Mustansar Hussain Tarar

علی مردان خان اور بدھو کا مقبرہ از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

ہم جب کبھی روزمرہ کی گفتگو کے دوران کسی گاﺅں‘کسی شہر‘ آس پاس کے کسی گلی محلے یا علاقے کا نام لیتے ہیں تو سرسری گزر جاتے ہیں کہ یہ محض ایک نام ہے ایک پہچان ہے‘ہم کم ہی اس کی کسی تاریخی نسبت یا قدامت کے کسی حوالے پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ چوہڑکانہ ہے تو یہ شخص چوہڑ کون تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کو آباد کرنے والا درویش ٹیک سنگھ کہاں سے آیا تھا۔ وہ گویا سائیں کون تھا جس کے نام کے تالاب کو سرگودھا کہا گیا وغیرہ۔ اسی طور روایت ہے کہ اس نے اپنا مقبرہ اپنی زندگی میں ہی تعمیر کروا لیا تھا۔ ظاہر ہے جو شخص شاہجہان کا چیف انجینئر اور ماہر تعمیرات تھا اس نے اپنے مقبرے کی تعمیر و تزئین میں تو کمال کر دیا ہو گا۔ لیکن ہم سے وہ کمال پوشیدہ ہی رہا۔ مغلپورہ کی لوکو ورکشاپ کے سامنے سرکاری اور بوسیدہ ہو چکی عمارتوں کی دیواروں کے باہر ایک ایسا زنگ آلود نیلا بورڈ آویزاں تھا جس کی تمام عبارت کو زنگ چاٹ چکا تھا اور صرف ”مقبرہ علی مردان“ کسی حد تک پڑھا جا سکتا تھا۔ اس بورڈ کے برابر میں ایک طویل سرنگ نما راستہ چلا جاتا تھا۔ شنید تھی کہ اس سرنگ کے پار کہیں مردان خان کا مرقد ہے لیکن سرنگ نما راستہ بھی کھلا نہ تھا۔ ایک آہنی پھاٹک کی سلاخیں راستے میں حائل تھیں جن میں سے وہ سرنگ دور تک جاتی دکھائی دیتی تھی اور وہ پھاٹک مقفل تھا کھوج کرنے پر کھلا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر صرف جمعرات کو علی مردان خان کے مقبرے کا یہ پھاٹک کھلتا ہے۔ بقیہ ہفتہ قفل زدہ رہتا ہے اس قفل زدگی میں کیا حکمت عملی پوشیدہ تھی ہم تو نہ جان سکتے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے کہ ایک اہم تاریخی مقبرے کو لوگوں کی نظروں سے کیوں چھپایا جا رہا ہے۔ اسے میں تو ایک تاریخی جرم کا نام دوں گا۔

لاہور کے یہ علاقے مغلپورہ ‘ باغبانپورہ اور بیگم پورہ وغیرہ کیوں کہلاتے ہیں ‘ صرف مغلپورہ کو الگ کر لیجیے تو کھلے گا کہ اس علاقے میں مغل رﺅسا اور شہزادوں کی شاہانہ رہائش گاہیں تھیں اور اسلئے بہت سے مغل مقابر اور مساجد مغلپورہ کی گھنی آبادی میں اگر تلاش کریں تو مل ہی جاتے ہیں ان میں ایک مقبرہ شاہجہاں کے تعمیراتی مشیر اور انجینئر علی مردان خان کا ہے جسکے بارے میں لکھا گیاکہ یہ مقبرہ ‘ مقبرہ جہانگیر کی گل بہار آرائشوں اور شان و شوکت کی عظمتوں کی ہمسری کرتا تھا۔ کنہیا لال لکھتے ہیں کہ علی مردان خان خصوصاً عمارت کے کام میں ایسا استاد تھا کہ کروڑوں روپے اسکے ہاتھ سے صرف ہوئے علی مردان خان کا باغ المشہور نولکھا دہلی کی نہر جو عین شہر اور قلعہ میں پھرتی ہے اس شخص نے کھدوائی‘ دہلی سے ہانس حصار تک جانےوالی نہر اور پھر نہر ہنسلی مادھو پور بھی اسی نے کھدوائی جسے لاہور لا کر شالامار کو سیراب کیا۔ شالامار کا پورا آبی نظام اسی مردان خان کی مہارت نے قائم کیا ‘ ہذاالقیاس دیگر ہزاروں عمارتیں بنوائیں جن کا حدوحساب نہیں‘ آخر 1066ہجری میں فوت ہو کر اسی جگہ مدفون ہوا جہاں اب مقبرہ بنا ہوا ہے۔ صدیق شہزاد مردان خان کا یہ مقبرہ دیکھ چکا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اس عمارت کی جتنی بھی آرائشیں امتعداد زمانہ کا شکار نہیں ہوئیں وہ دیکھنے کے لائق ہیں اور بے مثال ہیں۔

ہم اس سرنگ میں تانک جھانک کر چلے آئے یہ سوچ کر کہ چلو ہم علی مردان خان کا مقبرہ تو نہ دیکھیں گے لیکن لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ وہ ابلتے فوارے ‘ ترل رل گرتی آبشاریں اور تالاب شالیمار کے وہ آبی نظام جو آج بھی رواں ہیں‘ جنہیں علی مردان خان ایسے انجینئر نے تخلیق کیا کہ آج کی آوارگی کا اختتام شالیمار باغ میں ایک لاہوری ناشتے کے اہتمام پر ہونا تھا‘ تب ہماری سفید مینڈکی چلی اور چلتی گئی اور ہمیں بدھو کے پاس لے گئی‘ یاد رہے کہ آج ہم نے دو بدھوﺅں سے ملاقات کرنی تھی ایک وہ جس کے مبینہ مقبرے کے باہر ہم کھڑے تھے اور ایک وہ جو اپنی ’حویلی‘ کی کھنڈر دیواروں کے سائے میں نہیں جانتا تھا کہ ہم اسے ملنے کےلئے چلے آ رہے ہیں اور یہ بدھو زندہ تھا اور اب بھٹوہو چکا تھا ان زمانوں میں بدھو کا لفظ علامت ہے حماقت کی اور سادہ لوحی اور بیوقوفی کی۔ یعنی لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ جانے کیوں کچھ لوگوں کو بدھو پلستر بھی کہا جاتا ہے اور کسی دیسی کھیل مثلاً گلی ڈنڈا یا کشتی وغیرہ کے دوران مدمخالف کو ”ہٹ کے بدھو“ بھی کہا جاتا ہے جبکہ پرانے زمانوں میں بہت سے بدھو ہوا کرتے تھے اور ان کا شمار شرفاءاورفقرا میں ہوتا تھا ۔

مثلاً جھنگی بدھو شاہ ایک سید بادشاہ تھے‘انکی رہائش گاہ کا نام تھا جو ثمردار درختوں یعنی آم‘ شہتوت ‘ انار‘ لیموں‘ جامن اور بیریوں کے جھنڈ میں گھری ہوئی تھی اور اس جھنڈ کو پنجابی میں جھنگی کہا جاتا ہے جیسے ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بلیندا یعنی اس عشق کے ثمر آور باغوںمیں مور بولتا ہے‘ اس بدھو شاہ کا شجرہ نسب خادم جنید بغدادی‘ حسن بصری سے ہوتا ہوا حضرت علیؓ تک جا پہنچتا ہے چنانچہ وہ کوئی معمولی ہستینہ تھے‘ میرا قیاس ہے کہ یہ کسی نام کا بگڑا ہوا لقب ہے اور بعد کے زمانوںمیں شاےد اسکے صوتی تاثرات کی بنا پر اسے حماقت سے منسلک کر دیا گیا‘ اس بدھو شاہ کے ایک بیٹے کا نام بھی بڈھن شاہ تھا چنانچہ ہم ایک ایسے مقبرے کے سامنے کھڑے تھے جو بدھو کا نہ تھا لیکن ایک مدت تک اسکے نام سے منسوب رہا اور یہ بدھو کون تھا جسکے نام کا ایک ٹیلہ ”بدھو دا آوا“ اب بھی کہیں موجود ہے یہ آوا یا بھٹہ لاہور سے مشرق رویہ بہ فاصلہ تین میل کے تھا۔ شاہجہان کے عہد میں بدھو نام کا ایک کمہار اینٹیں بنانے میں کمال رکھتا تھا اور چونکہ اس عہد میں شاہجہان سلطنت کے دیگر فرائض سے غافل ہو کر دن رات محلات‘ باغات اور مقبرے وغیرہ تعمیر کرنے میں مشغول ہو گیااور عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں چنانچہ بدھو شاہجہان کا ایک محبوب ہوا کہ اسے اینٹ کا بادشاہ قرار دے دیا۔ بدھو کی دھوم پڑ گئی اور اسکا شمار لاہور کے متمول افراد میں ہونے لگا‘کہتے ہیں کہ ایک روز شدید بارش میں سردی سے کانپتا ایک مجذوب عبدالحق نامی بدھو کے بھٹے پر پہنچا اورتاپنے کےلئے کچھ آگ طلب کی‘ بدھو صاحب دولت کے نشے میں تھے مجذوب کو زدوکوب کرکے نکال دیا‘مجذوب صاحب نے طیش میں آکر بددعا دی کہ جا تیرا بھٹہ بیٹھ جائے۔

تیری اینٹیں کچی رہ جائیں‘اب بدھو میاں لاکھ آگ جلائیں تو وہ جلے اوربجھ جائے اسکا واقعی بھٹہ بیٹھ گیا تب مجذوب سے معافی کا خواستگار ہوا تو اس نے دعا دی کہ جا تیری کچی اینٹیں بھی سونے کے بھاﺅ فروخت ہوجائیں اور ایسا ہی ہوا۔فقیر عبدالحق کے مرنے پر بدھو نے اس کےلئے ایک شاندار مقبرہ تعمیر کیا۔ اینٹیں چونکہ گھر کی تھیں اسلئے کچھ زیادہ خرچہ نہ ہوا ہو گا ہم جس مقبرے کے سامنے کھڑے تھے وہ بھی مقفل تھا اور آہنی جنگلے کے پیچھے ایک بورڈ آویزاں تھا۔ ”بدھو کا مقبرہ“ عام طور پر یہ مقبرہ بدھو کے نام سے موسوم ہے جو شاہ جہاں دور میں شاہی عمارتوں کی تعمیر کے لئے اینٹیں مہیا کرتا تھا لیکن تاریخی اعتبار سے یہ بقرہ خان دوراں کی بیوی سے موسوم ہے جس میں اسکی بیوی مدفون ہے‘خان دوراں بہادر نصرت جنگ شاہجہاں کے عہد میں اہم امرادربار میں شمارہوتا تھا‘ وہ 1643ءمیں فوت ہوا وہ اپنی بیوی کے نزدیک مقبرہ میں مدفون ہوا غالباً یہ مقبرہ ایک چہار دیواری والے باغ کے اندر تھا جسکے چاروں طرف محرابی دالان تھا‘ بلند گنبد کو روغنی اینٹوں سے سجایاگیا‘ ویسے اس ویران مقبرے کا گنبد جو نیلی روغنی اینٹوں سے ڈھکا ہوا ہے نہاےت منفرد اور دیکھنے کے لائق ہے‘ سمر قند میں امیر تیمور کے مدفن ’گور امیر‘ کے شاندار گنبد سے بے حد مشابہت رکھتا ہے‘ بدھو بے چارہ بدھو ہی رہا‘اس مجذوب کے مقبرے کےساتھ اپنے لئے بھی ایک شاندار مقبرہ تعمیر کر لیتا‘جانے کہاں دفن ہے‘بدھوﺅں کے نصیب ایسے ہی ہوتے ہیں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: