Mustansar Hussain Tarar

مجھے ننگے پاؤ ں چلنے والے اچھے لگتے ہیں از مستنصر حسین تارڑ

Peerzada M Mohin
Written by Peerzada M Mohin

ویسے ان دنوں جو ایک سادگی اور کفایت شعاری اختیار کی جارہی ہے یعنی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کم کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ وہاں مدعو کردہ اکابرین بھی گھر سے کھانا کھا کر ڈنر کیلئے آتے ہیں کہ صرف چائے اور سوکھے بسکٹوں سے تو پیٹ نہیں بھرتا‘ ہائے ہائے کہاں گئے وہ ن جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے اور سری پائے‘ نہاری‘ بھنے ہوئے بٹیر‘ روغنی گوشت‘ چکڑ چھولوں اور سو طرح کے ذائقوں والے کشمیری کھانے ہم اڑایا کرتے تھے‘ اب اس سادگی پر کون نہ مر جائے اسے خدا کہ وزیر خارجہ دو چار ساتھیوں کے ساتھ اپنا سامان اٹھائے عامیانہ کلاس میں سفر کررہے ہیں اور یو این او کا کوئی اجلاس اٹینڈ کرنے جارہے ہیں‘ صدر مملکت ترکی کے دورے پر جاتے ہوئے اپنا سوٹ کیس کنویئر بیلٹ پر خود ہی گھسیٹ کر رکھ رہے ہیں اور وزیراعظم استری کے پیسے بچا کر ایک چر مر شلوار قمیض میں چین چلے جارہے ہیں اور وہاں ایک بہت نامور چینی تاجر کی پیالی چھلکتی ہے اور چائے خان صاحب کی شلوار پر گر جاتی ہے اور وہ تاجر سے کہتے ہیں کہ آئی ایم سوری اور اس چائے آلودہ شلور کے ساتھ چینی لیڈروں سے مذاکرات کررہے ہیں‘ اسے بدلنے کے لئے واپس نہیں جاتے‘ کیا یہ سادگی صدق دل سے اختیار کی جارہی ہے یا یہ محض ایک دکھاوا ہے‘ لوگوں کو الو بنایا جارہا ہے‘ بے شک وہ پہلے سے ہی الو بن چکے ہیں اور انہیں مزید الو بنایا جارہا ہے‘ مال روڈ پر گورنر ہاؤس کے سامنے سے گزرا تو اس کا آہنی گیٹ کھلا تھا اور سکول کے بچے شور کرتے اندر جارہے تھے وہاں وہ سیمنٹ فصیلیں اب موجود نہ تھیں‘ منظر کھل گیا تھا تو کیا یہ بھی ایک ڈھکوسلا ہیں‘ میں صدق دل سے یقین رکھتا ہوں کہ جہاں تک عمران خان کی ذات کا تعلق ہے۔

انہوں نے یہ سادگی صدق دل سے اختیار کی ہے‘ عمران خان خود لندن میں شہزادوں ایسی پرُتعیش زندگی بسر کرتے تھے ان جیسی شہرت اور شکل کسی اور کے نصیب میں نہ آئی‘ صرف کرکٹ سے ہی نہیں انہوں نے ماڈلنگ سے بھی بے پناہ دولت کمائی کہ وہ تب یورپ کے سب سے زیادہ مہنگے ماڈل تھے‘ ان زمانوں کی تصاویر دیکھتے تو آپ بھی ان کی وجاہت کے اسیر ہوجائیں گے‘ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو دنیا کی ہر راحت اور ہر عیش کثرت سے نصیب ہو تو اگر اس شخص کے اندر ایک شک کرنے والی‘ سوال کرنے والی روح ہے تو وہ کسی نہ کسی مقام پر پوچھتی ہے کہ کیا ان دنیاوی راحتوں کے سوا بھی کوئی اور راحت ہے‘ تمہاری زندگی کا کیا یہی مقصد ہے‘ تب اس شخص میں ایک تبدیلی رونما ہوتی ہے اور عمران خان کے ساتھ ایسا ہی ہوا‘ میں یہاں اپنے بچپن کے کرکٹ کے ہی کھلاڑی فضل محمود کا حوالہ دوں گا‘ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے اور ان میں میں سرفہرست ہوں کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں فضل محمود ایسا ڈیشنگ اور خوش شکل کھلاڑی اور کوئی نہ ہوا‘ دراز قامت‘ سفید دمکتا ہوا چہرہ‘ مسکراہٹ قاتل اور ماتھے پر بال بکھرے ہوئے بلکہ فضل محمود کے چاہنے والے عمران خان کو لکڑی کے چہرے والا ایک بناوٹی شکل کا شخص کہتے ہیں‘ وہ باؤلنگ کیلئے بھاگتا ہوا آتا تھا تو ایک یونانی دیوتا لگتا تھا اور دنیا بھر کی دیویاں بولڈ ہوجاتی تھیں‘ لڑکیاں اس پر مکھیوں کی طرح مرتی تھیں البتہ وہ بھی عمران خان کی مانند ایک سجن بے پرواہ تھا۔

کسے پاکستان کے وہ سنہری زمانے یاد نہیں جب پاکستان کی نوخیز کرکٹ ٹیم نے اوول کے میدان میں کرکٹ ایجاد کرنے والوں کو شکست سے دوچار کیا تھا اور یہ فضل محمود تھا جس نے انگریزی بیٹسمینوں کو اپنی باؤلنگ کی جادوگری سے ’’فضلڈ‘‘ کردیا تھا۔ یہ انگریزوں کا کہنا تھا کہ اس نے ’’پزلڈ‘‘ کی بجائے ہماری ٹیم کو ’’فضلڈ‘‘ کردیا تھا۔ فضل محمود کی طلسم کاری اور شہرت اور صنف نازک پر ضرب کاری لگانے کی صلاحیت سے متاثر ہوکر اردو نظم کے سب سے بڑے شاعر مجید امجد نے ایک اب ایک کلاسیک ہوچکی نظم لکھی تھی۔ جس کا عنوان تھا ’’آٹوگراف‘‘ یقیناًمجید امجد بھی ان کے مداح تھے اور انہوں نے فضل محمود کو اک آن میں دیکھا تو اسے اپنی محرومیوں کے ساتھ بیان کردیا۔ مختصر قدرے!

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لئے ہوئے۔
کھڑی ہی منتظر۔ حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر‘ حسین لڑکیاں!
کھڑی ہیں یہ بھی راستے پر اک طرف
بیاض آرزو برکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نیاز بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروف کچ تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پر مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
نسائی انگلیوں میں کانپتے ورق پر جھک گئی

تو زر نگار پلوؤے سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئی
وہ ’’باؤلر‘‘ ایک مہ وشوں کے جمگھٹے میں گھر گیا
وہ صفحہ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں پھری
حسین کھکھلاہٹوں کے دریا سے وکٹ گری
میں اجنبی‘ میں بے نشاں
میں پابہ گل
نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے
یہ لوح دل‘ یہ لوح دل
نہ اس پر کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے

ویسے یہ زمانے کے کھیل ہیں کہ کھلاڑی فضل محمود ایسے گمنام ہورہے ہیں وہ جو اجنبی بے نشان شاعر تھا اس کی جہانوں میں دھوم ہے۔ وہی فضل محمود جو اوول کی فتح کے بعد پویلین کی بالکونی پر کھڑا نیچے کھڑے مداحوں کی جانب جام چھلکاتا ہے اور اس کی آنکھوں میں ہلکا ہلکا سرور ہے وہی فضل محمود اس کا قالب بدل جاتا ہے اس کے اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے کہ کیا یہی زندگی ہے اور وہ بدل جاتا ہے۔ متعدد دینی کتب تصنیف کرتا ہے اور سول سیکرٹریٹ کے ہر کمرے میں جھانک کر کہتا ہے نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ آئیے اکٹھے ادا کرتے ہیں۔ اشفاق احمد کے قل کے موقع پر فضل محمود میرے برابر میں آبیٹھے اور ہم نے اوول کی یادگار فتح کو یاد کیا۔ وہ بڑھاپے میں بھی ایک شہزادے لگتے تھے۔ فضل محمود کی مانند ہی عمران خان اس پرُتعیش حیات سے اکتا گیا اور پھر اپنا طرز حیات بدل ڈالا۔ سادگی اور قبولیت اختیار کی۔ اس کے حریف کہتے ہیں کہ وہ ایک ناکام حکمران ہے اور یہ حکومت زیادہ دیر نہ چلے گی۔ وہ ایک ناکام حکمران ہوگا۔ اس کی حکومت کل ہی گر جائے میری بلا سے۔ لیکن اگر یہ ایک زمانے میں کھلنڈرا شخص مدینے کی خاک پر قدم رکھتا ہے تو ننگے پاؤں رکھتا ہے۔ وہ جہاز سے اترتا ہے اور وہ ایک ایٹمی طاقت کا ایک بڑے اسلامی ملک کا وزیراعظم ہے اور جتنے بھی شہزادے اور اعلیٰ حکام اس کے استقبال کیلئے آئے ہیں ان کے پاؤں میں جوتے ہیں اور صرف وہ ہے جو ننگے پاؤں ہے۔ اور وہ روضہ رسولؐ کی جالیوں پر آنکھیں رکھا رو رہا ہے تو مجھے بس یہ ننگے پاؤں آنے والے میرے پیغمبر سے عشق کرنے والے اور رونے والے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ بھلے وہ ایک ناکام حکمران ہوں۔ کل ان کی حکومت گر جائے تب بھی مجھے ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو ننگے پاؤں ہوتے ہیں اور روتے ہیں۔
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء

About the author

Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: