2Below header

سمندر گھونگھوں کے جزیرے میں از مستنصر حسین تارڑ

4Above single post content

اگلے روز حسب معمول صبح سویرے میں ماڈل ٹاو¿ن پارک کے جوگنگ ٹریک پر جوگ نہیں کر رہا تھا کہ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے جناح باغ میں سیر نہ کرتے تھے ایک مخصوص رفتار پر جوگنگ کرتے دوڑتے چلے جایا کرتے تھے اب توکچھوے کی چال چل رہے تھے‘ موٹے تاجر‘ فربہ خواتین اور عمررسیدہ بوڑھے مجھ سے آگے نکلتے جاتے تھے اور میں پھر بھی اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے ”شکر ہے‘ شکر ہے“ کا شکرانہ مسکراتے ہوئے پیش کرتاتھا کہ اے رب تو نے مجھے کتنا خوش بخت کیا‘ نصیب مجھ پر نچھاور کر دیئے کہ میں جو چند روز میں اگر زندہ رہا تو اسی برس کا ہو جاﺅنگا اور اسکے باوجود تیرے بے وجہ کرم سے ‘عناےتوں سے اب بھی منہ اندھیرے بیدار ہوتا ہوں اور اپنے پاﺅں پر چلتا اس پارک میں آنکلتا ہوں‘سویر کے پرندوں کے گیت میرے کانوں میں اترتے ہیں‘ گھاس کے تنکوں پر اٹکے ہوئے شبنم کے موتی سورج کی پہلی شعاعوں کی زد میں یوں آتے ہیں کہ دمکتے ہیروں کاایک دریامیرے قدموں میں بچھتا چلاجاتا ہے … تو اس روز میرے ہمراہ ایک ایسا سنجیدہ نوجوان چلتا تھا جو راولپنڈی سے صرف مجھے ملنے کی خاطر پارک میں آیا تھا‘ میرا چاہنے والا تھا میری تحریروں کے بارے میں باتیں کرنے کیلئے ‘مجھے دیکھنے کیلئے آیا تھا مجھ سے ملنے کے بعد اس نے پہلی گاڑی پر راولپنڈی چلے جانا تھا اور اسکے پاس سوال بہت تھے…اور میرے پاس جواب کم تھے اس نے پوچھا کہ تارڑ صاحب اس کائنات میں انسان کی حیثیت کیا ہے تو میں نے ایک داستان گو کا روپ دھارلیا‘ زندگی کے چوراہے میں کھڑا ہوگیا اور مخاطب کیا ان تمام انسانوں کو جو اکڑ کر زمین پر پاﺅں دھرتے ہیں تکبر اور عظمت کے سراب میں مبتلا خلق خدا کو حقیر جانتے ہیں جن کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔

جن کے دلوں میں تغافر اور برتری کی سیاہ لومڑیاں کروٹیں بدلتی ہیں اور جو آگاہ ہی نہیں کہ ان سے بیشتر پچھلے ان گنت زمانوں میں ان جیسے کھربوں لوگ آئے اور معدوم ہوگئے تو میں نے ایک داستان گو کا روپ دھارتے ہوئے اس نوجوان کے سوا اپنے آپ کو بھی مخاطب کیا کہ سنو…جس کچے جوگنگ ٹریک پر ہم چل رہے ہیں‘ اس پر نخوت سے قدم مت رکھو‘ دھپ دھپ کرتے مت چلو کہ تمہارے پاﺅں تلے تم جیسے انسانوں کی کھوپڑیاں ہیں اور تم ان پر چلتے ہو‘ کیا تمہیں ہر قدم پر احساس نہیں ہوتا کہ تم نے ایک اور کھوپڑی پر پاﺅں رکھ دیا ہے اور وہ ریزہ ریزہ ہوگئی ہے ہمارے پاﺅں تلے جو مٹی ہے وہ اربوں کھربوں لوگوں کی کھوپڑیوں کی قبروں کی مٹی ہے‘ آج تک جتنے بھی انسان اس زمین پر پیداہوئے اورموت کا ذائقہ چکھا تووہ سب اگر جلائے گئے تو انکی راکھ اور اگر دفن کئے گئے تو انکی خاک سب کی سب کہاں گئی‘یہیں ہے ہمارے پاﺅں تلے تو اس خاک پر نخوت اور تکبر سے قدم مت دھرو… آپ کو کب اپنی اس حیثیت کا احساس ہوا؟ نوجوان نے پوچھا…سنو‘ میں تمہیں ایک اور سفری داستان سناتا ہوں کہ میری یادداشت کی گٹھڑی میں سوائے سفر کی دیوانگی‘ آشفتہ سری اور مجذوبیت کے اور کچھ نہیں…میں اس گٹھڑی کی گرہیں کھولتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ مجھے کب پہلی مرتبہ اوال جوانی میں اس کائنات میں اپنی ذرہ بھر حیثیت کا احساس ہوا… دن دسمبر کے تھے اور کالج میں‘ انگلستان کے ایک ساحلی قصبے کے کالج میں دو ہفتے کی چھٹیاں ہوگئیں۔

میں جو ہمیشہ سے آوارگی کو ایک عقیدے کے طورپر اختیار کرچکا تھا میں نے اپنا سفری سامان کاندھے پر بوجھ کیا کہ چلو اس بار سوئٹزرلینڈ کے قصبے زرمت کی برفانی وادی میں کرسمس منانے کیلئے چلتے ہیں اور نہ کسی بس اور نہ کسی ٹرین پر چلتے ہیں بلکہ آوارگی کے منشور پر عمل کرتے ہوئے شاہراہوں پر رواں لوگوں سے لفٹ کی بھیک مانگتے ہوئے مائل سفر ہوتے ہیں‘ کنٹربری کے قصبے میں ایک معروف کیتھڈرل ہے جہاں کبھی مذہبی پیشوا پورے انگلستان پر اثر انداز ہوا کرتے تھے وہاں میں سڑک کے کنارے انگوٹھادکھاتا لفٹ کا طالب ہوتا تھا جب ایک فوکس وےگن کار رکی جس میں ڈرائیور ایک عجیب سا باریش شخص تھا اور اسکے ہمراہ البتہ تین شوخ اور چنچل لڑکیاں تھیں مجھ سے پوچھا‘اے مسافر کہاں جاﺅگے تو میں نے کہاکہ ڈوور کی بندرگاہ تک جانے کا ارادہ ہے پھر سٹےمر پر سوار ہو کر رودبار انگلستان عبور کرکے فرانس کے راستے سوئٹزرلینڈ کے برفانی قصبے زرمت جانے کی آرزو ہے…

انہوں نے مجھے بٹھالیا اور کہنے لگے تم ہمارے ساتھ چلو ہم چاروں یہاں سے کچھ دور”سی شیل آئے لینڈ“ جارہے ہیں جہاں سمندر کے کنارے ہمارا ایک کیبن ہے ویک اینڈ وہاں بسر کرینگے‘ تم بھی آجاﺅ‘ میں تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ وہاں لندن سے کچھ فاصلے پر ایک ایسا ویران جزیرہ ہے جسکے ساحل ریت کے نہیں سمندری گھونگھوں کے ہیں… وہ باریش نوجوان دراصل لندن شہر کا ایک ہیئرڈریسر تھا اور وہ تینوں خواتین اس کے سیلون میں کام کرتی تھیں ‘ وہ ایک شب مہتاب تھی وہ چاروں ساحل پر انکی جو لکڑی کی کیبن تھی وہاں سے دوکلومیٹر کے فاصلے پر واقع کسی قصبے کے اکلوتے شراب خانے تک جاچکے تھے اور میں تنہا تھا…سمندر پرشورتھا اور جھاگ آلود تھا اور میں اس چاندنی رات میں تن تنہا ساحل پر چلتا جاتا تھا اور میرے قدموں میں ان گنت سےپیاں اور سمندری گھونگھے چٹختے ریزہ ریزہ ہوتے تھے ان کی کرچ کرچ کی آوز سمندر کی گونج پر بھی حاوی ہوتی تھی تو یہ وہ لمحہ تھا جب مجھ پر آشکار ہوا کہ اس کائنات میں میری حیثیت کیا ہے ‘ میرے قدموں میں لاکھوں گھونگھے نہیں انسانی کھوپڑیاں ہیں انکی جو کروڑوں برسوں سے یہاں پیدا ہوئے اور مرگئے۔

میرا ہر قدم ایک کھوپڑی پر پڑتا تھا جیسے کل کے زمانوں میں کوئی اور آوارہ گرد آئے گا اور اگر وہ اس زمین پر قدم رکھے گا تو اسکے پاﺅں تلے میری کھوپڑی ہوگی تو بھیا کاہے کو تکبر اور تغافر کرتے ہو تم کیا تمہاری حیثیت کیا‘کرچ کرچ‘ اس شب میں میرے قدموں تلے کھوپڑیاں ریزہ ریزہ ہو رہی تھیں بس یہی حیثیت ہے… تارڑ صاحب کیا آپ جب اس عمر کو پہنچے ہیں کہ موت کی قربت ہے تو آپکو احساس ہوا ہے کہ انسان اپنی کھوپڑیوں پر قدم رکھتا ہے یا پھر شروع سے ہی آگاہ ہوگئے تھے؟ میں تب…اس ”سی شیل آئے لینڈ“ میں ایک کچی عمر کا بالکا تھا…اور میں آگاہ ہوگیاتھا لیکن آج تک تذکرہ نہ کیا کہ یہ میری ذات کی خفیہ گری کی ایک روپوشی تھی میں نے تو غارحرا میں جو رات بسر کی اس کی خفیہ گری کا بھی کچھ تذکرہ نہ کیا…چپ رہا کہ جو کچھ گزرتی ہے اس کابیان نہیں کرنا کہ ممانعت ہے…تو ہم فنا کے ساحلوں پر چلتے ہیں اور ہمارے قدموں تلے‘ گئے زمانوں کی کھوپڑیوں کی خاک ہے‘ تو کیا آج بھی آپ بالآخر فنا خاک اور خاک کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں‘ ہاں..میں نے روم کے ایک قدیم کلیسا میں کھوپڑیوں کے تہہ خانے دیکھے تھے جو قطار اندر قطار ہزاروں کی تعداد میں نمائش پر تھیں اور ہر سویر جب میں شیو کرکے اپنے رخساروں پر آفٹر شیو لوشن لگاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ایک کھوپڑی کی ہڈیوں پر وہ لوشن لگاتا ہوں‘ کائنات کے نہ سمجھ میں آنیوالے جمگٹھوں میں بس تمہاری کھوپڑی ہی آخری سچ ہے…

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: