2Below header

فردوس مارکیٹ کے پلازے میں دفن خواب از مستنصر حسین تارڑ

4Above single post content

13-11-18

میں روز وہاں سے گزرتا ہوں اور دکھی ہوتا ہوں۔ میں کڑھتاہوں۔فردوس مارکیٹ کے چوک میں فلم سٹار فردوس کی سابقہ رہائش گاہ کے عین سامنے جو کارنر ہے وہاں نوجوان سیاحوں کی ایک پناہ گاہ ہوا کرتی تھی جسے یوتھ ہوسٹل کہا جاتا تھا‘ پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس یوتھ ہوسٹل کے دروازے بند ہوگئے‘کس نے دروازے بند کئے‘ سرکاری عمارت کو مقفل کیا؟نامعلوم افراد نے‘ پھر ایک روز کیا دیکھتا ہوں کہ نہایت پردہ پوش رہے یوتھ ہوسٹل کو مسمار کیا جا رہا ہے۔یہ کس کے حکم سے مسمار کیاجا رہا تھا میں نہیں جانتا تھا‘پھر کچھ عرصے بعد یوتھ ہوسٹل کے اب خالی ہوچکے پلاٹ پر ایک شاندار پلازہ سر اٹھانے لگا‘سرکاری یوتھ ہوسٹل کی سرکاری زمین کیسے پرائیویٹ ہاتھوں میں منتقل ہوگئی‘ میں نہیں جانتا‘ جیسے گورنمنٹ کالج لاہور سرکار کا ادارہ ہے اور جس زمین پر یہ تعمیر شدہ ہے وہ بھی ظاہر ہے سرکار کی ہے‘کیا اس کالج کو مسمار کرکے اسکی زمین کو پرائیویٹ ہاتھوں میں فروخت کیاجاسکتاہے تاکہ وہاں ایک پلازہ تعمیر کیاجاسکے؟ یوتھ ہوسٹل بھی ایک سرکاری عمارت تھی اور یہ کوئی عام سی سرکاری عمارت نہ تھی‘یہ عمارت دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں نوجوانوں کیلئے جو یوتھ ہوسٹل تعمیر کئے گئے‘یہ ان سے منسلک تھی میں اپنے پڑھنے والوں کو بہت مختصر مختصر یوتھ ہوسٹل تحریک کے بارے میں بتانا چاہوں گا‘ اسلئے کہ میں اس تحریک کا ابتدائی کارڈ ہولڈر تھا‘دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یکدم نوجوان نسل جو جنگی تباہ کاریوں کو بھول جانا چاہتی تھی اور اپنی آنکھوں سے نہ صرف اپنے ملک کو بلکہ دیگر ملکوں کو بھی دیکھنا چاہتی تھی۔ نوجوان تھے‘ انکے پلے اتنے پیسے نہ تھے کہ مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرسکیں‘چنانچہ خصوصی طورپر یورپ کے نہ صرف اہم شہروں میں بلکہ تاریخی قصبوں اور پہاڑوں میں ایسے ہوسٹل تعمیر کئے گئے جہاں نوجوان نسل بہت معمولی کرائے پر رات بسر کرسکے‘ یہ ایک بین الاقوامی تنظیم تھی اور ان دنوں ہم بھی بہت بین الاقوامی ہوا کرتے تھے۔

اپنے کنویں کے مینڈک نہ تھے‘ہمارے ارادے نیک تھے‘چنانچہ پاکستان میں بھی پاکستان یوتھ ہوسٹل ایسو سی ایشن قائم ہوئی ملک کے مختص حصوں میں نوجوانوں کے ذوق سفر کی آبیاری کیلئے یوتھ ہوسٹل تعمیر کئے گئے‘ 1955ء میں جب گورنمنٹ کالج لاہور کی کوہ پیما ٹیم کے ایک ممبر کی حیثیت میں ہم کشن گنگا مہم پر نکلے تھے تو ہمارے سفر کا آغاز وادی کاغان کے قصبے ناران سے ہوا اور تب ناران کیا تھا؟ ایک ویرانہ‘ دریائے کنہار کے کناروں پر کچھ جھونپڑے‘ ایک انگریزوں کی یادگار ریسٹ ہاؤس اور صرف دو تنور ہوٹل جن میں صرف آلو شوربہ ملتا تھا‘ناران کے داخلے پر دائیں جانب ایک گھنے جنگل کی چوٹی پر شاید پاکستان کا سب سے پہلا یوتھ ہوسٹل تعمیر کیاگیا تھا ‘ ہم نے وہاں قیام کرنے کیلئے ایسو سی ایشن سے معمولی ادائیگی کے بعد یوتھ ہوسٹل کارڈ حاصل کئے اور مجھے فخرہے کہ ہم لوگ پاکستان بھر میں اس حوالے سے اولیت رکھتے تھے‘ ہم پاکستان یوتھ ہوسٹل ایسو سی ایشن کے پہلے آٹھ ممبرتھے مجھے یاد نہیں لیکن شاید میرے کارڈ کانمبر غالباً تین یاچار تھا البتہ مجھے یہ یاد ہے کہ اس نوتعمیر شدہ یوتھ ہوسٹل میں اندھیرا بہت ہوتا تھا‘ اکلوتی لالٹین کیلئے مٹی کا تیل بھی میسر نہ تھا اور ہم راتوں کو سو نہ سکتے تھے کہ چوکیدار ہمیں ڈراتا رہتا تھا کہ ریچھ آتا ہے اور شہر کے نرم نرم لڑکوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔

ڈیفنس میں منتقل ہونے سے بیشتر میں فردوس مارکیٹ کے قریب گلبرگ کے جے بلاک میں مقیم تھا‘فردوس مارکیٹ کی فردوس ہیر چوک کے کارنر میں رہتی تھی‘ ذرا برابر میں ایک مسجد کے زیر سایہ محمد علی زیبا کا شاندار ٹھکانہ تھا جہاں آنا جانا لگا رہتا تھا ‘ قبرستان سے ذرا آگے وحید مراد ایک روپوش حالت میں زندگی کرتا تھا‘جے بلاک کے اسی قبرستان میں سب سے پہلے دائمی رہائش اختیار کرنیوالا اداکار علاؤالدین تھا یعنی ’پھنے خان‘ ازاں بعد وحید مراد آگیا پھر میرے ماں باپ اور چھوٹا بھائی زبیر بھی اسی شہر میں منتقل ہوکر خاموش ہوگئے۔فردوس کے گھر کے سامنے نکڑ پر یوتھ ہوسٹل کی جدید عمارت تھی‘ یوں جانئے کہ تقریباً میرے گھر کے سامنے تھی وہاں غیر ملکی سیاحوں کا میلہ لگا رہتا وہ بلاخطر لاہور کے گلی کوچوں میں گھومتے اور پھر بہت مشکل سے یوتھ ہوسٹل پہنچتے کہ تب یہ بہت دور ہوا کرتا تھا‘ سواری مشکل سے دستیاب ہوتی تھی‘ کبھی کبھی مجھ سے ملنے کیلئے کوئی نوجوان دوردراز کے کسی شہر سے آتاتواس یوتھ ہوسٹل میں آٹھہرتا کہ یہاں سے تارڑ کا گھر بس آمنے سامنے ہے‘ ایک دو مرتبہ مجھے بھی ہوسٹل کے اندر جانے کا اتفاق ہوا اور یہ ایک صاف ستھری اور ارزاں قیام گاہ تھی اور میں جب کبھی اس عمارت کے باہر آویزاں بورڈ پر یوتھ ہوسٹل لاہور کی عبارت کے برابر میں یوتھ ہوسٹلوں کا امتیازی نقش ایک ڈھلوان چھت کا مکان اور ایک سرو کابوٹاترچھا اس پر جھکا دیکھتاتو مجھے پرانے زمانوں کی یادیں دم نہ لینے دیتیں کہ میری آوارگی یوتھ ہوسٹلوں سے منسلک تھی‘1956ء میں جب میں انگلستان گیاتو میری جیب میں پاکستان یوتھ ہوسٹل ایسوسی ایشن کا پانچ برس کیلئے قابل استعمال ایک کارڈ تھا جس پر میری ایک بیوقوفانہ سی نوجوانی کی حماقتوں سے لبریز رومانوی تصویر چسپاں تھی اور یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں جتنے بھی یوتھ ہوسٹل تھے ان سب کیلئے کارآمد تھا‘میں نے نہ صرف انگلستان میں بلکہ پورے یورپ میں اپنے پاکستانی کارڈ کا استعمال کیا اور ان قصبوں اور پہاڑی مقامات اور تاریخی شہروں کا تذکرہ بہت طویل ہے جہاں کے یوتھ ہوسٹلوں میں‘ میں نے قیام کیا۔میرے دو آسرے ہوتے تھے آوارگی کے زمانوں میں ایک میرا خیمہ اوراگر چھت درکار ہے تومقامی یوتھ ہوسٹل۔

میں جب کبھی کسی یوتھ ہوسٹل میں داخل ہوتا اور وارڈن یا نگہبان کے سامنے اپنا پاکستانی کارڈ رکھتا تو اسے یقین نہ آتا۔ کیا پاکستان میں بھی یوتھ ہوسٹل ایسو سی ایشن قائم ہوچکی ہے‘ کیا آپ کے ہاں بھی یوتھ ہوسٹل ہیں۔انہیں حیرت اس لئے ہوتی کہ ابھی تک ہندوستان میں یہ ایسو سی ایشن قائم نہ ہوئی تھی۔ان شہروں کا کہاں تک تذکرہ کروں جنکے یوتھ ہوسٹل میری پناہ گاہ ہوئے‘ انگلستان کے جھیلوں کے ضلع میں جہاں ایک انچارج صاحب نے ہم سے گندے برتن دھلوائے اور بعد ازاں ہمیں گیت گانے پر مجبور کیا۔ جرمنی کا بلیک فارسٹ‘ برلن‘ فرینکفرٹ‘کوپن ہیگن اور اوسلو جسکے یوتھ ہوسٹل میں قیام کرنیوالامیں پہلا پاکستانی تھا‘ بعدازاں ناروے میں پاکستانیوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ اسے ’کھاروے‘کہا جانا لگا کہ بیشتر حضرات کھاریاں کے تھے‘ چند یوتھ ہوسٹلوں میں میرے کارڈ کی تصویر اتار کر بورڈ پر لگائی گئی اور برابر میں میری تصویر کہ یہ ہمارے پہلے پاکستانی ہیں چنانچہ ان دنوں جبکہ میں بڑھاپے کے برگدکی داڑھیوں کی لپیٹ میں ہوں‘ وہ مسمارہوچکا یوتھ ہوسٹل میری جوانی کی یادگار تھا‘میں اسکے پھاٹک کے باہر وہ بورڈ دیکھتا جس پر یوتھ ہوسٹل کا امتیازی نشان ایک جھونپڑا اور اس پر جھکا ہوا ایک سروکا بوٹا دیکھتاتو مجھے وہ زمانے یاد آنے لگتے جب یہ امتیازی نشان دنیا بھر میں میرے لئے پناہ کی ایک منزل تھی۔میں روز وہاں سے گزرتا ہوں اور کڑھتا ہوں‘ ۔

ویسے ہم جیسے خواب دیکھنے والے‘ نکمے اور بیکار لوگوں کے کڑھنے سے کیاہوتاہے۔ ہم کڑھتے گئے جب شہرلاہور کے دل کو تقسیم کرکے سیمنٹ کی ایک دیواربرلن تعمیر کر دی گئی‘ اس شہر کا حلیہ بگاڑ دیاگیا۔ چوبرجی ’شالیمار‘ لکشمی چوک‘ جی پی او چوک سب کے سب دفن کر دئیے گئے‘ سیمنٹ کے انباروں میں اور کہا گیاکہ قدیم ثقافت کا شہر ہم دوبارہ تعمیر کرلیں گے‘ کیا آج تک کسی نے دیکھا کہ پیرس کے آئفل ٹاور ‘ لندن کے پکاڈی سرکس‘ روم کے کلوسیم‘ اہرام مصر یا استنبول کی نیلی مسجد کے فن کو مجروح کیا جائے‘ جانے کون سی اورنج ٹرین ان سب آثار پر چھک چھک کرتی چلی جائے اور اسکے ماتھے پر ایک حکمران کی تصویرہو۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: