اسلام میں عقلیت پسندی و معقولیت

سیاست، دہشت گردی، بہتان ترازی سے دل بھر گیا ہے اور ان موضوعات پر لکھنے کے بجائے آج کل اسلامی قدروں اور اخلاقیات پر طبع آزمائی کو ترجیح دے رہا ہوں۔ یہ کالم نہایت اہم موضوع یعنی اسلام میں عقلیت پسندی اور معقول رویّہ پر مبنی ہے۔
دیکھئے عقلی ، دلیل و سبب پر مبنی، معقول، ہوشمندانہ وغیرہ انگریزی لفظ Rational کے ترجمہ ہیں اور منطقی بنیاد کو آپ Rational کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی اُمور میں عقلیت پسندی کو ہم عموماً انگریزی میں Rationalisation کہتے ہیں۔
مغربی مفکرین اور ذرائع ابلاغ ناواقفیت کی وجہ سے اسلام پر بے جا (اور مسلمانوں پر کسی حد تک جائز) تنقید کرتے رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اسلام کا (قرآن و اسلامی تاریخ کا) مطالعہ نہیں کرتے مگر مسلمانوں کے کردار و حرکات دیکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنا نظریہ قائم کرلیتے ہیں۔ پچھلے دنوں میرے عزیز دوست اور ملک کے نہایت قابل سابق سیکرٹری وزارت خارجہ ریاض محمد خان کے ساتھ بیٹھا اس موضوع پر گفتگو کررہا تھا کہ انہوں نے مشورہ دیا کہ مجھے اپنے کالم میں اس اہم موضوع پر روشنی ڈالنی چاہئے، پھر دوسرے نہایت عزیز دوست اور عالم پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی سے اسی موضوع پر گفتگو کی اور ان کی باتوں سے استفادہ کرکے سوچا کہ اس اہم موضوع پر کچھ تحریر کرہی دوں اور اب یہ کالم آپ کی خدمت میں پیش کررہا

ہوں۔
سب سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اِسلام میں وجہ، سبب، کیوں اور ہوشمندی، معقولیت کی بنیاد اللہ رَب العزّت کی ہدایات (یعنی کلام مجید) پر مبنی ہیں۔ اس کے برعکس مغرب میں معقولیت (Rationalism ) وہاں ایک شدید سماجی و ثقافتی جدوجہد کے بعد ظہور پذیر ہوئی۔ اس طرح آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں مفکرین نے مذہب سے جان چھڑانے کے لئے مذہب پر عقلیت کو ترجیح دے دی۔ انہوں نے مذہب کو اپنی انفرادی آزادی پر دخل اندازی تصور کیا۔ اس کی نہایت سادہ وجہ تھی وہ یہ کہ کلیسا اور پادریوں نے عوام پر اپنی مکمل چوہدراہٹ قائم کرلی تھی اور عوام کے انفرادی حقوق سلب کرلئے تھے اور یہ سب کچھ انہوں نے اپنے مفروضہ خدائی احکامات کی آڑ میں کیا تھا۔ ایسا کوئی واقعہ یا حادثہ اسلام میں کبھی سامنے نہیں آیا۔ دیکھئے اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اجتہادپر (یعنی غور و خوض، تحقیق) پر بہت زور دیا ہے۔ ہمیں جانوروں یا بتوں کی طرح ہر بات کو اندھوں، بہروں کی طرح قبول نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سورہ فرقان (آیت 73 ) میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمایا ہے ’’اور جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو وہ لاپروائی، بے دھیانی کا اظہار کرکے اندھے بہروں (یعنی پتھر کی مورتیں بن کر) کی طرح نہیں گر پڑتے بلکہ نہایت فکر و تدبّر اور دھیان سے سن کر متاثر ہوتے ہیں (یعنی اجتہاد کرتے ہیں)۔‘‘
اِسلام میں رہبانیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی گرجا تھا اور نہ ہی راہب۔ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں (سورہ حدید، آیت 27) صاف صاف ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے اسلام میں کسی قسم کی رہبانیت کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سابقہ راہبوں اور پادریوں کی سخت سرزنش کی ہے جنہوں نے معصوم لوگوں کو مذہب کے نام پر لوٹا تھا (سورۃ توبہ،آیت 34)۔ اسلام میں یہ ناممکن تھا کیونکہ انسان اور خدا کے درمیان کسی تیسری شخصیت کی قطعی گنجائش نہیں ہے، ایک انسان اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ کلام مجید میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے (سورۃ ق، آیت 16 )۔
مسلمانوں نے رسول ﷺ کے وقت سے ہی عقلیت پر مبنی اجتہاد پر عمل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر اور ہمارے پیارے بنیﷺ پر مکمل ایمان و اعتقاد کے باوجود انہیں غور و خوض، تحقیق، اجتہاد سے منع نہیں کیا گیا کیونکہ اللہ رب العزّت نے کلام مجید میں باربار ہدایت فرمائی کہ دنیا کی تعمیر، دن رات کی تبدیلی، سورج، چاند، سیاروں کی گردش، اونٹ کی بناوٹ، شہد کی مکھی کی آنکھ کی بناوٹ، پہاڑوں، سمندروں، ریگستانوں کی بناوٹ، جانوروں کی پیدائش، انسان کی پیدائش، پھلوں، پھولوں کی پیدائش کو دیکھو، غور کرو اور تحقیق کرو۔ یہی نہیں بلکہ لاتعداد جگہ کلام مجید میں انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ دنیا کی سیر کرو، گھومو، پھرو اور گزشتہ قوموں کی تاریخ، ان کے واقعات اور ان کے انجام پر بھی غوروخوض کرو کہ وہ کیوں اس انجام کو پہنچے، غرض ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ تحقیق، اجتہاد پر زور دیتا ہے۔ اس نے اندھے بہرے بن کر کسی بھی چیز پر اعتقاد و یقین کرنے سے سخت منع کیا ہے (سورۃ اعراف، آیت 179 )۔ یہی نہیں بلکہ اللہ رب العزّت نے انسان کو دی گئی عقل و فہم اور اجتہادی قوّت کو پوری طرح استعمال کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور حکم دیا ہے کہ انسان سچ کو تلاش کرے تاکہ وہ اس دنیا اور دوسری دنیا میں مطمئن زندگی گزار سکے۔ اسلام میں دونوں جہانوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو جو بھی عطا کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نعمت ہے جس سے اس کو مستفید ہونے کے مواقع اور صلاحیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا کا نگراں بنایا ہے اور اس سے یہ توقع کی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ اُٹھا کر بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے کام کرے۔ اسلام میں انسان بعض دوسرے مذاہب کے نظریہ کی طرح نہ ہی گنہگار پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کسی قسم کے جرائم کا بوجھ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے 99مبارک ناموں (اَسْمَائُ الْحُسْنٰی) میں اس کا نام الحکیم شامل ہے یعنی ہر چیز کا جاننے والا عقل و فہم کا مالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے وہ ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ کوئی بھی چیز بلامقصد پیدا نہیں کی گئی ہے۔ (سورۃ عمران، آیت 191)۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق و مقاصد کے بارے میں نہایت واضح الفاظ میں وضاحت کی ہے۔ انسان نے خود اپنی صلاحیتوں، غورو خوض، جستجو اور اجتہاد کے ذریعہ، مشاہدہ کے ذریعہ دنیا کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش ہے اور ترقی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اسلامی تہذیب اور ثقافتی ورثہ کی ترقی کیساتھ ساتھ عقلیت پسندی یا منطقی بنیاد پر چیزوں، مسائل، دنیا کے رازوں، موشگافیوں، سائنس کو سمجھنے کی روایت نے بھی ترقی کی۔ اس حقیقت کو تاریخ دانوں نے جنہوں نے انسانی تہذیب و تمدن کا مطالعہ کیا ہے کھل کر مانا ہے۔ ان میں آپ H.G. Wells, Gibbon اور Arnold Toynbee کے نام نمایاں پائینگے لیکن اس حقیقت پر سب سے بہترین تحریر آپ کو Robest Briffault کی کتاب The making of humanity میں ملے گی۔
دیکھئے مغربی مفکرین اور ادیبوں اور مذہبی لیڈروں نے اسلام کی ایک بُری تصویر پیش کی ہے۔ اسلام کو اور مسلمانوں کو دہشت گرد، ناشکرے، جھگڑالو، قدامت پسند،بے صبرے اور خدا جانے کیا کیا کہا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ اسلام کو گمراہ، دہشت گرد، متعصب، گندے، خودکش حملہ آوروں کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے ایک سنہری ضابطہ حیات بیان کیا ہے اور درمیانہ روی، حسن سلوک، حقوق کی پاسداری، دوسروں کی جان و مال کی عزّت ، بزرگوں سے محبت اور حسن سلوک غرض ہر موضوع پر ہدایات موجود ہیں۔ اس مختصر سے کالم میں ان تمام سورۃ و آیات کا حوالہ دینا مشکل ہے، میں صرف ان تمام موضوعات کا حوالہ دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے نہایت صاف صاف ہدایات دی ہیں۔ یہ وہ سورہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبہ کیلئے، حقوق العباد کیلئے ایک ایک عقلی، دلیل و سبب پر مبنی، عقلمندانہ، معقول رویّہ یعنی Rational Behaviour بیان کیا ہے۔ ان اُمور میں خیرات، صدقہ، صبرو تحمل، برداشت، رموز کائنات، قوانین فطرت، فطرت انسانی، فضیلت علم، سماجی زندگی کے آداب، حقوق العباد، غیرمسلمانوں سے تعلقات، اخلاقیات، معاشرتی برائیاں، اقتصادیات، جائز اور ناجائزروزیوصیت، اسلامی فلاحی مملکت کے فرائض، اسلامی معاشرہ، انسانی زندگی کا تحفظ، انسانی مال کی حفاظت، ظلم و زیادتی کی ممانعت، امن و مصالحت، باہمی معاہدے، اہل کتاب سے تعلقات، جدید سائنسی علوم اور ان کا حصول، وغیرہ وغیرہ۔ معقول سوچ بچار میں، رویّہ میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے اور ساتھ میں انسانی نفسیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً جہاں کسی بیگناہ کے قتل کا مسئلہ ہے تو رشتہ داروں کو قصاص کی اجازت ہے کیونکہ انسان فطرتاً یہی چاہتا ہے مگر ساتھ میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر معاف کردو تو یہ بہتر ہے گویا اگر ایک انسان کی جان گئی تو یہ ضروری نہیں کہ دوسری جان بھی ضائع کی جائے۔ اسی طرح تکبّر کو سختی سے منع کیا کہ اکڑ کر نہ چلو کہ تم زمین نہیں پھاڑ سکتے اور یہ بھی کہ چیخ چلا کر بات نہ کرو کیونکہ سب سے ناخوشگوار آواز گدھے کی ہوتی ہے۔ اسی طرح والدین کی عزت و احترام و خدمت، بچوں کی پرورش، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی مدد، لوگوں سے آدابِ گفتگو، بدتمیزی کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک، جنگ میں غیرمسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک، خواتین کی عزت واحترام غرض پورا کلام مجید ان معقول، عقلمندانہ مفاہمت آمیز، محبت و احترام سے پُر ہدایات سے بھرا پڑا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ان سنہری اصولوں و ہدایات کے باوجود ہم اس وقت دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں وجہ ہمارا اپنا کردار ہے، اپنے اعمال ہیں، اپنا رویّہ ہے۔ وہ کردار جو عقل پر مبنی ہو، جو مدلل دلیل و سبب پر مبنی ہو جس کی بنیاد منطقی ہو اور جس کے مذہبی و سماجی اصول و قوانین عقلیت پسندی پر مبنی ہوں وہ اب عنقا ہوگیا ہے۔ ہم نے اللہ کے اس فرمان کو بالکل نظر انداز کردیا ہے کہ ہم میں سب سے اچھا شخص وہ ہے جس کا کردار اچھا ہو۔ آج کل لوگ محلات، دولت و قوّت، گاڑیوں پر گھمنڈ کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس پرانے زمانہ میں یہ چیزیں تھیں ان کا کیا انجام ہوا تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: