فقیدالمثال ایٹمی ہیروز

اَپنے پچھلے دو کالموں میں آپ کو میں نے کہوٹہ پلانٹ کے قیام اور اس کے پیچھے کے واقعات بتائے تھے اور یہ بتایا تھا کہ کس طرح مرحوم بھٹو صاحب نے ملک کے دفاع کے لئے اس اہم کام کے اعلیٰ انتظامات کردئیے تھے۔ پروجیکٹ کو اٹامک انرجی سے علیحدہ کرکے ایک خودمختار ادارہ بنانا اور ایک اعلیٰ بورڈ کی تشکیل جس کو وسیع اختیارات دیئے تھے وہ اہم اقدامات تھے جنھوں نے مجھے اور میری ٹیم کو اس قابل کردیا کہ ہم سات سال کے مختصر عرصہ میں ایک ایٹمی قوّت بن گئے۔ قبل اس کے کہ میں اپنے محب وطن و قابل رفقائے کار کا تذکر ہ کروں ایک اور اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔
جب اس پروجیکٹ کو علیحدہ کردیا گیا تو پنڈی کے ٹوٹے پھوٹے دفتر میں کام کے ساتھ میں نے فوراً ایک مناسب جگہ پلانٹ کے لگانے کے لئے تلاش کرنا شروع کردی۔ میں نے تمام حالات کو مدِّنظر رکھ کر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ پلانٹ اسلام آباد سے اتنا قریب ہو کہ ہمیں ہمیشہ حکومت کی اور فوج کی مدد آسانی سے ملتی رہے۔ اسلام آباد سے 50 کلومیٹر کے دائرہ کے اندر لاتعداد جگہیں دیکھیں ایک جگہ جو بے حد پسند آئی وہ خانپور ڈیم سے تھوڑے کم فاصلہ پر تھی،ہرا بھرا علاقہ، صرف کھیت تھے وہاں سے پانی کی نہر بھی بہہ رہی تھی اور ہائی وولٹیج بجلی کی لائن بھی موجود تھی مگر وہ کھلی جگہ تھی اور ہوائی حملہ سے بچنے کی

صلاحیت نہ تھی۔ یہاں بعد میں، میں نے میزائل فیکٹری ایڈمرل سروہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اجازت سے قائم کی۔ سب کچھ سوچ کر میں نے اور بریگیڈیر زاہد نے کہوٹہ پسند کیا۔ اس علاقہ کی نشاندہی انجینئر شاکر نے کی تھی جو اسمال ڈیمز پروجیکٹ کے سربراہ رہ چکے تھے اور بعد میں اٹامک انرجی کمیشن میں سول ورکس کے ڈائیریکٹر ہوگئے تھے۔ ہم نے آس پاس کے تمام علاقہ کی دیکھ بھال کرکے سنبل گاہ گائوں کو پسند کیا جو اونچی پہاڑوں کے دامن میں علاقہ تھا۔ جب بریگیڈیر زاہد اور میں جیپ میں وہاں گئے تو پہاڑی کی بالکل جڑ میں واقع ایک چھوٹے پکے مکان سے ایک درمیانی عمر کے شخص باہر آئے، بریگیڈیر زاہد نے جو یونیفارم میں تھے ان کو پورا رسمی سیلیوٹ دیا، مجھے تعجب ہوا۔ بریگیڈیر صاحب نے بتایا کہ صوبیدار صاحب ہیں جو ہمیں پی ایم اے میں لیفٹ رائٹ یعنی پریڈ کراتے تھے۔ صوبیدار صاحب نے ہمیں اپنی بیٹھک میں بٹھایا اور چائے بسکٹ سے خاطر مدارت کی۔ بریگیڈیر زاہد نے ان سے پوچھا کہ اس علاقہ میں کتنے خاندان ہیں انھوں نے بتایا کہ صرف پندرہ بیس ہونگے اور سب پرانے فوجی ہیں۔ بریگیڈیر زاہد نے کہا کہ ہم وہاں آرمی کی گاڑیوں کی ریپیرنگ کی بڑی ورکشاپ بنانا چاہتے ہیں اور سب کو نہ صرف مارکیٹ میں رائج قیمتوں سے بہت بہتر معاوضہ دینگے بلکہ آپ سب کو فوراً ملازمت بھی دیدینگے۔ وہ فوراً تیار ہوگئے۔ ہم واپس آئے تو بریگیڈیر زاہد نے جنرل ضیاء کو بتایا کہ ہم وہ جگہ لے رہے ہیں اور وہ سیکرٹری دفاع جنرل فضل مقیم خان سے یہ کہہ دیں کہ وہ یہ جگہ ڈیفنس کیلئے لے لیں۔ جنرل فضل مقیم خان ایک دراز قد، نہایت خوبصورت اور خوش اخلاق انسان تھے انھوں نے یہ کام ایک ہفتہ میں کردیا۔ جب ایک ہفتہ بعد بھٹو صاحب نے میٹنگ بلائی اور کام کے بارے میں کئے گئے انتظامات کے بارے میں پوچھا جب میں نے بتایا کہ میں نے کہوٹہ میں ایک گائوں کو پسند کرلیا ہے تو غلام اسحقٰ خان صاحب بولے کہ سر ایک کمیٹی بنا دیتے ہیںجو اس بارے میں جانچ پڑتال کرکے فیصلہ دیدے۔ بھٹو صاحب مسکرائے اور بولے، خان صاحب نہ مجھے اور نہ آپ کو اس کام کے بارے میں رتی برابر علم ہے جب ڈاکٹر صاحب نے جنھوں نے یہ کام کرنا ہے جگہ پسند کرلی ہے تو معاملہ ختم۔ بھٹو صاحب کے اس قسم کے فوراً فیصلوں نے کام کی رفتار، ترقی اور کامیابی کو یقینی بنا دیا۔ ہم نے اکتوبر 1976 میں سائٹ کا قبضہ لے لیا تمام لوگوں کو ملازم رکھ لیا، اچھا معاوضہ دے دیا اور کام نہایت خاموشی اور خوش اسلوبی سے شروع ہوگیا۔ بریگیڈیر زاہد کل کا کام آج کرنے والے تھے، انھوں نے فوراً لاہور کے ایک نہایت قابل سول انجینئر ڈاکٹر اقبال واہلہ کو اس کام پر لگا دیا۔ میں ان کو بلڈنگوں کے خاکے بنا کردیتا رہا اور انھوں نے تعمیری ڈرائنگز بنانا شروع کردیں۔ دسمبر 1976 میں ہم نے کام شروع کردیا۔ یہ کام جس تیزی سے ہوا اس نے سب کو حیران کردیا ۔ چھ ماہ میں بلڈنگوں کے ڈھانچے نظر آنے لگے۔
غالباً جنوری 1977میں بھٹو صاحب نے الیکشن کا اعلان کردیا۔ اس کی کہانی اور نتائج کا سب کو علم ہے ان کے ساتھی شاہوں سے بھی زیادہ وفادار نکلے ہر ایک نے یہ کوشش کی کہ بلامقابلہ کامیاب ہوں، خوب دھاندلی ہوئی اور اس کے خلاف مخالف جماعتوں نے اتحاد کرکے مظاہرے شروع کردئیے اور 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کرکے مارشل لا لگا دیا۔ بریگیڈیر زاہد چونکہ جنرل ضیاء کے قریب تھے اور دونوں کا تعلق جالندھر سے تھا اس لئے جنرل ضیاء نے ان کو سندھ میں ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لگا کر لاڑکانہ بھیج دیا اور ان کی جگہ بریگیڈیر انیس علی سیّد مقرر ہوئے۔ یہ لاہور کے رہنے والے نہایت نرم گو اور شریف انسان تھے اور کام میں ماہر۔ انھوں نے تقریباً 5 سال نہایت اعلیٰ کام کیا، ان کے بارے میں بعد میں بتائونگا۔ جب تک بریگیڈیر زاہد تھے وہ ہفتہ میں دوبار مجھے اپنی جیپ میں پنڈی آفس سے لے جاتے تھے اور خود گاڑی چلاتے تھے۔ ہم پورے کام کا معائنہ کرتے اور کہوٹہ کی اعلیٰ کرکری جلیبیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں قصابوں نے پنڈی، اسلام آباد میں ہڑتال کردی تھی تو ہم دونوں کہوٹہ شہر سے تازہ گوشت لے آتے تھے، گائے کا گوشت چار روپیہ کلو اور بکری کا گوشت چھ روپیہ فی کلو تھا۔ بریگیڈیر زاہد نے اپنے دور میں تقریباً تمام عمارات کی ڈرائنگز مکمل کرادی تھیں۔
ایک اور واقعہ قابل بیان ہے۔ جب بھٹو صاحب نے مجھے اس خودمختار ادارہ کا سربراہ بنادیا تو انھوں نے کہا کہ میں فارن آفس میں جناب عزیز احمد صاحب سے مل کر ان کو پروجیکٹ کے بارے میں بتادوں۔ میں ان سے جاکر ملا، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ پکے بڑے سخت بیوروکریٹ ہیں اور انگریز گورنر کی طرح کا رویّہ ہے۔ میں نے مل کر ان کو سیدھے سادھے الفاظ میں سینٹری فیوج ٹیکنالوجی اور اس کے ذریعہ ایٹم بم بنانے کا طریقہ بتلادیا۔ مجھ سے پوچھا کہ میری تعلیم کتنی ہے کہاں تعلیم حاصل کی ہے، میں نے بتایا کہ برلن کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر ڈیلفٹ (ہالینڈ) کی مشہور یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے M.S. کیا اور پھر بلجیم کی لیوون (چھ سو سال پرانی) یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی اور لاتعداد مقالے بین الاقوامی رسالوں میں شائع کئے ہیں۔ بولے بس! میں نے مسکرا کر کہا کہ اس کے آگے اور کوئی ڈگری نہ تھی ورنہ وہ بھی لے لیتا۔ عزیز احمد صاحب اس وقت وزیر مملکت برائے امور خارجہ تھے اور وزارت کا عہدہ بھٹو صاحب نے خود اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ مارشل لا لگنے کے بعد وہ فارغ ہوگئے۔ وہ اور ان کی بیگم اکثر یہاں ایف سیون میں شام کو چہل قدمی کرتے تھے جب میں دفتر سے آتا اور ان کو دیکھتا تو گاڑی رکوا کر اتر کر ان کے ساتھ کافی دیر تک چلتا تھا۔ ہم بہت اچھے دوست بن گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت نصیب کرے۔ آمین۔ ان کے صاحبزادہ میکائل مشہور ماہر معاشیات ہیں اور غالباً ورلڈ بنک میں بہت عرصہ ملازمت کے بعد ریٹائر ہو کر امریکہ میں ہی قیام پذیر ہیں۔
جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگانے کے تین ماہ بعد اپنے پرانے دوست اور انڈین ملٹری اکیڈمی دیرا دون کے ساتھی جنرل سید علی ضامن نقوی کو اپنا ایڈوائزر لگا کر ایٹمی معاملات کی سیکیورٹی کا انچارج لگا دیا۔ یہ ہندوستان سے جنگ کے دوران لاہور فرنٹ کے انچارچ تھے اور بہت بہادری سے ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرکے اس کو پسپا کردیا تھا۔ بھٹو صاحب نے ایک نیشنل سیکورٹی ایجنسی بنائی تھی اور جنرل نقوی اس کے سیکرٹری تھے۔ یہ ایم اے انگلش تھے، گورا رنگ سنہری بال اور بالکل انگریز لگتے تھے۔ نہایت نرم گو، تمیز دار، پرخلوص اور محب وطن تھے۔ ان کا تعلق لکھنؤ سے تھا اور الہ آباد یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے چارج لیتے ہی کرنل قمر فاروقی کو جو اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹر سیکورٹی تھے اپنا اسٹاف آفیسر بنا لیا اور کمیشن کے دفتر میں اپنا دفتر قائم کرلیا۔ چند ہی دنوں میں ان کو منیر اور ان کے چند قریبی سازشی ساتھیوں کی حرکات کا علم ہوگیا۔
میں نے ان کو بتلایا تھا کہ منیر احمد خان مجھ سے بار بار کہتا ہے کہ ہم ایٹم بم نہ بنائیں اور بھٹو تو پاگل ہے ، ہمیں ایٹم بم کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ میرا ایمان ہے کہ ایٹم بم کی غیرموجودگی میں پاکستان کا وجود خطرے میں ہے اور ہندوستان مغربی ممالک کے تعاون سے ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا جیسا کہ پہلے مشرقی پاکستان کے معاملہ میں ہوا ہے۔ جنرل نقوی نے جنرل ضیا کو بھی منیر احمد خان کے ارادوں اور چالوں سے آگاہ کردیا۔ اس کے بہت دور رس نتائج نکلے جو میں بعد میں بیان کروں گا۔
اتنے اہم واقعات اور اتنی سازشیں ہوئی ہیں ہمارے پروگرام کے خلاف کہ اَب لکھنے بیٹھا ہوں تو وہ سب چیزیں یاد آرہی ہیں۔ یہ بہت اہم واقعات تھے جو کامیاب ہوجاتے تو ہم کبھی بھی ایٹمی قوت نہیں بن سکتے تھے۔ ایک ایسی ہی نہایت خوفناک سازش آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میرے ایک نہایت قابل انجینئر اور میرے بہت قریبی ساتھی نے بتایا کہ وہ جب ایک دفاعی سرکاری ادارے میں کام کررہے تھے (جہاں سے میں نے ان کو جنرل ضیا سے حکم دلوا کر اپنے پاس بلا لیا تھا) اس ادارے کے سربراہ پہلے کئی پروفیسر رہ چکے تھے اور انھوں نے لندن میں تعلیم حاصل کی تھی اور پروفیسر سلام کے شاگرد تھے۔ جب بھٹو صاحب نے کمیشن سے باربار بم کی تیاری اور دھماکہ کی تاریخ کا مطالبہ کیا تو ایک سیکریٹ میٹنگ میں پروفیسر سلام، منیر احمد خان، ان پروفیسر صاحب نے (جن کے ہاں آتش گیر مادہ پر کام ہوتا تھا) اور چند دوسرے لوگوں نے (میرے ساتھی وہاں موجود تھے) یہ فیصلہ کیا کہ دو تین ہزار ٹن آتش گیر مادہ لے کر اور اس میں میڈیکل علاج میں استعمال ہونے والا ریڈیو ایکٹو (Radioactive) دھات ڈال کر کسی غار میں دھماکہ کردیں اور بھٹو صاحب کو لیجا کر گائیگر کائونٹر(Geiger Counter) سے وہاں ایٹمی ذرّات کی موجودگی کا ثبوت دے کر ان کو مطمئن کردیں کہ چھوٹے پیمانہ پر دھماکہ کیا ہے کسی کو علم نہ ہوگا۔ بھٹو صاحب کے الیکشن کے اعلان اور بعد کے فسادات نے اس گندی سازش کو مکمل نہیں ہونے دیا اور قوم ایک بڑے فریب اور دھوکہ سے بچ گئی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: