اِسلامی تاریخ ۔ حسب خواہش فروگزاشت

یہ اس موضوع پر میرے کالموں کی تیسری اور آخری قسط ہے۔ یہ اس اہم آرٹیکل کا سلسلہ ہے جو ماہ نور خان نے پاک ٹی ہائوس کی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا اور جس کو میرے نہایت عزیز و قابل دوست پروفیسر ڈاکٹر بیرسٹر محمد جاوید اقبال جعفری نے مجھے روانہ کیا تھا یہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر جعفری نے مجھے اب مطلع کیا ہے کہ ماہ نور خان کا آرٹیکل پاک ٹی ہائوس کے بلاگ یعنی غیررسمی ویب سائٹ سے لیا گیا تھا جس کو جناب رضا رومی اور فرائیڈے ٹائمز کی معاون ایڈیٹر مُلک کی مشہور صحافی محترمہ جگنو محسن نہایت خاموشی اور آزادی خیال کے تحت چلا رہے ہیں۔ محترمہ جگنو محسن صاحبہ ملک کے مایہ ناز صحافی و تجزیہ نگار (اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین) جناب نجم سیٹھی کی شریک حیات ہیں اور ملک کے مایہ ناز صنعت کار محمد محسن صاحب کی صاحبزادی ہیں جو میرے دوست ہیں اور ہم 1976ء سے ہی ان کی کمپنی کے اعلیٰ جام، چٹنیاں وغیرہ استعمال کررہے ہیں۔ ہم کو 1976ء میں ملک کے ایٹمی پروگرام برائے ایٹمی ہتھیار بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جو ہم نے 1984ء میں تکمیل تک پہنچا دی تھی۔ اب میں ماہ نورخان کے آرٹیکل کے اقتباسات کے ساتھ اپنا تبصرہ پیش کرتا ہوں۔
ماہ نور خان:۔ میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اسلامی تاریخ کے صحیح اور باریک بینی سے تجزیہ نہ کرنے کی وجہ

سے آج مسلمان موجودہ بدحالی و ذلّت کا شکار ہیں۔ ہمیں یہ اچھی طرح جاننا چاہئے کہ کس طرح حکمرانوں نے مذہب کو اپنے ذاتی مقاصد و مفاد کے لئے استعمال کیا، کس طرح اس کو خواتین کی سخت نظربندی کے لئے استعمال کیا، اس کی تفصیل کے لئے پورا آرٹیکل چاہئے لیکن یہ بتانا چاہتی ہوں کہ تمام قوانین اور رسوم ایسے بنائے گئے تھے جن کی مدد سے خواتین پر مکمل اجارہ داری (کنٹرول) حاصل کرنا تھا۔ حکمراں متعدد بیویاں اور سیکڑوں لونڈیاں رکھ رہے تھے اور ان پر کنٹرول کرنے کے لئے بہت ہی شکّی اور حاسد تھے اور اس وجہ سے انتظامیہ اور حرم کے تمام ملازمین کو خصّی یعنی نامرد کردیا جاتا تھا۔ برصغیر میں حرم کے ملازمین کے سربراہ کو خواجہ سرا کہا جاتا تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسلام میں یہ قابل نفرت عمل ممنوع ہے مسلمان حکمراں اس پر کثرت سے عمل کراتے تھے۔
ڈاکٹر خان:۔ یہ نہایت قابل نفرت و مذمت بات ہے کہ مسلمان حکمراں اس قسم کے جاہلانہ اور وحشیانہ، غیر انسانی کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ اگر آپ ترکی گئے ہوں اور استنبول کے محل توپ کاپی میں گئے ہوں تو آپ کو وہاں حرم کی قابل نفرت مثال نظر آجائے گی، چھوٹے چھوٹے سے مرغی خانوں کی طرح کمرے جن میں ملکی اور غیرملکی کنیزیں عیاشی کے لئے قید رکھی جاتی تھیں۔ بعض اسلامی ممالک میں اب بھی بچیوں کی ’’ختنہ‘‘ کی جاتی ہے یعنی ان کو جنسی طور پر بے حس گوشت کا لوتھڑا بنا دیا جاتا ہے۔ یہ کون سے قرآن اور کون سے اسلام میں بتایا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں نے دوسرے ممالک میں محلات بنا رکھے ہیں جہاں وہ باقاعدگی سے جاکر شراب نوشی اور عورت بازی میں مشغول ہوکر داد عیش دیتے ہیں۔ ان چیزوں پر نہ ہی کوئی لکھتا ہے اور نہ ہی اعتراض کرتا ہے۔
ماہ نور خان: ۔ ایک اور نہایت قابل نفرت اور قابل مذمت روایت غلاموں کی تجارت اور استعمال ہے۔ اسلامی ممالک میں کھلم کھلا نسلی تعصب عام تھا سفید غلام کو سیاہ غلام پر ترجیح دی جاتی تھی اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی تھی۔ یہ سفید غلام مشرقی یورپ، اسپین، مشرق بعید سے پکڑ کر لائے جاتے تھے اور عرب ممالک کے بازاروں میں فروخت ہوتے تھے۔ کالوں سے گندا کام کرایا جاتا تھا اور سفید فام غلاموں کو اچھا کام دیا جاتا تھا۔ ہمیں تاریخ میں صرف یہ پڑھایا جاتا ہے غلاموں کی تجارت صرف مغربی لوگ کرتے تھے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں یہ رواج بیسوی صدی عیسوی تک رائج تھا۔
ڈاکٹر خان :۔ اس کے باوجود کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمام انسانوں کو مساوات و یکساں رتبہ و درجہ دیا ہے اور قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص دوسرے سے برتر ہے جس کا کردار و اخلاق دوسرے سے بہتر ہو۔ ہمارے اپنے ملک میں اب بھی نسلی امتیاز برتا جاتا ہے۔کراچی کی مکرانی آبادی سے ذرا اُن کے حالات دریافت کیجئے۔ میں پاکستان آیا تھا تو ان سے بہت رابطہ رہا، بے حد ملنسار، خوش گفتار، نرم گو اور رحمدل قبیلہ تھا۔ یہ تو اپنے گدھوں سے جتنی محبت کرتے ہیں ہمارے بابو لوگ اپنی اولاد سے نہیں کرتے۔
ہم آسانی سے اور اپنی مرضی کی خاطر غلاموں کی تجارت کا الزام مغربی ممالک پر ڈالتے ہیں۔ آپ ذرا حقائق کا مطالعہ کیجئے تو علم ہوگا کہ افریقہ میں اندرون ملک سے افریقیوں کو پکڑ کر لانے والے اور مغربی تاجروں کو فروخت کرنے والے مسلمان عرب تھے۔ اگر افریقیوں کی لاکھوں کی ہلاکت کا الزام سفید فام لوگوں پر ڈالا جاتا ہے تو اس گندے اور قابل نفرت کام میں عرب مسلمان برابر کے ذمہ دار اور مجرم تھے۔ اس غیرانسانی تجارت کرتے وقت نہ تو ان کو خوف خدا تھا اور نہ ہی ہمارے پیارے رسول ﷺ کی ہدایات یاد تھیں۔
ماہ نور خان:۔ اس آرٹیکل کے لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اس دور کی اچھی باتوں کو بالکل نظر انداز کردیا جائے۔ اپنے عروج کے دور میں اسلامی مملکتوں میں علم، سائنس، ٹیکنالوجی، عمارتیں،سڑکیں اور صحت کی سہولتیں اعلیٰ معیار کی میسر تھیں۔ (بغداد، قاہرہ، دمشق، سمرقند وغیرہ دنیا کے خوبصورت ترین اور صاف ترین شہروں میں شمار ہوتے تھے۔انہوں نے اعلیٰ عدلیہ، اعلیٰ نظام مملکت اور اعلیٰ فوج قائم کی تھیں۔ اس دور میں اسلامی ممالک میں مذہبی رواداری عیسائی ممالک کے مقابلہ میں بہت بہتر تھی۔
میں یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ تجزیہ کرتے وقت ہمیں بُری باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ورنہ ہم غلط نتائج اخذ کرلیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کا بہترین نظام مملکت اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ چلنے میں مضمر ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ضرورت سے زیادہ مذہب کو ریاستی معاملات میں ڈالنے سے ترقی اور عقلمندانہ سوچ میں رکاوٹ پڑتی ہے۔
ڈاکٹر خان :۔اسلامی ممالک میں سب سے بڑی لعنت یہ ہے کہ یہاں اکثریت ڈکٹیٹروں اور غاصبوں کی ہے اور یا ایسے لوگوں کی ہے جو جمہوریت کے نام و بھیس میں ڈکٹیٹرانہ نظام مملکت چلا رہے ہیں۔ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک یہی سلسلہ و رواج قائم رہا ہے۔ ہمارے فوجی غاصب بھی خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے تھے اور عوامی نمائندوں کو گالیاں دیتے تھے۔ ایسے حالات میں ان ڈکٹیٹروں کے گرد خود غرض، عیّار، لالچی اور بے ضمیر لوگ گھیرا ڈال لیتے ہیں، ان کو حقائق سے بے بہرہ رکھتے ہیں، جھوٹی باتوں کو سچ بتا کر پیش کرتے ہیں اور ان کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ان سے بہتر حکمران اور ہردلعزیز شخص تاریخ میں کہیں پیدا نہیں ہوا۔ یہی تاثر ہمارے اپنے لوگوں نے ایوب خان کو، ضیاء الحق کو اور مشرف کو دے کر فرشتہ و مسیحا بنا دیا تھا۔ جیسا کہ ماہ نورخان نے نہایت بہادری اور صاف گوئی سے بیان کیا ہے کہ حکمرانوں کے اس ناکارہ، کرپٹ و عیاشانہ نظام کی وجہ سے اتنی بڑی بڑی شاندار سلطنتیں تھوڑے سے عرصہ میں تباہ ہو گئیں۔ بدقسمتی سے ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور ہمارے حکمراں اب بھی خود کو مغل بادشاہوں کی طرح سمجھتے ہیں اور انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ عوام غربت، بیروزگاری، مہنگائی کے بوجھ سے پس رہے ہیں اور حکمران محلوں میں داد عیش دے رہے ہیں۔ عوام کے لئے اُمید کی کوئی کرن نہیں ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو تاریخ کے واقعات سچائی سے نہیں پڑھائے جارہے ہیں، ان کو یہ نہیں بتایا جارہا کہ ہمارے عروج کی کیا اچھی باتیں تھیں اور ہمارے زوال کی کونسی خراب باتیں تھیں۔
ہم ٹیپو سلطان کی بہادری کے قصے سناتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں بتاتے کہ ان کا یہ عبرت ناک انجام کن وجوہات کی وجہ سے ہوا اور ان میں ان کا خود کتنا قصور تھا۔
اب آپ کو چند باتیں لفظ تاریخ اور اس کے مفہوم کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق ہسٹری یا تاریخ پچھلے واقعات کی تفصیل و مطالعہ ہے، مسلسل وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی تفصیل ہے جن کا تعلق کسی قوم، ملک سے وابستہ ہے جن کے تفصیلی واقعات وقت کے ساتھ ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ جناب اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے تین جلدوں پر مشتمل اعلیٰ کتاب ’’تاریخ اسلام‘‘ میں تاریخ کی تعریف یوں کی ہے کہ ’’لوگوں کا اکٹھے ہو کر ساتھ رہنا، شہر کی شکل اختیار کرنا اور ان کے واقعات کو آنے والی نسلوں نے ترتیب کرنا جن سے بعد میں آنے والی نسلوں نے سبق حاصل کرنا‘‘۔
تاریخ کے مطالعہ سے قومیں اپنے عروج اور زوال کے اسباب جانتی ہیں۔ عقلمند قومیں تاریخ سے سبق حاصل کر کے پچھلی غلطیاں نہیں کرتیں مگر نادان لوگ وہی غلطیاں دہراتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ وہ قومیں جو اپنی تاریخ سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہیں اور ان سے سبق حاصل کرتی ہیں عموماً باعزّت، باوقار ہوتی ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جبکہ مغربی ممالک میں عوام اپنی تاریخ کے سنہری واقعات کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ قوم کا حوصلہ بلند ہو وہ پچھلے غلط کاموں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگوں کو بُرے نتائج کے اسباب کا علم ہو۔ پچھلی صدی سے مسلمان تاریخ داں ایمانداری سے تاریخ نہیں لکھ رہے ہیں وہ ہمیشہ پچھلی باتوں کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں اور وقت کا ساتھ نہیں دیا۔ جیسا کہ ماہ نور خان نے نہایت صاف گوئی اور بہادری سے کہا ہے کہ یہ تاریخ داں ہماری تاریخ لکھنے میں بے ایمانی سے کام لیتے رہے ہیں اور بُری اور ناپسندیدہ باتوں کو لکھنے سے گریز کرتے رہے ہیں کہ حکمراں ناراض نہ ہوں۔ سچائی ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے مگر یہی چیز اچھی قوموں کی ترقی و عروج کا ذریعہ ہوتی ہے۔ میں آخر میں ماہ نور خان کو ان کے اتنے اچھے اور دلیرانہ آرٹیکل لکھنے پر دلی مُبارکباد دیتا ہوں۔ ان کے لئے داغؔ کا یہ شعر پیش خدمت ہے۔
خط ان کا بہت خوب، عبارت بھی ہے اچھی
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

Leave a Reply

%d bloggers like this: