انجمن ہلال احمر ۔ قابل تحسین کارکردگی

انجمن ہلال احمر سے پُرانی واقفیت ہے اور میں 2004ء سے پہلے اکثر وہاں جایا کرتا تھا اور اس کی کارکردگی کو سراہتا تھا پھر تقریباً دس سال سے یہ رابطہ ٹوٹ گیا مگر اخبارات سے اس کی قابلِ تحسین سرگرمیوں کے بارے میں اطلاعات ملتی رہیں۔ ابھی پچھلے دنوں عزیز دوست اور اس ادارے کے نئے سربراہ (چیئرمین) ڈاکٹر سعید الٰہی نے مجھے ہیڈکوارٹر آنے کی دعوت دی جو میں نے فوراً بخوشی قبول کرلی۔ ڈاکٹر سعید الٰہی سے پہلی ملاقات لاہور میں ایک فنکشن میں ہوئی جو میرے ساتھی اور رفیق کار شوکت ورک صاحب نے میری سربراہی میں 200 بستروں پر مشتمل ایک فلاحی اسپتال کی تعمیر کے سلسلہ میں ایک بڑے ہوٹل میں منعقد کیا تھا۔ بہرام اواری پرانے پیارے دوست ہیں اور انہوں نے اس فنکشن کی مکمل مہمان نوازی اپنے ذمہ لے لی تھی۔ ڈاکٹر سعید الٰہی پرانے سیاستدان ہیں،پنجاب اسمبلی کے نہ صرف ممبر ہیں بلکہ صحت کے پارلیمانی سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے ان کا پہلا عہدہ اور موجودہ عہدہ ان کیلئے نہایت موزوں ہے۔
بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کی بنیاد ہنری ڈوناں (Henry Dunant) نے 1863 ء میں ڈالی تھی۔ یہ سوئٹزرلینڈ کے تاجر تھے اور اس کا مقصد تھا کہ ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو کہ دوران جنگ زخمی لوگوں کی دیکھ بھال کرسکیں۔ اس کے علاوہ ایسے قوانین ترتیب دیئے جائیں جن

کی مدد سے جنگ میں زخمی ہونے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو تحفظ دیا جائے۔ 1863ء میں جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں بین الاقوامی (ICRC) کی بنیاد ڈالی گئی اور 1864ء میں جنیوا میں ہی پہلا کنونشن منعقد ہوا تھا۔ اس وقت دنیا کے 80 ممالک میں اس ادارے کی شاخیں ہیں جو نہایت مفید کام کر رہی ہیں۔ یہ سب خودمختار ہیں مگر آپس میں قریبی رابطہ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ قیدیوں کا معائنہ، ان کی رہائی، تبادلہ اور سلوک کے بارے میں یہ بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔ 1919ء میں لیگ آف ریڈکراس سوسائٹیز کی ممبرشپ کے لئے تشکیل دی گئی۔ 1991ء میں اس کا نام تبدیل کردیا گیا اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (IFRC) کہلانے لگی۔ اس ادارے کے سات بنیادی اصول ہیں۔ (1) انسانی ہمدردی(2) غیرجانبداری (3) رضاکارانہ خدمت (4) آزادی (5) بین الاقوامی سطح پر کام(6) اتحاد (7) بلاتعصب خدمت۔
برِصغیرمیں 1920ء میں انڈین ریڈکراس کی بنیاد رکھی گئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد 20 دسمبر 1947ء پاکستان ریڈکراس کی تشکیل دی گئی اور 1974ء میں اس کا نام پاکستان ریڈکریسنٹ سوسائٹی(PRCS) یعنی پاکستان ہلال احمر یا انجمن ہلال احمر ہوگیا۔ پاکستان انجمن ہلال احمر کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے اور اس کے صدر ،صدرمملکت ہیں اور چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی ہیں۔ ہر صوبہ میں اور مختلف جگہوں پر اس انجمن کے دفاتر ہیں۔ صوبوں میں گورنر اس کے صدر ہیں۔انجمن ہلال احمر کا مشن یہ ہے کہ عوام کے غریب ترین، ضرورت مند طبقہ کی مشکلات دور کی جائیں، ان کی اِنسانیت کی قوّت و جذبہ سے مدد کی جائے۔
انجمن ہلال احمر کا نظریہ یا تصور (Vision) یہ ہے کہ ’’یہ پاکستان کی اعلیٰ ترین انسانی خدمت کا ادارہ ہو جو کہ متحرک ہو، خود کفیل ہو اور پورے اِنہماک سے عوام کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر مدد کی جائے اور ان کی تکالیف کا ازالہ کیا جائے۔ اس نیک کام کیلئے ریڈکراس اور ریڈ کریسنٹ کے بنیادی اصولوں اور انسانیت کے سنہری اصولوں پر عمل کیا جائے۔انجمن ہلال احمر وفاقی دارالحکومت و صوبائی حکومتوں میں، فاٹا میں، آزاد کشمیر میں قائم اور دوسری 92 شاخوں کے ذریعہ پورے ملک میں انسانیت کی خدمت کیلئے سرگرم عمل ہے۔ یہ نہایت وسیع نیٹ ورک اس ادارہ کے ملازمین اور لاتعداد رضاکاروں کی مدد سے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہے۔
انجمن ہلال احمر کی اہم سرگرمیوں میں قدرتی آفات سے نمٹنا، صحت و علاج، انسانی ہمدردی کی قدروں اور تنظیمی کارکردگی وغیرہ ہیں مگر اس ادارے کا اہم اور خاص کام دنیاوی و آسمانی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد، بنیادی صحت کی سہولتیں بہم پہنچانا، خاص طور پر ملک کے نہایت دور دراز مشکل علاقوں میں ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ انجمن ہلال احمر کی بنیادی خدمات میں رضاکاروں کو فرسٹ ایڈ یعنی ہنگامی امداد دینے کی ٹریننگ، ہنگامی حالات میں ایمبولینس سروس، صاف خون کی فراہمی صحت کے بنیادی اصولوں کی تربیت، صاف پانی کا استعمال، ایڈز جیسی مہلک بیماری کے بارے میں معلومات میسر کرنا، پریشان لوگوں کو نفسیاتی علاج کی سہولتیں اور گمشدہ لوگوں کی تلاش وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں پرخلوص، انسانی خدمت کے جذبے سے بھرپور نوجوان رضاکار شامل ہیں۔
انجمن ہلال احمر کی اہم اور پہلی توجہ مندرجہ ذیل کاموں پر مبذول ہے:۔(1)اس ادارے کی اہلیت کو قدرتی حادثوں سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار کرنا۔(2) دور دراز اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتیں میسر کرنا۔(3) انجمن ہلال احمر کے رضاکاروں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ اور ان کی مناسب تربیت۔(4)پورے ملک میں انجمن ہلال احمر کی سہولتوں کا قیام۔ (5) فوری امداد دینے والے تربیت یافتہ کارکنوں کی تعداد میں اضافہ۔ (6)ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ایمرجنسی ایمبولنس سروس کا قیام و ضروری اضافہ۔(7) متعدی یا چھوت سے لگنے والی بیماریوں مثلاً ایڈز (HIV-AIDS) اور ہیپاٹائیٹس بی اور سی کے بارے میں ضروری احتیاطی ہدایات بہم پہنچانا۔(8) ایسی تدابیر اختیار کرنا جن سے ادارہ خودکفیل ہوجائے۔ (9) ایسے فلاحی اور اہم کام کرنا جن سے ملک میں انجمن ہلال احمر کا قومی سطح پر اچھا تاثر قائم ہو اور عوام کو اس کی افادیت سے آگاہی ہو۔
انجمن ہلال احمر نے ملک میں جو سہولتیں قائم کی ہیں اس کی تفصیل یہ ہے۔
(1) ڈسٹرکٹ لیول پر92شاخیں قائم کی گئی ہیں۔ (2)حادثات سے نمٹنے کیلئے37ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ (3)103صحت کے مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ (4)7بلڈ بینک قائم کئے گئے ہیں۔ (5)109 ایمبولینس گاڑیاں موجود ہیں۔ (6)ڈھائی لاکھ سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔ (7)ایک لاکھ تیس ہزار تربیت یافتہ فوری مدد دینے والا اسٹاف موجود ہے۔(8)قدرتی مہلک حادثات سے نمٹنے کیلئے443تربیت یافتہ افراد موجود ہیں۔ (9)حادثات سے نمٹنے کیلئے فوری امداد کیلئے تقریباً 35000 خاندانوں کیلئے روزمرہ کی ضروریات کا سامان موجود رہتا ہے۔
مجھے یہ تمام معلومات اسلام آباد کے سرسبز و شاداب علاقہ میں واقع انجمن ہلال احمر کے نفیس دفتر میں اس کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے اور ان کے سینئر رفقائے کار نے بہم پہنچائیں۔ میری خوش قسمتی تھی کہ اس وقت ملک کے ممتاز سینئر صحافی اور عزیز دوست جناب مُجیب الرحمن شامی بھی تشریف لے آئے تھے وہ لاہور سے اسلام آباد آرہے تھے اور ڈاکٹر سعید الٰہی کی اطلاع پر کہ میں وہاں آرہا ہوں ازراہ محبت فوراً آگئے۔ شامی صاحب نے سب سے پہلے پاکستانی عوام سے میرا تعارف کرایا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد یہ ایک ٹی وی چینل پر دو صحافیوں کے ساتھ بیٹھے تھے ان میں سے ایک مشرف کے بڑے چمچے تھے، میرا ذکر آیا تو وہ صاحب بولے کہ ڈاکٹر خان دعویٰ کرتے ہیں کہ ایٹم بم انہوں نے بنایا ہے ایک لمحہ کا انتظار کئے بغیر شامی صاحب نے فی البدیہہ فرمایا۔ نہیں اُنہوں نے نہیں آپ نے بنایا ہے، ان صاحب کا چہرہ قابل دید تھا۔
اس محفل میں ڈاکٹر سعید الٰہی کے علاوہ انجمن کے سیکرٹری جنرل جناب ڈاکٹر محبوب سرکار، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ایئر وائس مارشل اطیب صدیقی اور دوسرے تمام اہم عہدیداران موجود تھے۔ ائیرمارشل صدیقی صاحب کی جانی پہچانی شخصیت نکلی۔ اپنے کہوٹہ کی ملازمت کے دوران ایئرفورس سے قریبی رابطہ رہتا تھا اور ہر سال وہاں لیکچر بھی دینے کی دعوت ملتی تھی اور خوشی سے جاتا تھا۔ ایئرمارشل صدیقی صاحب نے عسکری روایت کے مطابق نہایت خوبصورتی اور فراوانی سے انجمن ہلال احمر کی تمام تاریخ و سرگرمیوں سے روشناس کرادیا۔ یہ لیکچر نہایت خوبصورت (جیسا کہ انگریزی زبان میں ایک Treat کہتے ہیں) تھا۔ اس ادارہ کا ہر کام نہایت قابل تحسین ہے اور عوام ان کے اہم اور مفید کاموں اور کارکردگی سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔
پچھلے کئی برسوں میں اس ادارہ نے جو نمایاں خدمات انجام دی ہیں وہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس ادارہ کا قیام عمل میں آیا تھا اور مہاجرین کی آمد شروع ہو گئی تھی انہوں نے کراچی اور لاہور میں سیکڑوں کیمپ لگا کر مہاجرین کی بے حد مدد کی تھی۔ اس کے بعد 1971ء کی جنگ کے دوران انہوں نے قیدیوں کی مدد کی، ان کے مراسلات رشتہ داروں کو پہنچائے اور متاثرین خاندان کی اخلاقی اور مالی مدد کی۔ 1974ء کے سیلاب کے دوران سندھ ،صوبہ سرحد اور پنجاب میں متاثرین کی مالی مدد کی اور ان کو مکانات میسر کئے۔ پھر سب سے بڑا بحران افغان مہاجرین کا آیا اور تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین روسی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان میں داخل ہو گئے۔ اس ادارہ نے ان کو صحت، کھانے پینے کی سہولتیں بہم پہنچائیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور خدا جانے کب تک جاری رہے گا۔ 2005ء میں قیامت خیز زلزلہ آیا اور اس نے کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں تباہی مچادی ، ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے لاتعداد مکانات تباہ ہوگئے۔ انجمن ہلال احمر نے تقریباً 40 لاکھ متاثرین کی بحالی پر سات ارب روپیہ خرچ کرکے ان کی تکالیف کا ازالہ کیا پھر 2008ء کے سیلاب نے جو تباہی مچائی اس نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انجمن ہلال احمر نے اربوں روپیہ کی مدد سے متاثرہ لوگوں کی مدد کی اور بحالی کا کام انجام دیا۔ 2009ء میں سوات، مالاکنڈ میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً
16 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن کی مدد اور بحالی پر تقریباً 4 ارب روپیہ صرف کئے۔2010 ء میں ہنزہ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تقریباً4 لاکھ لوگ متاثر ہوئے انجمن نے 6 کروڑ روپیہ سے ان کی مدد کی اور ابھی تین سال پیشتر جو سیلاب آیا تھا اس کے 41 لاکھ متاثرین پر انجمن نے دس ارب روپیہ خرچ کیا اور نہایت قابل تحسین کام انجام دیا۔اتنے وسیع پیمانے پر اور ملک گیر سطح پر عوام کی خدمات کیلئے بہت بڑے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان حسب استعداد مدد کرتی رہتی ہے مگر آپ کو اور مجھے بھی اس نیک کام میں حصّہ لینا چاہئے۔ آپ اپنے عطیات دل کھول کر ہلال احمر پاکستان کے اکائونٹ نمبر 1650500064 ، عسکری بنک کی G-8 مرکز کی برانچ میں جمع کراسکتے ہیں۔ غیرممالک سے پاکستانی یہ عطیات اکائونٹ نمبر Foreign Currency A/C No.750500400084 عسکری بنک آبپارہ برانچ میں جمع کراسکتے ہیں۔ یہ دونوں بنک اسلام آباد میں ہیں۔ آپ کے تمام عطیات انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ آئیے ہم مل کر انسانیت کی خدمت میں اس اہم ادارے کی مدد کریں۔ اس وقت یہ ادارہ نہایت قابل و اہل چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی اور ان کے قابل اور ایماندار رفقائے کار کی نگرانی میں نہایت قابل تحسین خدمات انجام دے رہا ہے۔ انجمن ہلال احمر کے بارے میں آپ تمام معلومات ان کی ویب سائٹ www.prcs.org.pk سے حاصل کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: