Mustansar Hussain Tarar

’’ جھلّی چلی گئی۔ رُوحی بانو‘‘ از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

کتاب عمر کا ایک باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا

روحی بانو کے بھی سب عذاب ختم ہوئے۔ سب آزمائشیں، سب امتحان، سب نارسائیاں سب دکھ درد ختم ہوئے۔ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ کہاں کس ماحول میں پیدا ہوجائے‘ اس کے بس میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ماحول سے فرار ہوجائے۔ اپنا پس منظر پوشیدہ کرکے’’مہذب‘‘ معاشرے میں شامل ہوجائے۔ روحی بانو بیک وقت دو دنیاؤں میں سانس لیتی تھی ایک وہ دنیا جہاں ادب ’’فلسفے، نفسیات اور فنون لطیفہ کی باتیں ہوتی تھیں۔ جہاں انور سجاد، منو بھائی، اشفاق احمد اور یاورحیات ایسے لوگ تھے۔ وہ ان جیسی ہوجانا چاہتی تھی لیکن جب وہ واپس ایک اور دنیا میں جاتی تھی تو وہ محض ہوس اور پیسے کی دنیا ہوتی تھی جو اسے اپنے رنگ میں رنگنا چاہتی تھی‘ انہیں تضادات میں سے عذابوں نے جنم لیا۔ اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ وہ بندھنوں میں سے نکل جائے۔ فلمی دنیا کی خاک چھانی۔ فضول قسم کی فلمیں اس کے حصے میں آئیں۔ شادی کا تجربہ بھی ناکام ہوگیا اور آخری عذاب وہ نازل ہوا جو خدا کسی دشمن کی ماں پر بھی نہ اتارے۔ اس کا جوان بیٹا عجیب سے حالات میں مرگیا۔ اب تو وہ کملی ہوگئی۔ دربدر ہوئی جھلی ہوگئی۔ نہ اپنی خبر، نہ لباس کی پرواہ اور نہ یہ پرواہ کہ کس کے ساتھ چل دی ہے۔ہنستی اور روتی تو وہ پہلے بھی بہت تھی یہاں تک کہ شبہ ہوتا تھا کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہے لیکن اب وہ اپنے بیٹے کیلئے اتنا روتی تھی کہ ہمسائے بھی تنگ آگئے اور اپ کو پتہ ہے کہ جن ماؤں کے جوان بچے مر جاتے ہیں تو وہ کیسے روتی ہیں؟ جب لوگ ان کے رونے دھونے سے اکتا جاتے ہیں تو وہ سب کے سامنے نہیں، چھپ چھپ کر روتی ہیں۔ جیسے بلیاں روتی ہیں۔ روحی بھی چھپ چھپ کر بلیوں کی مانند روتی تھی۔ اپنے زمانے کی سب سے بڑی اداکارہ، سب سے خوش نظر اور خوش جمال لڑکی۔ دنوں میں بوڑھی ہوگئی۔ بکھرے ہوئے سفید بال میل سے اٹے ہوئے غلیظ لباس اور چہرے پر جھریاں، اس پر ایک فقیرنی کا گمان ہونے لگا۔ لوگ اس پر ترس کھا کر کچھ مدد کر دیتے۔ وہ رل کئی گلیوں میں۔ پرانے شناسا منہ موڑ کرچلے جاتے اور وہ ہنسنے لگتی۔ چنانچہ شکر ہے اس کے عذاب ختم ہوئے۔ وہ پردہ جو حائل تھا بقا اور فنا کا اس کے اور بیٹے کے درمیان وہ اٹھ گیا۔ اب جھلی جائے اور اپنے بیٹے کے گلے لگ جائے۔ اسے لوریاں سنائے۔ اسے چومے، اسے پیار کرے کہ اب وہ اس سے کبھی بھی جدا نہ ہوگی۔

1968ء کا زمانہ تھا، پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز تھا جب میں نے اس کے ساتھ پہلا ڈرامہ اشفاق احمد کا تحریر کردہ کیا۔ قوی خان کے ساتھ میں ایک نفسیات دان کے روپ میں آیا۔ میں قوی اور روحی کی نفسیاتی الجھنوں کا مداوا کرتا تھا۔ پہلی بار آمنا سامنا ہوا تو میرا دل کم از کم ایک دھڑکن مس کر گیا۔ وہ کوئی سوہنی تھی۔ بالٹری سی تھی اور کوئی روپ تھا اس کا۔ بعد ازاں زیادہ نہیں چند ایک ڈراموں میں ہم آمنے سامنے ہوئے اور ان میں ایک ڈرامہ اشفاق صاحب کا ہی لکھا ہوا ’’داستان حبیب‘‘ تھا‘ یہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کے ایک شدیدعشق کی داستان تھی اور یہ عشق یکطرفہ تھا کسی حد تک۔ روحی کا نام ڈرامے میں کیا تھا مجھے یاد نہیں البتہ حبیب میں تھا اور جب کبھی ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا تھا تو روحی اپنے حبیب کو دیکھ کر گنگ رہ جاتی اور صرف روتی جاتی۔ روتی ہی جاتی۔ ایک ایسے ہی منظر میں میرے سامنے آئی اور آنسو اس کی آنکھوں سے بارش کی مانند کرنے لگے۔ وہ روتی گئی۔ منظر ختم ہوگیا لیکن روحی بانو نے رونا بند نہ کیا۔ میں نے اسے کندھوں سے جھنجوڑا، چپ کرانے کی کوشش کی کہ روحی سین اوکے ہوگیا ہے۔ کٹ کی آواز آچکی ہے لیکن نہیں‘ بہت مشکل سے اس نے اپنے آپ پر قابو پایا۔ روحی شائد اپنے کردار سے نکل کر حقیقی زندگی میں چلی گئی تھی اور وہاں جو دکھ سہتی تھی جو ظلم اس پر روا رکھے جاتے تھے اور آس پاس جو بھیڑیے تاک میں رہتے تھے ان کے ڈر سے روتی تھی اور آئندہ زمانوں میں اس نے اپنے بیٹے کی موت کا جو صدمہ سہنا تھا وہ اس کے غم میں روتی تھی۔ جب میں اداکاری ترک کرکے ڈرامہ نگاری اور کمپیئرنگ کی جانب چلا گیا تو وہ جہاں ملتی ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہتی‘‘ یہ میرا ہیرو ہے، مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔آج میرے موبائل پر دھڑا دھڑروحی کی تصویریں منتقل ہوتی گئیں۔ خاص طور پر ایک ایسی تصویر جو شیخ منظور الٰہی کے گھر میں اتاری گئی تھی۔

ایک دوسرے سے روٹھے ہوئے سے بیٹھے ہیں اور ہم دونوں ابھی جوان تھے۔ کچھ لوگ جانے کہاں سے ہم دونوں کے ڈراموں کی تصویریں تلاش کرکے مجھے بھتیجے گئے اور میں حیران ہوا کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور تب میری بیگم نے میری سٹڈی میں جھانک کر کہا’’ روحی بانو بھی مر گئی ہے‘‘ اور اس کے ساتھ میڈیا کی جانب سے فون آنے لگے کہ آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ میں انہیں کیا بتاتا۔ میں نے یہی کہا کہ اچھا ہوا اس کے عذاب ختم ہوئے۔گارسیا مارکیز اور کھنتھر گراس کی نہایت حیران کن اور جادوئی حقیقت نگاری کی تحریروں سے بہت پہلے یہ روحی بانو تھی جس نے اپنے پاگل پن میں جادوئی حقیقت نگاری کی بنیاد رکھی۔ اس کی اداکاری میں جادوگری کے کرشمے تھے جن میں حقیقت کی پرچھائیاں مدغم ہوتی تھی۔ وہ اکثر ڈائیلاگ بولتے ہوئے ایک وارفتگی میں چلی جاتی‘ بے خبر ہوجاتی‘ سیٹ سے لاتعلق سی ہوجاتی اور اسے واپس لانا پڑتا۔ ایک آدھ بار تو میں اپنے مکالمے بولنا بھول گیا۔ بس اسے دیکھتا رہا۔ عجیب جھلی جادو گرنی تھی‘اس دنیا کی سٹیج پر اور بھی اداکارائیں آئیں گی پر روحی بانو جیسی اور کوئی نہ آئیگی‘ زمانہ پھر نہ کوئی اس جیسی دیکھے گا کہ کون ہوگا جو اداکاری میں بے مثال ہو۔ حسن میں کمال ہو اور پھر اداکاری او ر حسن میں اپنے دکھ درد بھر دے اور اپنے پاگل پن کی آمیزش کردے۔ اس جیسا اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئیگا کہ وہ ایک غزال تھی جس کے بغیر صحرا اداس ہے۔ غزالاں تم تو واقف ہو کہ روحی بانو مر گئی ہے۔ جھلی چلی گئی ہے۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: