2Below header

اندھی ڈولفن فورس کے قصے از مستنصر حسین تارڑ

4Above single post content

میں نے ایک کالم میں قومی بچت کیلئے نہایت سوچ بچار کے بعد جذبہ حب الوطنی سے مغلوب ہو کر موجودہ حکومت کی سادگی اور کفایت شعاری کی مہم سے مرعوب ہو کر نہایت گراں قدر مشورہ جات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا اور ایسے اداروں کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی جنہیں بینڈ باجہ بجاکر رخصت کردینے سے لاکھوں کروڑوں کا نہیں اربوں کا زرمبادلہ ہمارے قومی خزانے کو چارچاند لگادے گا… پہلا چاند جو میں نے چڑھایا تھا وہ رویت ہلال کمیٹی کا تھا اگرچہ اس ملک میں کسی فرد کو اجازت نہیں کہ وہ کوئی بھی چاند چڑھائے خاص طور پر عید کا چاند… ازاں بعد میں نے ان بانکوں کا تذکرہ کیا تھا جو لاہور کی سڑکوں پر آئرن مین ایسی ہیلمٹیں پہنے عجیب وغریب خلائی لباسوں میں‘ دنیا کے مہنگے ترین موٹر سائیکلوں پر سوار دن کے وقت بھی رنگین لائٹیں جلا کربے وجہ گشت کرتے رہتے ہیں اور خدا کیلئے انہیں’ڈولفن فورس‘ کیوں کہا جاتا ہے انکی وردیوں پر بھی ڈولفن انگڑائیاں لے رہی ہوتی ہے…مجھے گمان نہیں بلکہ یقین ہے کہ موٹر سائیکلوں پر دندناتے اکثر ٹریفک لائٹس کے سرخ ہونے پر چوک عبور کرتے نوجوانوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی ڈولفن نہ دیکھی ہوگی…انہیں بتایا گیا ہوگا کہ یہ ایک نوعیت کی مچھلی ہوتی ہے اور انہوں نے یہی سمجھا ہوگا کہ یہ مزنگ چوک میں تلی جانے والی‘ اکثر زائد المیعاد‘ ویت نام سے درآمد کی جانیوالی لاہوری مچھلی ہوگی‘ میں نے زندگی میں بہت ساری ڈولفن دیکھی ہیں…بیروت کی بندرگاہ سے جب ہمارا ترک بحری جہاز وہاں کی خانہ جنگی سے بچا کر ہمیں نکلا تو جہاز کے پیچھے درجنوں ڈولفن ڈبکیاں لگاتیں‘۔

سیٹیاں بجاتی کہ یہ نہایت شریر اور فلرٹ قسم کی مچھلیاں ہوتی ہیں‘ ہمیں گہرے سمندروں تک چھوڑنے آئیں اور پھر دریائے سندھ میں کشتی رانی کے دوران ایک سویر ہم نے پانیوں میں سے نمودار ہوتی سورج کی پہلی کرنوں کو اپنے گیلے بدنوں پر منور کرتے‘ ایک اندھی ڈولفن کو دیکھا اور وہ کیا ہی شاندار منظر تھا سندھ کی اس نابینا ڈولفن کو دیکھنے کیلئے دور دور سے لوگ آتے ہیں ‘اچھا پچھلے دنوں اس دندناتی ڈولفن فورس کے اہلکاروں کی جانب ایک ذہنی طورپر پسماندہ نوجوان ہاتھ میں ایک ایسی چھری لئے جس سے ہیرے کا جگر تو شاید کٹ سکتا تھا ایک خربوزے کا نہیں‘ ایسی چھری لئے انہیں ڈرانے کیلئے لپکا تو خود کار اسلحے سے لیس ان حضرات نے سوچاکہ اگر حکومت نے ہمارے پیراہنوں‘ ہیملٹوں اور موٹر سائیکلوں پر تقریباً نصف کروڑ فی جوان خرچ کیا ہے اور پچھلی نشست پر براجمان آئرن مین کے پاس نہایت مہنگا اسلحہ ہے اور وہ بہت بھاری لگ رہا ہے تو کیوں نہ اسے چلا دیا جائے آزما لیا جائے کہ اسے چلانے سے کوئی شخص ہلاک بھی ہوتا ہے یا نہیں… کہیں یہ اسلحہ بھی ہماری طرح نمائشی تو نہیں تو لوگوں اور محلے والوں کی منت سماجت کرنے کے باوجود کہ یہ نوجوان پاگل ہے یونہی ہاتھ میں چھری تھامے لوگوں کو ڈراتا رہتا ہے ان ڈولفنوں نے اس نوجوان کو گولیوں سے چھید کر ہلاک کردیا… کہاگیا کہ ڈولفن فورس کا ایک جوان بھی شدید زخمی ہوا تھا یہ ایک بہانہ تھا ورنہ ٹیلی ویژن پر جو چھری دکھائی گئی اسکے بارے میں آپکو بتاچکا ہوں کہ وہ ایک خربوزہ بھی نہیں کاٹ سکتی تھی…

صد شکر کہ ڈولفن فورس نے پہلی بار ٹارگٹ پریکٹس کرلی… یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا‘ البتہ یہ ثات ہوگیا کہ یہ فورس اگر ڈولفن ہے تو سندھ کی اندھی ڈولفن ہے… ابھی چند روز پیشتر ایک صبح میں اپنے ڈیفنس والے گھر سے سیر کرنے ماڈل ٹاؤن پارک جارہا تھا اور کیولری کے گھوڑا چوک پر ٹریفک لائٹ کے سرخ ہونے کی وجہ سے رکا ہوا تھا اس لئے نہیں کہ میں کوئی قانون کی پاسداری کرنے والا باشعور شہری تھا بلکہ پچھلے دنوں جو خفیہ کیمروں کی گواہی سے جو ای۔چالان کئے جاتے ہیں انکے خوف سے رکا ہوا تھا ویسے آپس کی بات ہے کہ پہلے صبح سویرے سڑکیں خالی ہوتی تھیں اور لوگ سرخ بتی کے باوجود دھڑادھڑ چوک عبور کرجاتے تھے اب مجھ سمیت بیشتر ڈرائیور بھیگی بلی بنے اشاروں پر رکے رہتے ہیں یہ ایک مثبت اقدام ہے… تو جب سب رکے ہوئے تھے ڈولفن فورس کے دو موٹر سائیکل سوار‘ روشنیاں جھلکاتے نمودار ہوئے اور سرخ بتی کے باوجود نہایت اطمینان سے چوک کے پار چلے گئے اور وہ کسی مجرم کا پیچھا بھی نہیں کر رہے تھے آپس میں چہلیں کررہے تھے جی تو یہی چاہا کہ انکے راستے میں حائل ہوکر پوچھوں تو سہی کہ حضور انور ماشاء اللہ آپ نے کیا ہی قانون کی پاسداری کی ہے لیکن یہ ارادہ فی الفور ترک کر دیا کہ کیا پتہ وہ مجھے بھی ایک پاگل شخص قرار دیکر اپنی جان کی حفاظت کی خاطر ہلاک کرڈالیں‘ اندھی ڈولفن ہیں ان کا کیا اعتبار…دراصل یہ جو حکمران ہوا کرتے ہیں انکے دماغوں میں عجیب عجیب غیر قانونی بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں انکے ’ برین چائلڈ‘کہا جاتا ہے . .بھٹو صاحب کے ذہن میں آگیا کہ تمام فیڈرل منسٹر ایک مخصوص وردی میں ہونے چاہئیں توکیا معراج خالد اور ڈاکٹر مبشرحسن ایسے نابغہ روزگار اور ہماری نسلوں کے آخری بائیں بازو کے آخری ایماندار لوگ بھی یہ اچکن نما وردی پہننے پر مجبور ہوگئے یعنی بینڈ ماسٹر لگنے لگے…اسی طور خادم پنجاب کیا ترکی وغیرہ گئے تو وہاں اس نوعیت کی فورس کو دیکھا تو واپسی پر حکم دیا کہ لاہور تب تک پیرس نہیں بن جاتا جب تک اس میں ایک عدد ڈولفن فورس کے موٹر سائیکل نہ دندناتے پھریں…

شنید ہے کہ اس فورس میں بھرتی کئے جانیوالے بیشتر نوجوان شدید سفارشی تھے اکثر ان میں نون لیگ کے جلسوں میں’میاں دے نعرے وجن گے‘ کہ نعرے لگایاکرتے تھے…ویسے صد شکر کے خادم پنجاب بکنگھم پیلس کے باہر کھڑے آنکھوں تک آتی سمور کی سیاہ ٹوپیوں والے رائل گارڈز سے متاثر نہ ہوئے اور انکی ایک پلٹن تخلیق کرکے انہیں وزیر اعلیٰ ہاؤس‘ جاتی عمرہ یا مری کے شاہانہ گھروں کے باہر متعین نہ کر دیا‘اگرچہ چھوٹے میاں صاحب کے برین چائلڈ کچھ ایسے ہی تھے لیکن… میں ہر شخص کا شکر گزار ہوتا ہوں جس نے پنجاب کیلئے کچھ کیا‘ کوئی نہ کوئی ایسی تعمیر کی ‘ادارہ قائم کیا جو مثالی تھا‘ مثلاً جنرل جیلانی نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے محسنوں میں سے ہیں آج جو ریس کورس پارک ہے ماڈل ٹاؤن پارک ہے یہ اسی ضیائی جنرل کے احسان ہیں اور بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جنرل جیلانی وارث شاہ کے جنڈیالہ شیرخان کے رہنے والے تھے اور انہوں نے ہی وارث شاہ کے مزار کی مزید تعمیر اور تزئین کی بلکہ تاریخی باؤلی شیر شاہ سوری جو کہ ایک کھنڈر تھی اسے دوبارہ تعمیر کیا‘ اسی طور چوہدری پرویز الٰہی کی سب موقع شناسیاں اپنی جگہ لیکن انہوں نے ایمرجنسی ایمبولینس سروس1122 کا کیا شاندار کارنامہ سرانجام دیا‘ ماڈل ٹاؤن پارک میں ایک صاحب کو دل کا دورہ پڑگیا1122 کے اہلکار دس منٹ میں وہاں پہنچ گئے ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں نزدیکی ہسپتال میں لے گئے… مجھے ایک مسئلہ ہوا تو میری بہو نے1122 کو فون کیا اور وہ پہنچ گئے…

شکریہ چوہدری صاحب…اور اب جگر تھام کے بیٹھو کہ میاں شہبازشریف آئے… وہ ایک طویل عرصہ حکمران رہے ور اس دوران ایسی شاہراہیں اور فلائی اوورتعمیر کئے جنہوں نے لاہور کی شباہت بدل دی بے شک مجھے جنگلا بس سروس سے شدید اختلاف ہے جس نے لاہور کی صورت بگاڑ دی اور پھر اورنج ٹرین کا مہنگا عذاب جس نے ہماری تاریخ کو مسمار کر دیا… لیکن وہ انگریزی کا کیا محاورہ ہے کہ’’ گیو دے ڈیول ہز ڈیو‘‘ تو شہبازشریف نے لاہور کیلئے علاوہ جنگلا بس سروس اور اورنج ٹرین جو کچھ کیا میں اسکی تحسین کرتا ہوں… جنرل جیلانی‘ پرویز الٰہی کے ہمراہ انہیں بھی لاہور کے محسنوں میں شمار کرتا ہوں‘ لیکن یہ جو ڈولفن فورس کا برین چائلڈ ہے اس کا کیا کرنا ہے میرا خیال ہے ان لوگوں کو بیکار نہیں کرنا‘ سرکس میں بھرتی کراوئیں جہاں یہ موت کے کنویں میں اپنی موٹر سائیکلیں چلاتے پھریں یا پھر ان سجیلے مہنگے جوانوں کو ایم ایم عالم روڈ کے ریستورانوں کے باہر شوشا کیلئے تعینات کر دیں ویسے میں نے آج تک کسی ڈولفن کو موٹر سائیکل پر سوار نہیں دیکھا۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: