فقیدالمثال مولانا رومی

ہماری تاریخ میں لاتعداد باکمال ہستیاں گزری ہیں جنھوں نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا ہے ان میں ولی اللہ، صوفی، درویشوں نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔ تصوف و فلسفہ، اِلٰہیات کی اسلامی روایات کے علم برداروں میں لاتعداد ولی اللہ کے علاوہ حضرت شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی ؒ، شیخ فرید الدین عطّار ؒ اور مولانا جلال الدین رومی ؒ کے نام سر فہرست ہیں۔
14 صدی میں پہلی مرتبہ مغرب نے اسلام اور اسلامی فلسفہ، تصوّف کے بارے میں دلچسپی لینا شروع کی اور فارسی زبان میں موجود نہایت اعلیٰ لٹریچر کا ترجمہ اَنگریزی میں کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے حضرت عمرخیام ؒکی رُباعیات کا ترجمہ ایڈورڈ فیٹزجیرالڈ(Edward Fitz Gerald) نے کیا اور اس کلام کی خوبصورتی اور گہرائی نے مغربی دنیا میں شہرت حاصل کرلی، اس کے بعد ٹی۔ای۔لارنس کی کتاب عقل و فہم کے سات ستون (The seven pillars of wisdom) نے مسلمان (عربوں) اور اسلام کے بارے میں مغرب کو آگاہ کیا ۔ اس کے بعد مولانا جلال الدین رومیؒ مشہور ترین صوفی ہیں جو اپنی رحلت کے 800 سال بعد اَب بھی امریکہ میں دور جدید میں سب سے زیادہ مقبول شاعر، ادیب، صُوفی ہیں۔ مغرب میں مولانا رومیؒ کو صوفی ازم یا تصوف کا بانی تصور کیا جاتا ہے اور صوفی ازم کو اِسلام کا صُوفیانہ عکس تصوّر کیا جاتا ہے۔ صوفی ازم کو کھردرے اونی کپڑوں سے منسوب کیا

جاتا ہے جو اس طریقہ کار (فقہ) کے پیرو کار پہنتے تھے۔ سفید لمبے کرتے پہنے لال ٹوپی پہنے رقص کرتے درویش اس فقہ کی خاص پہچان ہیں۔ یہ ایک ہی جگہ کھڑے ہوکر ہاتھ پھیلا کر گھوم گھوم کر رقص کرتے ہیں اور وجد میں آجاتے ہیں۔ یہ منظر مسحور کن، دل آویز ہوتا ہے کہ کچھ دیر رقص کرتے کرتے درویشوں کو دیکھ کر ناظرین خود وجد میں آجاتے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی ؒ 6 ربیع الاول 604 ہجری کو بلخ جو اس وقت سلطنت فارس کا حصہ تھا پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد محترم کا نام شیخ محمد بہائو الدین تھا۔ مولانا کا اصل نام محمد ، لقب جلال الدین اور عرفیت مولانائے روم تھا۔ آپ کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ملتا ہے۔ مولانا کے والد محترم علم و فضل میں اَپنے زمانے کے جیّد عالم تھے۔ مولانا نے ابتدائی تعلیم ان سے ہی حاصل کی تھی۔ بعد میں آپ نے شام میں دمشق اور حلب میں اس وقت کے اعلیٰ و نامور علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ اس طرح آپ اپنے وقت کے جیّد عالم تھے۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ مولانا اَپنے مدرسے میں درس دے رہے تھے کہ ایک دن ایک شخص حلوہ بیچتا ہوا آیا۔ اس کی ایک قاش ایک چھوٹے سکے کے برابر تھی۔مولانا نے ایک قاش اُٹھائی اور کھالی۔ حلوے والا بغیر رقم لئے آگے نکل گیا۔ مولانا بے اختیار اُٹھے اور ایک جانب دوڑ گئے۔ کئی برس بعد واپس آئے تو بات چیت سے محروم تھے جب بولتے تو شعر پڑھتے تھے۔ ان کے شاگرد اِن کے شعروں کو لکھ لیا کرتے تھے۔ یہی اشعار جمع ہوکر مثنوی بن گئی۔ مولاناروم حضرت شمس تبریز ؒ کے شاگرد بن گئے تھے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ مولانا ایک روز اپنے شاگردوں کے حلقہ میں، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر کے ساتھ، بیٹھے تھے کہ اچانک شمس تبریز ؒ قلندرانہ انداز میں پہونچے اور کتابوں کی جانب اشارہ کرکے پوچھا! یہ کیا ہے؟ مولانا نے جواب دیا کہ یہ وہ چیز ہے جس سے تم واقف نہیں ہو۔ مولانا کا یہ فرمانا تھا کہ اچانک کتابوں میں آگ لگ گئی۔ مولانا نے شمس تبریزؒ سے کہا، یہ کیا ہے؟ کہا یہ وہ چیز ہے جس سے تم واقف نہیں ہو اور یہ کہہ کرروانہ ہوگئے۔ اس واقعہ سے مولانا ؒ کی حالت خراب ہوگئی اور شمس تبریزؒ کی تلاش میں نکل پڑے۔ قونیہ میں شمس تبریز اور مولانا کی ملاقات ہوئی ۔ اس کے بعد مولانا اور شمس تبریز ؒ دونوں صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں چالیس روز تک چلہ کش رہے۔ اس دوران کھانا پینا ترک کردیا تھا اور صلاح الدین زرکوب کے علاوہ کوئی اور حجرے میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ مولانا ؒ کا اللہ سے لگائو کا حال انھوں نے خود اس شعر میں کہا ہے۔ (ترجمہ)
جب میں نماز پڑھتا ہوں خدا کی قسم مجھے
یہ معلوم نہیں رہتا کہ رکوع پورا ہوگیا ہے امام کون ہے۔
مولانا جلال الدین رومی ؒ کا 5 جمادی الثانی 672 ہجری کو قونیہ میں انتقال ہوا اور وہیں ان کامزار ہے جہاں لاکھوں لوگ اس کی زیارت کو جاتے ہیں۔
ایران کی چار کتب جو بے حد مشہور ہیں ان میں شاہ نامہ فردوسی، گلستان سعدیؒ، دیوان حافظ اور مثنوی مولانا روم ہیں۔ مثنوی کے لغوی معنی تو دو والا ہیں۔ اصطلاح میں اس نظم کو مثنوی کہا جاتا ہے جس کے ہر شعر میں دوقافیہ ہوتے ہیں، ایک پہلے مصرعہ میں ، ایک دوسرے مصرع میں۔ان میں سے کوئی بھی مثنوی روم کی مقبولیت حاصل نہ کرسکی۔ اس مثنوی کے بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں اور اس مثنوی کے اشعار کی تعداد 2666 ہے۔ مولانا جس حالت وجد میں یہ اشعار اچانک سنانے لگتے تھے ان سے یہی تصور ملا کہ یہ الہامی کیفیت میں آتے تھے۔
آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ کہانی کیوں لے بیٹھا۔ دراصل میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے سیاست داں، عوام، کرکٹر خاص طور پر جب بھی کسی کام کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی عدولی کرکے اِنشاء اللہ نہیں کہتے ۔ حالانکہ سورہ کہف میں (آیات 22:23 ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا مگر انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے تو کردونگا اور جب خدا کا نام لینا بھول جائو تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دو کہ اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔ مولانا رومی ؒ نے ’’کل شروع کروں گا‘‘ پر مثنوی میں جو فرمایا ہے وہ پیش کرتا ہوں۔
’’خبردار ایسا نہ کہہ کہ کل شروع کروں گا۔ آج کا کام کل پر نہ ڈال۔ اس معاملہ میں صرف باتوںسے کام نہیں چلتا۔ سخاوت وخیرات کو اَپنا۔ بدن کی سخاوت یہ ہے کہ جسمانی لذتوں اور شہوتوں سے پرہیز کیا جائے اور عبادت میں مصروف کیا جائے۔حدیث میں ہے کہ سخاوت بہشت کا ایک درخت ہے جو شخص سخی ہے اس نے اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑ رکھا ہے وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو بہشت میں داخل نہیں کرلیتی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں نجات کا ذریعہ بھی بتا دیا ہے جو کہ توبہ و استغفار ہے۔ اس ذریعے سے خدا کے مقربوں میں داخل ہوجائو۔ جب کوئی بگولا اٹھتا ہے تو گردوغبار نظر آتا ہے اور ہوا جو کہ اس کی اصل ہے نگاہوں سے چھپی رہتی ہے۔ انسان بگولے کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ گرد اُڑ رہی ہے ۔ عالم شہود میں بھی دراصل غیب کام کر رہا ہے جیسے بگولے میں ہوا۔ اس لئے اصل عالم غیب کو سمجھو۔ ہمارے ظاہری حواس عالم شہود کو دیکھتے ہیں۔ لیکن اللہ کے محبوب بندوں کی نظر عالمِ غیب کو دیکھتی ہے عالمِ ظاہر میں جو کچھ عمل ہورہا ہے محض چھلکا ہے فنا ہوجانے والا، اصل محرک تو عالم غیب میں ہے جو ظاہری نظروں سے پوشیدہ ہے حسی نظر صرف عالم شہود کی چیزوں ہی کو جان سکتی ہے لیکن ظاہری آنکھ کا سوار بھی اللہ کا غیبی نور ہے۔ اگر نور بصر پر نور حق سوار ہوتا ہے تو اس کو آخرت کی نعمتیں نظر آتی ہیں۔ نوربصیرت کے بغیر محض نوربصارت سے وصول اِلَی الْحَقْ ممکن نہیں ہے۔ قرآن میں ’’ نُوْرٌعَلیٰ نُوْر‘‘ سے یہی مراد ہے۔
جن لوگوں کو نور حق حاصل ہو جاتا ہے ان کی باتوں اور بھلے کاموں سے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ان کو نورحق حاصل ہے۔ نورِ بصارت جو کہ مادی چیز ہے وہ بھی نظر نہیں آتا تو نورِ بصیرت جو کہ نور ایمان ہے اور غیبی چیز ہے کیسے نظر آسکتا ہے۔قضا و قدر کے جس قدر تیر ہیں وہ علیم و قدیر کے چلائے ہوئے ہیں اور ان میں اس کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔
جنگِ بدر میں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی خاک دشمنوں کی طرف پھینکی جس نے آندھی کے گرد و غبار کی طرح دشمنوں کی آنکھوں کو متاثر کیا۔ اگر کوئی تیر تجھے آکر لگے تو اسے قضا و قدر کی طرف سے سمجھ اس پر غم و غصہ نہ کر غصہ کی حالت غلط بینی کا باعث ہوتی ہے انسان کو ہمیشہ قضا پر راضی رہنا چاہئے۔ہر انسان کا دل قبضۂ قدرت میں ہے جسے وہ ایک آن میں الٹ پلٹ دیتی ہے۔ ہر سالک کو چونکہ بہت سے مراتب طے کرنے ہوتے ہیں اس لئے اس کی راہ میں بہت سے خطرے بھی لاحق ہوتے ہیں۔ سالک مراتب حاصل کرنے کے بعد ہی مقام امن میں پہنچتا ہے۔
پیر کے دل پر نقش ِ خداوندی ہوتا ہے اور مرید کے دل پر پیر کا نقش اُبھرتا ہے۔ ہر حلقہ یا سلسلہ کے یکے بعد دیگرے جس قدر مرید ہوتے چلے جائیں گے ان کی صورت ہوگی پیر کے دل کے منقش خداوندی کی وجہ سے مرید کے دل پر شیخ کی توجہ کی وجہ سے اسرار و حکمت کے لاکھوں چشمے پھوٹتے ہیں اور خداناخواستہ شیخ کی توجہ کے ہٹ جانے سے یا بند ہوجانے سے معارف کفریہ خیالات کا سبب بن جاتے ہیں۔ کوہ طور نے جب اس پر خدا کی تجلی پڑی قبول کرلی۔ پہاڑ تو فیوض کو قبول کرلے اور انسان اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا نہ کرے تو بڑے شرم کی بات ہے۔ اسی زندگی میں انسان کے دل اور اعضاء پر اللہ کے قرب کے فیوض طاری ہونے چاہئیں۔
ضروری ہے کہ بدن کو مجاہدات کے تیشہ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ خواہ اس زندگی میں تکلیف محسوس ہو۔اگر مجاہدات سے مقام فنا حاصل کرلیا تو مقام احسان حاصل ہوجائے گا۔ یہ مقام انسان کو بھلوں کی صحبت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ مقامِ فنا میں پہنچ کر انسان خدائی رنگ میں رنگا جاتا ہے جیسے لوہا آگ میں فنا ہوکر لوہا ہوتے ہوئے بھی آگ کی صفات کا حامل ہوجاتا ہے۔ جیسے وادی ایمن میں درخت میں سے ’’اِنّی اَنَااللہ‘‘ کی آواز آتی تھی۔ منصور حلاج ؒ کے اناالحق کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ فنایت کلی وجہ سے صفات ِ خداوندی سے متصف ہوگئے جیسے لوہا سرخ ہوکر زبان حال سے اپنے آگ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اسی طرح بعض اہل اللہ بھی جب اخلاق خداوندی حاصل کرلیتے ہیں تو وحدت کے مدعی ہوجاتے ہیں۔ ذاتِ حق کو آگ سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ یہ بات محض سمجھانے کے لئے تھی اس لیے اس معاملے میں خاموش رہنا بہتر ہے۔ ذات و صفات کی بحثیں ناپیدا کنار سمندر ہیں ان میں نہ گھسنا چاہئے۔ مولانا رومی جیسے سینکڑوں عالم بھی مل جائیں تو ان بحثوں کو نہ سلجھا سکیں۔ فرماتے ہیں بے شک یہ ایک نازک کام ہے لیکن میں ذات و صفات کے ذکر کے بغیر صبر نہیں کرسکتا، میں بطخ کی طرح ہوں جو اپنے آپ کو دریا کے سپرد کردیتی ہے کہ جس طرح چاہے بہا لے جائے۔ شیخ خدائی حوض کی طرح ہوتا ہے جس کا تعلق دریائے باطن سے ہوتا ہے شیخ کے باطن کا اتصال ذاتِ باری سے ہے۔ نیک لوگوں کو بھی شیخ کا دامن تھامنا چاہئے۔ ورنہ ان کی محدود پاکی کسی دن ختم ہوجائے گی۔‘‘
میں نے انشاء اللہ کہنے والے حکم الٰہی کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ ہمارے سیاستدان، عوام، طلباء و طالبات اور سب سے بڑ ھ کر کھلاڑیوں کے منہ سے شاذونادرہی لفظ اِنشاءاللہ سنا جاتا ہے۔ہر چیز کو اپنا حق سمجھ کر دعویٰ کیا جاتا ہے گانے گائے جاتے ہیں ہم جیتیں گے،ہم جیتیں گے، خاک چٹائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سراسر تکبر ہے۔ میں نے آج تک کسی او ر ملک کے کپتان یا کھلاڑی کو اس طرح کی تکبّر کی باتیں کرتے نہیں سنا اور نہ ہی وہاں کی میڈیا ایسی جہالت کے دعوے کرتی ہے۔ آپ نے نتیجہ دیکھ لیا تکبر کا، ان نام نہاد شاہینوں کو کوّوں نے لاتیں مار مار کر خاک چٹا دی۔ اُمید ہے کہ ان کو اب ایسی باتوں سے گریز کرنے کا احساس ہوجائے گا۔
(نوٹ) مولانا رومی اور ان کی مثنوی کے بارےمیں زیادہ تر معلومات نہایت اعلیٰ کتاب مثنوی مولوی معنوی کے جناب قاضی سجاد حسین صاحب (الفیصل ناشران، تاجران کتب اردو بازار ،لاہور)،حکایات رومی مرتبہ میاں محبوب (گوہر پبلی کیشنز، اردو بازار، لاہور) اور انگریزی کتاب The Illustrated Rumi, جس کا ترجمہManuela Dunn Maseetti Phillip Dunn اورR. A. Nicholson نے بہت اچھی زبان میں کیا ہے اور جو نہایت ہی خوبصورت خاکوں و تصاویر سے مرصّع ہے، سے لی گئی ہیں۔ ان سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: