Mustansar Hussain Tarar

ذرا دھیان کیجئے…. از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

ہم اپنے قدیم شہروں‘ گلی کوچوں‘ شاہراہوں اور باغوں وغیرہ کے نام بدلنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں…کیا رکھتے ہیں یدطولیٰ.. اپنے شہر نہیں بساتے‘ اپنے نئے گلی کوچے تعمیر نہیں کرتے‘ نہ اپنی شاہراہیں بناتے ہیں اور نہ باغ… بسے ہوئے شہروں‘ گلی کوچوں‘ شاہراہوں اور باغوں کے نام تبدیل کرکے سرخرو ہو جاتے ہیں‘ یوں نام بدل دینا دراصل ایک شدید احساس کمتری اور ناکامی کا اقرار ہے… صرف لاہور کا تذکرہ کریں تو سنت نگر اور کرشن نگر کچھ اور ہوگئے ہیں‘ مال روڈ‘شاہراہ قائداعظم قرار دی گئی ہے لارنس گارڈن کو باغ جناح میں بدل دیاگیا ہے . . . ویسے میں ان محب الوطن عناصر کی توجہ کرشنا گلی‘ گاندھی سکوائر اور گوروارجن نگر کی جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ یہ نام ہماری قومی غیرت پر ایک دھبہ ہیںبلکہ لاہورکانام توہمارے لئے نظریں جھکا دینے کیلئے کافی ہے‘راجہ رام چندر کے بیٹے لوہ کے نام سے بسایا جانے والا شہر ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم فوری طورپر اسکا نام قومی امنگوں کے مطابقت سے بدل دیں… لگے ہاتھوں اسی ہندو مہاراجے کے دوسرے بیٹے کے نام سے آباد قصور کا بھی قلع قمع کر دیں… عجب غضب ہے کہ ابھی تک ایبٹ روڈ‘ بیڈن روڈ اور میکلوڈ روڈ وغیرہ کے متشرع نام رائج نہیں ہو سکے… یعنی کوئی بھی ایبٹ روڈ وغیرہ کو شاہراہ عبدالحمید بن بادیس کے نام سے نہیں پکارتا… مجھے یقین ہے کہ مرحوم شاہ فیصل پاکستان کے کسی لائل پور نام کے شہر سے واقف نہ تھے جو کسی بے چارے انگریز لائل نے آباد کیا تھا…منٹگمری اگرساہیوال ہوگیا تو کیا غم ہے اور اگر چوہڑکانہ کو فاروق آباد اور بھائی پھیرو کو پھول نگر کردیا تو سبحان اللہ… ہم سے زیادہ پاکستان سے عشق کرنے والے حضرات نے اگرچہ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ ہری پور اور ایبٹ آباد وغیرہ کے نام مسلمان کرنے کیلئے بہت زورمارا لیکن مقامی آبادی کے احتجاج کی وجہ سے یہ منصوبہ تکمیل کو نہ پہنچ سکاالبتہ انکی نظر جانے کیوں شاہینوں کے شہر سرگودھا کی جانب نہیں گئی کہ گودھا ایک ہندو سادھو تھا جس نے یہاں ایک سر…

تالاب تعمیر کیا جسکے گرد یہ شہر آباد ہوا… جیسے ٹیک سنگھ بھی ایک ایسا درویش تھا جس نے خلق خدا کی پیاس بجھانے کی خاطر ایک صحرا میں کئی برسوں تک دور کے کنوﺅں سے پانی ڈھوکر ایک ٹوبہ… یعنی تالاب بنایا… قصبوں اور شہروں کے غیر اسلامی ناموں کے بارے میں اگر آپ کچھ واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ انکے نام بھی بدل دیئے جائیں تو فوری طورپر مجھ سے رابطہ کریں‘ صرف کیمبل پور ہی نہیں‘ ہری پور اور مانسہرہ ہی نہیں سوات کے بہت سے قصبوں کے نام بدھ عہد کی یادگارہیں‘ مثلاً بٹ گرام‘ بٹ خیلہ‘ نوگرام‘ سری بہلول وغیرہ… شہروں‘ قصبوں‘ یادگاروں اور باغوں کے نام دراصل کسی بھی سرزمین کی تاریخ اور ثقافت کا تسلسل ہوتے ہیں… آپ بے شک امرکوٹ کو عمر کوٹ کا نام تفویض کردیں وہ شہر بہرطور راجپوت امرسنگھ کا آباد کردہ ہی ہوگا اگرچہ ہندوستان میں بھی تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل جاری رہتا ہے دلی کی مرکزی شاہراہ اورنگ زیب روڈ کا نام بھی بدل ڈالنے کی تجویز زیر غور ہے لیکن انہوں نے شہروں کے ناموں سے کچھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی… ورنہ احمد آباد‘ الہ آباد‘ اورنگ آباد وغیرہ کب کے کرشن آبادہنومان شہر یا رام نگر وغیرہ ہوچکے ہوتے… تمہید ذرا طولانی ہوگئی‘ دراصل کہنا میں کچھ اور چاہتا تھا ایک مدت سے میری ایک خواہش تھی جس کے اظہار کیلئے میں نے اتنی طویل تمہید باندھی… میں عرض کرتا ہوں…

پچھلے دنوں میں نے لاہور کے جناح ہسپتال کے سامنے ایک گلی کے آغاز میں ” ایدھی سٹریٹ“ کا بورڈ آویزاں دیکھا اور دل خوش ہوگیا کہ ایک ہسپتال کے سامنے ایک مسیحا کے نام کی گلی سے زیادہ موزوں اور کیا نام ہوگا… پھر میں نے لاہو ر ہی کی ایک نئی آبادی کی شاہراہ کے آغاز پر” شاہراہ عبدالستار ایدھی“ کا بورڈ دیکھا تو دل بہت ہی خوش خوش ہوگیا اور تب مجھے ایک خیال آیا… پاکستانی شمال میں مجھ ایسے ناکارہ شخص کے نام پر ایک ”تارڑ جھیل“ہے بلکہ سنولیک کی ایک منزل کو” تارڑ سٹاپ“ کا نام بھی دیاگیا تھا تو… ہمارے شاندار شمال میں بے شمار جھیلیں نہایت بے مثال بے نام ہیں‘ درجنوں ایسی برفانی بلندیاں ہیں جو بیس ہزار فٹ سے زیادہ بلند ہیں‘ امریکہ اور یورپ کی بلند ترین چوٹیوں سے بھی بلند اور انکے نام بھی نہیں ہیں صرف اس لئے کہ شمال میں برفانی چوٹیوں کی اتنی کثرت ہے کہ صرف چند ایک بلند ترین چوٹیوں کو ہی مقامی یا غیر ملکی نام دیئے گئے ہیں اگر امریکہ میں ماﺅنٹ کینیڈی یا ماﺅنٹ مکین لے وغیرہ ہوسکتی ہیں تو آخرہم ان چوٹیوں کے نام پاکستان کی پہچان لوگوں پر کیوں نہیں رکھ سکتے… وہ بے نام پڑی ہیں انہیں نام کیوں نہیں دے سکتے … دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو ہے اور مقامی زبان میں اسے چگوری کہا جاتا ہے اور جب ” کے ٹو کہانی“ میں میں نے اسکی برفوں کی محبت میں مبتلا ہو کر” شاہ گوری“ کا نام دیا تو یہ نام مقبول ہوگیا‘ آج کوہ پیمائی کی بہت سی کتابوں میں اسے شاہ گوری ہی کہا جاتا ہے اب” کے ٹو“ تو کوئی باقاعدہ نام نہیں…

ان خطوں کی پیمائش کرنے والے‘ بلندیاں ناپنے والے ایک انگریز جغرافیہ دان نے اپنے سامنے آنے والی بلند ترین چوٹیوں میں سب سے بلند چوٹی کو” کے ون“ کا نام دیا یعنی قراقرم ون دوسرے درجے پر آنیوالی کو” کے ٹو“ کہا اور ازاں بعد یہ سلسلہ” کے سیون“ تک چلا گیا اور جب پیمائش کے پیمانے مزید تحقیق سے زیادہ درست اور قطعی ہوگئے تو انکشاف ہوا کہ جو چوٹی ” کے ٹو“ قرار دی گئی تھی دراصل وہ تو بلندی میں سب سے اونچی ہے” کے ون“ ہے لیکن کے ٹو کا نام رائج ہوگیا‘ تو میری خواہش ہے کہ بے شک مقامی نام چگوری اور میرا نام شاہ گوری برقرار رہے لیکن ہم کے ٹو ترک کر کے اسے یا تو جناح پیک قراردیں یا پھر ایدھی ماﺅنٹین کا نام دیں… اور وہ جو درجنوں وادیاں‘ گلیشئر‘ جھیلیں اور بلند ترین چوٹیاں گمنام پڑی ہیں تو انکو بھی کچھ نام دیں پاکستان کے ادیبوں‘ شاعروں‘ مصوروں‘ صوفی شاعروں‘ اداکاروں‘ گلوکاروں‘ کوہ پیماﺅں… جو لوگ بھی اس ملک کی پہچان ہیں انکے نام دیں… مثلاً منٹو پیک‘ یوسفی پہاڑ‘ انتظار چوٹی‘ عبداللہ حسین جھیل‘فیض جھیل‘ قاسمی پہاڑی‘ صادقین ماﺅنٹین‘ خالد اقبال گلیشئر‘ سعید اختر پڑاﺅ‘ چغتائی وادی‘ بلھے شاہ بلندی‘ بھٹائی برفیں‘ مہدی حسن کی آبشار‘ قوی خان کے جنگل… اور نذیر صابر چوٹی وغیرہ… شاید گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ صاحب کی نظر سے یہ تحریر گزرے‘ انہوں نے مجھے ایک خصوصی ایوارڈ سے سرفراز کیا اورمیرے نام سے ایک خصوصی ایوارڈ کا اجراءکیا تو ان سے گزارش ہے کہ ذرا دھیان کیجئے‘کم از کم کے ٹو کو ماﺅنٹ جناح یا ایدھی ماﺅنٹین قرار دیجئے… یہ بوجوہ ممکن نہ ہو تو کسی نہ کسی گمنام چوٹی کو ” ایدھی پہاڑ“ ڈکلیئر کردیں…

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: