فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

دنیا کی تاریخی روایات ہیں کہ ہر قوم و ملک کے اہم واقعات میں جو لوگ کلیدی رول ادا کرتے ہیں ان واقعات کی تاریخ جب لکھی جاتی ہے تو ان شخصیات کا ذکر سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے تاکہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھیں اور انہیں بھلا نہ سکیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ خواہ ہماری اسلامی تاریخ کی اہم شخصیات ہوں یا مغربی ممالک کی، سب کا ذکر بہت اچھے الفاظ میں تاریخ میں درج ہے۔ ہمارے اپنے ملک کی تاریخ میں لاتعداد لوگوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ پاکستان حاصل کرنے سے لے کر موجودہ دور تک بے شمار لوگوں نے ملک و قوم کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں اور نام بلند کیا ہے۔ جس طرح بڑی بڑی جنگوں، آزادی کی جنگوں میں اہم رول ادا کرنے والوں کے رول وکردار کو اجاگر کیا گیا ہے اسی طرح اہم قومی منصوبوں کی تاریخ لکھی گئی ہے اور ان میں نمایاں رول ادا کرنے والوں کے نام سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے کچھ ہی عرصہ پیشتر ایٹمی دور کا آغاز جرمنی کے شہر برلن سے ہوا جہاں ہان اور اشٹراس من نے یورینیم کے ایٹم کو پھاڑ کر ایٹمی دور کی بنیاد ڈالی۔ انگلستان، فرانس، ہنگری، اِٹلی، روس، ڈنمارک اور امریکہ کے سائنسدانوں نے اس کی ترقی (اور حتمی انجام یعنی ایٹم بم کی تیاری) میں جو رول ادا کیا اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آپ کولٹریچر میں امریکہ،

انگلستان، فرانس، روس، چین اور ہندوستان کے ایٹمی پروگراموں کی تفصیل اور اس میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کے بارے میں تفصیلات مل جائیں گی لیکن بدقسمتی سے اب تک ہمارے ملک میں اپنے ایٹمی ہیروز کی پذیرائی نہیں بلکہ ذلّت کی گئی۔ اب جبکہ میرے تمام سینئر رفقائے کار اور میں زندگی کے آخری مراحل میں ہیں اور چند ہم سے جدا بھی ہو چکے ہیں میں بحیثیت اس اہم پروجیکٹ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ان قومی ہیروز کے نام و کام کے بارے میں قوم کو آگاہ کروں۔
قبل اس کے کہ میں اپنے ان نہایت قابل، محب وطن رفقائے کار کا تذکرہ کروں اپنے ایٹمی پروگرام کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔
ہندوستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں مرحوم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بار بار انتباہ کے باوجود دنیا نے اس پر قطعی دھیان نہ دیا بلکہ ایک خاص پالیسی کے تحت ہندوستان کی حوصلہ افزائی کی اور مالی اور فنی مدد کی کہ وہ اس علاقہ میں بالادستی حاصل کرکے مغربی ممالک کے مفادات کی حفاظت کرے۔اس سے مجبور ہو کر ہی بھٹو صاحب نے مجبوراً وہ محاورتی جملہ کہا تھا کہ اگر ہندوستان نے ایٹم بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے خواہ ہمیں گھاس کھا کر ہی کیوں نہ گزارہ کرنا پڑے۔ ان کا یہ فقرہ بے حد مشہور ہوگیا تھا۔ جیسا کہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں گھاس کھانا بہت آسان ہے مگر ایٹم بم بنانے کا کام، وہ بھی پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں، تقریباً ایک ناممکن کام تھا۔ غیر تو غیر اپنے بھی مذاق اُڑانے لگے تھے ۔ سابق چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی نے ہمارے سابق وزیر خارجہ اور میرے پیارے دوست ریاض محمد خان سے امریکہ میں کہا تھا کہ ایک لڑکا آیا ہے اور قوم کو بیوقوف بنا رہا ہے کہ مکھن بنانے والے طریقہ (مدھانی) سے ایٹم بم بنا کر دے گا۔ گویا سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کو مکھن بنانے والی مشین سے مشابہت دی تھی۔ پاکستان اِٹامک انرجی کمیشن غالباً 1958ء میں بنایا گیا تھا اور جب میں نے ان کے ایڈوائزر کے طور پر جنوری 1976ء میں کام شروع کیا تھا تو اس میدان میں کوئی کام نہیں ہوا تھا۔
تاریخی واقعہ یہ ہے کہ میں دسمبر 1971ء میں بلجیئم کی مشہور 600 سال پرانی یونیورسٹی لیوون (Leuven) میں ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری کیلئے تھیسس جمع کرچکا تھا اور دفاع کی تاریخ متعین ہونے کا منتظر تھا۔ اس وقت سابقہ مشرقی پاکستان میں ایک قیامت برپا تھی۔ جب میں نے TV پر پاکستانی افواج کی ذلّت آمیز شکست اور ہتھیار ڈالنے کے مناظر دیکھے تو کئی دن کھانا ٹھیک سے نہ کھا سکا، ہمیشہ خاموشی سے خون کے آنسو روتا رہا۔ مگر کچھ کرنے کے قابل نہ تھا۔ البتہ یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے اس قابل کیا تو ملک کو ایسی ذلّت کا دوبارہ سامنا نہ کرنے دوں گا اور اس موقع کے لئے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ 18 مئی 1974ء کو ہندوستان نے دنیا کے اعتماد کو ایک ناقابل تلافی دھچکہ دیا اور ایٹمی دھماکہ کردیا۔ مغربی ممالک نے دکھاوے کا شور شرابا کیا مگر درحقیقت ان کی مدد سے ہندوستان اس قابل ہوا تھا۔اس میں اس کی انگلستان، امریکہ اور کینیڈا نے بہت مدد کی تھی۔ اس ایٹمی دھماکے نے پاکستانیوں کے ہوش و حواس اُڑا دیئے۔ بھٹو صاحب نے بیانات تو سخت دیئے مگر ان کے پاس مناسب جواب دینے کے لئے کچھ نہ تھا۔ انہوں نے جنوری 1972ء کو ڈاکٹر عثمانی کو ہٹا کر منیر احمد خان کو اِٹامک انرجی کمیشن کا چیئرمین بنا دیا۔ یہ کام انہوں نے شیخ خورشید احمد (منیر کے بڑے بھائی) کی سفارش پر کیا کہ منیر احمد خان بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی میں کام کررہے تھے اور ’’ماہر‘‘ تھے۔ بھٹو صاحب کو تعجب ہے کہ یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ادارہ صرف دنیا میں ایٹمی سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھتا ہے یعنی بک کیپنگ کرتا ہے ورنہ اس کے سربراہ سول سرونٹس نہ ہوتے جو کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا الف ب بھی نہیں جانتے۔ منیر احمد خان نے لاہور سے صرف بی ایس سی الیکٹریکل انجینئرنگ کی تھی اور اٹامک انرجی کمیشن میں بھرتی ہوکر امریکہ گئے اور واپس آنے سے انکار کردیا۔ وہاں ایک تیسرے درجہ کے تعلیمی ادارے نارتھ کیرولینا اسٹیٹ پولی ٹیکنک سے 9 ماہ کا کورس کرکے الیکٹرک پاور میں ڈگری حاصل کی اور پروفیسر ڈاکٹر رضی الدین کی سفارش پر IAEA میں معمولی سی نوکری مل گئی، یہ ادارہ نیا، نیا بنا تھا اور ہم دنیا کے پانچویں بڑے ملک تھے اس لئے ہمیں بھی چند نچلے درجہ کی جگہیں دی گئی تھیں۔ پاکستان پہنچ کر منیر احمد خان ڈاکٹر منیر احمد خان بن گئے اور بھٹو صاحب سے جھوٹا وعدہ کیا کہ 1976ء میں ایٹمی دھماکہ کردیں گے۔یہ ایک نہایت نامناسب اور جھوٹا وعدہ تھا ۔ جناب کوثر نیازی (بھٹو صاحب کے وزیر) نے اپنی کتاب ’’اور لائن کٹ گئی‘‘ میں صاف صاف اس دھوکہ دہی پر تبصرہ کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ ہمارے پاس نہ ہی کوئی ری ایکٹر IAEA کی نگرانی سے باہر تھا، نہ ہی ایندھن بنانے کا کارخانہ تھا نہ ہی ری پروسیسنگ پلانٹ اس نگرانی سے باہر تھے اور نہ ہی ہمارے پاس کہیں سے خریدا ہوا یا ملا ہوا افزودہ یورینیم یا پلوٹونیم تھا۔ ان چیزوں کی غیر موجودگی میں ایٹم بم بنانے کا کہنا چاند پر غلیل سے پتھر پھینکنے کے برابر تھا۔ بھٹو صاحب شروع میں تو دھوکے میں آگئے تھے مگر جب میں نے 1976ء میں ان کو یہی بات بتائی تو آگ بگولہ ہو گئے اور میری موجودگی میں جناب آغا شاہی اور جنرل امتیاز سے کہا کہ اس شخص نے جھوٹ بولا ہے اور مجھے دھوکہ دیا ہے، نیا آدمی ڈھونڈو اور اس کو باہر کرو۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کو جلد کوئی متبادل شخص نہ مل سکا اور بھٹو صاحب نے الیکشن کا اعلان کردیا اور اپنے چکروں میں پھنس کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اللہ پاک ان کو جنت نصیب کرے۔ آمین۔ جولائی 1976ء میں جب بھٹو صاحب کو میں نے تمام حقائق سے آگاہ کیا تھا تو انہوں نے یورینیم کی افزودگی کے پروجیکٹ کو ایک خود مختار ادارہ بنا کر میری سرپرستی میں دے دیا تھا اور اس کا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا تھا۔ ایک بااختیار بورڈ جس کے ممبران جناب غلام اسحاق خان، جناب اے جی این قاضی اور جناب آغا شاہی تھے بنا کر ایٹمی پروگرام کی دیکھ بھال اس کو سونپ دی گئی تھی۔ میں نے اپنے قابل اور محب وطن ساتھیوں کے ساتھ جس طرح ایک قلیل مدّت میں اس پسماندہ ملک کو ایٹمی قوّت بنا دیا وہ آگے چل کر بتائوں گا۔اس وقت ایک نہایت المناک خبر آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔
میں نے چارج لیتے ہی آرمی کی RME برانچ سے چند افسران مانگ لئے ان میں کرنل قاضی رشیدعلی، کرنل عبدالمجید اور کرنل بشیر خان تھے۔ آخرالذکر نے کوئی اہم رول ادا نہیں کیا۔ کرنل مجید (جو مجید چالاکی کے نام سے شہرت یافتہ تھے) وہ الیکٹریکل ڈویژن کے انچارچ بنائے گئے اور اچھا کام کیا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بریگیڈیر شیخ جعفر نے بہت اچھا کام کیا ۔کرنل قاضی نہایت قابل تجربہ کار، نرم گو اور سمجھدار انجینئر تھے انہوں نے اعلیٰ خدمات انجام دیں بعد میں تفصیل بیان کروں گا۔ بریگیڈیئر عزیز الحق فوج میں اچھے الیکٹرانک انجینئر مشہور تھے میں نے ان کو بلا کر نہایت اہم آلہ جات کی تیاری پر لگا دیا۔ انہوں نے بہت اچھا کام کیا مگر بدقسمتی سے جرمنی کے دورہ کے دوران حرکت قلب بند ہوجانے سے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے فوج میں تلاش کرکے ایک اچھی شہرت رکھنے والے بریگیڈیئر عبدالقیوم کو اپنے پاس لگوالیا۔ یہ ہیرا ثابت ہوئے، نمازی، متقی، نرم گو مگر اپنے کام میں ماہر۔ ان کے ذمہ میں نے نہایت اہم کام لگائے تھے اوّل تو سینٹری فیوج کو ہائی اسپیڈ (65000 چکر فی منٹ) پر چلانے والے نہایت حساس اور مشکل انورٹرز، دوم ، سینٹری فیوج کو چلانے والی موٹریں سوم، آرمی کے لئے اعلیٰ کوالٹی کے لیزر رینج فائنڈر جو آرٹلری کے لئے نہایت اہم ضرورت ہے کہ فاصلہ ناپ کر گولہ باری ہدف پر کی جاتی ہے ۔
انہوں نے ہزاروں عدد نہایت اعلیٰ معیار کے یہ آلہ جات آرمی کو دے دیئے مگر ان کی نہایت ہی اہم ذمہ داری ایٹمی ہتھیاروں کو چلانے والا فائرنگ سسٹم تھا۔ ایٹم بم کے اوپر باہری سطح پر آتشی مادہ لگایا جاتا ہے اور اس میں چاروں طرف فائرنگ کرنے والے چھوٹے سے کارتوس نما ٹریگرز لگائے جاتے ہیں ان کو بیک وقت فائرکرنا ضروری ہوتا ہے اور اس میں کسی فرق کی گنجائش نہیں، ان کی تعداد کافی ہوتی ہے اور سب کو بیک وقت فائر کرنا ایک ہنر ہے اگر ان کی فائرنگ میں فرق آجائے تو ایٹمی ہتھیار کے چلنے میں ناکامی کا بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ بریگیڈیئر قیوم نے یہ سسٹم پرفیکٹ کیا تھا اور یہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔ کام میں سستی یا خرابی ان کو قبول نہ تھی۔ تقریباً دو سال پہلے ان کو اسٹروک ہوگیا تھا مگر ماشاء اللہ سنبھل گئے تھے مگر بہت دبلے اور کمزور ہوگئے تھے۔ چند ماہ سے مجھ سے ملنے نہیں آئے اور پوچھنے پر علم ہوا کہ طبیعت ٹھیک نہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لاتعداد فلاحی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اچانک 24جون کو ہمارے ایک اور انجینئر بریگیڈیئر انصاری کا پیغام ملا کہ بریگیڈیئرعبدالقیوم رحلت فرما گئے ہیں انا للہ و انا الہ راجعون۔ 25 کی شام بعد عصر چکلالہ تین اسکیم کی مرکزی مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، ہمارے ادارے کے لاتعداد لوگوں کے علاوہ اس علاقہ کے بھی لاتعداد لوگوں نے شرکت کی۔ ان کے بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میری زندگی کا ایک نہایت اہم باب بند ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: