Mustansar Hussain Tarar

علاقے کا نیا تھا نیدار از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

’’بیگم بیگم…کیا زلزلہ آ رہا ہے’’میں نے کار کے سٹیرنگ پر ہاتھ مار کر کہا‘‘ ذرا باہر دیکھو‘دائیں بائیں جتنی بھی عمارتیں گزر رہی ہیں وہ سب کی سب لرزش میں ہیں۔ لگتا ہے کہ ابھی ابھی کڑم دھم گر جائیں گی۔ بیگم قیامت آنیوالی ہے‘مجھے اس ملک کی تباہی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ بیگم کچھ تو بولو’’بیگم نے حسب معمول میری جانب خشمگیں نظروں سے دیکھا‘یہ کیا ہو گیا ہے تمہیں‘ کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہو‘ باہر گزرتی عمارتیں ہرگز لرزش میں نہیں ہیں اور یہ ملک ماشاء اللہ قائم دائم ہے۔ کیوں بکواس کرتے ہو کہ یہ تباہ ہونے کو ہے۔‘‘ اچھا ذرا دیکھو یہ جو فٹ پاتھوں پر لوگ چلتے جا رہے ہیں‘ یہ جو ہجوم ہے‘ یہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا چیخ و پکار نہیں کر رہا۔ حکمرانوں کو لعن طعن نہیں کر رہا۔ تمہیں دکھائی نہیں دے رہا‘ یہ سب کیا دھرا نئی حکومت کا ہے‘ یہ ناتجربہ کار اور ناہنجار ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ ملک کیسے چلائے جاتے ہیں‘کیسے خود بھی کھایا جاتا ہے اور اپنے حواریوں کو بھی کھلایا جاتا ہے‘میں تمہیں بتاتا ہوں‘ انشاء اللہ یہ حکومت خود بخود چھ ماہ کے اندر اندر اپنے غیر منطقی انجام تک پہنچ جائیگی اور اسکے بعد گلیاں سونی ہو جائیں گی اور ان میں مرزا یار پھرے گا‘زرداری دلدار پھرے گا‘ میاں کاروبار پھرے گا اور تب راج کریگی خلق خدا‘ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو‘’تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں‘ کار یہاں سے موڑو اور گھر واپس چلو‘ ’تمہارا مطلب ہے میں بھی یو ٹرن لے لوں‘ ہرگز نہیں‘ کار سیدھی بھی جائے گی‘ چاہے بھاڑ میں جائے۔

یو ٹرن نہیں لوں گا‘ سیدھا چلا جاؤں گا‘ میرا نام اگر ای سی ایل پر ہوا تو بھی چلا جاؤں گا‘ فرانس کے ایک قلعے میں چلا جاؤں گا۔ لندن کے فلیٹوں اور جدہ کے محلات میں‘ امریکی فارم ہاؤسوں اور دنیا بھر میں جتنی اربوں روپوں کی جائیدادیں رزق حلال سے خرید کر منی ٹریل کی لعنت سے آزاد وہاں چلا جاؤں گا سوئس بنکوں میں جو میری خاندانی وراثت کے کروڑوں ڈالر بیکار پڑے ہیں‘ ہیروں کے جو ہار پڑے ہیں‘ انہیں باکار کروں گا۔ لیکن یوٹرن ہرگز نہیں لوں گا‘ میں نے جب نوٹ کیا کہ بیگم اپنے موبائل پر 1122 سے رابطہ کرنے میں مصروف ہے تب میں ذرا چوکنا ہوا اور یو ٹرن لے کر نہیں کار کو ریورس گیئر میں ڈال کر گھر لوٹ آیا‘ واپس آتے ہی میں نے ٹیلی ویڑن آن کر دیا۔ تقریباً ہر چینل پر بڑے بڑے جغادری تجزیہ نگار جن میں سے بیشتر گئے زمانوں میں میری طرح مڈل کلاس تھے بلکہ تھرڈ کلاس تھے اور پھر دیکھتے دیکھتے کروڑوں میں کھیلنے لگے‘خود سے تو نہیں انہیں پوشیدہ طور پر خوب کھلایا گیا‘ وہ سب جو میں نے کہا تھا وہی دوہرا رہے تھے‘دیکھتے دیکھتے اتنے ماہ گزر گئے ہیں انہیں حکومت میں آئے ہوئے۔ یہ ناہجار ہیں‘ ناتجربہ کار ہیں‘ پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے۔ معیشت متزلزل ہو رہی ہے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بھوکے مر رہے ہیں‘ عمران خان یو ٹرن کا بادشاہ ہے کہتا تھا کہ کسی سے امداد نہیں لیں گے۔ اب مارا مارا پھرتا ہے۔ بھیک منگا ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ اتنے بیوقوف ہیں کہ اسکی جھولی اربوں ڈالروں سے بھر رہے ہیں‘ اپنے باورچی سے کہتا ہے کہ دوپہر کو سبزی گوشت کھاؤں گا اور پھر فوراً ہی یو ٹرن لیکر کہتا ہے کہ نہیں آلو گوشت کھاؤں گا۔

کہتا تھا سادگی اختیار کرونگا اور پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل ایک ہی جیکٹ پہنے جا رہا ہے جو کہ بہت مہنگی لگتی ہے۔ تین کروڑ کی گھڑی باندھتا تو وہ اور بات تھی‘ ملک کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے‘ جہاں جاتا ہے فی البدیہہ تقریریں اور وہ بھی انگریزی میں کر کے غیر ملکی لیڈروں پر رعب ڈالتا ہے۔ ذرا غور کیجئے یوں منہ زبانی تقریر کرنے سے منہ سے پتہ نہیں کیا کیا کچھ نکل جائے‘ جو قومی وقار کے منافی ہو۔ دیکھئے طریقہ تو یہ ہے کہ جو کچھ کہنا ہے وہ کسی سے چٹوں پر لکھوا لیجیے اور پھر عین مذاکرات کے وقت یا کہیں یو این او وغیرہ میں تقریر کرتے ہوئے ان چٹوں کو لرزتے ہاتھوں سے جیبوں میں سے نکال کر اٹکتے ہوئے بس پڑھتے جائیے‘ یوں غلطی کا کچھ امکان نہ ہو گا‘ بے شک چٹیں آگے پیچھے ہو جائیں اور لوگ کنفیوژ ہو جائیں کہ اسکو تو بین الاقوامی امور میں مہارت کہتے ہیں‘ اس کا وہ پینڈو وزیر اعلیٰ دیکھو کہ نہ تو تقریر میں کسی کا پیٹ پھاڑنے کے وعدے کرتا ہے نہ سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتا ہے۔

بس چپ چاپ پھرتا ہے یہاں تک کہ کاؤ بوائے ہیٹ بھی نہیں پہنتا۔ اپنے بچوں کو پاکستان لانے کا بھی روادار نہیں‘ بھلا ان کے نام کے ہر شہر میں درجنوں ایکڑوں پر پھیلے ’ہاؤس‘کیوں نہیں بناتا بلکہ خود بنانے کی ضرورت ہی درپیش نہ ہو بنے بنائے تحفے کے طور پر مل جائیں گے جن میں ہیلی کاپٹر اترنے کے مکمل انتظامات ہونگے بہت بیکار وزیر اعظم ہے‘ بیگم نے ہمیشہ کی مانند سنی ان سنی کر دی اور پھر کہنے لگی’’تم ایک زمانے میں مجھے وہ پاہڑیاں والی کے کسی ایس ایچ او کا قصہ سنایا کرتے تھے جو تم نے بچپن میں اپنے بزرگوں سے سنا تھا‘ وہ چودھری صاحب اور قریشی صاحب والا یاد ہے؟‘ ’ہاں ہاں دراصل میں تب بہت چھوٹا تھا۔ ساتھ والے گاؤں میں ابا جی کے کسی دوست کے والد وفات پا گئے وہ افسوس کرنے گئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ شاید قل کا موقع تھا اور دارے میں ساری برادری اور آس پاس کے دیہات کے لوگ جمع تھے‘اس علاقے میں سب سے بڑا قصبہ پاہڑیاں والی تھا اور وہیں واحد پولیس سٹیشن تھا‘ان زمانوں میں مویشیوں وغیرہ کا چوری ہو جانا معمول تھا‘علاوہ ازیں کاشتکاروں کے زمینوں کے تنازعات بھی چلتے رہتے تھے۔

چنانچہ ان حوالوں سے اس اکلوتے پولیس سٹیشن کی دیہاتی زندگی میں بہت اہمیت تھی۔ چنانچہ افسوس کی اس محفل میں پاہڑیاں والی تھانے میں تعینات نئے تھانیدار کا قصہ چھڑ گیاوہاں جمع بڑے بوڑھے سر ہلاتے اس تبدیلی کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگے کہ یہ جو نیا تھانیدار قریشی نام کا آیا ہے بہت بیکار ہے کسی کی سنتا ہی نہیں۔ قنون قنون کرتا رہتا ہے۔ یقیناًکسی چھوٹے خاندان کا ہے‘ کمی کمین لگتا ہے‘ نہ سفارش مانتا ہے نہ رقم لیتا ہے‘ چودھری مدد علی نے حسب روایت اس نئے تھانیدار کے ہاں جا کر دو بھینسیں بندھوا دیں کہ قریشی صاحب جتنا عرصہ رہو گے بال بچوں کو دودھ کی کمی نہ ہو گی اور وہ ایسا بے ایمان نکلا کہ نہ صرف اسوقت بھینسیں کھول کر واپس کر دیں بلکہ دھمکی دی کہ آئندہ مجھے یوں رشوت دینے کی کوشش کی تو حوالات میں بند کردوں گا‘ لو جی یہ کوئی انصاف ہے‘ بات تو یہ ہے کہ وہ ہمارے کام آئے اور ہم اسکے کام آئیں‘ یہ تو ہماری زندگی اجیرن کردیگا‘ چودھری امانت کی سنا ہے گجرات میں کسی بڑے پولیس افسر سے واقفیت ہے‘ اسے کہتے ہیں کہ اس کمبخت کا کسی نہ کسی طرح تبادلہ کرا دے۔ گواہی ہم دے دیں گے‘ اب جو چودھری اللہ یار تھے پچھلے تھانیدار صاحب‘ ہائے ہائے کیسے خاندانی آدمی تھے‘ سب کے کام آتے تھے‘ جائز ناجائز کے رپھڑ میں نہیں پڑتے تھے‘ جو خدمت کی قبول کر لی‘ کام کر دیا۔ قنون کی پٹیاں نہیں پڑھاتے تھے۔چند لوگ برخلاف تھے پر ان کو کون پوچھتا ہے۔

جتنا عرصہ رہے خلقت کو خوش رکھا‘ مسجد کی تعمیر کیلئے بھی اپنے پلے سے رقم دی‘ خوشی غمی پر بھی شریک ہوتے تھے اور ماشاء اللہ یہاں سے ریٹائر ہوتے ہی سرگودھا میں دو مربعے زمین ‘ گجرات میں کوٹھیاں‘ تین چار نسلی گھوڑیاں اور درجن بھر بھینسیں‘ تھانیدار تو وہ تھا‘ یہ بات لکھ لو‘ یہ قریشی بعد میں بھوکا مرے گا اس کا تبادلہ کراؤ بھائیا جی۔ مجھے یہ قصہ اب تک یاد ہے لیکن بیگم تم کیوں پوچھ رہی تھیں؟۔ ’’میرا خیال ہے ہمیں بھی نیا تھانیدار وارا نہیں کھاتا‘ یہ بھی قنون قنون کرتا رہتا ہے‘ نہ کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے۔ اسکا بھی کسی نہ کسی طرح تبادلہ کرانا پڑیگا اور علاقے کی خوشحالی کیلئے بہتر ہے کہ پرانے تھانیدار کو پھر سے یہاں تعینات کرنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ بھی کھائے اور ہم بھی کھائیں سب موج اڑائیں۔ ٹھیک ہے ناں؟

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: