2Below header

چٹھے گرو ہرگو بند کے گلوٹیاں خورد میں واقع گردوارہ چیویں پت شاہی کی خستہ خالی

4Above single post content

ڈسکہ تاریخی ورثہ کے لحاظ سے تحصیل ڈسکہ بہت اہمیت کا حامل ہے مغل بادشاہ شاہجان 1666-1592کے دور میں شاہجان آباد قائم کیا ڈسکہ کا پہلا نام شاہجان آباد تھا اس دور کے بعد سکھ اور ہندو آباد تھے سکھوں کے گردوارے بھی تاریخی ورثہ کے اعتبار سے بہت اہمیت کے حامل تھے سکھوں کے گردوارے ابھی بھی بہت سے دیہاتوں میں موجود ہیں ان میں سکھوں کاایک تاریخی گردوارہ چیویں پت شاہی گلوٹیاں خورد میں موجود ہے اس گردوارے میں سکھ مذہب کے چٹھے گرو ہرگوبند جسے(سچابادشاہ ) بھی کہاجاتا ہے نے کشمیر واپسی پر اس گائوں میں پرائوڈالاتھا یہ سکھوں کے چٹھے گرو ہرگوبند 3مارچ 19جون 1644-1595ء سے سکھوں کا چٹھا گرو ہے گرو ہرگو بند گیارہ سال کاتھا جب 30مئی 1806ء کومغل بادشاہ نور دین جہانگیر کے ہاتھوں اس کے باپ گرو ارجن دیو کی موت کے بعد اسے گرو بنایاگیا گرو ہرگو بندکو اس وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ اس نے سکھوںمیں فوجی روایات اور دفاع کا کام شروع کیا وہ سب سے طویل عرصہ تک یعنی 37سال 9ماہ اور تین دن تک سکھ گرو رہا گرو ہرگو بند 19جون 1595ء میں پیداہوئے اور 28فروری 1644ء میں فوت ہوا اس وقت اس کی عمر48سال تھی اس کے والد کا ارجن دیو اور والدہ کا نام ماتاگنگاتھا ہرگو بند صاحب جی گروکی وڈالی ڈسٹرکٹ امرتسر میں پیدا ہوئے گروصاحب کی ایک بیٹی بی بی ویرو جی اور پانچ بیٹے تھے یہ گردوارہ اب خستہ حالی کاشکارہے گردوارہ کے اوپر اس دور کے شلوک لکھے ہوئے یہ گردوارہ گائوں کے سب سے اونچے ٹیلے پر واقع ہے جو دور سے بھی دیکھا جاسکتا ہے گرو جی کے ایک خاص چیلے کے بیان کے مطابق گرو جی نے یہاں کشمیر سے واپسی پر چند دن قیام کیا عبادت کی اور نیازو لنگربھی تقسیم کیا گردوارہ کے اندر پرکاش آستھن (بیٹھنے کی جگہ ) سنگ مر مر سے بنا ہے اس گردوارہ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ گرو ہ جی نے اس دور میں ایک برگر کا درخت لگایاتھا جو آج بھی وہاں موجود ہے گردوارہ میں اس دور کے نقشہ نگار کا کا م بھی ہوا ہے سکھ یاتریوں کی پاکستان میں آمد کے بعد سکھوں کے ایک وفد نے یہاں پر دورہ کیا اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس تاریحی ورثہ کی حفاظت کی جائے تاکہ یہاں پر آنیوالے سیاح اور سکھ یاتری اپنے دلوں میں اس کی یادیں بسا کر ساتھ لے جائیں

5Below single post content
Peerzada M Mohin

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: