڑتے ہوئے پہنچے تھے ہم شاےد اپنے بزرگوں کے سامنے دم اسلئے بھی نہ مارتے تھے کہ ہمارے اکثر بزرگ نہایت شقی القلب ہوا کرتے تھے اولاد کو باقاعدہ پھینٹی لگانا اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے بلکہ برخوردار کو سکول میں داخل کرواتے ہوئے ماسٹر صاحب سے کہا کرتے تھے کہ اس نالائق کو مار مار کر ادھ موا کردیجئے بے شک… گوشت آپکا اور ہڈیاں ہماری… نہایت دہشت گرد بزرگ ہوا کرتے تھے… بلکہ نہایت فخر سے کہاجاتا تھا کہ ہم تو اپنی اولاد کو سونے کا نوالہ کھلاتے ہیں اور شیر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں‘ اب ذرا تصور کیجئے کہ وہ اپنے برخوردار کو سونے کا نوالہ کھلاتے ہوئے جب شیر کی آنکھ سے گھورتے ہیں توکیا برخوردار کا کیاحال ہو گا‘عجیب بزرگ تھے‘ ماڈل ٹاو¿ن میں میرے جیسے بہت سے زائد المیعاد باباجات باقاعدگی سے آتے ہیں اور ان میں سے چند ایک کتنے ٹھرکی ہیں میں بیان نہیں کرتا۔

ایک صاحب نوے برس کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے چکے ہیں پارک میں سیر کرنےوالی ادھیڑ عمر خواتین کی پوری وارڈروب سے آگاہ تھے یعنی کسی خ©اتون کو دیکھ کر وہ کمنٹ کرتے تھے کہ اس خاتون نے آج جو لباس زیب تن کیا ہے اسکے ساتھ اگر یہ وہ دھاریدار دوپٹہ اوڑھ لیتی جو اس نے پچھلے ماہ کی فلاں تاریخ کو اوڑھا تھا تو لطف آجاتا…ایک آدھ مرتبہ انہوں نے پارک میں سیر کرنےوالی انکی پوتی کی عمر کی لڑکی کو روک کر اس کی لپ سٹک کے رنگ پر سرزنش کی اور جب مجھے خبر ہوئی تو میں نے انہیں کیسے ڈانٹا اور بے عزت کیا یہ پورا ماڈل ٹاو¿ن پارک جانتا ہے… اور یہی بزرگ اکثر واویلا کرتے تھے کہ ہائے ہائے یہ ایک زمانے آگئے ہیں نئی نسل اخلاقیات سے عاری ہوچکی ہے ہم سیر کرنے کے بعد پارک سے نکلتے ہیں توفلائٹس آنی شروع ہوجاتی ہیں‘ طالب علم جوڑے‘ منہ جوڑے چلا کرتے ہیں ہائے ہائے کیسے زمانے آگئے ہیں… میں وہ بوڑھا شخص ہوں جس کا ایمان ہے کہ رب کعبہ کی مخلوق تب زوال پذیر ہوگی جب قیامت قربت میں ہوگی اور ابھی قیامت بہت دور ہے لیکن تب تک نسل انسانی کا ارتقاءمسلسل ہوتا چلا جائیگا…آپکی نسلیں آپ سے بہتر اور افضل ہوتی چلی جائینگی البتہ آپ نہ اعتراف کرینگے اور نہ دیکھیں گے کہ آپ ایک واویلا کرنے والی قوم ہیں… یعنی اندھے ہوچکے ہیں۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: