2Below header

نانی استانی از اسماء یعقوب

4Above single post content

بچے گرمیوں کی چھٹیوں کو شاندار طریقے سے منانے کے لیے نانی کے گھر گاؤں میں آئے ہوئے تھے۔ یہاں کی صاف ستھری فضا، پرسکون ماحول، سادے لوگ، کچے گھر، کچی سڑکیں، خالص غذائیں غرض سب کچھ ہی دل کو بھا لینے والا ہوتا تھا۔یہاں کا ماحول شہر کی طرح شور شرابا سے محفوظ تھا، فضا آلودگی سے پاک تھی جس میں سانس لے کر واقعات ایک خوشگوار سا احساس دل میں جگہ لیتا تھا۔ دیہاتیوں کے رویے بناوٹ طنز و تنقید سے بالکل پاک تھے شاید اسی لیے ردا، رانیہ اور رملہ کو اپنا یہ ننھیالی گاؤں بے حد عزیز تھا۔
کھیتوں کھلیانوں، بنیرو اور پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے ڈھلتی شام کے خوبصورت اور فطرت سے قریب ترین منظر کو آنکھوں کے کیمرے کے ذریعے دماغ کے البم میں محفوظ کرنا، اپنی ہم جولیوں کے ساتھ مل کر چوری چھپے اچار، املی اور چورن کھانا، دوپہر میں گرمی کی حدت کم کرنے کے لیے ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں نہانا، گھر کے آنگن میں لگے ٹاہلی کے جھولے پر جھولنا، کھیتوں میں دور تلک لہلہاتی فصلوں اور مویشیوں کے باڑے کی سیر کو جانا، صبح سویرے جب سورج مشرق سے کنی نکال رہا ہوتا تب شبنمی گھاس پر ننگے پیر چہل قدمی کرنا، رات کو سونے سے پہلے نانی( ثمینہ آپہ) سے انبیاء علیہ السلام کے قصے سننا وغیرہ۔
ثمینہ آپا بچیوں کی نانی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی بہترین استانی بھی تھی۔ بچوں کی تربیت کا کوئی بھی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہ دیتی۔گاؤں کے دیگر بچے بچیوں کو بھی کبھی پیاری پیاری سنتیں، کبھی ننھی منی دعائیں یاد کرواتی۔ صحابہ کرام کے واقعات، کبھی بہادری، شجاعت، خودداری، ایمانداری اور پرہیزگاری جیسی صفات کا سبق دیتی۔ ان کے مطابق بچے نازک تنے کی مانند ہوتے ہیں جو بڑے ہونے پر تناور شجر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں انہیں بچپن میں ہی جس سانچے میں ڈھال دیا جائے سر پہ چاندی چمکنے تک اسی شکل میں رہتے ہیں۔ گاؤں کے تمام بچوں میں وہ نانی استانی مشہور ہو چکی تھی۔
سورج مشرق سے سر اٹھا رہا تھا، کرنیں آسمان پر پھیلنے لگی تھی، گھر کے آنگن میں پیڑ کے سائے تلے دسترخوان پر ناشتہ چن لیا گیا تھا۔ ردا ،رانیہ، رملہ اور فاخرہ (بچوں کی امی) دسترخوان پر موجود تھے، اتنے میں ثمینہ آپا بھی اپنے وظائف و اذکار مکمل کر کے آگئی۔ دیسی گھی کے لچھے دار پراٹھے، مکھن کے پیڑے پر کٹا ہوا گڑھ، انڈے اور نمک والی چھاچھ۔ گاؤں کے روایتی کھانوں کا تو مزا ہی کچھ اور ہے، خوب ڈٹ کر کھائیں گے۔ رانیہ بڑا سا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے بولی۔ گھر میں تو مما ناشتے میں ٹوس کے ساتھ جیم (جیلی) یا آملیٹ ہی دیتی ہیں۔ رملہ نے مکھن کے بڑے سے پیڑے پر ڈھیر سارا کٹا ہوا گڑ ڈالتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔ فاخرہ زیر لب مسکرا ئی۔
ثمینہ آپا بچوں کو یوں خلافت سنت کھاتے دیکھ کر تاسف بھری نگاہوں سے دیکھتی ہی رہ گئی۔ فاخرہ بیٹی! تم نے بچیوں کو کھانے کی سنتیں اور آداب نہیں سکھلائے؟ ان کے سوال پر پہلے تو فاخرہ چونکی پھر سرد مہری سے بولیں۔ امی! ابھی تو چھوٹی ہیں عمر کے ساتھ ساتھ سب سیکھ جائیں گی۔ فاخرہ کی اس غلط فہمی پر ثمینہ آپا پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ نانی جان! آپ ہی ہمیں کھانے کی سنتیں بتلا دیں۔ ردا قدرے معصومیت سے بولی۔ ضرور کیوں نہیں؟ مسکراہٹ نے ان کے لبوں کا احاطہ کرلیا۔
بچو! پہلے تو آپ یہ بات جان لیں کیا کھانا ہمیشہ اکٹھے مل کر کھانا چاہیے، اس سے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بار صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ’’ہم کھانا کھاتے ہیں اور پیٹ نہیں بھرتا‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’شاید تم لوگ الگ کھاتے ہو گے‘‘۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ تم لوگ اکٹھے بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر کھایا کرو اس سے برکت ہوگی‘‘۔ ( ابو داود،2172)
کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے میں ہے۔ (ترمذی23)
زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا چاہیے یہ سنت طریقہ ہے۔ دستر خوان کی فضیلت یہ بھی ہے کہ جب تک دسترخوان بچھا رہتا ہے۔ فرشتے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ جوتے پہن کر اور ٹیک لگا کر نہیں کھانا چاہیے۔ اگر نوالہ گر جائے تو اسے اٹھا کر صاف کر کے کھا لیا جائے۔ گرم کھانے کو پھونک مار کر ٹھنڈا نہیں کرنا چاہیے۔ کھانا ہمیشہ اپنی ضرورت کے مطابق نکالیں، لالچ میں بھر کر نکالنا بہت بری بات ہے، جیسا کہ عموما دعوتوں میں ہوتا ہے، اس سے بہت سا کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ رملہ نے شرمندگی اور خجالت سے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بھری ہوئی تھی۔ کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالنا چاہیے اگر پسند نہ آئے تو خاموشی سے چھوڑ دیں۔ کھانا کھاتے ہوئے دوسروں کے لقموں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔
پیاری بچیوں! نوالہ ہمیشہ درمیانہ اور خوب چبا کر کھانا چاہیے، منہ بند کر کے لقمہ بچایا جائے، اس سے نہ آواز نکلتی ہے نہ منہ سے کوئی کھانے کا ذرہ یا تھوک کی چھینٹ اڑتی ہے۔ روٹی سے ہاتھ صاف بالکل نہیں کرنے چاہیے۔ کھانے کے بعد برتن کو بھی صاف کرلینا چاہیے۔ اگر روٹی کے کچھ ٹکڑے دسترخوان پر گر جائیں تو چن کر کھا لینا چاہیے۔ کھانے کے دوران ایسی حرکت سے بچنا چاہیے جس سے دوسروں کو کراہت محسوس ہو۔ ڈٹ کر کھانے کے بجائے ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا چاہیے۔ مثلا اگر ایک روٹی کی بھوک لگی ہے تو آدھی کھا لیں۔
پیٹ بھر کر کھانے سے عبادت کی لذت ختم ہوجاتی ہے اور غور و فکر کی صلاحیت بھی جاتی رہتی ہے۔ اور بچوں آخری بات یہ کہ کھانا کھاتے وقت کی دعا کا اہتمام لازمی کرنا چاہیے تاکہ شیطان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہو سکے۔ ثمینہ آباد نہایت شائستگی سے بولیں۔ ان شاء اللہ نانی جان ہم ان سنتوں پر خود بھی عمل کریں گے اور اپنے دوستوں کو بھی بتائیں گے۔ تینوں یک آواز بولیں تو ثمینہ آپا کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ چھا گئی۔ دالان میں لگی کیاریوں میں گلاب، سورج مکھی، گیندا، چمبیلی اور موتیا کی بھینی بھینی خوشبو کی فضا کو معطر اور ناشتے کے لطف کو دو آتشہ کردیا تھا۔

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: