ہا ہا ہا،ہاہا ہا از ایثاررانا ( پریشر گروپ )

اے میرے دوستو جمہوریت کے پرستارو،وطن کے پیارو ،سیاست کے راج دلاروآپ جانتے ہیں ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لئے ہمارے راہنماءمیدان عمل میں ہیں۔ہمارے بھانجے بلاول بھٹو نے اس سلسلے میں قائد جمہوریت چھوٹے میاں جی سے جیل میں ملاقات بھی کی ،آج کا کالم اس ملاقات کے ایمان افروز احوال پر مبنی ہے ۔کوئی بات آگے پیچھے ہو جائے تو سمجھ لیں کہ ”بھل چک لین دین“تو ہوتا ہے ہی ،اس اصول کے تحت میرا ذمہ بھی توش پوش ہے چلیں میری لفاظی پرکچیچیاں وٹتے ہوئے ملاقات کی لائیو ٹیلی کاسٹ ملاحظہ کریں۔
شہبازشریف،آیئے آیئے بلاول بھتیجے ،میں تو آپ کو خوش آمدید بھی نہیں کہہ سکتا حالانکہ جیل آپ کے ابو کی طرح اب مستقبل میں ہمارا بھی دوسرا گھر لگتی ہے ،پھر بھی آپ کو خوش آمدید کہنا شبھ شبھ نہیں لگتا۔
بلاول(شہباز شریف سے کورونا ایس او پیزکے تقاضوں کے مطابق بغل گیر ہوتے ہوئے )انکل انکل کیسی ہیں آپ؟
شہباز ،ویل ویل آپ چاہے جلسوں میں اپنے خطاب کا لہجہ وہی رکھیں لیکن آپ مذکر مونث کا استعمال درست کر لیں ۔ہماری مردانگی کو تو مشرف جیسا آمر چیلنج نہیں کر سکا۔
بلاول،انکل سوری آپ تو جانتے ہیں حکمرانوں کی بس انگلش اچھی ہونی چاہیے ۔
شہباز،چلیں آپ کے ٹیچرز جانیں اور آپ ،بتائیں کیسا رہا لاہور کا جلسہ؟۔
بلاول،(مسکرا کے منہ نیچا کرتے ہیں) انکل کیا بتاﺅں 5لاکھ لاگ تو درختوں میں چھپ کر جلسہ دیکھ رہے تھے 5 لاکھ جلسے کے پیچھے تھے لیکن کچھ زیادہ ہی پیچھے تھے اتنا بڑا جلسہ میں نے تو نہیں دیکھا مریم آپی نے مجھے یہ بتایا ہے۔
شہباز،ویچدی گل دسو بیٹوجی۔
بلاول ،چھوڑیں انکل اسپغول تے کج نا پھول۔
شہباز،ہونہہ ،ہونہہ
بلاول،انکل آج جیل آیا تو مجھے اپنے نانا شہید اور والدہ شہید یاد آگئیں ،انہوں نے یہاں بہت سختیاں جھیلیں۔
شہباز،(اپنے چہرے پر انگلی مارتے ہوئے) یس یس بھٹو شہید ہمارے شہید جمہوریت ہیں۔
بلاول،میرا دل کررہا ہے میں زور زور سے کہوں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، زندہ ہے بی بی زندہ ہے ،پر سوچتا ہوں آپ ناراض نہ ہو جائیں۔
شہباز،نہیں نہیں ہر گز نہیں اگر آپ شیر آیا شیر آیا اور شیر اک واری فیر کے نعرے لگا سکتے ہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں اور ہاں واقعی بھٹو زندہ ہے اور اسے پھانسی دینے والے ختم ہو گئے ۔واہ واہ واہ
بلاول،جی انکل اللہ کا شکر ہے ضیاءالحق اور ان کے روحانی بیٹے سب ختم ہوگئے ۔ماما شہید کی روح بھی خوش ہو گی کہ ہم نے ہمیشہ کے لئے بھٹو کو زندہ اور ضیاءالحق کو ختم کر دیا ۔ہا ہا ہا
شہباز، ہا ہا ہا ہا، اچھا سناﺅ میرے بھائی آصف زرداری کا کیا حال ہے؟۔
بلاول،انکل جب سے آپ نے گریبان سے پکڑ کر سڑ کوں پر گھسیٹنے کا اعلان کیا ،انہوں نے بغیر کالر کی شرٹ پہننی شروع کر دی ہے اور نواب شاہ کی سڑکیں تلکنی بنا دیں ہیں تا کہ گھسیٹنے سے گوڈے ،گٹے نہ چھلے جائیں۔
شہباز،(مسکراتے ہوئے ) چھڈو چھڈو بقول چوہدری شجاعت بھائی کہ مٹی پاﺅ ،مٹی پاﺅ
بلاول،انکل میں نے ایک شکایت کرنی تھی مریم آپی مولانا انکل کو سمجھائیں وہ کھیڈنا چاہتے ہیں نہ ہمیں کھیڈتا دیکھنا۔
شہباز،بچی ہے ،ضدی ہے آپ بھی اوتوں اوتوں ہاں کرتے رہو اور اندرو اندری یعنی وچو ں وچ اپنی لائن بڑے بھائیوں سے سیدھی رکھو ،بیٹا جی اسی کا نام سیاست ہے۔
بلاول،انکل آپ تو جانتے ہیں پاپا پاکستانی سیاست پرپی ایچ ڈی ہیں ،وہ ہمیشہ سجی دکھا کر کھبی کراتے ہیں ۔آپ فکر نہ کریں ہمیں خدا ملے نہ ملے وصال صنم ضرور ہو گا۔
شہباز،ہونہہ ،ہونہہ ملکی حالات خراب ہیں ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
بلاول،جی انکل سعودی عرب سمیت خلیجی چاچے سلیکٹڈ سے ناراض ہو چکے سام انکل کے بعد یوکے ماموں بھی ناراض ہیں ،چینی ویسے ہی چوں چوں چاں چاں کر رہے ہیں۔
شہباز ،یعنی لوہا گرم ہے ،بھارت حملے کرنا چاہتا ہے اکانومی بھانڈے میں وَڑ وُڑ گئی ہے ۔سعودیہ نے ”سنگی پر نو “رکھ کر دو ارب ڈالر واپس لے لئے ،لوہا گرم ہے اب ہمیں فائنل” سَٹ“مار دینی چاہیے ۔
بلاول،بس انکل اگر مہربانوں نے سیٹی بجا دی تو ہم بھی اینٹ سے اینٹ کھڑا دیں گے۔
(ایک سنتری کمرے میں داخل ہوتا ہے ) سرکار ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ۔
بلاول،اوکے انکل ٹفن میں آپ کے لئے دیسی بکرے کے کھد،پائے لایا تھا گرم کر ا کے کھا لیجئے گا اور بے فکر رہیں ہم جمہوریت کے لئے سندھ کی قربانی بھی دے دیں گے۔
شہباز،یس یس جمہوریت کی بحالی میں ہمارے اثاثوں میرا مطلب قوم کی بقا ہے ۔
بلاول،ہا ہا ہا۔
شہباز ،ہا ہا ہا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: