تھیلیسیمیا۔ ایک مہلک مرض

0 2

پوری دنیا میں مئی کے پہلے ہفتہ میں ’’تھیلیسیمیا‘‘ کادن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جس کا مناسب تدارک نہ کیا جائے تو ناقابل قبول اور نہایت تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی جہالت، کم عقلی اور نامناسب معلومات و اقدامات ِ تدارک کی کمی کی وجہ سے یہ مرض بڑھتا جارہا ہے اور ہر سال ہزاروں بچے اس مہلک بیماری کا شکار ہورہے ہیں۔ اگرچہ سندھ میں میرے عزیز دوست سینیٹر عبدالحسیب خان کی کوششوں سے ایک قانون پاس کردیا گیا ہے جس کی رو سے اب شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کو خون کا ٹیسٹ کرانا ہوگا تاکہ پیدا ہونیوالے بچے اس مہلک بیماری کا شکارنہ ہوں اورپنجاب میں میاں شہباز شریف کی نگرانی میں تھیلیسیمیا کی بیماری کی روک تھام کیلئے ڈاکٹر محمد نوید طاہر کی سربراہی میں ایک موثر مہم جاری کر رکھی ہے۔ تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیلئے شیخ علائوالدین صاحب، ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب نے ایک ریزولوشن 3 ستمبر 2012ء کو متفقہ طور پر منظور کرایا تھا جس کی رو سے نکاح نامہ میں بوقت نکاح جوڑے کا تھیلیسیمیا فری ٹیسٹ کی شق لازمی قرار دی گئی۔ اس پر عمل کی وجہ سے لاتعداد خاندان اس مہلک، تکلیف دہ اور نہایت قیمتی علاج سے محفوظ ہوگئے ہیں۔
ملک میں اب کئی فلاحی و سرکاری ادارے اس اہم و مہلک بیماری کو ختم

کرنے میں مصروف ہیں اور اس بیماری پر بہت تحقیق کی گئی ہے اور ماہرین اس کو ملک سے ختم کرنے کا مصمّم تہیہ کرچکے ہیں۔میں دراصل اس اہم موضوع پر آپ کی توجہ اس لئے دلانا چاہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں اب بھی آپس کی خاندانی شادیوں، برادری میں شادیوں کی وجہ سے یہ مرض اب بھی پھیل رہا ہے۔ میری دلچسپی اس مرض کے بارے میں 1992ء سے ہے جب عزیز دوست جنرل فہیم احمد خان، سرجن جنرل پاکستان آرمی ہماری KRL کے میڈیکل سروسز کے بانی اور انچارج اور سرجن جنرل پاکستان آرمی جنرل ریاض احمد چوہان، جنرل محمد سلیم، جنرل سی ایم انور اور کئی سینئرتجربہ کار،ماہر ڈاکٹروں نے مل کر پنڈی میںپہلا تھیلیسیمیا سینٹرقائم کیا تھا جہاں بلڈ ٹرانسفیوژن اور خون میں لوہے کی زیادہ مقدار کو دور کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ مجھے اس سینٹر کے افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اب یہ ادارہ ایک این جی او کی حیثیت سے وزارت صحت کی نگرانی میں نہایت احسن طریقے سے کام کررہا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی تھیلیسیمیا فیڈریشن قبرص کا ممبر ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی مقالہ جات میں تھیلیسیمیا پر یہ معلومات دستیاب ہیں۔
…’’ تھیلیسیمیا (بحیرہ روم انیمیا) کی ایک موروثی بیماری ہے جو نسل در نسل بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد اس سے متاثر ہیں اور اِن میں ہر سال تقریباً 8 ہزار مریضوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس بیماری کی دو قسمیں ہیں، تھیلیسیمیا مائنر(یعنی صغیرہ) اور تھیلیسیمیا میجر (یعنی کبیرہ)۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ میں عموماً تھیلیسیمیا میجر کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام کی بیماریاں جو نسل در نسل چلتی ہیں اور والدین سے منتقل ہوتی ہیں۔ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس بیماری کا کھانے پینے، رہائشی علاقہ، تعلیم، آبائی پیشہ، کمپیوٹر، جراثیم، آب و ہوا، ساتھ رہنا، کپڑوں وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ٹی بی، نزلہ زکام کے برعکس یہ بیماری (بغیر ازدواجی تعلقات کے) ایک شخص سے دوسرے شخص کو نہیں لگتی۔ تھیلیسیمیا کی دونوں اقسام صرف اور صرف والدین سے ہی ان کے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اگر والدین صرف والد یا والدہ کو تھیلیسیمیا مائنر (صغیرہ) ہو تو بچوں میں صرف تھیلیسیمیا مائنر کی منتقلی ہوتی ہے اور یہ چانس ہر حمل میں 50 فیصد ہے۔ ایسی شادی کے نتیجہ میں تھیلیسیمیا مائنر(صغیرہ) ہے تو ان کے بچوں سے کچھ کو تھیلیسیمیا مائنر ہوسکتا ہے جبکہ کچھ بچے نارمل رہتے ہیں۔ان نارمل بچوں میں تھیلیسیمیا میجر یا مائنر منتقل نہیں ہوگا۔ البتہ نہایت غیر متوقع طور پر اور شومئی قسمت سے چند بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوسکتے ہیں، یہ صرف اتفاق کی بات ہے۔تھیلیسیمیا چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ یہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے مگر یہ پیدائش کے بعد کسی حالت میں بھی نہیں لگ سکتا۔ اہم راز یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صغیرہ تازندگی صغیرہ ہی رہتا ہے اور تھیلیسیمیا کبیرہ ہمیشہ کبیرہ ہی رہتا ہے،یہ ایک دوسرے میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ڈاکٹروں کے مطابق تھیلیسیمیا کو وہ بیماری کے زمرے میں شمار نہیں کرتے۔ اس کو وہ خون کی ایک کیفیت کہتے ہیں اور جن لوگوں کو تھیلیسیمیا ہوتی ہے ان کو وہ تھیلیسیمیا کا مریض کہنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ اکثر و بیشتر افراد میں اسکی علامت بالکل نظر نہیں آتی۔ ان میں تھیلیسیمیا کی تشخیص خون کے ایک خاص ٹیسٹ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا کی اہمیت یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ بذات خود تندرست ہوتے ہیں لیکن یہ مرض ان کی آئندہ نسلوں میں منتقل ہوسکتا ہے ایسے لوگوں کو کیریئر یا بردار کہتے ہیں۔ تھیلیسیمیا صغیرہ اکثر و بیشتر کسی قسم کی علامت ظاہر نہیں کرتا۔ ایسے افراد عام طور پر بالکل تندرست نظر آتے ہیں اور ان کو اس مرض کے شکار ہونے کا احساس نہیں ہوتا اور بے خبری ہی صورت حال کو بے حد خطرناک بنا دیتی ہے کیونکہ اگر دو تھیلیسیمیا صغیرہ والے افراد بے خبری میں شادی کرلیں تو ان کو نہایت ہی تلخ تجربہ ہوتا ہے کہ نومولود کو تھیلیسیمیا میجر ہوجاتا ہے اسلئے اس بات کا ادراک انتہائی ضروری ہے کہ ظاہری صحت تھیلیسیمیا سے پاک ہونے کی قطعی ضمانت نہیں ہے۔دیکھئے اس مرض سے خود کو محفوظ کرنے کیلئے یہ انتہائی ضروری و لازمی ہے کہ دو تھیلیسیمیا صغیرہ سے متاثر افراد آپس میں شادی نہ کریں جو معاشرے کو تھیلیسیمیا کبیرہ سے پاک کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگرچہ تھیلیسیمیا کبیرہ سے پاک معاشرہ کا حصول ممکن ہے لیکن تھیلیسیمیا صغیرہ سے نجات ناممکن ہے۔ یہ کیفیت پیدائش سے موت تک رہتی ہے اس سے نجات ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اہمیت تھیلیسیمیاصغیرہ کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صغیرہ والے دو افراد آپس میں شادی نہ کریں تاکہ بچوں میں تھیلیسیمیا کبیرہ منتقل نہ ہونے پائے۔ تھیلیسیمیا کبیرہ سے متاثرہ بچے شروع میں بالکل عام بچوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن جلد ہی اینیمیا (خون میں سرخ ذرّات کی کمی)، ہڈیوں کی ساخت میں خرابی، خاص طور پر چہرے میں، تھکن، جسم کے بڑھنے میں کمی یا فقدان، سانس کا پھولنا اور جِلدکا پیلا ہونا شامل ہے۔
بیماری کی علامات اور ٹیسٹ:۔
طبعی معائنہ سے علم ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی فرد اس مرض کا شکار ہے تو اس کی تلّی پر سوجن یا ورم ہوتا ہے یا سائز بڑا ہوجاتا ہے اور خون کا ٹیسٹ بتاتا ہے کہ خون کے سرخ ذرّات کی شکل بگڑی ہوتی ہے اور ان کی شکل غیرمعمولی ہوتی ہے۔
تھیلیسیمیا کا علاج:۔
یہ نہایت ہی تکلیف دہ اور مہنگا علاج ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا کبیرہ کے مریض کو باقاعدگی سے انتقال خون کی ضرورت پڑتی ہے جو مہنگا کام ہے اور مریض کی زندگی کے ہزاروں قیمتی لمحات اسپتال میں گزرتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کبیرہ کے لئے جو مناسب علاج استعمال میں ہے اس میں انتقال خون، تلی کا آپریشن، فولاد کی زیادتی کا تدارک وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے مریض کو آرام، جسمانی حالت بہتر بنانے اور بیماری کی علامات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس بیماری سے مستقل طور پر جان چھڑانے کیلئے مریض کو ہڈیوں کے گودے کو کسی صحتمند فرد کی ہڈیوں کے گودے سے تبدیل کرنا بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں 15سے20لاکھ روپیہ خرچ آتا ہے لیکن یہ علاج 100 فیصد کامیاب نہیں ہوا ہے جن مریضوں میں یہ طریقہ کامیاب ہوتا ہے ان کو عمر بھر دوائیں بھی لینا پڑتی ہیں۔ جن مریضوں کو بار بار خون بدلنا پڑتا ہے انکے بدن میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دل، جگر اور پٹھوں کیلئے سخت مضر ہوتا ہے۔ اگر خاندانی یا روایتی رواج کی وجہ سے شادی ہوئی ہے تو حاملہ کے بچے کا تین ماہ کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔ اگر بچے میں یہ مرض پایا جائے تو بچے کی خاطر ،والدین کی زندگی کی خاطر حمل کا اسقاط کرا دینا چاہئے یہ مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ اس قسم کے علاج پر عمل کرکے اٹلی، یونان اور قبرص نے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں آپس کی شادیوں کی وجہ سے اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر ٹیسٹ دو افراد میں تھیلیسیمیا صغیرہ کی موجودگی بتادیں تو ان کو شادی سے روکا جائے، یورپ میں ایسے افراد کے درمیان شادی قانوناً ممنوع ہے۔ اس سے تھیلیسیمیا کبیرہ سے متاثر ہونے کے خطرات ختم ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم خان 30سال سے زیادہ عرصہ سے اس اہم اور دوسری متعلقہ بیماریوں پر کام کررہے ہیں۔ میرے عزیز دوست سابق سفیر امیر عثمان صاحب کے قریبی عزیز ہیں۔ انہوں نے برادری اور کزن میں شادیوں کے نتائج میں تھیلیسیمیا اور دوسری مہلک بیماریوں پر تفصیل سے تحقیقی مضامین لکھے ہیں۔
پروفیسر اسلم خان صاحب کے علاوہ جناب شاہد حسن، جناب مظفر علی، ڈاکٹر طاہرہ ظفر صاحبہ اور ملتان کے میرے نہایت عزیز دوست ڈاکٹر عبدالرشید سیال نے بہت ہی مفید مضامین لکھ کر عوام کو اس بیماری، اس کے مہلک اثرات سے آگاہ کیا ہے۔ 9 مئی 2012ء کے روزنامہ نیوز میں ڈاکٹر شاہینہ مقبول نے بھی اہم کالم لکھا تھا۔ میں نے خود تین نہایت تفصیلی اور اہم مضامین تھیلیسیمیا پر اسی ہر دلعزیز روزنامہ جنگ میں 21 مئی، 2012ء ، 4 جون2012ء اور 25 جون 2012 کو لکھے تھے اور یہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی بے حد سراہے گئے تھے اور ماہرین ڈاکٹروں کے تعریفی خطوط موصول ہوئے تھے۔اس سال کراچی میں واقع کاشف اِقبال تھیلیسیمیا سینٹر 24 اپریل کو بین الاقوامی تھیلیسیمیا ڈے منا رہا ہے۔مجھے بطور چیف گیسٹ شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو میں نے بخوشی قبول کرلی ہے۔ اس ادارے کے سربراہ جناب محمد اقبال ہیں اور جناب کاشف مُلّا اس کے روح رواں ہیں۔ اس ادارہ کی سرپرستی کراچی میں میرے نہایت عزیز دوست و مخیر حضرات جناب ایس ایم منیر، سردار یٰسین ملک، سینیٹر عبدالحسیب خان، خالد توّاب صاحب، جناب مہتاب الدین چائولہ، میاں زاہد حسین صاحب اور چند دوسرے اصحاب کررہے ہیں۔ یہ ادارہ نہایت اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں، خون کی تبدیلی، خون میں لوہے کی مقدار کو کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح کی سہولت میرے ایک اور عزیز دوست سابق وفاقی وزیر جناب حاجی حنیف طیب، المصطفیٰ ٹرسٹ اسپتال کراچی میں مہیا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جناب ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری عمیر ثنا فائونڈیشن کے ذریعہ نہایت مفید خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ خود بھی ماہر ڈاکٹر ہیں اور سہولتوں کے ساتھ علاج بھی کرتے ہیں۔اسلام آباد ، پنڈی میں تھیلیسیمیا ویلفیئر سوسائٹی راولپنڈی اور تھیلیسیمیا اَویرنیس اینڈ پریوینشن پاکستان نہایت احسن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پہلا ادارہ علاج کی سہولتیں مہیا کرتا ہے اور عوام کو اس بیماری کے تدارک کے بارے میں ہدایات دیتا ہے جبکہ دوسرا ادارہ عوام کو اس مہلک تکلیف دہ بیماری سے بچنے کے اقدام سے آگاہ کرتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ دوسرے صوبوں اور شہروں میں بھی سرکاری اور نجی اسپتال اس بیماری سے متاثرہ لوگوں کا علاج کررہے ہوں گے مثلاًبحریہ ٹائون کے سربراہ جناب ملک ریاض حسین نے اپنے ٹائون میں ایسے سینٹر قائم کئے ہیں جہاں اس بیماری سے متاثرہ عوام کا مفت خون تبدیل کیا جاتا ہے اور لوہے کی زیادتی کو کم کیا جاتا ہے۔تھیلیسیمیا پر اس وقت نہایت اہم پیشہ ورانہ اور موثر علاج ملتان کے ڈاکٹر عبدالرشیدسیال کررہے ہیں۔ انہوں نے لاتعداد متاثرین کا موثر علاج کر دیا ہے اور ان کا اس بیماری اور اس سے متاثرہ لوگوں کے علاج پر ایک نہایت اعلیٰ تحقیقی آرٹیکل پچھلے دنوں ملک کے نہایت معزز ادارہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے رسالہ میں شائع ہوا ہے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر بہت پذیرائی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالرشید سیال امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور طویل تجربہ کے حامل ہیں۔ ملتان میں سیال میڈیکل سینٹر، کچہری روڈ نزد شریف پلازہ کے نام سے یہ ادارہ چلا رہے ہیں۔ ان کی کوششوں اور پُرخلوص محنت سے لاتعداد متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں۔میری تمام پاکستانیوں سے دلی درخواست ہے کہ خدا کے لئے برادری، خاندان میں شادی سے پہلے ضرور بلڈ ٹیسٹ (اسکریننگ) کرالیں۔ اگرچہ سندھ، پنجاب کی اسمبلیوں سے پاس کردہ بلوں میں یہ شرط ہے کہ تمام افراد کے قومی شناختی کارڈ پر تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کا اندراج لازمی ہونا چاہئے، یہ اطلاع بی فارم میں بھی درج ہونا چاہئے اور نکاح کی شرائط میں یہ شرط بھی لازمی ہونا چاہئے اور تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کے بغیر نکاح کی ادائیگی جرم مانا جانا چاہئے۔ یہ سب آپ کی، قوم کی بھلائی و صحت مندی کیلئے ، آپ کو ذہنی عذاب اور بچوں کو شدید تکلیف سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔ یہ بیماری پولیو سے بھی زیادہ مضر ہے کہ اس کے علاج پر بے حد خرچ آتا ہے اور مریض کو بے حد تکلیف ہوتی ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: