Mustansar Hussain Tarar

مشرقی روایات کی پاسداری اورخواہش از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

پچھلے دنوں ایک دیرینہ دوست یعنی پاٹے پرانے دوست امریکہ سے آئے کہ انکے و الد صاحب قدرے علیل ہوگئے تھے ایک ہونہار فرزند کی حیثیت سے خبر سنتے ہی اڑتے ہوئے پہنچے… ویسے تو امریکہ سے سبھی اڑتے ہوئے آتے ہیں پیدل تو نہیں آتے لیکن یہ دوست محاورے کے مطابق اڑتے ہوئے پہنچے اباجی کے سرہانے دو ہفتے بیٹھے رہے ابا جی نہ جاتے تھے نہ مکمل طورپر آتے تھے یعنی کبھی جان کے لالے پڑ جاتے تھے اور کبھی ٹیلی ویژن پر آئٹم نمبر دیکھنے لگ جاتے تھے… میرے دوست جو ماشاءاللہ تیس برس سے امریکی ہیں مایوس ہو کر لوٹ گئے اور جاتے ہوئے چھوٹے بھائی سے کہہ گئے کہ اب یونہی خطرے کی گھنٹی نہ بجا دینا یوں بھی اگلے چھ ماہ تک میرا دوبارہ آنا ممکن نہیں کہ ملازمت بہت حساس ہے یعنی اگر کچھ حرج مرج ہوگیا تو خود ہی سنبھال لینا… ادھر وہ نیویارک پر اترے اور ادھرحرج مرج ہوگیا‘ والد صاحب کوچ کرگئے…ویسے ہمارے ہاں جو ایک نیا غیر ملکی معاشرہ تشکیل پا چکا ہے یعنی شاید ہی کوئی ایک گھرانہ ایسا ہو جسکے دوچار نہ سہی کوئی ایک آدھ فرد بھی ملک سے باہر مقیم نہ ہو… یوں خاندان تقسیم ہو چکے لیکن ہماری خواہش یہی ہوتی ہے کہ مشرقی روایات کی پاسداری بھی قائم رہے اور یہ ایک ناممکن خواہش ہے… اگر والدین حیات ہیں تو وہ بیمار پڑتے ہی برخوردار سے کہتے ہیں کہ لوٹ آﺅ مرے پردیسی… واپس آﺅ اور ہماری تیمارداری کرکے اولاد کے حقوق ادا کرو…اچھا اس خواہش میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ احساس کریں کہ اگرچہ ان ممالک میں زندگی کی سہولتوں کی پاکستان کی نسبت فراوانی ہے لیکن یقین کیجئے ان سہولتوں کے حصول کیلئے انسان کو گدھوں کی مانند مشقت کرنی پڑتی ہے اگر ملازمت ہو چاہے۔

ایک مزدور کی ہو‘ ڈاکٹر یا انجینئر کی ہو‘ سال بھر میں طے شدہ چھٹیاں ہی ملتی ہیںاور اگر ایمرجنسی ڈکلیئر کردی جائے تو بھی چند روز کیلئے غیر حاضر ہونے کی اجازت ملتی ہے اور اس غیر حاضری کی وجہ سے آپکی سنیارٹی بھی متاثر ہو سکتی ہے اور اگر آپ کسی بھی نوعیت کا کاروبار کرتے ہیں‘ کوئی گروسری سٹور کھول رکھا ہے کباب اور تکے فروخت کرتے ہیں تو بھی آپ اپنے کاروبار سے زیادہ دنوں تک غیر حاضر نہیں رہ سکتے… ورنہ کاروبار ٹھپ ہو جائیگا علاوہ ازیں وہاں سب کے سب شریفوں کے عزیز مقیم نہیں ہیں کہ اپنے محلاتی فلیٹوں میں شہزادوں کی زندگی بسر کریں اور نہ ہی فرانس وغیرہ میں کسی قلعے میں ان کے علیل والد صاحب زندگی کے آخری دن گزارتے ہیں وہاں مقیم بیشتر افراد گذر اوقات تردد سے اور حساب کتاب سے کرتے ہیں ‘بے دریغ نہیں ہو سکتے کہ ہر دوچار ماہ بعد ٹکٹ کٹا کر پاکستان آجائیں کہ ٹکٹ کی رقم بھی بمشکل جڑتی ہے اور یہاں عزیزوں کی کسی شادی میں شریک ہو جائیں کسی کی ساس فوت ہو جائے تو اس کا فاتحہ پڑھنے کیلئے چیچو کی ملیاں پہنچ جائیں اور یا ماں باپ میں سے کوئی ایک بیمار پڑ جائے تو ایک مثالی بیٹے کی مانند سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کی تیمارداری کیلئے پاکستان آجائیں… اگر آپ ایک والدین ہیں اور آپ نے اپنی مرضی اور خواہش سے اولاد کو باہر کے ملکوں میں مقیم ہو جانے کی اجازت دی ہے تو پھر خدا کیلئے ان کی مجبوریوں کا احساس کیجئے… بہتر ہے کہ بیمار نہ پڑیئے اور اگر پڑ جایئے تو فوری طورپر بیٹی یا بیٹے کو ایس او ایس نہ بھیجئے…

البتہ اگر آپ محسوس کرتے ہوں کہ واقعی گھڑیال منادی دے رہا ہے آپ کے بستر کے گرد لواحقین زیرلب کچھ پڑ ھ رہے ہیں آنسو پونچھ رہے ہیں اور سرگوشیوں میں پوچھ رہے ہیں کہ دادا جان کی قبر کے پہلو میں جگہ ہے اور آپ کو مشک کافور اور اگربتیوں کی خوشبو آنے لگے تو پھر آپ اپنے غیر ملک میں مقیم بچوں کو ایس او ایس دینے میں حق بجانب ہونگے لیکن خدا کیلئے انہیں مایوس نہ کیجئے گا انتقال کا ارادہ ملتوی نہ کیجئے گا… انہیں دوبارہ چھٹی نہیں مل سکتی… والدین کے بھی تو کچھ فرض ہوتے ہیں انہیں ادا کیجئے خواہ مخواہ نہیں طلب نہ کرلیجئے اگر طلب کرتے ہیں تو اپنی آخری فرض ادا کردیجئے اور ہاں یہ توقع بھی مت رکھئے کہ وہ آپ کا چالیسواں کرواکے لوٹیں گے‘ اتنی چھٹی نہیں ملتی البتہ دسواں کرواکے لوگوں کو میٹھے چاول کھلا کر آپ کی قبر پر آخری پھول چڑھا کر ہی چلے جائیں تو انکی برخورداری میں کچھ شک نہ ہوگا آپ یقینا مجھے ایک شقی القلب‘ مشرق کی سنہری روایات سے بے خبر اور والدین کے جو حقوق دین میں بیان کئے گئے ہیں ان سے ایک غافل شخص سمجھتے ہونگے شاید آپ درست ہی سمجھتے ہیں… چند برس پیشتر مجھ پر بھی موت کانزول ہوتے ہوتے رہ گیا تھا… ان دنوں میرے بیٹے تو غیر ملکی پوسٹنگ پر تھے اور بیٹی تو کب کی امریکی ہوچکی تھی وہ تینوں بھی اڑتے ہوئے چلے آئے… میں نے بھی انہیں مایوس کیا اور متعدد آپریشنوں کے بعد اپنے پاﺅں پرچل کر گھر آگیا قبرستان کی جانب جانےوالی چارپائی ابھی میرے ہاتھ کی لکیروں میں نہ تھی تب مجھے ایک خیال آیا تھا کہ فرض کرتے ہیں کہ ایک دوماہ بعد میں پھر بیمار پڑ جاتا ہوں توکیا وہ آسکیں گے آئینگے تو ذرا مشکل سے آئینگے عینی سے اسکے ہسپتال کا انچارج پوچھے گا کہ ڈاکٹر کیو تمہارے یہ ڈیڈی پھر بیمار ہوگئے ہیں‘ سلجوق سے اسکے یو این او کے شعبے کا ہیڈ کہے گا کہ… کیا پاکستان جانا بہت ضروری ہے…اگلے ہفتے یو ین او میں کچھ سلطنتوں کے سربراہ آرہے ہیں ان میں سے ایک دو کی ذمہ داری تمہارے سپرد کرنی تھی وغیرہ وغیرہ‘ تو وہ شاید نہ آسکیں اگر آئیں تو بمشکل آئیں اور اگر میں تیسری مرتبہ بیمار پڑ جاﺅں تو پھر شاید چاہنے کے باوجود بمشکل بھی نہ آسکیں… چنانچہ میں اور میری اہلیہ بھی اسی فہرست میں شامل ہیں اور ہم قطعی طور پر توقع نہیں رکھتے کہ ہم بیمار پڑیں تو وہ کشاں کشاں چلے آئیں‘۔

خوش رہو اہل چمن ہم تو سفر کرتے ہیں… میری صبح کی سیر کے ایک رفیق ملک احسان نام کے ہیں‘ انکے دماغ کے ہی نہیں گردوں وغیرہ کے بھی سب پیچ ڈھیلے ہیں گھر سے سائیکل پر سوار آتے ہیں‘ ماڈل ٹاو¿ن پارک کے ڈھائی کلومیٹر طویل ٹریک کے کم از کم آٹھ چکر لگاتے ہیں اور شدید سردیوں میں بھی صرف ایک ٹی شرٹ پر گزارہ کرتے ہیں باقاعدہ سے ٹنڈ کراتے ہیں اور شدید طورپر باغی اور انقلابی ہیں‘ اگر انکے خیالات کی کسی کو بھنک بھی پڑ جائے تو وہ آسانی سے پھانسی پر لٹکائے جاسکتے ہیں‘ موصوف نے ایک عمر الاسکا میں بسر کی دنیا کے جتنے بھی طویل ترین ٹرینوں کے سفر ہیں انکی مسافتیں طے کرچکے ہیں‘ ماسکو سے ولاڈی واسٹک تک کا برفانی سفر ان میں سے ایک ہے‘ میرے یہ پوچھنے پر کہ آخرالاسکا سے واپس کیوں آگئے تو اپنی ٹی شرٹ کھینچ کر دانتوں میں چباتے ہوئے کہنے لگے’ ماں نے کہا میں بیمار ہوں‘ آجاﺅ‘ میں آگیا‘ پچھلے دو سال سے اسکے پاس ہوں‘ بیمار شمار نہیں مجھے بلانے کا بہانہ تھا‘ میں نے کہا” ملک تو پھر واپس چلے جاﺅ“ وہ کہنے لگا کیسے چلا جاﺅں‘ کبھی کبھی کھانسنے لگتی ہے تو چھوڑ کر کیسے چلا جاﺅں‘ تو کب واپس جاﺅگے؟ ملک مسکرا کر کہنے لگا ماں کا کچھ نہ کچھ فیصلہ ہو جائے تو جاﺅنگا یوں چھوڑ کے نہیں جا سکتا‘ اسی ماڈل ٹاو¿ن پارک میں تقریباً تین برس پیشتر ایک معمر خاتون سیر کیا کرتی تھےں ان کے سارے بچے امریکہ میں سیٹل ہوچکے تھے اکیلی کسی شاندار گھر میں رہتی تھیں‘ مرگئیں ان کی لاش کو ایک سردخانے میں سرد کردیاگیا تاکہ انکے بچے پہنچ جائیں… بچوں نے سرتوڑ کوشش کی اور اسکے باوجود تقریباً سات روز مردہ خانے میں حنوط پڑی رہیں‘ اور تب میں نے اپنے کسی کالم میں لکھا تھا کہ جنکے بچے باہر کے ملکوں میں مقیم ہوچکے ہیں وہ یہ توقع نہ کریں کہ فوری طورپر دفنائے جائیں گے‘ انکے نصیب کی تختی پر رقم ہے کہ انہوں نے کسی سرد مردہ خانے میں منجمدحالت میں اپنی اولاد کی آمد کا انتظار کرنا ہے۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: