28 مئی ۔ تاریخ ساز دن…سحر ہونے تک

0 2

جو قومیں اپنے تاریخ ساز لوگوں اور تاریخ ساز واقعات کو یاد نہیں رکھتی ہیں جلد یا بدیر تاریخ ان کو بھی بھلا دیتی ہے۔ ہم نے اپنے یوم آزادی کو دوسرا درجہ دے کر 23 مارچ کو یوم پاکستان بنا کر اوّلیت دے دی حالانکہ ہمارا وجود، ہماری شناخت 14 اگست 1947ء سے ہے جس دن ہم دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے رونما ہوئے اور جس طرح 14 اگست ایک یادگار، ناقابل فراموش دن ہے اسی طرح 28 مئی 1998) (بھی ہمارے لئے اتنا ہی اہم دن ہے۔ ہم ایک شکست خوردہ قوم کی حیثیت سے ذلیل و خوار ہو کر زندگی گزار رہے تھے اس دن ہم نے ایٹمی دھماکے کرکے پوری دنیا میں اپنی عزّت و وقارکو بحال کیا تھا۔ یہ دن اسی شان و شوکت سے منانا چاہئے جسئطرح ہم 14 اگست مناتے ہیں (یا مناتے تھے) لیکن ہمارے حکمراں اپنی چھوٹی چھوٹی سی کارکردگیوں پر (جن میں ہمیشہ ذاتی مفاد شامل ہوتا ہے) کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اشتہار بازی کرتے ہیں۔ اس دن کو ایک قومی دن کے طور پر منانا چاہئے،اس روز ہم نے اس بچے کھچے، ٹوٹے ہوئے ملک کے قیام کو یقینی بنا دیا تھا ہم نے اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ یہ ایک ناممکن منزل تھی جس کو ہم نے ممکن بنا دیا تھا۔ غیروں کو تو چھوڑیئے ہمارے اپنے لوگ یہ سن کر مذاق اُڑاتے تھے کہ ہم جو سلائی کی سوئی نہیں بنا سکتے ایٹم بم بنانے کی ڈینگیں مار رہے ہیں۔ اس ملک میں

صرف چار اشخاص ایسے تھے جن کو میرے اور میرے رفقائے کار پر بھروسہ تھا اور وہ تھے جناب مرحوم ذوالفقار علی بھٹو، جناب اے جی این قاضی، جناب غلام اسحاق خان اور جناب آغاشاہی۔ انہیں ہماری حب الوطنی، صلاحیت، مصمم ارادہ پر پورا بھروسہ تھا اور انہوں نے ہی مجھے وہ تمام سہولتیں بہم پہنچائیں جن کی مدد سے میں نے اپنے قابل و محب وطن ساتھیوں کی مدد سے اس پسماندہ ملک کو سات سال میں ایک ایٹمی قوّت بنا دیا۔ دنیا میں آپ کو کہیں ایسی مثال نہیں ملے گی۔ آج 67 سال بعد بھی ہم سوئی نہیں بنا سکتے۔ پلاسٹک کے اور کپڑوں کے نرم کھلونے باہر سے درآمد کرتے ہیں اور تو اور پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن، آلو بھی باہر سے آتے ہیں۔ایٹمی دھماکوں کے بعد یہاں حسب معمول بہت سے دعویدار پیدا ہو گئے جو لوگ اربوں روپیہ خرچ کرکے ایک کلوواٹ بجلی نہ بنا سکے اور ایک گرام سونا نہ بنا سکے انہوں نے پوری قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ نقلی چاغی کی پہاڑ کھڑے کرکے اپنے ادارے کی نام کی تختی لگا دی۔ خود کو موجد ایٹم بم کہلانے لگے جبکہ شاید یہ اس وقت بچوں کی کھٹولی میں چسنی چوس رہے ہوں گے جب امریکہ نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا لیکن چینی فلسفی لائو سو (Lao Tzu) نے ڈھائی ہزار سال پہلے کہا تھا کہ عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ وہ بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن غیرت نام کی چیز اس ملک میں نہیں ہے عوام سے باربار رد کئے جانے کے باوجود یہ لوگ ابھی بھی اپنی ہتک آمیز کوششوں سے باز نہیں آتے۔ 28مئی کا تاریخی دن آرہا ہے اور پھر پانی میں ہوا کے بلبلے پھوٹنے لگے ہیں۔ گدھے کو شیر کی کھال پہنانے یا اس پر شیر لکھنے سے وہ شیر نہیں بن جاتا بلکہ مذاق بن جاتا ہے۔ کہیں بھنگ بھی چنار بن سکتا ہے؟ آئیے اس تاریخی دن پر کچھ تبصرہ کرتے ہیں۔16سال پیشتر 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کرکے ایٹمی کلب میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس سے پوری پاکستانی قوم اور دنیائے اسلام کا سر بلند ہو گیا۔ اگرچہ مغربی ممالک کو یقین تھا کہ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہے اور ہم جب چاہیں دھماکہ کرسکتے ہیں لیکن کہاوت ہے کہ جب تک دیکھ نہ لو یقین نہیں آتا۔ 1984ء میں ہم نے یہ صلاحیت حاصل کرلی تھی اور میں نے 10 دسمبر 1984ء کو جنرل ضیاء الحق صدر وقت کو تحریری طور پر اس سے آگاہ کر دیا تھا اور اس کی تصدیق جنرل خالد محمود عارف نے “Deception” نامی کتاب کے مصنف ایڈریان لیوی Adrian Levy کو دیئے ہوئے ایک انٹرویو میں کی تھی (صفحہ 112)۔ ایٹمی دھماکوں سے پیشتر 6اپریل 1998ء کو کے آر ایل نے لمبی مار والے بیلسٹک میزائل غوری کا کامیاب تجربہ کیا تھا اور بارہ سو کلومیٹر دور ہدف کو صحیح نشانہ بنا دیا تھا۔ اس سے ہندوستان کی ہوا نکل گئی تھی اور ان کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب نہ وہ پاکستان کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور نہ ہی انہیں بلیک میل کر سکتا ہے۔ اس تمام کام میں مرحوم شہید ذوالفقار علی بھٹو، مرحوم جنرل ضیاء الحق،مرحوم جناب غلام اسحاق خان، مرحوم آغا شاہی، شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ، نواز شریف صاحب، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے نہایت کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ایٹمی دھماکوں اور میزائل کی تیاری میں کے آر ایل کے کلیدی رول پر تمام سابقہ وزرائے اعظم، صدور مملکت اور افواج پاکستان کے سربراہوں نے تحریری بیان دیئے ہیں جو کے آر ایل کی 25سالہ کارکردگی کے مضمون میں پوری طرح بیان کئے گئے ہیں۔ دراصل سب سے مصدقہ بیان جناب غلام اسحاق خان کا ہے جو انہوں نے ایک خط میں جناب زاہد ملک کو تحریری طور پر دیا تھا کیونکہ وہ اس پروگرام کے سربراہ تھے اور 1976ء سے 1993ء تک ہر کام سے واقف تھے ان کا بیان حرفِ آخر ہے۔ میرے پاکستان آنے، مشکلات کا سامنا اور کام میں کامیابی حاصل کرنے پر لاتعداد مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ ان سب کی تفصیل دینا ناممکن ہے۔ میں یہاں صرف اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کی اس تقریر کا متن پیش کرتا ہوں جو اس نے ایوان صدر میں ڈاکٹر اشفاق اور میری ریٹائرمنٹ پر الوداعی ڈنر سے پیشتر کی تھی۔ اس ڈنر میں وزراء، اعلیٰ سول و فوجی افسران اور سائنسدان شامل تھے۔ میں یہاں صرف اپنے اور کے آر ایل کے بارے میں بیان پیش کررہا ہوں۔
’’آج ہم یہاں وطن عزیز کے نہایت سینئر اور شہرہ آفاق سائنس دانوں اور اپنے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں تو میری سوچیں مئی 1974ء کے اس اہم دن کی طرف لوٹ جاتی ہیں جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور جنوبی ایشیاء کی سلامتی کے منظر کو بدلتے ہوئے پاکستان کے لئے انتہائی نامساعد صورت حال پیدا کردی تھی۔1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے فوراً بعد اس واقعہ نے ہمارے عدم تحفظ اور جراحت پذیر ہونے کے احساس کو مزید گہرا کردیا تھا۔ ہمارے روایتی عدم توازن میں ایک اور سبب کا اضافہ ہو گیا تھا اور پاکستان کو اپنی حفاظت کے بارے میں لاحق تشویش کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ اس موقع پر عالمی برادری نے روایتی علامتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ پاکستان کو تن تنہا ہی بھارت کی ایٹمی بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا تھا اور دوسری طرف ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا نام تک نہ تھا۔ ایسی صورت میں ہم سب پاکستانیوں کو صرف خدا کا ہی آسرا تھا۔ ہم حقیقی معنوں میں مدد کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور ہمارا عزم قائم رہا۔
آخر کار اللہ تعالیٰ نے قوم کی دعائیں سن لیں، ہماری حالت پر رحم آگیا اور ایک معجزہ رونما ہوا۔ پردہ غائب سے ایک بلند قامت اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل نابغہ کا ظہور ہوا اور یہ نابغہ روزگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ ایسے نابغہ جنہوں نے تن تنہا قوم کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کردیا۔
ان مشکل حالات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آمد نے ایسی قوم کو جو اپنے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا تھی اور جو عمل کے بجائے خالی خولی وعدوں اور جھوٹی سچی یقین دہانیوں کے بہلاوے کی عادی ہوچکی تھی اس کو اُمید رجائیت اور نیا حوصلہ اور اعتماد دیا۔
خواتین و حضرات! آنے والے سال، واقعات اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کامیابیاں ناقابل فراموش، اَن مِٹ اور پاکستان کی تاریخ کا عظیم الشان باب ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے انتہائی مشکل حالات میں رکاوٹوں، بین الاقوامی پابندیوں اور کرب ناک آپریشن کے الی الرغم اس حال میں اپنی شب وروزمحنت شاقہ سے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا سرمایہ افتخار کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز جنہیں بعد میں بجا طور پر خان ریسرچ لیبارٹریز کا نام دیا گیا ایسے عالم میں قائم کی کہ عملاً اس سے قبل کچھ بھی نہ تھا اور انہوں نے خالی ہاتھ کام شروع کیا تھا پھر چند ہی سالوں میں انہوں نے اور ان کے جرأت مند ساتھیوں نے ملک کو انتہائی افزودہ یورینیم کی صورت میں پہلا انشقاق پذیز مواد (افزودہ یورینیم) دیا اور یوں اسکور بھارت کے برابر کردیا۔ یہ کامیابی و کامرانی کی زندہ داستان ہے کہ وہ اپنی مادر وطن کے لئے ایک مقصد اور ایک ہدف کے حصول کے لئے سرگرم ہوئے اور اپنی زندگی ہی میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچتے دیکھا اور اپنے وطن سے بے مثال خراجِ تحسین اور توصیف وصول کیا اور قوم ان کی ہمیشہ کے لئے احسان مند اور مقروض ہو گئی۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے تاریخ میں اس سے قبل کوئی قوم کسی ایک فرد کی اس قدر کامیابیوں کی مرہون ِ منت نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دوبارہ نشان امتیاز حاصل کرنا ان کے منفرد پاکستانی ہونے کا ثبوت ہے اور وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں یہ اعزاز دوبارہ دیا گیا اور یہ احسان مند قوم کی طرف سے ان کی عظمت و احسان کا اعتراف ہے اور وہ واقعتاً اس اعزاز کے اہل ہیں۔
جناب ڈاکٹر صاحب! مجھے یہ بات رسمی طور پر ریکارڈ پر لانے کی اجازت دیجئے کہ آپ نے قوم کو جو کچھ دیا اس کے لئے یہ قوم نہ صرف آج بلکہ آئندہ بھی آپ کی ممنونِ احسان رہے گی۔ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کے لئے مَبداء فیاض ہیں۔ کوئی شخص بھی آپ سے یہ اعزاز چھین نہیں سکتا۔ تاریخ میں آپ کا مقام متعین ہوچکا ہے۔ آپ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے اور سرِفہرست رہیں گے۔ ہم آپ کو سلام کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائی سے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
جیسا کہ اکثر کہتا ہوں کہ مایوسیوں کے اتھاہ سمندر میں پاکستان کا ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا کسی قوم کی کامیابی کی بے مثال کہانی ہے۔ ان مجاہدوں نے پاکستان کو منفرد ایٹمی قوت کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کو افتخار بخشا ہے۔ وہ پاکستانیوں کے بہترین نمائندہ ہیں اور انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جب ہم ارادہ کرلیں تو پھر پہاڑوں کو بھی ہلا دیتے ہیں وہ اپنا رنگ بدل لیتے ہیں۔ سب احساس ،فرض اور قوت ایمانی کا نتیجہ ہے‘‘۔
یہ تقریر جو مشرف نے ملک کے ممتاز ترین اور اہم عہدیداروں کی موجودگی میں کی تھی وہ میں نے لکھ کر نہیں دی تھی اور نہ ہی اس میں ہم میں سے کسی سے مشورہ کیا گیا تھا۔ میں نے اپنی مرضی اور مرحوم ایئرچیف مارشل مصحف علی میر کے کہنے پر اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ بعد میں ان صاحب نے بفیض مصلحت امریکہ کی ٹھمری پر ناچنا شروع کردیا اور نہایت ہی گرے اخلاق کی عکاسی کی اور پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدنام کردیا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

%d bloggers like this: