ملک تباہی کے راستے پر

میرا ارادہ تو کسی اور تعلیمی و سائنسی موضوع پر لکھنے کا تھا اور میں نے شروع بھی کردیا تھا مگر لاہور میں منگل کو جو افسوسناک واقعہ ہوا ہے اور ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کو مدنظر رکھ کر میں اس کالم میں ملک کی نہایت خطرناک صورت حال اور تباہی کی جانب روانگی پر کچھ روشنی ڈالنا چاہوں گا۔
اخبارات و ٹی وی پر خبروں سے یہ انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی رہائش گاہ کے باہر غیرقانونی رکاوٹیں، بیریئر لگادئیے گئے تھے اور لاہور ہائی کورٹ نے ان کو ایک بار حکم دیا تھا کہ اس علاقہ کی آبادی کو پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے اور ان کی شکایت کی بنیاد پر یہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کو سیکورٹی مہیا کردے۔ اب پولیس اچانک وہاں پہنچی اور ان رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو قادری صاحب کے حامیوں نے سخت مزاحمت کی اور پتھرائو شروع کردیا۔ پولیس نے جواب میں آنسو گیس شیل فائر کئے اور پھر گولی چلائی جس سے اخباری، ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تمام افسوسناک واقعہ دن بھر تمام ٹی وی اسٹیشن خوب نمک مرچ لگا کر دکھاتے رہے اور قادری صاحب کی اپنے پیروکاروں کی ہمت افزائی اور جوش دلانے کی تقریر دکھاتے رہے۔ یہاں چند باتیں قابل غور ہیں جن کی جانب آپ کی توجہ

دلانا چاہتا ہوں۔
(1)جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے الزام لگایا ہے کہ یہ رکاوٹیں چار سال سے لگی ہوئی تھیں تو کچھ کیوں نہ کیا، اب کیا ضرورت پیش آئی جو یہ کام کیا؟ جی !یہ سوال و اعتراض اس حد تک درست ہے کہ اس میں تاخیر کیوں کی گئی لیکن اس کو جواز بنا کر ایک غلط کام کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش بالکل غلط ہے۔یہ یقیناً حکومتی اداروں کی سخت نااہلی ہے کہ وہ قوانین پر عمل درآمد نہیں کرتے ۔یہاں اسلام آباد میں رہائشی مکانات میں دفاتر، ریسٹورانٹس، گیسٹ ہائوس جگہ جگہ موجود ہیں، سی ڈی اے کبھی کبھی (جب کسی افسر کا ’’موڈ‘‘ ہوتا ہے) کسی بھی ادارے کو نوٹس دےدیتی ہے اور عملہ توڑ پھوڑ کرنے پہنچ جاتا ہے جبکہ درجنوں دوسرے قانون شکن مزے اُڑاتے رہتے ہیں۔
(2)لاہور کا پولیس ایکشن نہایت بھونڈے طریقہ سے کیا گیا۔ دن بھر مجمع پر پولیس پتھرائو کرتی رہی اور کبھی کبھی آنسو گیس پھینکتی رہی۔ خدا جانے یہ کیسے امن و امان قائم کرنے والے ہیں۔ اگر یہ فوراً سو ، دوسو آنسو گیس گولے پھینک دیتے تو مجمع خود بخود منتشر ہوجاتا۔ اس کے ساتھ اگر واٹر کینن کا استعمال کرتے تو بھی مجمع منتشر ہو جاتا مگر پولیس والے پتھر بازی میں مزے لے رہے تھے اور گلو بٹ نامی شخص سے کاروں کی توڑ پھوڑ کرواکر کولا پی رہے تھے اور سپرنٹنڈنٹ صاحب اس کو گلے لگا کر جپّھی لگا رہے تھے اور شاباشی دے رہے تھے۔
(3)ڈاکٹر طاہر القادری صاحب جس طرح ہزاروں میل دور آرام سے بیٹھ کر ناسمجھ عورتوں اور بچوں اور مردوں کو مروا رہے تھے وہ کوئی اچھا کام نہ تھا۔ لوگوں کو جوش دلانا، بھڑکانا اور ان کو جنت جانے کا فتویٰ دینا میری نگاہ میں ناقابل قبول عمل ہے۔ ہم سب کو علم ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نواز شریف کے پروردہ ہیں۔ یہ انہیں ساتھ بٹھا کر اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کرتے تھے جس طرح آرمی چیف بنانے سے پہلے موجودہ حکمراں بھی مشرف کی مہمان نوازی کرتے رہتے تھے۔
(4)میں آج یہاں ایک اہم موضوع پر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہمارے غیر ممالک میں مقیم پاکستانی ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں یہ لوگ غیرملکوں میں سخت محنت و مشقت کرکے تقریباً 14,13 ارب ڈالر ہر سال پاکستان بھیجتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مقیم لوگوں کو ان ممالک نے اپنی شہریت نہیں دی ہے جبکہ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلستان وغیرہ نے ایک مقررہ مدت کے قیام کے بعد ان پاکستانیوں کو اپنی شہریت دیدی ہے لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے جب یہ لوگ ان ممالک کی شہریت لیتے ہیں تو یہ پاکستانی شہریت چھوڑتے ہیں بلکہ چھوڑنا پڑتی ہے، یہ اس ملک سے وفاداری کا حلف اُٹھاتے ہیں اور یہ حلف بھی کہ وہ اس ملک کی خاطر جان و مال دینے سے گریز نہ کریں گے۔ یہ تمام چیزیں معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان کو سمندر پار پاکستانی ہونے کا کارڈ حکومت پاکستان دے دیتی ہے جس کی مدد سے وہ بلاویزا پاکستان آجاسکتے ہیں، کاروبار کرسکتے ہیں اور املاک خرید سکتے ہیں۔مگر ڈاکٹر طاہر القادری اور جناب الطاف حسین صاحب کو بھی تو غور کرنا چاہئے کیونکہ ان کے مخالف کہتے ہیں کہ وہ باہر بیٹھ کر ملک میں عوام کواُکسارکر بار بار امن و امان خراب کرنے کیلئے تقریریں کرتے رہتے ہیں، مخالفین کا یہ بھی الزام ہے کہ وہ ملک کے اندر ابتری پھیلاتے ہیں، ہڑتالیں کراتے ہیں، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند کرادیتے ہیں اور پھر فخر سے یہ کہتے ہیں کہ لاکھوں لوگ ان کی آواز پر ملک کو اپاہچ کردینگے اور ساکت کردینگے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح انہوں نے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، بچوں کی تعلیم تباہ کردی، غریبوں کا روزگار ختم کردیا اور ان کے اس دعوے پر کہ ایساعوام ’’اپنی مرضی‘‘ سے کرتے ہیں مخالفین یہ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے والنٹیر موٹر سائیکلوں پر گھوم گھوم کر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر کاروبار بند نہیں کیا تو خیر نہیں۔ اس طرح جو نقصان عوام اور ملک کو پہنچا ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔ شاید آمروں نے بھی ملک کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہوگا جتنا مخالفین کے کہنے کے مطابق ان لوگوں نے پاکستان کو پہنچایا ہے۔ مخالفین کے بقول یہ جذباتی، غلط راہ پر ڈالنے والے نعروں سے غریب عوام کو استعمال کرکے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں۔ پہلے مشرف ، پھر زرداری اور اب نواز شریف نے بھی یہی بزدلانہ مصالحت خواہانہ رویّہ اختیار کیا ہوا ہے اور بلیک میل ہو رہے ہیں۔ ایک غیر ملکی شہریت والا غیرملکی ہے اس کو اس ملک کی سیاست میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں یا تو حکومت قانون سازی کرکے اس پر پابندی لگا دے یا اٹارنی جنرل سے سپریم کورٹ میں ریفرنس داخل کرادے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ڈاکٹر طاہر القادری کے چند منٹ میں بال و پر کاٹ کر چھوڑ دیا تھا، ان کو عدالت میں ان کا حکومت کینیڈا کو دیا گیا عہد ِوفاداری پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ بعض حلقوں کا یہ خیال ہے کہ اگر حکومت کو امن و امان قائم کرنا ہے اور ملک میں سکون قائم کرنا ہے تو پھر یہ باہر کے یا غیرملکی سیاست دانوں کی فون پر اشتعال انگیزی لازمی طور پر بند کرنا ہوگی۔
(5)وزیر اعظم نے اپنی پیاری بیٹی کو ایک دو نہیں پورے سو ارب روپے دے دیئے کہ نوجوانوں کو روزگار کے ذرائع میسر ہوسکیں۔ اتنی بڑی رقم کا وہی حال ہوگا جو پہلے یلوکیب اور لیپ ٹاپ کا ہوا ہے۔ اگر وزیر اعظم کو نوجوان نسل کے مستقبل کا خیال تھا تو مریم کو یہ رقم دے کر ہدایت کرتے کہ چاروں صوبوں کے تمام اسکولوں کو ٹھیک، صاف ستھرا مع باتھ روم کرادیتیں یا چاروں صوبوں کے سرکاری اسپتالوں کی ضروریات پوری کرادیتیں اس سے لاکھوں کیا کروڑوں بچوں، بچیوں اور افراد کو فائدہ پہنچ جاتا۔ یہ سو ارب ایسے ہی غائب ہوں گے جس طرح پچھلی حکومت میں دو سو ارب غائب ہوگئے۔
(6)مجھے عمران خان صاحب سے بھی شکوہ ہے انہوں نے مایوس کردیا۔ پچھلے دنوں جس طرح انہوں نے گھنٹوں جیو اورجنگ کے خلاف ٹی وی پر بیان بازی میں ضائع کئے وہ ایک قومی لیڈر کے وقار کے بالکل برعکس تھا۔ ایک مرتبہ شکایت کر کے آپ معاملہ ڈاکٹر شیریں مزاری پر چھوڑ دیتے وہ ایک قابل تعلیم یافتہ، سمجھدار اور تجربہ کار خاتون ہیں وہ بہت آسانی اور اچھے طریقہ سے اس معاملے سے نمٹ لیتیں۔ پھر آپ نے یہ جو دھرنے اور محفلیں لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے کروڑوں روپے کا پیٹرول، ڈیزل خرچ ہورہا ہے اور عوام کے لاکھوں گھنٹے ضائع ہورہے ہیں۔ اگر آپ کو الیکشن کی شفافیت پر اعتراض تھا تو حلف نہ اُٹھاتے اور اگر اب بھی اپنی ہردلعزیزی پر یقین ہے تو اپنے صوبہ کی پارلیمنٹ تحلیل کراکے وہاں دوبارہ الیکشن کرالیں تاکہ وہاں سے مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور اے این پی اور نواز لیگ کا صفایا ہوجائے اور پھر آپ پوری قوم کو یہ باور کرسکیں گے کہ آپ کتنے ہردلعزیز ہیں اور صوبہ میں آپ کی حکومت نے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔
(7)میرا حقیر سا مشورہ جناب عمران خان اور ان کی پارٹی کو یہ ہے کہ وہ جو یہ ہزاروں کارکن جمع کرکے لاکھوں گھنٹے ضائع کرتے ہیں اس کے بجائے وہ دس، دس، پندرہ، پندرہ ہزار رضاکار لے کر اپنے صوبہ کے ہر شہر، ہر گائوں، ہر اسکول، ہر اسپتال کو پاکستان کے مثالی شہر، گائوں، اسکول، اسپتال بنادیں۔
لوگ پورے ملک سے جب کے پی کے جائیں تو ان کی زبان تعریف کرتے کرتے نہ تھکے۔ اگر انہوں نے یہی جلسے جلوس اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا تو اگلے الیکشن میں بُرے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آپ شہباز شریف اور آئی جی پنجاب سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں مگر آپ اپنے صوبہ میں امن و امان کے فقدان کو نظرانداز کررہے ہیں۔ 22 ستمبر2013ء کو آپ کے اپنے صوبہ کے دارالحکومت میں عیسائیوں کی عبادت گاہ پر حملہ ہوا، 85 لوگ ہلاک ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی۔
اس وقت نہ ہی آپ کے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دیا اور نہ ہی آپ نے اپنے I.G. کو جیل بھیجا۔ خدارا عوام کو سہولتیں پہنچانے پر توجہ دیجئے، اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں کی حالت بہتر بنائیے۔ ان سے آپ کو ووٹ ملیں گے، دھرنے دینے یا جلسے جلوس نکالنے سے نہیں۔مجھے خوف لگ رہا ہے کہ ملک جس سمت جارہا ہے وہ کہیں مولانا ابوالکلام آزاد کی پیشگوئی کو صحیح ثابت کرنے تو نہیں جارہا یعنی تباہی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی جانب۔ خدا کے لئے تعمیری کاموں پر وقت اور قوّت صرف کیجئے ورنہ آمریت آئے گی تو آپ سب کی کم از کم دس سال کی چھٹی ہوجائے گی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: