2Below header

مسٹرٹوبی اورراکاپوشی کے گدھے از مستنصر حسین تارڑ

4Above single post content

میں تذکرہ کر رہا تھا آج سے ساٹھ برس پیشتر کے انگلستان کے شہر مانچسٹر کا جہاں 14باربرا سٹریٹ کے ایک بوسیدہ وکٹورین گھر میں میرا عارضی قیام تھا۔ گھر کے مالک میرے دور پار کے عزیز حلال گوشت کے سلسلے میں شہر سے باہر کسی کسان سے متعدد مرغیاں خرید لاتے اور انہیں کوئلے کے لئے وقف تہہ خانے کے اندھیرے میں روپوش کر دیتے چوری چھپے پائیں باغ میں انہیں حلال کرتے اور ان کے بال و پر زمین میں دفن کر دیتے کہ جانوروں کو یوں ’ہلاک‘ کرنا ایک قابل تعزیر جرم تھا۔ شومئی قسمت کہ ایسے کچھ بال و پر برابر کے گھر میں اڑ کر چلے گئے اور وہاں مقیم ایک بڑھیا نے کسی محکمے سے شکایت کر دی جس کے نتیجے میں ایک پکا صاحب ٹائپ گورا تفتیش کے لئے آدھمکا جس کا نام مسٹر ٹوبی تھا۔ میں نے ٹوبی صاحب کو بتایا کہ صاحب جی توبہ توبہ ہم تہذیب یافتہ لوگ ہیں بھلا ہم پرندوں وغیرہ کو بیدردی سے ہلاک کےسے کر سکتے ہیں‘ آپ کو غلط اطلاع ملی ہے‘گورا صاحب نے سرسری طور پر ادھر ادھر جھانکا اور جب معذرت کر کے جانے لگا تو اسکی نگاہ تہہ خانے کے کھلے دروازے پر جا ٹھہری‘اسکے اندر کیا ہے!“ اب میں اسے کیسے بتا سکتا تھا کہ اسکے اندھیروں میں درجنوں غیر قانونی مرغیاں بسرام کرتی ہیں۔ ’اس کے اندر کیا ہونا ہے‘ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا ’کوئلہ وغیرہ ہے ‘آتش دان کےلئے‘ میرا خیال ہے کہ مسٹر ٹوبی کو تہہ خانے میں سے کوئی ک±ڑ ک±ڑ کی آواز آئی تھی کہ وہ ذرا مشکوک ہو گیا ’کیا میں دیکھ سکتاہوں!‘میں کیسے انکار کر سکتا تھا’جی بالکل…

ویسے تہہ خانے میں اندھیرا بہت ہے۔ نیچے اترتی سیڑھیاں بھی مخدوش حالت میں ہیں‘ وہ دروازے کی جانب بڑھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارا جرم فاش ہو جائے گا۔ مالِ مسروقہ مرغیاں وغیرہ پکڑی جائیں گی اور ہم دھر لئے جائیں گے‘ مسٹرٹوبی نے تہہ خانے کی تاریک سیڑھیوں پر احتیاط سے قدم رکھا‘ہاتھ میں تھامے چھاتے کا سہارا لیا اور نابیناﺅں کی طرح ایک ایک سیڑھی اترنے لگا پانچویںسیڑھی پر ایک نہایت پلا ہوا مرغ اندھیرے میں استراحت فرما رہا تھا۔ ٹوبی کا پاﺅں اس نیم خوابیدہ مرغ پر جا پڑا اور مرغ نے ہڑبڑا کر‘ پھڑ پھڑاکر ایک ’کڑاں‘ کی آواز بلند کی۔ مسٹرٹوبی کا ہیٹ کہیں جا گرا اور چھاتا ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ خوفزدہ آوازیں نکالتا،لرزتا ہوا واپس آ گیا اور کہنے لگا ”تہہ خانے میں جانے کیا شے ہے جو مجھ پر حملہ آور ہونے کو تھی۔ کیا ہے؟ آپ نے اس کی آواز سنی ہو گی۔ میں نے نہایت معصومیت سے کہا ’کونسی آواز‘حالانکہ اس مرغ کی کڑاں ’ساتھ والے گھروں کے اندر بھی گئی ہو گی‘ اندر کیا ہونا ہے صاحب … آپ کو وہم ہوا ہے ’مسٹر ٹوبی کو یقین تھا کہ تہہ خانہ آسیب زدہ ہے اور یہ عجیب دلدوز آواز کسی ناخلف بھوت کی تھی۔ وہ فی الفور لرزتا ہوا وہاں سے فرار ہو گیا اور پھر کبھی نہ لوٹا‘ وہ مرغ جس کی کڑاں نے مسٹر ٹوبی کو حواس باختہ کر دیا تھا اور ہمیں گرفتار ہونے سے بچا لیا تھا ہم سب کا ہیرو ہو گیا…اس کا نام مسٹر ٹوبی رکھ دیا گیااور اس کی گرانقدر خدمات کے عوض اسے کبھی حلال نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا گیا۔ مرغیاں باقاعدگی سے آتی رہیں اور ہماری ہانڈیوں میں جاتی رہیں لیکن مسٹرٹوبی ایک قومی یادگار کی مانند محفوظ کر لیا گیا فرانس کے مرغ موریس نے حالانکہ کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا۔

محض صبح سویرے ککڑوں کڑوں کی صدائیں بلند کر کے ہمسایوں کی نیندیں حرام کی تھیں۔ اس کے باوجود اس کے حق میں پورے فرانس میں احتجاج جاری ہے کہ ہمارے مرغ کی آزادی اظہار پر پابندی نہ لگائی جائے‘اسے بولنے دیا جائے کہ اسکی یہ آواز دیہاتی ماحول کا ایک لازمی جزو ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جہاں شہر اپنے شوروغل اور بھیڑ بھاڑ سے پہچانے جاتے ہیں وہاں دور افتادہ دیہات مختلف پرندوں اور جانوروں کی آوازوں کی صورت ہمارے سامنے آتے ہیں‘مرغوں کی صبح سویرے اذانیں‘مویشیوں کی ڈکراہٹ‘ بکریوں اور بھیڑوں کی منمناہٹ اور گدھوں کی ڈھینچوں ڈھینچوں گاﺅں کی صوتی تصویر کو مکمل کرتی ہیں‘ان میں گدھے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ انکی والہانہ پکار سے آس پاس کے دیہات کی گلیاں بھی گونجنے لگتی ہیں‘کیا آپ گدھے کی آواز کے بغیر کسی گاﺅں کا تصور کر سکتے ہیں‘ جمہوریت کا تصور کر سکتے ہیں کیا آپ گدھوں کی ڈھینچوں ڈھینچوں پر پابندی لگا سکتے ہیں‘ہرگز نہیں‘ میں یہاں راکاپوشی کے بے مثال گدھوں کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کوہ نوردی کا دستور ہے کہ اگر راستے دشوار ہیں بلکہ سرے سے مفقود ہیں تو آپ اپنا سامان اٹھانے کےلئے پروفیشل پورٹرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور اگر منزل مقصود بے شک دشوار ہو لیکن وہاں تک کوئی پگڈنڈی وغیرہ جاتی ہو تو آپ خچروں یا گدھوں سے رجوع کرتے ہیں‘ یعنی انکے مالکوں سے معاملات طے کرتے ہیں‘ راکا پوشی جسے میں برف کا معبد کہا کرتا ہوں‘ریاست نگر میں واقع ہے اور اسکا شمار دنیا کی خوبصورت ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے اور نگر میں ہی ایک مہربان شخص سید اسرار حسین‘ عجیب نام کا اوشو تھانگ ہوٹل چلاتا ہے‘۔

جہاں قیام کرنا گویا بہشت کے ایک ٹکڑے میں قیام کرنا ہے تو اس راکا پوشی کے بیس کیمپ تاگافیری تک کا سفر دو دن کا ہے اور وہاں تک نہ صرف ہم گئے بلکہ گدھے بھی گئے‘ گدھوں پر سے سامان اتار کر انہیں بیس کیمپ میں کھلا چھوڑ دیا گیا‘ اردگرد تاحدنظر برف کی سلطنت‘ راکا پوشی کی شانداری اور درمیان میں ایک گھاس بھرا میدان جہاں ہم خیمہ زن ہوئے‘اسرار نے ہمارے لئے دنیا جہان کے پکوان تیار کئے‘ ہم ڈنر سے فارغ ہو کر اپنے خیموں میں چلے گئے کہ تھکاوٹ سے برا حال تھا‘ابھی ہم نیند کی وادیوں میں اترنے کوتھے کہ باہر چراگاہ میں‘ چاندنی رات میں‘ برفانی تنہائی کی خاموشی میں پہلا گدھا بولا۔ اس نے ایک لمبی تان لگائی جسکے اختتام سے پیشتر دیگر درجن بھر گدھے بھی اس کارمیں شامل ہو گئے‘ البتہ ہر گدھا کلاسیکی موسیقی کا ماہر تھا اور اپنا اپنا راگ الاپتا تھا۔ بے شک وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا تھا لیکن کوئی بھی موسیقی کا رسیا بتا سکتا تھا کہ یہ تو راگ مالکونس کا الاپ ہے اور یہ صاحب جو بہت لجاجت سے ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہے ہیں راگ درباری کی گتھیاں سلجھا رہے ہیں ‘ہم موسیقی کے رموز سے ناواقف نہایت بیزار ہوئے یہ گدھے سانس بھی نہ لیتے تھے مسلسل نغمہ سرائی میں مشغول تھے۔ چنانچہ رات بھر طالع بیدار نے نہیں‘ گدھوں نے سونے نہ دیا صبح سویرے اسرار کو طلب کیا کہ برادر کیا آج رات بھی یہ گدھے اس طور نیندیں حرام کرینگے کیا انہیں خاموش کرنے کا کوئی طریقہ ہے تو اسرار شرمندہ سا ہو کر بولا۔ سر کیا عرض کروں اےساناممکن ہے ‘ آگے آپ کی مرضی۔ بات فرانس کے موریس مرغ مسٹر ٹوبی سے شروع ہو کر راکاپوشی کے گدھوں تک آن پہنچی ہے اور کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ موریس مرغ کے علاوہ ہمارے گدھوں کو بھی بولنے کا حق ملنا چاہئے کہ یہی تو جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: