Mustansar Hussain Tarar

میں ایک باباہوں از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

پارک میں صبح کی سیر کےلئے آنے والے بیشتر لوگ گھروں کو لوٹ چکے تھے اور یہ وہ وقت تھا جب پارک میں اکادکا ’فلائٹس‘ آنے لگی تھیں اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلے آدمی فلائٹس تو ائیرپورٹ پر آتی ہیں پارک میں کہاں سے آگئیں تو عرض یہ ہے کہ مختلف نوعیت کی فلائٹیں ہوتی ہیں یعنی یہ وہ جوڑے ہوتے ہیں نوجوان اور کم سن جوڑے ہوتے ہیں جنہوں نے کالج سے چھٹی کرلی ہوتی ہے اور ذرا خفیہ طور پر پارک میں چلے آتے ہیں ‘یہ نہایت معصوم اور ڈرے ڈرے سے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں دیکھ نہ لے‘ پارک میں سیر کرنے والے بزرگ حضرات ایسے پہلے جوڑے کو پارک میں داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ لوجی پہلی فلائٹ آگئی ہے ‘ اور اس میں ایک جذبہ رشک بھی شامل ہوتا ہے کہ ہائے ہائے ہمارے وہ دن کب کے گزر گئے جب ہم بھی کبھی کبھار ایک ’فلائٹ‘ ہوجایا کرتے تھے ‘ بہرحال پارک میں پہلی فلائٹ آچکی تھی اور سیر کےلئے آنے والے بیشتر لوگ گھروں کو لوٹ چکے تھے لیکن ایک صاحب ابھی تک ایک بنچ پر براجمان خلاﺅں میں گھور رہے تھے …. میں نے سوچا کہ ان کے ساتھ جیسا کہ میں ٹیلی ویژن پر کرتا ہوں ایک انٹرویو کیا جائے…. سیر کےلئے آنے والا ہر شخص اپنے اپنے پیشے سے جڑا ہوتا ہے چاہے وہ ایک عرصے سے ریٹائرڈ ہوچکا ہو….اور دو چار فقروں کے بعد آپ جان جائیں گے کہ موصوف زندگی میں رزق کیسے کماتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔

مثلا ًاگر اس روز بارش ذرا شدید ہوئی ہے تو ایک صاحب کہیں گے کہ اب یقینا حبس زیادہ ہوجائے گا…. لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بچنے کےلئے بیشتر لوگوں نے یو پی ایس لگوالئے ہیں حالانکہ جنریٹر بہت بہتر ہوتا ہے اور وہ بھی چائنا کا…. ہم جان جاتے ہیں کہ یہ جنریٹر فروخت کرتے ہیں اور وہ بھی چائنا کے…. ادھر سردار صاحب یا چوہدری صاحب کہیں گے‘ واہ جی واہ…. اس بارش سے تو فصلیں سونے کی ہوجائیں گی…. یہ تو باران رحمت ہے۔ چنانچہ جان لیجئے کہ یہ زمیندار لوگ ہیں…. اور اگر کوئی صاحب بارش کی پہلی بوند گرتے ہی سر پر پاﺅں رکھ کر سرپٹ بھاگے جارہے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ واسا میں کام کرتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ان کے دفتر پہنچنے سے پہلے افسران بالا وہاں نہ پہنچ جائیں اور یوں ان کی گو شمالی نہ ہوجائے…. اب مجھ پر بارش کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھے عدم‘ ساحر اور ریاض خیرآبادی کے خمار آور شعر یاد آنے لگتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں کسی کو سامنے بٹھا کر اس کا انٹرویو کروں کہ یہ میرا پیشہ ہے…. چنانچہ میں نے ان صاحب سے انٹرویو لینا شروع کردیا جو اب تک پارک میں ایک بنچ پر بیٹھے خلاﺅں میں گھور رہے تھے”جناب آپ یہ فرمائیے کہ آپ کون ہیں؟“
”میں ایک بابا ہوں….“
”کیا آپ اشفاق احمد کے بابے ہیں؟“
”نہیں ‘ میں اتنا پہنچا ہوا نہیں ہوں‘ ایک معمولی قسم کا بابا ہوں….“
”کیا آپ بابا بلیک شیپ ہیں؟“
”نہیں بابا…. وہ تو انگریزی پڑھے ہوئے بابے ہوتے ہیں اور میں تو ایک دیسی نوعیت کا بابا ہوں….“
”کیا آپ ہمیشہ سے ایک بابے تھے؟“
”نہیں میں حال میں ہی بابا ہوا ہوں…. بلکہ مجھے بابا بنادیا گیا….“
”اگر آپ ذرا تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کیسے حال ہی میں بابے ہوگئے تو ہمارے ناظرین بے حد خوش ہوں گے“
”ناظرین کہاں ہیں‘ آس پاس تو کوئی نہیں ہے….“
”یونہی عادتاً کہہ رہا ہوں‘ آپ ارشاد کیجئے….“

”یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب میری بھتیجیوں اور بھتیجے نے مجھے تایا جا ن کہنا شروع کردیابلکہ جب بہت پیار آتا تھا تو ”اوئے تاﺅ“ بھی کہتے تھے‘ اور مجھے یہ لفظ تایا بہت برا لگتا تھا بلکہ میری بیوی کو بھی تائی جان کہلانا اچھا نہیں لگتا تھا چنانچہ بچوں سے درخواست کی گئی کہ وہ مجھے تایا کی بجائے بابا جان کہہ لیا کریں‘ میری بیگم نے کہا کہ میں بابی جان تو نہیں ہوسکتی اس لئے چچی جان زیادہ بہتر ہے‘ جب گھر میں بہورانیوں کی آمد ہوئی تو ذرا ماڈرن تھیں تو مجھے انکل کہنے لگیں…. انکل کہلانے پر مجھے زیادہ اعتراض تو نہ تھا لیکن وہ دودھ والے اور سبزی والے کو بھی انکل کہتی تھیں‘ ایک مالی انکل بھی تھے‘ ان سے بھی گزارش کی کہ وہ انکل پر نظر ثانی کریں‘انہوں نے مجھے بابا جان پکارنا مناسب سمجھا‘ یہاں تک تو خیریت گزری لیکن اس کے بعد میرے پوتوں اور پوتی نے بھی مجھے دادا جان کہنے کی بجائے باباجان کہنا شروع کردیا‘ بلکہ انہوں نے اسے مختصر کرکے بابا کردیا‘ ان کی دیکھا دیکھی گھریلو ملازموں اور گلی محلے والوں نے بھی مجھے بابا کا خطاب دے دیا اور اب میں ایک مکمل بابا ہوں“
”تو آپ کو بابا کہلانا پسند نہیں؟“
”نہیں ‘گھر والوں کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن جب ایک ادھیڑ عمر اماں جان بھی مجھے بابا کہتی ہیں تو سخت غصہ آتا ہے….“
”چلئے یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن آپ اب جبکہ بیشتر لوگ سیر کے بعد گھر جاچکے ہیں آپ گھر کیوں نہیں جاتے؟
”گھر جاتا ہوں تو بہورانیاں بہت پیار سے کہتی ہیں کہ بابا جان گوشت کی تو آپ کو پہچان ہے ‘ ذرا بازار سے گوشت لادیجئے اور سبزی بھی آپ جیسی کوئی نہیں لاتا…. پھل کا چناﺅ تو آپ پر ختم ہے اور وہ مجھے متعدد تھیلے پکڑا دیتی ہیں…. بازار جاتا ہوں تو ہر جانب سے آﺅ بابا جی….کیا حال ہے بابا کی آوازیں آنے لگتی ہیں …. تو میں یہاں بیٹھ کر وقت گزار رہاہوں تاکہ ملازم گوشت اور سبزی وغیرہ لے آئے تب گھر جاﺅں….“
”کیا آپ خود کو ایک بابا محسوس نہیں کرتے؟“

”یہی تو مسئلہ ہے میں اندر سے بوڑھا نہیں ہوا میری جی چاہتا ہے کہ میں شوخ رنگ کے کپڑے پہنوں ….رومانی گیت سن کر جذباتی ہوجاتا ہوں…. خوش نظر چہرے پر نظر جاتی ہے تووہیں ٹھہری رہتی ہے ‘ پھر آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں‘ شرم کرو بابا ہوگئے ہو اور پھر بھی باز نہیں آتے….
آپ یہ بتائیں کہ آپ ابھی تک گھر کیوں نہیں گئے؟“
”میں بھی گھر جاتا ہوں تو ہر جانب سے بابا‘ بابا کی آوازیں آنے لگتی ہیں اور میں بوڑھا ہوجاتا ہوں….“
”تو آپ بھی ایک عدد بابے ہیں؟“
”جی ہاں…. میں ایک بابا ہوں….“
”ویلکم ٹو بابا کلب…. آئیے آپ بھی میرے ساتھ بنچ پر بیٹھ جائیے….‘

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: