Mustansar Hussain Tarar

ایک سحر تھا جو شہر پر پھونکا گیا تھا از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ حویلی میاں سلطان ٹھیکیدار ابھی تک موجود ہے ‘ سلطان ٹھیکیدار لاہور کی تاریخ کا ایک اہم اور داستانوی کردار ہے …. سلطان کی سرائے کا معمار‘ لاہور سٹیشن کو تعمیر کرنے والا انگریزوں کی چھاﺅنی میں سیر کی بیشتر کو لونیل عمارتیں بھی اس کی نگرانی میں تعمیر کی گئیں ‘ جس نے مغل عہد کے مقابر‘ مساجد‘ حویلیاں جو کھنڈر ہوچکے تھے ان کی اینٹیں ان تعمیرات میں استعمال کیں اور کہا جاتا ہے کہ اس نے اینٹوں کے حصول کے لئے کئی شاندار مغل عمارتیں جن میں مساجد بھی شامل تھیں اور وہ شاہی شان و شوکت سے ابھی قائم تھیں انہیں بھی ڈھایا۔ وہ لاہور کا ایک رئیس اعظم ہوا اور پھر آخر میں پائی پائی کا محتاج ہوگیا‘بہت برے حالوں میں اپنے انجام کو پہنچا ایک بہت بلند محراب تلے سلطان کی حویلی میں داخلہ کا دروازہ تاریکی میں روپوش تھا…. سیڑھیاں تنگ اور تاریک ہیں ‘ہمیں حویلی کی چھت پر پہنچنا ہے ‘میں روشنی کا بندوبست کرتا ہوں…. تارڑ صاحب کیا آپ اتنی سیڑھیاں طے کرلیں گے ؟جاوید نے پوچھا ”اگر وہاں چھت پر بقول تمہارے ایک مختصر شیش محل میرا منتظر ہے تو تارڑ صاحب جان پر کھیل جائیں گے اور سیڑھیوں کی سولی پر چڑھ جائیں گے“ڈاکٹر انیس ابھی پچھلے ہفتے حویلی نونہال سنگھ کا بالائی منظر دیکھنے کے چاﺅ میں قلانچیں بھرتے بے شمار سیڑھیاں طے کرگئے تھے اور چھت پر پہنچ کر بے ہوش ہوگئے تھے اسلئے انہوں نے دوبارہ بے ہوش ہونے سے معذرت کرلی‘ نعیم قریشی صاحب نے بھی انکار میں سرہلا دیا اور اچھا کیا کیونکہ صرف تین روز بعد انہیں دل کا عارضہ لاحق ہوا اور ان کا بائی پاس کیا گیا۔

اگر اس روز وہ سلطان کی حویلی کی سیڑھیاں چڑھتے تو کیا معلوم کیا ہوجاتا…. اور وہاں تو تنگ گلیوں میں ایمبولینس بھی نہیں آسکتی تھی تو اچھا ہی ہوا‘میں نے اپنے کوہ نوردوں کے فارمولے پر عمل کیا ‘ پہاڑوں سے مقابلہ مت کرو‘ دو قدم چلو اور پھر سانس درست کرلو یہاں بھی دو سیڑھیاں چڑھو اور رک جاﺅ‘ بے شک شام تک چھت پر پہنچو….حویلی کی شکستہ ہوتی چھت پر قدم رکھا تو یکدم قدیم لاہور کی آوازیں کانوں میں گونجنے لگیں شہر کی زندگی میں سے جنم لیتا ہلکا شور‘ کبوتروں کی غٹرغوں‘ چھتوں پر دھوپ سینکتی خواتین کی سرگوشیاں اور سردیوں کی دھندلی ہوا کی تازگی جس میں قدیم لاہور کے گلی کوچوں کی سرخ اینٹوں کی مہک رچی ہوئی تھی‘ چھت کے اوپر بوسیدہ ہوچکی لکڑی کے کچھ تختے تھے اور ان میں دو بارشوں سے بھیگے ہوئے خستہ ہوچکے کواڑتھے‘ نعمان نے انہیں دھکیلا تو سورج کی روشنی ہم سے پہلے اندر داخل ہوئی اور وہاں واقعی ایک عجوبہ شیش محل کے آثار تھے جس کے اکھڑتے اور شکستہ ہوتے بجھتے ہوئے شیشوں کو روشنی نے جگ مگ کردیا تھا سینکڑوں آراستہ شیشوں میں دھوپ کے چراغ روشن ہوگئے تھے ‘شاہی قلعہ کے شیش محل کی نسبت بہت مختصر لیکن ہو بہووہی‘ بلکہ کسی حد تک خوشنمائی میں اس سے بہت بہتر اور دل کش اور وہاں ایک محراب اور بالائی منزل تھی‘ جس کی نازک ستون بھی شیشے کے نفیس جڑاﺅ سے آراستہ تھے ہم سب دم بخود تھے ‘ سانس بھی آہستہ لیتے تھے کہ بقول میر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی کارگہ شیشہ گری کا

نعمان نے بتایا کہ یہ کمرہ ہمارے کسی کام کا نہ تھا۔ ایک عرصہ اسے کاٹھ کباڑ کے سٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا اور پھر شہر لاہور کو دریافت کرنے والے ادارے نے اسے تلاش کرلیا اور ہم سے کہا کہ ہمیں سٹور کے لئے کوئی اور کمرہ انتخاب کرلینا چاہئے تو کچھ عرصہ پہلے تک یہ ناکارہ اشیاءکا گودام ہوا کرتا تھا….”اور یہ اس کے حق میں بہت اچھا ہوا نعمان‘ اگر یہ کمرہ آپ کے مسلسل استعمال میںرہتا تو یقینا بچے اسکے شےشے کھرچتے یہاں چولہے جلتے اور جو کوئی بھی آتا کہتا کہ …. بھئی یہ شیشے کیسے ہیں کیا یہ اکھڑ سکتے ہیں…. تو یہ بندپڑا رہا اس لئے ابھی تک محفوظ رہا…. کامران اور عاتف سعید پاکستان کے مایہ ناز فوٹو گرافر پاگل ہورہے تھے …. وہ ان دنوں لاہور کے بارے میں ایک تصویر ی کتاب کے لئے تصویر کشی کررہے ہیں‘اوپر جو محراب دار جھروکاتھا مخدوش لگتا تھا لیکن میں احتیاط سے قدم رکھتا ہولے ہولے اوپر پہنچ گیا ‘ بے شک بہت سا شیشہ گری کا بے مثال کام ‘ گل بوٹے ‘ آرائشیں ‘ اور بناوٹیں اکھڑ چکی تھیں لیکن اس کے باوجود تقریباً ستر فیصد آرائش ابھی تک قائم تھی۔

آخر سلطان ٹھیکیدار نے اپنی عظیم الشان حویلی کی چھت پر ہی ایک مختصر شیش محل کیوں تعمیر کیا اور جان لیجئے کہ اس زمانے میں سلطان کے پاس مغل عہد کے بے مثال کاریگر موجود تھے کہ وہ برصغیر کا سب سے بڑا ٹھیکیدار تھا اور میرا قیاس یہ ہے کہ وہ ہر رئیس کی مانند موسیقی اور رقص سے شغف رکھتا ہوگا اور یہ شیش محل اس لئے چھت کی علیحدگی میں تعمیر کیا گیا اور وہ یہاں انگریز صاحب بہادروں کی آﺅ بھگت بھی کرتا ہوگا‘میرے اس قیاس کو تقویت ڈاکٹر نسیم نے بھی دی‘ وہ سیڑھیاں طے کرکے اوپر محراب اور جھروکے میں پہنچا اور نیچے کھڑے ساتھیوں سے مخاطب ہوکر ہاتھ لہرا کر کہنے لگا ”ناچو“میرا حال کچھ اچھا نہ تھا ‘ میں ایک اضطراب میں تھا اگر آپ تاج محل دیکھنے جاتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ وہ وہاں موجود ہے لیکن آپ پر کیا گذرے گی اگر آپ لاہور کے قدیم شہر کی ایک چھت پر جاتے ہیں تو وہاں وہ موجود ہو جسے آپ نہ جانتے ہوں …. کوئی ایک شب…. شب وصال کی…. عشق خاص کے کمال کی….

اس شیش محل کی شب میں کبھی بسر ہوجائے تو ہم جانیں…. اس چھت کے اوپر ایک اور چھت تھی…. جسے پنجابی میں ”دھورکوٹھا“کہتے ہیں ‘ یعنی کوٹھے پر ایک اور کوٹھا اور وہاں تک سیڑھیاں تو جاتی تھیں پر شگاف درشگاف تھیں‘ وہ بوجھ نہ سہہ سکتی تھیں ‘ آس پاس کی اینٹیں سہارا لینے سے اکھڑجاتی تھی اور جاوید نے بتایا کہ اس کوٹھے پر اسے شہر لاہور اور وزیر خان مسجد کا جو منظر نظر آتا ہے اس کا بیان ممکن نہیں‘ پہلے سعید بٹ نے مجھے سہارا دیا دو چار سیڑھیوں کے بعد جب ایک اینٹ پاﺅں میں آپڑی تو کہنے لگا‘ نہیں سر‘ خطرناک ہے‘ اوپر نہیں جاسکتے‘ہم واپس آگئے‘ پھر کامران جو میرے ہمراہ راکاپوشی کے بیس کیمپ تک گیا تھا اس نے میرا ہاتھ تھام لیا تارڑ صاحب ‘ آپ جاسکتے ہیں اور وہ مجھے لے گیا اگرچہ ہمارے بوجھ سے کم از کم ایک سیڑھی منہدم ہوگئی۔
اور وہاں بقول منیر نیازی‘ بڑھتی جاتی دھند تھی اور اس کے پیچھے شہر تھا ہلکی سردیوں کی دھند لاہٹ دھندمیں لاہور شہر کے قدیم بام ودر تھے‘ برج مینار تھے اور مسجد وزیر خان کے چوکور مینارتھے ایک سحر تھا جو شہر پر پھونکا گیا تھا اور میں تھا۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: