2Below header

پولیس کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار کون؟ از فیصل فاروق ساگر ( سا گر کنارے )

Faisal Farooq Sagar
4Above single post content

نئے پاکستان کے وعدے کی طرح تبدیلی سرکار میں پولیس کا نظام بدلنے اور اصلاحات لانے کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں حال یہ ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بجائے گوجرانوالہ پولیس وزیروں مشیروں کے پروٹوکول اور پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز کے اشاروں پر ناچنے میں مصروف ہے اور ہر طرح کی فکر سے جیسے آزاد ہی ہو گئی ہے ، حالانکہ سابقہ حکومتوں میں پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر موجودہ حکمران جماعت ان پر سخت تنقید کرتی رہی ہے اور ملک میں جب جب تبدیلی کی بات کی گئی تھانہ کچہری کو بدلنے پر زور دیا گیا ، موجودہ حکومت میں ابھی تک پولیس اصلاحات تو کہیں نظر نہیں آئیں البتہ پنجاب کے 6آئی جیز سمیت بس اندھا دھند تبادلے پر تبادلے کئے جا رہے ہیں ، جس سے پولیس میں ٹیم ورک کا فقدان پیدا ہو گیا ہے اوران سے مرض بھی جوںکاتوں بلکہ پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا ہے ، اور لوگوں کا تھوڑا بہت اعتماد جو پولیس پر تھا وہ بھی ختم ہو کے رہ گیا ہے ماضی قریب میں بعض افسران جو انفرادی طور پر ہی سہی لیکن احساس ذمہ داری رکھتے تھے ور کسی حد تک عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور خاص طور پر سی آئی اے پولیس کی کارکردگی نے لوگوں کو کافی متاثر کیا تھا اور سی آئی اے پولیس نے جدید انداز میں کام کرتے ہوئے دو چار نہیں بلکہ سینکڑوں ڈکیت گینگ پکڑ کر جیلوں میں ڈالے یہی نہیںلوگوں کا لوٹا گیا مال برآمد کرا کے انہیں ریلیف دیتی رہی لیکن مبینہ طور پربعض سیاستدانوں کی ایما پر پر ہونے والے چند تبادلوں کی وجہ سے یہ سارا نیٹ ورک ٹوٹ گیا اوراس مال ریکوری کا سلسلہ بھی بندہوچکا ہے اور ڈکیت گینگ بھی سر عام دندناتے پھر ر ہے ہیں جبکہ عوام بے چارے بے یارو مددگار تھانوں میں ہی دھکے کھاتے پھر ر ہے ہیں جہاں منشی بادشاہ بغیر رشوت کے انہیں منہ لگانے کو تیار نہیں ہیں، سنگین جرائم کا خاتمہ ہو یا مال ریکوری کا معاملہ عوام کے پاس سی آئی اے پولیس کا سہارا اب تقریباََختم ہو چکا ہے سی آئی اے پولیس کے نئے انچارج تو کسی بھی طرح سے اس منصب کے اہل نہیں لگتے کہ انکے آتے ہی سی آئی اے پولیس کا گراف دھڑام سے نیچے آگرا ہے ، وہ جدید انداز میں کام کرنے والے ماضی کے کرائم فائٹر ادارے میں اجنبی بن کے رہ گئے ہیں، تھانوں کی حالت ہمیشہ کی طرح انتہائی خراب ہے جہاںتعینات زیادہ تر نئے ایس ایچ اوز میں سرے سے کام کرنے کی لگن اور جذبہ ہی موجود نہیں ہے،یہ لوگ دھنگ سے تھانوں میں بیٹھتے ہیں نہ گشت پر جاتے ہیںیہ بھی اطلاعات ہیں کہ نئے ایس ایچ اوز میں اعلیٰ افسران کو اپنی لوکیشن تک غلط بتانے کا رویہ فروغ پا رہا ہے ایس ایچ اوز کی اس عدم دلچسپی غیرذمہ داری کی وجہ سے تھانوں میں رشوت کا وہ بازار گرم جو پہلے نہ تھا ہے ٹائوٹ ازم اور اقربا پروری انصاف کی فراہمی اور عام آدمی کی داد رسی میں دیوار بن کر حائل ہے ، پولیس کو فرصت ہی نہیں کہ وہ حکومتی راہنمائوں کے احکامات بجا لانے کے سوا کچھ اور کر سکے ، پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز کی فرمائشی ایف آئی آرز ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں اور ایک ایساکنواں بن چکی ہیں جو بھر نے کو نہیںہے، سیاسی مخالفین کو رگیدنے اور جلسے جلوس روکنے کے سوا پولیس کی کہیں کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی جھوٹے پرچے اور جعلی تفتیشیں ایک بار پھر بام عروج پر ہیں ماضی قریب میں کچھ افسران کی انفرادی کوششوں اور بعض سنجیدہ پولیس افسران کے اقدامات کی بدولت مال ریکوری میں کافی حد تک کامیابی ملی تھی اور پولیس کروڑوں روپے ماہانہ عوام کو ریکوری کر کے لوٹا رہی تھی اس کا سلسلہ بھی بند ہو گیا ہے ، پولیس حراست میں ملزمان پر بہیمانہ تشدد اور آئے روز کی ہلاکتوں کے باوجود پولیس کا نظام جوں کا توں ہی چل رہا ہے اور اسے بدلنے کی کہیں کوئی کوشش نہیں کی جارہی ، عوام کی درگت بنا دینے کو ہر وقت تیار پولیس میں کرائم فائٹر افسران کی شدید کمی ہے اسلئے نئے افسران عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بالکل ہی ناکام ہیں، تبدیلی سرکار کے تمام تر دعوئوں اور دلفریب وعدوں کے باوجود پولیس کے نظام میں بہتری کی بجائے مزید تنزلی دکھائی دے رہی ہے اور کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں آرہی ، پولیس سربراہان تعینات ہوتے اور چلے جاتے ہیں انکے بار بار لیکچر کے باوجود ماتحت پولیس افسران کی جعلی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں زیادہ تر ایس ایچ اوز کو کام کرنے کی عادت ہے اور نہ جرائم کے خاتمے میں دلچسپی ، افسران کو چھوڑیںکسی اہلکار کو بھی جوابدہی کا خوف ہے نہ کوئی فکر ، پولیس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے ضلع بھر میں ڈکیت گینگ ایک بار پھر سر اٹھا چکے ہیں اور ڈکیتی راہزنی کی وارداتیں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں آزادی کے ساتھ لوگوں کی متاع لوٹی جارہی ہے عوام تھانے جائیں تو وہاں بھی جیبیں ہی خالی کرائی جارہی ہیں ، ضلع بھر میں منشیات جوا جسم فروشی کے اڈوں کی سر پرستی جاری ہے لکھ لکھ کر قلم گھس گئے ہیں مگر حکومت ہو یا اعلیٰ پولیس افسران کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی سیاستدان ہوں یا اعلیٰ افسران کوئی بھی اپنے سر ذمہ داری لینے کو تیار نہیں چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ عوام وردی اور بغیر وردی والے دونوں طرح کے ڈکیتوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیںاور اپنے نصیب پر ماتم کناں ہیں۔

5Below single post content
Avatar

Faisal Farooq Sagar Faisal Farooq Sagar

Faisal Farooq Sagar

View all posts

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: