2Below header

وہ خاصاہنگامہ خیزثابت ہوا از مستنصر حسین تارڑ

4Above single post content

السلام و علیکم خواتین و حضرات…اگرچہ ان دنوں ایک عجب سانحہ سا ہوگیا کہ آپ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آپکے سامنے جو خواتین ہیں کیا وہ سچ مچ خواتین ہیں اور جو حضرات ہیں وہ بھی باقاعدہ مرد وغیرہ ہیں کہ عین ممکن ہے کہ ان میں کچھ تیسری جنس سے تعلق رکھتے ہوں…کہ ابھی حال ہی میں ان لوگوں کے حقوق بحال ہو رہے ہیں‘ انکے شناختی کارڈ بن رہے ہیں ووٹ کا حق دیا جا رہا ہے بلکہ سرکاری ملازمتوں میں انکا کوٹہ بھی طے کیا جا رہاہے کہ وہ بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ میرے صرف خواتین و حضرات کے طرز تخاطب پر اعتراض کریں کہ آئے ہائے تارڑ صاحب ہم بھی تو ہیں… تو آپ سب کو میں السلام و علیکم کہتا ہوں… ویسے ابھی کچھ دیر بعد جب آپ میری شعلہ بیانی سے متاثر ہو کر تالیاں بجائینگے تب میں جان جاؤنگا کہ آپ میں سے ٹرانس جنڈر یعنی تیسری جنس والے کون کون سے ہیں کہ بادی النظر میں مجھے تو سب کے سب خواتین اور حضرات ہی لگ رہے ہیں… باقی بھید تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے…فیض صاحب کی دھانسو بیٹی منیزہ ہاشمی نے جب ایک مرتبہ پھر مجھے فیض میلے میں شرکت کی دعوت دی اور میرے لئے ایک خصوصی سیشن کے اہتمام کی نوید سنائی اور نہایت آمرانہ انداز میں کہا کہ تارڑ بھائی آپ نے پچھلے ستر برس میں لکھی گئی فکشن کا مدبرانہ جائزہ لینا ہے تو میں نے معذرت کرلی اور منیزہ کو بھی بہن کا درجہ دے دیا کہ یوں ہم بھی فیض صاحب کے منہ بولے بیٹے ہونے کا شرف حاصل کر سکتے تھے…

ورنہ اللہ نہ کرے کہ منیزہ ایسی میری کوئی بہن ہوتی‘ اداکارہ‘ ڈرامہ پروڈیوسر‘ لاہور ٹیلی ویژن کی سابقہ جنرل منیجر‘ دنیا بھر میں ٹیلی کمیونی کیشن کی معروف ایکسپرٹ اور ماشاء اللہ علی جیسے ماہر نفسیات کی والدہ محترمہ جس کا قد عالم چنا سے ایک بالشت سے مار کھاگیا ہو اورپھر عدیل ہاشمی ایسے حیرت ناک حد تک ٹیلنٹڈ بیٹے کی بھی اماں… تو معذرت میں نے یوں کی کہ پچھلے ستر برس میں لکھی جانے والی فکشن کا جائزہ میرے بس کی بات نہیں… یہ کام کسی نقاد کے سپرد کر دیجئے جو فہرستیں ترتیب دینے کا ماہر ہو یعنی ایک عدد تخلیقی منشی ہو‘ یہ جانچ سکے کہ کن ناول نگاروں اور نثر نگاروں میں گیرائی پائی جاتی ہے اور اسکے ساتھ گہرائی بھی پائی ہی جاتی ہے… میرے ذہن میں ایک اچھوتا سا خیال ہے جو مجھے لمزیونیورسٹی کے ماضی کے بیوروکریٹ سلمان غنی صاحب نے سمجھایا ہے کہ وہ بھی اپنی یونیورسٹی میں مجھے ایک لیکچر کیلئے مدعو کرنا چاہتے ہیں… منیزہ ہاشمی ’’ بہن‘‘ فوراً مان گئیں اورمیرے سیشن کا عنوان ’’ یہاں سے شہر کو دیکھو‘‘ تجویز کردیا… چنانچہ خواتین و حضرات… دیگر مخلوق میں یہاں سے ان شہروں کو دیکھتا ہوں جو دنیا کے بڑے ناولوں کے پس منظر یوں ہوئے کہ انکا ایک کردار ہوگئے‘ کہنے کو تواور بادی النظر میں یہ ایک آسان سا موضوع تھا لیکن جب غور کیا تو اردو کے ایک پیوست زدہ محاورے کے مطابق میں آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹک گیا اور آپ جانتے ہے ان دنوں کھجوروں میں بہت رونق ہے … درجنوں شہزادے آسمان سے گر کر کھجوروں میں اٹکے ہوئے ہیں مجھے شدت سے احساس ہوا کہ دنیا بھر میں سینکڑوں ایسے ناول لکھے گئے ہیں جن کے پس منظر دنیا بھر کے شہر ہیں تو میں کیسے ان سب کا احاطہ کر سکتا ہوں چنانچہ میں اپنے محدود مطالعے کے مطابق اپنے آپ کو محدود رکھوں گا کہ اسی میں میری عافیت ہے…

اگر آپ غور کریں اور میں بھی غور کرتا ہوں تو ایک عجیب صورتحال سامنے آتی ہے کہ تقسیم کے بعد تخلیق کئے گئے بیشتر ناولوں اور افسانوں میں شہروں کا وجود سرسری ہے… جیسے اخباروں میں کسی ملکی یا غیر ملکی لیڈر کو شکرپڑیاں کی پہاڑی پر ایک شجر لگاتے دکھایا جاتا ہے لیکن کبھی اس شجر یا پودے کانام نہیں لکھا ہوتا… بس یہ کہ فلاں لیڈر ایک پودا لگا رہے ہیں… یہ پودا یا شجر کیا ہے… شیشم ہے‘ دھریک ہے یا رات کی رانی ہے‘ اسی طور پاکستانی فکشن میں صرف ایک شہر یا گاؤں تو ہوتا ہے پر اس کا نام کیا ہے‘ یہ کہاں ہوتا ہے اسکی کچھ خبر نہیں ہوتی اور اسکا ایک بنیادی سبب ہے‘ میں اپنے موضوع سے قدرے انحراف کرتا ہوں… بہت زمانے ہوئے جب برکلے یونیورسٹی کی ایک ریسرچ سکالر لینڈا ونیٹک نام کی جدید اردو افسانے پر پی ایچ ڈی کی تحقیق کیلئے تشریف لائیں‘ چونکہ ان دنوں میرا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ سیاہ آنکھ میں تصویر‘‘ اشاعت پذیر ہوا تھا چنانچہ انہوں نے مجھے بھی انٹرویو کیلئے مناسب جانا‘ یہ تفصیلی انٹرویو بعدازاں ’ماہ نو‘ میں اشاعت پذیر ہوا…انہوں نے غیر متوقع طور پر پہلا سوال یہ پوچھا کہ تارڑ صاحب آپ نثر ہی کیوں لکھتے ہیں؟ میں بو کھلا گیا کہ بھلا یہ کیا سوال ہے اور اسی بوکھلاہٹ میں جواب دیا کہ… اس لئے کہ میں ایک پنجابی ہوں‘ یہ جواب سن کر وہ قدرے بوکھلا گئیں اور کہنے لگیں کیا آپ اس بیان کی وضاحت فرمائیں گے تومیں نے عرض کیا کہ قرۃ العین حیدر کے علاوہ اردو ادب میں جتنے بھی عظیم نثر نگار ہیں وہ سب کے سب پنجابی ہیں‘ اردو انکی مادری نہیں اختیاری زبان ہے‘ یہ ہماری سگی نہیں بلکہ ہم نے اسے گود میں لے لیا ہے… اور میں نے اردو کے مہمان نثر نگاروں کی فہرست پیش کر دی…

تو وہ حیرت زدہ ہوگئیں کہ کیا واقعی… راجندر سنگھ بیدی‘ بلونت سنگھ‘ کنہیالال کپور‘ سعادت حسن منٹو‘ پطرس بخاری‘ فکر تونسوی‘ احمد ندیم قاسمی‘ عبداللہ حسین‘ اشفاق احمد‘ ممتاز مفتی‘ رویندر ناتھ اشک‘ رام لعل‘ جمیلہ ہاشمی‘ ابن انشاء‘ اے حمید وغیرہ سب کے سب پنجابی تھے‘ مجھے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز پر نظرثانی کرنی پڑیگی کہ دنیا بھر میں اردو وہ واحد زبان ہے جسکے بڑے نثرنگاروں کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو کے عظیم لکھاری ہیں جو کہ انکی زبان نہیں ہے‘ تو میں نے انکی حیرت کو رفو کرنے کی کوشش کی کہ محترمہ شاید آپ اب آگاہ ہوگئی ہونگی کہ میں نثر ہی کیوں لکھتا ہوں‘ اسلئے کہ میں ایک پنجابی ہوں نثر لکھنے کیلئے ایک فراخ اور زرخیز ذہن درکار ہے… یہاں سے ایک اور قضیہ جنم لیتا ہے… بیدی صاحب نے اپنے ایک دیباچے میں لکھا ہے کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ آخر آپ اتنی فارسی اور عربی زدہ اردو کیوں لکھتے ہیں تو انہوں نے کہاکہ تاکہ میں اہل زبان سے اپنا لوہا منوا سکوں… پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے مان لیا تو بیدی کہنے لگے کہ نہیں میں تو سکھ ہوں انہوں نے علامہ اقبال کو بھی زیادہ لائق نہیں جانا تھا یعنی ایک صاحب یوپی سے لاہور آئے اور علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان دنوں کوئی لاہور آئے اور علامہ اقبال سے ملاقات نہ کرے یہ ممکن ہی نہ تھا… وہ صاحب واپس گئے تو انکے یاروں نے پوچھاکہ میاں آپ لاہور گئے اور حضرت علامہ سے شرف نیاز حاصل ہوا تو کون سے مضامین زیر بحث آئے انہوں نے شاعری اور فلسفے کے کون سے رموز بیان کئے تو ان صاحب نے ناک چڑھا کر کہاکہ خاک رموز بیان ہوئے جتنا عرصہ میں انکے پاس بیٹھا رہا وہ’’ ہاں جی… ہاں جی‘‘ کہتے رہے اور میں’’ جی ہاں‘ جی ہاں‘‘ کہتا رہا… یعنی انکی اردو درست کرتا رہا… ادھر پچھلے دنوں کا قصہ ہے کہ قرۃ العین حیدر نے بھی فیض صاحب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جو آپ نے کہا ہے کہ … خیر ہو تیری لیلاؤں کی ان سے یہ کہہ دو‘ آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو… تو یہ خیر ہو تیری لیلاؤں کی‘ میں پنجابی جھلکتی ہے… پچھلے برس کراچی کے آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول میں مجھے ’کی نوٹ ایڈریس‘ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تو جو کچھ ادب اور مسلم ثقافت کے بارے میں‘ میں نے اس کلیدی خطبے میں کہا وہ خاصا ہنگامہ خیز ثابت ہوا..

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: