Mustansar Hussain Tarar

دورہ بانہال اور پھولوں کی پہاڑی از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

یہ پھولوں والی پہاڑی عجب خون آلود پہاڑی ہے‘ ان دنوں یہ دن رات خون کے آنسو روتی ہے اور خون کی کوئی قومیت کوئی مذہب نہیں ہوتا اس لئے پہچانا نہیں جاسکتا کہ کونسا خون کشمیری نوجوانوں کی لاشوں میں سے پھوٹتا ہے‘ فلسطینیوں کے سینوں میں سے ابلتا ہے اور کونسا بچہ خون ہے جو قندوز کے بچوں کے لوتھڑوں میں سے رستا ہے‘ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو پھولوں والی پہاڑی کا قصہ سناؤں گا‘ اگرچہ میں اسے ایک افسانے کی شکل دے چکا لیکن کیا کروں کہ ان دنوں پھولوں والی پہاڑی کے سب گل بوٹے خون میں لتھڑے ہوئے ہیں اور وہ موت کی تاریک وادی میں اترتی جاتی ہے اس لئے کچھ حرج نہیں کہ اس سے پیشتر کہ وہ ایک وسیع قبر کی شکل اختیار کرجاتے ہیں بیان کردوں کہ یہ کیسے وجود میں آئی‘ میرے باپ چوہدری رحمت خان تارڑ کو مٹی سے عشق تھا‘ مٹی میں سے جو کچھ بھی نمایاں ہوتا تھا اس کی کوکھ میں سے جنم لیتا تھا وہ اس کا رازداں تھا‘ پتے پتے بوٹے بوٹے کا حال جانے تھا‘ وہ پودوں‘ فصلوں‘ بوٹوں‘ پھل پھولوں کا نباض تھا‘ ان کے دکھ جانتا تھا اور انہیں دور کرنے پر قادر تھا‘ وہ ہریادل کا مسیحا تھا‘ مجھے یاد ہے لوگ دور دور سے آتے‘ اپنے خطوں کی مٹی ساتھ لاتے یہ جاننے کیلئے کہ اس میں کونسی فصل کاشت کریں‘ کونسے پھلدار شجر لگائیں کہ وہ بہت ثمرآور ہوں اور ہمارے لئے کثیر رزق کا سامان بنیں‘ میرے ابا جی اس مٹی کو مٹھی میں بھر کر سونگھتے‘ کچھ دیر غور کرتے۔

اسے اپنی ہتھیلی پر بکھیرتے اور پھر اس شخص کو بتاتے کہ تم نے اپنی مٹی کی قدر نہیں کی‘ اسے فلاں کھاد درکار ہے‘ اتنا پانی درکار ہے‘ ہل سے اس کا سینہ گہرائی تک چیر دو اور پھر اس میں فلاں فصل بو دو‘ فلاں پھل کے بوٹے لگا دو‘ یہی مٹی تھی مالا مال کردے گی اور ہاں مٹی سے محبت کرو تو وہ دن بہ دن زرخیز ہوتی چلی جائے گی‘ ایک بار وہ حسب معمول سرینگر میں اپنے فارم کی دیکھ بھال کیلئے لاہور سے نندہ بس سروس پر سوار کشمیر جارہے تھے‘ جموں شہر سے پرے جہاں سے درہ بانہال کی بلندیوں کا آغاز ہوتا تھا کسی مسافر کو شدید حاجت ہوئی تو سکھ ڈرائیور نے بس ایک بے نام مقام پر روک دی‘ چند اجڑے ہوئے جھونپڑے تھے‘ کچھ لوگ غربت کے مارے زندہ لاشوں کی مانند اس بس میں سوار مسافر وں کو حسرت سے دیکھتے تھے‘ ان جھونپڑوں کے پہلو میں ایک بے آب و گیاہ سی پہاڑی تھی‘ کہیں کہیں گھانس پھونس کی روئیدگی تھی ورنہ ویران بہت تھی‘ ابا جی بس میں مسلسل بیٹھک سے اکڑ جانیوالی اپنی لامبی ٹانگوں کو ذرا حرکت دینے کیلئے اس پہاڑی پر چلے گئے‘ حسب عادت انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کچھ مٹی کرید کر اسے مٹھی میں بھر کر سونگھا ‘ سرینگر کے فارم میں کاشت کرنے کیلئے وہ اپنے ہمراہ کچھ انگلستان اور ہالینڈ سے درآمد شدہ پھولوں کے بیچ لئے جارہے تھے‘ ابا جی واپس بس تک اترے ان بیجوں کی ایک پوٹلی سامان سے نکالی اور پھر ایک جنونی شخص کی مانند پہاڑی کی زمین اپنے ہاتھوں سے کھود کر اس میں وہ بیج ڈالتے اور مٹی برابر کردیتے۔

اس دوران بس روانگی کیلئے تیار ہوگئی اور ڈرائیور بھونپو بجانے لگا اور بس کے مسافر اس لمبے تڑنگے گورے چٹے نیلی آنکھوں والے نوجوان کو خبطی سمجھتے جو اس پہاڑی پر جانے کیا کررہا تھا‘ ابا جی نے جگہ جگہ اس چھوٹی سی پہاڑی کی مٹی میں مختلف پھولوں کے بیج دبا دئیے‘ اس سے اگلے برس جب ابا جی حسب معمول نندہ بس سروس میں سوار سرینگر جارہے تھے تو درہ بانہال کی چڑھائی کے آغاز میں جب بس نے موڑ کاٹا تو عین سامنے وہ پہاڑی ان کی نیلی آنکھوں میں اتری‘ وہ سر سے پاؤں تک رنگ رنگ کے پھولوں سے لدی ہوئی تھی‘ رنگ رنگ کے البیلے‘ چمکیلے‘ آنکھوں کو بھی اپنے رنگوں سے رنگین کرنے والے پھولوں کے انبار تھے‘ سرد ہواؤں میں جھومتے‘ لہراتے‘ اپنے حسن کے خمار میں گم بے شمار اور بے حساب پھول ہی پھول تھے‘ کہا جاتا ہے کہ اس پھولوں سے بھری پہاڑی نے اس حسرت زدہ بستی کی قسمت بدل دی‘ سیاح دور دور سے اسے دیکھنے کیلئے آتے‘ اباجی نے کسی سے تذکرہ نہ کیا کہ انہوں نے اس پہاڑی کے ویرانے پن میں کچھ بیج اپنے ہاتھوں سے بوئے تھے کہ درویش اپنے وجود سے اس دنیا کو گل و گلزار کرتے ہیں ۔

لیکن چپ رہتے ہیں‘ پھر تقسیم ہوگئی‘ پھولوں والی پہاڑی ادھر رہ گئی‘ وہ ہمیشہ اسے یاد کرتے‘ خواہش کرتے کہ آنے سے پیشتر ایک بار میری آنکھوں کو وہ پھولوں والی پہاڑی دکھائی دے جائے پر ان کی حسرت پوری نہ ہوئی‘ وہ گل بہار پہاڑی ان کی نیلی آنکھوں میں دفن ہوگئی‘ لیکن مکمل طور پر نہیں‘ اس کے کچھ گل رنگ شائبے میری آنکھوں میں منتقل ہوگئے کہ میں اپنے باپ کا وارث تھا‘ پھولوں والی پہاڑی میرے باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد تھی اور کبھی نہ کبھی میں اس پر اپنے حق کا دعویٰ دائر کروں گا‘ اگر میں نہ کرسکا تو اپنے بچوں کو وصیت کر جاؤں گا کہ اپنے دادا جان کی وراثت سے کبھی دستبردار نہ ہونا‘ اگر یہ مسئلہ امن سے حل نہ ہو تو اپنے جائز حق کیلئے ہتھیار اٹھا لینا‘ تو ان دنوں سرینگر کی گلیوں میں ہندوستانی غاصبوں کے سامنے جتنے بھی نوجوان ہیں وہ میرے ہی بچے ہیں‘ اگر یہ ان کے پاس ہتھیار نہیں صرف پتھر اور پاکستان کے پرچم ہیں‘ آج نہیں تو کل پھولوں والی پہاڑی کے گلوں کا خوف رنگ لائے گا‘ میرے بچے اپنے آبائی ورثے کو حاصل کرلیں گے‘ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میرے ابا جی کی پھولوں والی پہاڑی کے پھول صرف کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتوں سے ہی خون کے آنسو نہیں روتے‘ دنیا بھر میں جہاں بھی کسی بھی بے گناہ کا خون بہتا ہے وہ جھرنوں کی صورت پھولوں والی پہاڑی کے پھولوں میں سے پھوٹنے لگتا ہے۔

یہ سب خون پھولوں والی پہاڑی کی کونپلوں سے پھوٹتے ہیں‘ اس کی مٹی میں جذب ہوکر اسے سینچ کر اسے مزید زرخیز کرتے ہیں تاکہ رہتی دنیا تک اس کی مٹی میں سے آزادی اور احتجاج کے پھول کھلتے رہیں‘ کشمیری نوجوانوں کو ہندوستانیوں کی چھرے دار بندوقوں نے اندھا کیا کہ وہ ان کے اپنے نہ تھے‘ دشمن تھے‘ فلسطینیوں کو اسرائیلیوں نے ہلاک کیا کہ وہ بھی غیر تھے‘ دشمنوں اور غیروں سے کوئی گلا کیا کرے لیکن‘ وہ جو قندوز کے گل رخ جن کے رخسار قندھار کے اناروں ایسے تھے‘ اپنی سفید پگڑیوں میں کتنے ’’کیوٹ‘‘ لگ رہے تھے‘ انہیں اپنوں نے مارا‘مجھے بھی حیرت بہت ہے کہ آخر قندوز کا قتل عام کیوں لائم لائٹ میں نہیں آیا‘ حکومت چپ‘ میڈیا چپ اور صحافی حضرات خاموش‘ کوئی خاموشی سے خاموشی ہے‘ نہ افغان‘ نہ ایران‘ نہ شام نہ سعودی عرب اور نہ پاکستان کوئی بھی نہیں بولتا‘ صرف میرے ابا جی کی پھولوں والی پہاڑی بولتی ہے‘ صرف اس کے پھول پکارتے ہیں کہ آؤ قندوز کے بچوں‘ آؤ ہم تمہیں اپنے پھولوں کے کفن میں دفناتے ہیں‘ تم جدا ایسے موسموں میں ہوئے جب درختوں کے ہاتھ خالی نہ تھے‘ پھولوں سے بھرے ہوئے تھے‘ جیسے آرمی پبلک سکول میں سینکڑوں بچوں کے سروں میں گولیاں ماری گئیں ‘ ایسے ہی قندوز کے بچوں کو ہلاک کیا گیا ‘ میرے دل میں آرمی سکول کے مارے جانیوالے بچوں کی قبریں قطار اندر قطار ہیں‘ میں نے ان بچوں سے درخواست کی وہ اپنی قبروں میں ذرا سمٹ جائیں کہ قندوز کے بچے اپنے سینوں میں قرآن محفوظ کئے چلے آتے ہیں‘ تمہارے پہلو میں دفن ہونا چاہتے ہیں میرا دل ہے یا قندوز کے بچوں کا قبرستان ہے۔

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: